یہ مسلمانوں کو فسادات میں برباد کرنے کی منظم سازش ہے

ڈاکٹر وسیم راشد
ہم نے اپنے ہوش میں میرٹھ، ملیانہ، ہاشم پورہ کا فساد دیکھا ہے۔ اور اس فساد میں پی اے سی کی گولیوں نے کیسے بے گناہ مسلمانوں کو لائنوں میں کھڑا کرکے گولیاں ماری اور کیسے لاشوں کو نہر میں بہا دیا گیا ،وہ دلدوز خبریں بھی پڑھی ہیں ۔ہمارے ہوش میں گجرات کا فساد بھی ہوا۔ اس میں بھی مسلمانوں کے گائوں کے گائوں برباد کردیے گئے ۔حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کرکے بچوں کو نیزوں پر لٹکا دیا گیا ۔یہ بہیمت ،یہ بربریت اس مہذب دور میں تسلیم کرنے کو جی نہیں چاہتا تھا لیکن ایسا ہوا اور پھر مظفر نگر کا فسا ہوا جس میں پھر مسلمانوں پر ظلم و ستم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا اور تبھی سے یہ خوف و احساس ہمارے اندر جڑ پکڑتا گیا کہ جہاں بھی کہیں ہندو مسلم فساد ہوتا ہے مسلمان ہی مارے جاتے ہیں۔ ان پر ہی ظلم ہوتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی اندزہ ہوتا گیا کہ نہ عام ہندو لڑنا چاہتا ہے نہ عام مسلمان ۔یہ تو سیاست داں ہیں جو اپنی بازی گری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور پھر لاشوں کی تجارت کرکے تجوریاں بھرتے ہیں ۔ان سب میں جو بھی ادراک ہوتا گیا وہ اپنی جگہ لیکن فسادات کی وجہ سے سیاست دانوں اور سیاسی پارٹیوں سے نفرت بھی جڑ پکڑتی گئی۔
اتر پردیش کی بات کریں تو وہ ہمیشہ سے ہی فرقہ پرستوں کے نشانے پر رہا ہے۔رہی سہی کسر سماجوادی پارٹی نے پوری کردی جس کے حالیہ دور اقتدار میں اب تک تقریبا ًپوری یو پی میں 250 فساد ات ہوچکے ہیں ۔مغربی یو پی کی ایک عرصہ سے ماحول بگاڑنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے اور فرقہ پرست عناصر ایسے افراد کی پشت پناہی کرتے رہے ہیں جو بھڑکائو بیانات دیتے ہیں جیسا کہ مظفر نگر میں ہوا۔ ظاہر ہے کسی بھی شہر میں کوئی فساد اچانک نہیں ہوتا۔ اس کی جڑیں پہلے سے پنپتی رہی ہوتی ہیں جیسے کہ سہارنپور میں ہوا۔ میرٹھ زون کے آئی جی آلوک شرما نے خود اس بات کا اعتراف کیا کہ یہ تصادم پہلے سے پلان کیا ہوا تھا۔ جس کا ایک ایجنڈا تھا کہ سکھ اور مسلمانوں کو مغربی یوپی میں کیسے لڑایا جائے۔ کیونکہ جس طرح سے فائرنگ ہوئی اور دکانیں جلائی گئیں اس سے اس کے منصوبہ بند ہونے کی تصدیق ہوتی ہے۔ یہ بھی پتہ چلا ہے کہ گردوارے پر جس طرح پولیس کو اعتماد میں لے کر لینٹر ڈلوایا گیا اس کے بارے میں پہلے ہی سے شہر کی پولیس آگاہ تھی۔ اگر پولیس چاہتی تو یہ فساد رک سکتا تھا لیکن پولیس ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہی اور پھر وہی ہوا کہ دو گروپوں میں فساد پھوٹ پڑا جس کے نتیجہ میں بے گناہ لوگ مارے گئے اور دکانیں اور املاک جلائی گئیں اور اس سے جو نقصان ہوا وہ الگ۔
اصل میں مسئلہ ہندو مسلم ، مسلم سکھ فساد کا نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ کس سیاسی پارٹی کو کیسے فائدہ ہوسکتا ہے۔ اور تمام سیاسی پارٹیاں اس حقیقت سے واقف ہیں کہ لوگوں کو مذہب کے خانوں میں تقسیم کرکے ہی سیاسی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔جیسے کہ پارلیمانی الیکشن میں بی جے پی کو ریکارڈ جیت حاصل ہوئی۔ ظاہر ہے اس کا جو اثر ہے وہ مظفر نگر فساد کے بعد ہی سامنے آیا ہے۔ اصل میں یہ ایک گھنائونی کوشش ہے۔ اتر پردیش میں آج نہیں ،تقریباً40 سال سے یہ کوشش جاری ہے کہ یو پی میں مسلمانوں کا دبدبہ زیادہ ہے آبادی زیادہ ہے اس لئے اس فرقہ کو ہمیشہ خوف و ہراس میں رکھا جائے۔ تبھی بی جے پی کے سینئر اور زہر اگلنے والے لیڈران ہمیشہ ہی نفرت انگیز اور شر انگیز بیانات دے کر مسلمانوں کے لئے عرصہ ٔ حیات تنگ کرنے پر آمادہ رہتے ہیں ۔وہ تو مسلمان ہی ہیں جو لٹتے ہیں مارے جاتے ہیں برباد ہوجاتے ہیں مگر پھر سے کھڑے ہوجاتے ہیں اور پولیس کا رویہ وہی ہوتا ہے جو سہارنپور کے فساد میں ہوا کہ سب سے زیادہ قہر مسلم بستیوں پر ہی ڈھایا گیا۔ ایک علاقہ تھانہ قطب شہر کا داروغہ ایک مسلم محلہ میں گشت پر آیا اور اس نے مسلمانوں کی دکانوں پر توڑ پھوڑ کی ۔خود وہ اس وقت کسی فسادی سے کم نہیں لگ رہا تھا ۔ اس کے ساتھ پولیس والوں نے بھی خواتین اور بوڑھوں سے بدسلوکی کی اور ان کو مارا پیٹا اور کئی بے قصوروں کو پکڑ کر لے گئی،کئی اخباروں کے رپورٹر اس وقت وہاں موجود تھے اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ پولیس نے مسلم محلوں میں نوجوانوں کو اس قدر ماراکہ وہ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ جس پلاٹ پر جمعہ کو فساد ہوا،وہ کبھی بھی جھگڑے کا سبب نہیں تھا۔ سکھوں کا کہنا تھا کہ مسلمان اس پلاٹ کو وقف کی زمین کہتے تھے جس کو وہ ثابت نہیں کرسکے۔ اس کے بعد مسلمانوں نے اس پلاٹ پر سے اپنا قبضہ ہٹا لیا تھا اور وہ سکھوں کے حوالے کردیا تھا۔ ایک سال پہلے اس بار تعمیری کام شروع ہو گیا تھا اور کوئی تنازع نہیں تھا مگر اچانک ہی نہ جانے کیسی چنگاری بھڑک اٹھی جس نے 3جانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور جس نے کرفیوں کے سائے میں سہارنپور کے مسلمانوں کو عید کی نماز ادا کرنے پر مجبور کردیا۔ عید کے دن بھی پورے شہر سے کرفیو نہیں اٹھایا گیا۔پرانے شہر میں 7سے 11 بجے کے دوران کرفیو اٹھا یا گیا لیکن پھر بھی عیدگاہ میں نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور مسلمانوں نے گلی محلے کی مسجدوں میں نماز جمعہ ادا کی۔ اسی طرح نئے شہر میں تین سے سات بجے شام تک کرفیو میں ڈھیل دی گئی جس کی وجہ سے کوئی بھی اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں سے عید نہیں مل سکا ۔ویسے بھی پرانے شہر میں دیکھتے ہی گولی مار دینے کا حکم تھا ۔اس لئے کوئی بھی عید کی خوشی نہیںمنا سکا۔
کیسا المیہ ہے یہ کہ پوری دنیا میں کہیں نہ کہیں مسلمان عید کی خوشیوں سے محروم ہیں،فلسطین میںمسلمان خون میں نہاتے رہے اور ہنستے کھلکھلاتے بچے موت کی آغوش میں سوتے رہے ۔ عراق ، شام ، افغانستان میں بھی مسلمانوں کو عید کی خوشیاں نصیب نہ ہوسکیں۔پاکستان میں عید کی خوشی مناتے مناتے کچھ نوجوان سمندر میں ڈوب گئے اور ہمارے ملک ہندوستان میں یوں تو چاروں طرف عید کی خوشیاں تھیں ۔بازار میں رونق تھی لیکن مظفر نگر ، کانٹھ اور سہارنپور میں مسلمان دوگانہ ادا کرنے سے بھی مجبور تھے۔سہارن پور سے اترا کھنڈ، ہریانہ اور ہماچل پردیش میں کام کرنے جانے والے لوگ اپنے گھروں کو نہیں جاسکے کیونکہ سہارنپور جانے والے تمام راستے بند تھے۔
ان سب کے بیچ سیاست خوب زوروں پر تھی۔اعظم خاں مرکزی حکومت اور بی جے پی کو قصوروار ٹھہرارہے تھے۔ راجناتھ سنگھ کا پہلے رویہ ہمدردانہ رہا کیونکہ ان کے دو دہائی سے ملائم سنگھ یادو سے سیاسی تعلقات رہے ہیں لیکن جب سینئر بی جے پی لیڈر ان نے ان کی لعنت ملامت کرنی شروع کی اور وزیر اعظم نریندر مودی نے ایکشن ٹیکن رپورٹ مانگی تو راجناتھ سنگھ نے فوراً ایک خط یو پی گورمنٹ کو ایشو کرکے جواب طلب کرلیا کہ آخر جب دکانیں جلائی جارہی تھیں تب اتنی دیر سے ایکشن کیوں لیا گیا۔ ادھر سہارنپور سے بی جے پی ایم پی راگھو لاکھن پال کا کہنا تھا کہ سہارنپور میں جو بھی ہوا وہ عمران مسعود کی وجہ سے ہوا ہے ۔کیونکہ ان کی ایک مخصوص طبقہ کے لوگوں کو برباد کرنے اور ان کا بزنس تباہ کرنے کی سازش تھی اور جب عمران مسعود سے پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا کہ میں اپنے ہی شہر کو فساد کی آگ میں کیوں جھونکوں گا ؟یہ تو بی جے کے رکن پارلیمنٹ ہیں جو اپنے بیٹے کے لئے اسمبلی الیکشن کے لئے راہ ہموار کر رہے تھے۔
انسانی جانوں کی کیا قیمت ہے اور مسلمانوں کی جانیں تو ارزاں ہی ہیں جن پر پوری دنیا میں سیاسست کی جارہی ہے اور سوشل میڈیا اپنا کھیل کھیل رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر فیس بک اور ٹوئٹر پر رات دن قابل اعتراض فوٹو اپ لوڈ کرکے فرقہ وارانہ نفرت پھیلائی جارہی ہے۔ خود ہم فیس بک پر بے حد تکلیف دہ اور نفرت انگیز فوٹو اور کمنٹ برابر دیکھ رہے ہیں۔ان کو پڑھ کر یقین جانئے شاید ہی کوئی ایسا مسلمان ہو جس کو اشتعال نہ آتا ہو اور وہی ہوا بھی ۔مدھیہ پردیش کے کھنڈوا میں قابل اعتراض فوٹو اپ لوڈکرنے پرایک شخص کا قتل کردیا گیا اور پورے شہر میں تشدد کے بعد کرفیو نافذ کردیا گیا ،مدھیہ پردیش کے شہر اجین میں بھی دو فرقوں میں تصادم ہوا اور دفعہ 144 نافذ کردی گئی ۔اترپردیش کے بریلی میں دو فرقوں کے درمیان تصادم میں پتھرائو ، فائرنگ کے بعد شر پسند عناصر نے پولیس ٹیم پر بھی حملہ کردیا۔یہ سب حالات اس بات کی علامت ہیں کہ ایک بار پھر سے پورے ہندوستان کو فساد کی آگ میں جھونکا جارہا ہے۔ مظفر نگر ، مراد آباد ،سہارنپور ،اجین ، بریلی ،کانٹھ یہ سب فرقہ پرست عناصر کی سازش ہے بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ان شرپسندوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا دیا جائے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ پوری کوشش کریں کہ فساد نہ ہو پائے ۔کیونکہ ان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ پولیس بھی اکثریتی فرقہ کاہی ساتھ دیتی ہے۔ نوجوان بھی ہمارے ہی پکڑے جاتے یں ۔فساد بھی ہم کو اکسا کر کرائے جاتے ہیں۔دکانیں ،گھر بھی ہمارے جلائے جاتے ہیں اور مارے بھی ہمارے اپنے جاتے ہیں ۔ایسے میں ہوشیار رہنے کی سخت ضرورت ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *