صفائی ملازمین کو آخر کب ملے گا انصاف؟

ڈاکٹر قمر تبریز
p-4تصور کیجیے، اگر آپ کے گھر کا کوڑا اٹھانے والا ملازم ایک ہفتہ تک نہ آئے، تو آپ کے گھر کا کیا حال ہوگا؟ آپ جس علاقے میں رہتے ہیں، وہاں کی سڑکوں کی ہفتہ بھر صفائی نہ ہو اور ادھر ادھر پڑے ہوئے کوڑے نہ اٹھائے جائیں، گندگیاں صاف نہ کی جائیں، تو آپ کو یا آپ کے محلے میں رہنے والے لوگوں کو کیسا لگے گا؟ ظاہر ہے، ہر کوئی اپنی ناک پہ رومال ڈال کر چلے گا، بیماریوں کا چاروں طرف راج ہوگا اور جو بھی اُدھر سے گزرے گا، صفائی ملازمین کو گالیاں دیتا ہوا چلے گا۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ صفائی کرنے والے یہ ملازمین کس حالت میں اپنی زندگی گزارتے ہیں؟ شاید نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جب بھی سو کر اٹھتے ہیں، تو ہمارے گھروں کے کوڑے دان ہمیں صاف ملتے ہیں۔ جس سڑک پر چل کر ہم اپنے دفتروں کو جاتے ہیں، وہ سڑکیں ہمیں صاف ستھری ملتی ہیں، اس لیے ہمارا دھیان کبھی ادھر گیا ہی نہیں کہ اگر ان گلی محلوں اور سڑکوں کی صفائی نہ ہو اور صفائی ملازمین ایک ہفتہ کی ہڑتال پر چلے جائیں، تو کیا حال ہوگا۔ لیکن اب ہم سب کو ہوشیار ہو جانا چاہیے، کیوں کہ صفائی ملازمین کے درمیان اب یہ احساس زور پکڑنے لگا کہ صدیوں سے ان کا استحصال ہو رہا ہے اور سرکار ان کی فلاح و بہبود کے لیے کچھ بھی نہیں کر رہی ہے۔
گزشتہ 31 جولائی، کو اسی سلسلے میں دہلی کے رفیع مارگ پر واقع کانسٹی ٹیوشن کلب میں صفائی ملازمین بڑی تعداد میں جمع ہوئے اور ’ونچت سماج ادھیکار سمیلن‘ کے عنوان سے ایک کانفرنس کا اہتمام کیا۔ حالانکہ یہ موقع شہید بھوپ سنگھ کی برسی کا تھا، جسے صفائی ملازمین ’صفائی مزدور دیوس‘ کے طور پر ہر سال مناتے ہیں، لیکن اس بار وہ اسے اپنے حقوق کی لڑائی کے طور پر منا رہے تھے۔ ان کی سب سے پہلی شکایت یہی تھی کہ صفائی کی ذمہ داری صدیوں سے صرف والمیکی سماج ہی کیوں کرتا آیا ہے اور اب بھی انہیں اچھوت کیوں سمجھا جاتا ہے؟ سماج کے اس نہایت ہی دبے کچلے طبقہ کی یہ بھی شکایت تھی کہ بچوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ہر سال بال دیوس (یومِ اطفال)، اساتذہ کی عزت افزائی کے لیے ادھیاپک دیوس (ٹیچرس ڈے)، فوجیوں کا شکریہ ادا کرنے کے لیے سینک دیوس، مزدوروں کے کاموں کی پذیرائی کے لیے مزدور دیوس اور شہیدوں کے عظیم کارناموں کو یاد کرنے کے لیے شہید دیوس منایا جاتا ہے، لیکن صفائی ملازمین کے لیے ایسا کوئی ’دیوس‘ نہیں منایا جاتا، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ صفائی ملازمین سب سے کم تنخواہ اور مزدوری پر حقارت بھری نظروں سے دیکھا جانے والا کام، یعنی انسانی فضلہ اور گندگیوں کو سر پر ڈھونے کا کام کرتا ہے۔ یہی نہیں، جو لوگ اپنی بیماریوں کی پرواہ کیے بغیر دن رات گندگیوں کو صاف کرنے کے سب سے اہم کام میں لگے ہوئے ہیں، ان سے سماج کے باقی لوگ جانوروں سے بھی زیادہ نفرت کرتے ہیں۔

اب اگر ہم اعداد و شمار پر نظر ڈالیں، تو پتہ چلتا ہے کہ اس وقت ملک میں درج فہرست ذات (ایس سی) کی فہرست میں کل 1091 ذاتیں شامل ہیں، جب کہ درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کی کل تعداد 586 ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ پونہ پیکٹ کے تحت اگست 1943 سے ملک میں ایس سی / ایس ٹی کے لیے لاگو ہونے والے ریزرویشن میں 1091 ایس سی ذاتوں میں سے اب تک جہاں صرف 16 ہی ذاتوں، یعنی 1.46 فیصد کو ریزرویشن مل پایا ہے، وہیں 586 ایس ٹی قبائل میں سے صرف 14، یعنی 2.38 فیصد کو ہی اس کا فائدہ ملا ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو ایس سی / ایس ٹی کو ملا کر کل 1677 ذات و قبائل میں سے صرف 30، یعنی 3.84 فیصد ذات و قبائل ہی ریزرویشن سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔ اب یہ کسی کو نہیں معلوم کہ ان میں سے بقیہ تقریباً 96 فیصد کو ریزرویشن کا فائدہ کب ملے گا؟

ایسے میں ایک بڑا سوال یہ اٹھتا ہے کہ ڈاکٹروں اور فوجیوں کی طرح ہی ہماری روز مرہ کی زندگی سے جڑے ہوئے سب سے اہم کام کو انجام دینے والے صفائی ملازمین کی اس حالت پر سرکار کی نظر اب تک کیوں نہیں پڑی اور اس نے اس طبقہ کے مسائل کو دور کیوں نہیں کیا؟ اس کا جواب ہمیں دو لوگوں سے ملا۔ پہلا جواب مقررین میں سے ایک مائیکل چندرا نے دیا، جن کا کہنا تھا کہ والمیکی سماج میں اتحاد کی کمی کے ساتھ ساتھ لیڈر کی بھی کمی ہے۔ مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آنجہانی مہندر سنگھ ٹکیت انگوٹھا چھاپ تھے، لیکن مغربی یو پی کے کسانوں نے متحد ہو کر انہیں ہندوستان کا سب سے بڑا کسان لیڈر بنا دیا۔ اسی طرح کروڑی سنگھ بینسلا راجستھان سے اٹھے اور انہوں نے گوجروں کو ریزرویشن دلا کر ہی دَم لیا۔ ایسی ہی مثال انہوں نے مایاوتی کی بھی دی اور کہا کہ جن لوگوں نے انہیں ’بہن مایاوتی‘ بنایا، ان کو انہوں نے کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ لیکن والمیکی قوم میں اتحاد اور قائد کی کمی کے سبب یہ سماج اب بھی وہیں پڑا ہوا ہے، جہاں پر یہ صدیوں پہلے تھا۔
اس سوال کا دوسرا جواب ہمیں ’راشٹریہ دلت بچاؤ آندولن‘ کے قومی صدر اور سپریم کورٹ کے وکیل ڈاکٹر اوپی شکلا سے ملا، جن کا ماننا ہے کہ بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر نے اچھوتوں اور آدیواسیوں کی اقتصادی، سماجی، سیاسی اور تعلیمی پس ماندگی کو دور کرکے انہیں مین اسٹریم میں لانے کے لیے ہندوستانی آئین میں ریزرویشن اور دیگر سہولیات کا انتظام کیا تھا، لیکن ان تمام سہولیات کا فائدہ اب تک صرف انھیں دلتوں اور آدیواسیوں کو مل رہا ہے، جو پہلے سے خوش حال، طاقتور اور چالاک ہیں، جب کہ اسی طبقے سے تعلق رکھنے والی مہتر، والمیکی، سدرشن، دھانک، کھٹک، دھوبی، کنجر، سانسی، گیہارا، بازیگر، بھیل، نائک، پاسی، ڈوم، ڈومار جیسی متعدد پچھڑی ذاتیں ان سہولیات سے پوری طرح محروم ہیں۔ مزید تفصیل بتاتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ پنجاب، ہریانہ، آندھرا پردیش، اتر پردیش اور دیگر ریاستوں میں ریزرویشن میں نہایت ہی پچھڑوں اور محروم طبقوں کو ریزرویشن کے اندر ریزرویشن دینے کی بات چلی تھی اور ہریانہ کے اندر 1994 سے 2004 تک اسے لاگو بھی کیا گیا، لیکن خوش حال اور خود غرض دلت طبقوں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے عدالت میں اس فیصلہ کو چنوتی دے دی، لہٰذا 2004 میں سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر اس پر پابندی لگا دی کہ ’’ریزرویشن کے اندر ریزرویشن دینا آئین کے خلاف ہے‘‘۔
اچھی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر او پی شکلا نے ابھی ہار نہیں مانی ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں ایک پی آئی ایل دائر کی، جسے عدالت نے قبول کیا اور پھر 25 اگست، 2011 کو سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت اور ملک کی تمام ریاستوں کو ایک نوٹس بھیج کر ان کا جواب مانگا کہ ’’کیوں نہ طاقتور اور خوش حال دلت، آدیواسی طبقوں، ذاتوں کو ریزرویشن کے دائرے سے باہر نکال دیا جائے۔‘‘ مرکز اور ریاستی حکومتوں کی طرف سے اس کا ابھی تک کوئی جواب سپریم کورٹ کو نہیں ملا ہے، تاہم ڈاکٹر اوپی شکلا کو پوری امید ہے کہ عدالت عظمیٰ سے انہیں ایک نہ ایک دن انصاف ضرور ملے گا۔
اب اگر ہم اعداد و شمار پر نظر ڈالیں، تو پتہ چلتا ہے کہ اس وقت ملک میں درج فہرست ذات (ایس سی) کی فہرست میں کل 1091 ذاتیں شامل ہیں، جب کہ درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کی کل تعداد 586 ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ پونہ پیکٹ کے تحت اگست 1943 سے ملک میں ایس سی / ایس ٹی کے لیے لاگو ہونے والے ریزرویشن میں 1091 ایس سی ذاتوں میں سے اب تک جہاں صرف 16 ہی ذاتوں، یعنی 1.46 فیصد کو ریزرویشن مل پایا ہے، وہیں 586 ایس ٹی قبائل میں سے صرف 14، یعنی 2.38 فیصد کو ہی اس کا فائدہ ملا ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو ایس سی / ایس ٹی کو ملا کر کل 1677 ذات و قبائل میں سے صرف 30، یعنی 3.84 فیصد ذات و قبائل ہی ریزرویشن سے فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔ اب یہ کسی کو نہیں معلوم کہ ان میں سے بقیہ تقریباً 96 فیصد کو ریزرویشن کا فائدہ کب ملے گا؟
دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں منعقد ہونے والے ’’صفائی مزدور دیوس‘‘ کا افتتاح کرتے ہوئے سابق وزیر کابینہ اور راجیہ سبھا کے موجودہ رکن منی شنکر ایئر نے اپنی تقریر میں صفائی ملازمین کی حالت زار پر فکر مندی کا اظہار تو کیا ہی، ساتھ ہی انہوں نے صفائی ملازمین کو یہ بھی بھروسہ دلایا کہ وہ پارلیمنٹ کے اندر ہی نہیں، بلکہ خود اپنی پارٹی کانگریس کے اندر بھی اس پیشہ میں ٹھیکہ داری کے نظام کو ختم کرنے کے لیے آواز اٹھائیں گے۔ قابل ذکر ہے کہ گروپ فور کی ملازمتوں، یعنی چپراسی، صفائی والا، دفتری، چوکیدار، مالی، پَیکر، خلاصی، ریکارڈ سارٹر وغیرہ عہدوں پر ٹھیکہ داری نظام کے چلن کی وجہ سے سماج کا یہ طبقہ کافی پریشان ہے۔ ان کی شکایت ہے کہ پہلے انہیں اپنے کام کی پوری مزدوری مل جاتی تھی، لیکن اب ان کی تنخواہ یا مزدوری کا آدھا حصہ ٹھیکہ داروں کی جیب میں چلا جاتا ہے۔
گاندھی جی نے کہا تھا کہ سرکار کی طرف سے بنائی گئی کوئی بھی پالیسی صحیح ہے یا غلط، اسے ناپنے کا ایک ہی پیمانہ ہے اور وہ یہ ہے کہ اس سے سماج کے سب سے نچلے طبقہ کو کتنا فائدہ پہنچ رہا ہے۔ دلتوں اور آدیواسیوں کے لیے ریزرویشن اور دیگر سہولیات کا جو انتظام کیا گیا تھا، اس سے ایک بڑا طبقہ اب بھی محروم ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ سرکار اپنی پالیسی پر پھر سے غور کرے اور ان لوگوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرے، جو اب تک اس سے محروم رہ گئے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *