اتراکھنڈ: بڑے لیڈروں کی رسہ کشی سے ہاری بی جے پی

راج کمار شرما
p-10bاتراکھنڈ میں گروپوں میں بٹی بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر اس قدر آپس میں رسہ کشی کا کھیل کھیلنے میں مشغول رہے کہ ریاست کے تین ضمنی انتخابات میں بری طرح ہار کا شکار ہوئے۔ ریاست کے تین سابق وزراء اعلیٰ بھُوون چندر کھنڈوری، بھگت سنگھ کوشیاری، رمیش پوکھریال نشنک کے تین گروپوں میں بٹی بی جے پی نے اس الیکشن میں ڈھائی ماہ پہلے جن دو اسمبلی حلقوں میں شاندار برتری حاصل کی تھی، وہاں بی جے پی کو کانگریسی امیدواروں کے ہاتھوں بری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ برسر اقتدار کانگریس کے وزیر اعلیٰ ہریش راوت نے اپنی اقلیت سرکار کو اکثریت کے قریب لانے کے لیے جس طرح کا تانابانا بُنا، اس میں بے جے پی ایسی الجھی کہ سومیشور اور ڈوئی والا کی محفوظ سمجھی جانے والی سیٹیں بھی بی جے پی گنوا بیٹھی۔ ڈوئی والا سیٹ پہلی بار کانگریس کے قبضے میں آئی ہے، سومیشور سیٹ بھی 2012کے اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کے حصے میں آئی تھی۔ ڈوئی والا کی سیٹ پر نشنک کو شاندار جیت ملی تھی، مودی لہر میں ہوئے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی نے کانگریس کا پوری طرح صفایا کرتے ہوئے ریاست کی پانچوں سیٹیں جیت کر تاریخ رقم کی تھی۔ نشنک کو ہری دوار سے ایم پی بنانے میں ڈوئی والا حلقے کے عوام نے بڑی سبقت دے کر نشنک او رمودی ،دونوں کامان رکھا تھا۔
پہلے اسمبلی انتخاب میں بھی کوٹ دوار سے جنرل کھنڈوری کی ہار کے لیے ہوئی رسہ کشی کے لیے سابق وزیر اعلیٰ نشنک پر الزام لگے تھے۔ ڈوئی والا حلقے کے وفادار بھاجپائیوں نے بی جے پی کے دُون آفس پہنچ کر تریویندر سنگھ راوت کی ہار کے لیے جس طرح ’نشنک مخالف‘ نعرے لگا کر ان پر بھیتر گھات کرنے کا الزام لگایا، اس سے صورتحال اور بھی صاف ہوگئی ہے۔ اس بار جب نشنک اپنے چہیتے کو ٹکٹ دلانے میں ڈوئی والاسیٹ پر بری طرح ناکام ہوئے اور راجناتھ کے حامی خیمے کے تریویندر سنگھ راوت کو ڈوئی والا سے امیدوار بنایاگیا، تو نشنک پر کوٹ دوار میں کھیلے گئے کھیل کو دوہرانے کا الزام لگ رہا ہے۔ ایک بار پھر پارٹی کی اس ہار پر بی جے پی کی ریاستی قیادت بھی سوالوں کے گھیرے میں آگئی ہے۔ انتخابات کے دوران لیے گئے ناعاقبت اندیشانہ فیصلوں کو بھی پارٹی کی ہار سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔
ریاست کی تین اسمبلی سیٹوں کے ضمنی انتخابات بی جے پی ریاستی قیادت کے لیے کافی اہم مانے جارہے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پارلیمانی انتخابات کی جیت کو مودی لہر سے جوڑا گیا، ایسے میں ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی ریاستی قیادت کو خود کو ثابت کرنے کا موقع ملا تھا، وہ اس میں ناکام ثابت ہوئی۔ بی جے پی ان انتخابات میں شروع سے ہی کمزور نظر آرہی تھی۔ پارلیمانی انتخابات کے بعد ریاست کے سبھی بڑے لیڈروں کے مرکز کی سیاست میںچلے جانے سے ریاستی اکائی خاصی کمزور ہوئی۔ ریاستی صدر اور اپوزیشن لیڈر کے الگ الگ گروپوں سے جڑنے کے سبب الیکشن میں بی جے پی تال میل نہیں بٹھا پائی۔ ٹکٹ بٹوارے میں بھی یہ گروپ بندی صاف نظر آئی۔
بی جے پی کی ریاستی قیادت ضمنی انتخابات میں بھی کافی حد تک مودی لہر کی بھروسے رہی، جو، ان انتخابات میں کہیں تھی ہی نہیں۔ یہاں تک کہ بی جے پی، کانگریسی سرکار کی ناکامیوں کو ایشو بنا ہی نہیں پائی۔ یہی نہیں، امیدواروں کے انتخاب کو لے کر عملی طور پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ سومیشور سیٹ پر جس ریکھا آریہ کو بی جے پی ٹکٹ دینے سے کنّی کاٹتی رہی، اسی ریکھا نے الیکشن سے عین قبل کانگریس میں شامل ہو کر دس ہزار سے زیادہ ووٹوں سیجیت حاصل کی، یہاں تک کہ حال ہی میں ہوئے پنچایتی انتخابات سے بھی بی جے پی نے کوئی سبق نہیں لیا۔ نتیجتاً بی جے پی کو تینوںسیٹوں پر ہار کا منہ دیکھنا پڑا۔ ضمنی انتخابات میں بی جے پی کی کراری ہار نے تنظیم کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ضمنی انتخابات کی ووٹنگ سے ایک ہفتے قبل تک تنظیم کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ ڈوئی والا، دھارچولا اور سومیشور اسمبلی حلقوں کے لیے پارٹی کے سینئر لیڈر آپس میں مل کر بوتھ مینجمنٹ کی حکمت عملی کو آخری شکل دیں گے، لیکن ایسا کہیں کچھ بھی تنظیم کی جانب سے نہیںکیا گیا۔ ڈوئی والا کے امیدوار تریویندر سنگھ راوت،سومیشور کے بی جے پی امیدوار موہن رام آریہ اور دھار چولا کے امیدوار بی ڈی جوشی نے خود ہی بوتھ مینجمنٹ کو انجام دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر تنظیم کی جانب سے یہ بات پہلے ہی بتادی گئی ہوتی، تو امیدوار وں نے پہلے سے ہی بوتھ مینجمنٹ کے بلیو پرنٹ تیار کر لیے ہوتے۔ لہٰذا کم وقت میں امیدواروں سے جتنا بن پڑا، اُتنا امیدواروں نے کیا۔ اس کے علاوہ اسٹار پرچارکوں کی فہرست بھی پرچار کے لیے تنظیم کی طرف سے جاری نہیں کی گئی،جبکہ کانگریس نے اپنے اسٹار پرچارکوں کی فہرست کافی پہلے جاری کردی۔ مقامی سطح پر بھی پارٹی کے سینئر لیڈر صرف ’پرچار‘ کے نام پر فرض کی ادائیگی ہی ادا کرتے رہے۔ پارٹی کے قدآور لیڈر تو ’پرچار‘ میں اترے ہی نہیں۔ پارٹی کے کچھ سینئر لیڈروں نے خود ہی ڈوئی والا، دھارچولا اور سومیشور میں پرچار کے لیے پہل کی، لیکن ان کے بھی انتخابی دورے کی تاریخ کو ریاستی بی جے پی نے منظوری نہیں دی۔ ذاتیطور پر بی جے پی کے امیدواروں نے کچھ ریاستی سطح کے لیڈوں کو پرچار کے لیے بلایا ۔ ریاستی بی جے پی کی جانب سے اپنی سطح پر نہ تو کارکنوں کے لیے اور نہ ہی لیڈروں کے لیے گاڑیوں کا بندوبست کیا، جو کچھ بھی تھوڑا بہت انتظام ہو،اوہ امیدواروں نے اپنے طور پر ہی کیا۔
ریاستی سطح کے کچھ ہیوی ویٹ لیڈر ضرور اپنے حساب سے پرچار کے نام پر ادھر اُدھر کی سیاست کرنے میں لگے رہے، جس کا اثر یہ ہوا کہ پارٹی کے تینوں امیدواروں کو ہار کا منہ دیکھنا پڑا۔ ضمنی انتخابات میں ہارے بی جے پی امیدواروں کا کہنا ہے کہ تنظیم کی طرف سے اگر تھوڑی بہت بھی مدد ملی ہوتی، تو پارٹی کو ضمنی انتخابات میں اس طرح کی حالت زار دیکھنے کو نہیںملتی۔ امیدواروں کے مطابق تنظیم کی طرف سے ضمنی انتخابات کو لے کر کوئی دلچسپی نہیںتھی۔ ریاستی بی جے پی ہیڈکوارٹر میں بیٹھنے والے ذمہ دار لیڈروں سے جب بھی ضروری چیزوں کی مانگ کی گئی، تو ان کی طرف سے ایک ہی جواب ملتا کہ مودی لہر ہے، اس لیے فکرکرنے کی کوئی بات نہیں ہے اور ضمنی انتخابات میں زیادہ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور تینوں سیٹیں بی جے پی کی جھولی میں ہی آئیں گی۔
مودی نے وزیر اعظم بننے کے بعد ہمالین ڈیزاسٹر کی مار جھیل رہے عوام کے لیے اب تک کچھ بھی نہیں کیا ۔ اسی سبب اتراکھنڈ کے عوام نے بھی مودی کو آئینہ دکھانے میں دیر نہیںلگائی۔ مودی نے اپنی کیبنٹ کی تشکیل میں بھی جس طرح اتراکھنڈ، ہماچل کے ارکان پارلیمنٹ کو اچھوت کی نظر سے دیکھا ، اس کا بھی اثر عوام نے دکھایا۔ ہریش راوت کی عوامی خدمت رنگ لائی۔ کانگریس جب ریاست میں اپنا وجود بچانے کے بحران سے گزر رہی تھی، ایسے میں اسے ملی یہ شاندار جیت کانگریس کے لیے ’سنجیونی‘ کا کام کرے گی۔ مودی کو بھی ایک بار مشاہدہ نفس کرنا ہوگا کہ انھوں نے اپنی فطرت سے ملک کے اقتدار اور بی جے پی تنظیم پر بھلے ہی قبضہ حاصل کرلیا ہو، لیکن عوام کے بھروسے پر بھی انھیں کھرا اترنا ہوگا، عوام کو عرش سے فرش پر بیٹھانے میں دیر نہیں لگتی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *