صحافت کے موضوع پر سنتوش بھارتیہ کی کتاب ’پترکارتا‘ سے ایک ورق

نئی سوچ اور نئی عمر کے ایڈیٹر
p-11bایس پی نے تو بمبئی میں ایک پوری پارٹی بنا لی تھی، جو ہر مہینے اپنی تنخواہ سے ایمرجنسی کے خلاف لڑائی میں مدد کرتی تھی۔ ان دنوں بمبئی سے آٹھ صفحہ کا پرچہ نکلتا تھا ’آواز‘، جس کی اشاعت میں لگنے والی رقم کا انتظام ایس پی کرتے تھے۔ گنیش منتری اس کے نظریاتی گوشہ میں اپنا ہاتھ بٹاتے تھے۔ فلم فیئر کے ایڈیٹر وکرم سنگھ بھی ان لوگو ںمیں سے تھے، جو مسلسل اقتصادی مدد فراہم کیا کرتے تھے۔ جب ایس پی کو اس بات کا علم ہوا، تو انہیں بڑی حیرانی ہوئی، کیوں کہ وہ وکرم سنگھ کو سرکار پرست مانتے تھے۔ بعد میں ایس پی اور وکرم سنگھ نے مل کر کچھ ایسے لوگوں کو جوڑا، جو اس وقت سرکار میں ہی بڑے عہدوں پر تھے۔ مشہور ڈرامہ نگار وجے تیندولکر نے اس کی اشاعت کا انتظام کرایا تھا۔ ان کے دوست اور پاپولر پبلشنگ ہاؤس کے مالک آنجہانی رام داس بھٹکل اپنے پریس میں اس پرچے کو چھپواتے تھے۔ سنٹر فار پرفارمنگ آرٹ کی رجنی پٹیل، مشہور کنڑ اداکار اننت ناگ اور امول پالیکر بھی اس ٹیم کے رکن تھے۔ پریہ تیندولکر اب نہیں رہیں، لیکن انہوں نے بھی کافی مدد کی تھی۔ شیام بینیگل اور منی کول ایمرجنسی کے مخالفین کو، جتنی بھی مدد ہو سکتی تھی، دیتے تھے۔
یہ باتیں اس لیے لکھ رہا ہوں، کیوں کہ ان سے اس بات کا اندازہ تو ہوتا ہی ہے کہ اگر صحافی کے من میں خود آگ نہ ہو، تو وہ لوگوں کو جھنجھوڑنے والی صحافت نہیں کر سکتا۔ اسے صحیح غلط کی پہچان ہونی چاہیے۔ ایمرجنسی میں پیش آنے والے واقعات سے ایس پی کے اندر کا صحافی شاید بہت زیادہ متاثر ہو رہا ہوگا۔ اسی لیے جب انہیں ’رویوار‘ سنبھالنے کا موقع ملا، تو انہوں نے وہ سب کیا، جو انہیں ’دھرم گرو‘ میں کرنے کا موقع نہیں ملا تھا۔ گنیش شنکر وِدیارتھی اور گاندھی جی ایسے صحافی تھے، جو واقعہ کے ساتھ والے پہلو کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے۔ ایس پی کو یہی راستہ پسند تھا۔ انہیں اس دور کی صحافت سے چڑھ تھی، جس میں باتیں صاف صاف نہیں کہی جاتی تھیں۔ ’دھرم یگ‘ انہیں اس کی مثال لگتا تھا۔ وہ کچھ کر نہیں سکتے تھے، لیکن اپنے دوستوں سے اس بابت بات ضرور کرتے تھے۔ لیکن ایس پی سنگھ نے ڈاکٹر دھرم ویر بھارتی اور گنیش منتری کو اپنے گرو کے طور پر قبول کیا اور ان کی صلاحیت کو ہمیشہ یاد کیا۔

bookآج صحافت کے معنی بدل گئے ہیں، بدل رہے ہیں یا بدل دیے گئے ہیں، نتیجتاً ان صحافیوں کے سامنے بھٹکنے جیسی کیفیت آگئی ہے، جو صحافت کو کمزور ، بے سہارا لوگوں کی آواز اٹھانے کا ذریعہ مان کر اس شعبے میں آئے اور ہمیشہ مانتے رہے اور وہ نو آموز تو اور بھی زیادہ تذبذب میں ہیں، جو صحافت کی دنیا میں سوچ کر کچھ آئے تھے اور دیکھ کچھ اور رہے ہیں۔ ایسے میں 2005میں شائع سنتوش بھارتیہ کی کتاب ’پترکارتا: نیا دور، نئے پرتیمان‘ ہماری رہنمائی کرتی اور بتاتی ہے کہ ہمارے سامنے کیا چیلنجز ہیں او رہمیں ان کا سامنا کس طرح کرنا چاہیے۔ چار دہائی سے بھی زیادہ وقت ہندی صحافت کو وقف کرنے والے سنتوش بھارتیہ ملک کے ان صحافیوں میں شمار کیے جاتے ہیں، جوملک اورسماج سے متعلق ہر ایک ایسو پر بے خوف، درست، غیر جانبدار تبصرہ کرتے ہیں۔ کتاب ’پترکارتا: نیا دور، نئے پرتیمان‘ میں ’رویوار‘ سے لے کر ’چوتھی دنیا‘ تک کے سفر کے ان کے مختلف تجربات اور رپورٹس مرتب کی گئی ہیں، جن کی اشاعت ہم قسطوارشروع کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ صحافتی دنیا کے ساتھیوں او رقارئین کو ہماری یہ کوشش پسند آئے گی۔

کچھ اسی طرح کی سوچ اکبر کی بھی تھی۔ سب سے پہلے وہ ’ویکلی‘ سے نکلے اور آنند بازار گروپ کی ہفتہ وار میگزین ’سنڈے‘ کے ایڈیٹر بنے۔ اکبر سنڈے کے پہلے ایڈیٹر تھے، جس نے انگریزی میں بھی نئی صحافت کی شروعات کی، لیکن اکبر کو تاریخ اس لیے زیادہ یاد کرے گی کہ انہوں نے ہندی میں ’رویوار‘ کا تصور کیا اور اس کے لیے انہوں نے سریندر پرتاپ سنگھ کو کپتان کے طور پر منتخب کیا۔ اکبر کو تاریخ اس لیے بھی یاد کرے گی کہ انہوں نے آنند بازار پتریکا کے مالک اویک سرکار کو ہندی میگزین نکالنے کے لیے تیار کیا۔ اکثر بنگالی زبان کے لوگ بنگلہ کے بعد انگریزی کو ہی ترجیح دیتے ہیں، لیکن ہندی کی میگزین کو اہمیت ملے، یہ کبھی کبھی ہی ہوتا ہے۔ اکبر نے ہی اویک سرکار کو اس بات کے لیے راضی کیا کہ ’رویوار‘ آزاد ہفتہ وار کے طور پر نکلے، نہ کہ ’سنڈے‘ کے ترجمہ کی شکل میں۔ اُن دنوں ایسے سینئر ہندی صحافیوں کی تعداد کافی تھی، جو ایس پی کو نہ صرف خود سے چھوٹا مانتے تھے، بلکہ یہ دعویٰ بھی کرتے تھے کہ سریندر کو تو انہوں نے ہی بنایا ہے۔ لیکن جب ’رویوار‘ کے لیے ایڈیٹر منتخب کرنے کا سوال آیا، تو اکبر کے من میں کوئی شک تھا ہی نہیں۔ انہوں نے ایس پی کو ہی منتخب کیا۔ اکبر صاف کہتے تھے کہ انہیں ایس پی ہی چاہیے، کیو ںکہ جس صحافت کی شروعات وہ کرنا چاہتے تھے، اس کے لیے انگریزی میں وہ خود کو اور ہندی میں ایس پی کو سب سے بہتر مانتے تھے۔ اس طرح اس بات کا سہرا اکبر، جنہیں ان کے دوست پیار سے ایم جے کہہ کر بلاتے ہیں، کے سر بندھا کہ پہلی بار ہندی صحافت میں قیادت کا ذمہ، یعنی ایڈیٹر کی کرسی 25 سال کے نوجوان کو ملی۔ یہ بات انگریزی کے لیے بھی لاگو ہوئی، کیوں کہ اکبر خود ایس پی کے ہم عمر تھے۔
جب ’رویوار‘ شروع ہوا، تو اس کے ایڈیٹر کے طور پر ایم جے اکبر کا نام شائع ہوا، لیکن جلدی ہی اس جگہ اکبر کی رائے پر سریندر پرتاپ سنگھ کا نام شائع ہونے لگا۔ دونوں نے مل کر انگریزی اور ہندی میں انکشافی صحافت (انویسٹی گیٹو جرنلزم) کا وہ باب شروع کیا، جو صحافت کی تاریخ میں سنہرے دور کی شہرت حاصل کر گیا۔ ’رویوار‘ کا جن دنوں تصور کیا جا رہا تھا، وہ دن ہندوستانی تاریخ اور ہندوستانی صحافت کو کچلنے کے دن تھے۔ یہ اتفاق ہی تھا کہ ایک طرف ایمرجنسی ختم ہو رہی تھی، تو دوسری طرف رویوار کا تصور حقیقی شکل لے رہا تھا۔ 28 اگست، 1977 کو ’رویوار‘ کا پہلا شمارہ نکلا اور اس کے کچھ ماہ پہلے مرارجی دیسائی کی سرکار کی حلف برداری ہو چکی تھی۔ g
جاری

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *