رام دیو کی گنگا سیوا یاترا : کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ

راج کمار شرما
یوگا گرو بابا رام دیو نے گنگا کے نام پر سیاست کرنے کا من بنا لیا ہے۔ ان کی ہری دوار سے لے کر گنگوتری (گو مکھ) تک کی گنگا یاترا پوری طرح تنازعات سے گھری ہوئی ہے۔ بابا رام دیو نے اپنے 400 رضاکاروں، جن میں قریب چار درجن خواتین و لڑکیاں بھی شامل تھیں، کے ساتھ 15 سال بعد گنگوتری کی یاترا شروع کی۔ رام دیو نے جس طرح موسمیاتی حالات کا جائزہ لیے بغیر اپنی ہمالیہ – گنگا یاترا شروع کی، وہ پوری طرح ان کے ہٹھ یوگ سے متاثر رہی۔ ان کی ضد کی وجہ سے ریاستی سرکار کے پسینے چھوٹ گئے۔ جس وقت یاترا شروع ہوئی، اس وقت اتر کاشی سے لے کر گومکھ تک بھاری بارش کے ساتھ ساتھ زمین کھسکنے کا واقعہ بھی پیش آ رہا تھا۔ اتر کاشی میں ریڈ الرٹ جاری کرنے کے ساتھ ہی مسافروں سے کہا گیا تھا کہ وہ گنگوتری سمیت چار دھام کے سفر پر نہ جائیں۔ رام دیو ان سب باتوں کی پرواہ کیے بغیر گنگا یاترا کے لیے درجن بھر لگزری گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ نکلے، لیکن گنگوتری میں ان کا قافلہ پریشانی میں پھنس گیا۔ جس ضلع انتظامیہ کو قدرتی آفت میں پھنسے عوام کی مدد کرنی تھی، اس نے اپنی پوری طاقت بابا کے قافلے کو بچانے اور نکالنے میں جھونک دی۔ چار دنوں تک پوری انتظامیہ عوام کو بھول کر ’بابا بچاؤ – ہری دوار پہنچاؤ‘ مہم میں مصروف رہی۔ وہیں قافلے میں شامل لوگ گومکھ سے اتر کاشی تک سارے قاعدے قانون کو نظر انداز کرکے ساون کے بہار کا مزہ لوٹتے رہے۔
یوگا گرو رام دیو نے اپنی زندگی کا سب سے زیادہ وقت ہرشل اور گنگوتری میں گزارتے ہوئے یوگا کا علم حاصل کیا۔ اسی لیے وہ گنگوتری کو اپنی روحانی جگہ بتاتے ہیں۔ رام دیو اِن دنوں خود کی سیاسی ریاضت میں پوری تندہی سے جٹ گئے ہیں۔ اپنے مقصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے انہوں نے گنگا یاترا کو آئندہ کی سیاسی یاترا کا آغاز مانا ہے۔ بابا رام دیو سناتن دھرم میں سنتوں کی چتُر ماس میں سفر نہ کرنے کی روایت کو نظر انداز کرکے اپنی سیاسی گنگا یاترا پر نکلے، جو ان کی نا فہمی کے سبب تنازعات میں گھر گئی۔ 400 لوگوں کو ساتھ لے کر بابا کا گنگوتری پہنچنا ریاستی حکومت کے لیے فکرمندی کا باعث بن گیا۔ کافی دنوں سے بیمار چل رہے وزیر اعلیٰ ہریش راوت کے سامنے ضمنی انتخاب کا تناؤ تھا ہی، اس پر بابا رام دیو کی ناسمجھی نے انہیں اور بھی پریشانی میں ڈال دیا۔ رام دیو اور ان کے قافلے کو گنگوتری سے نکالنے کی مہم کی ذمہ داری خود وزیر اعلیٰ نے سنبھالی۔ جب انتظامیہ نے رام دیو اور ان کے قافلے کو بحفاظت ہری دوار پہنچا دیا، تب جا کر ریاستی حکومت نے چین کی سانس لی۔
اس بے موسم یاترا کو لے کر میڈیا میں بھی رام دیو کی خوب کرکری ہوئی۔ میڈیا نے اس یاترا پر جتنے بھی سوال اٹھائے، سب پر بابا بغلیں جھانکتے رہے۔ اتر کاشی میں پریس کانفرنس کے دوران بابا رام دیو نے سارا الزام میڈیا پر لگا دیا اور کہا کہ ہم ہمالیہ یاترا کے تئیں لوگوں میں بیٹھے ڈر کو نکالنے کے لیے نکلے ہیں اور میڈیا ہمیں بے وجہ تنازعات میں گھسیٹ رہا ہے۔ جس وقت رام دیو اترکاشی کے کیلاش آشرم میں میڈیا سے مل رہے تھے، اسی وقت ہری دوار میں بال کرشن بابا رام دیو کی گنگا سیوا یاترا کی کامیابی پر طمانیت کا اظہار کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بابا رام دیو گنگا کے کنارے قدرتی آفت کی مار جھیل رہے لوگوں کا درد بانٹنے گئے ہیں۔ اس کے بالکل برعکس رام دیو نے اپنی یاترا کے دوران پائلٹ بابا کے اتر کاشی (بھٹواڑی) آشرم میں ٹھہر کر رات گزاری۔ غور طلب ہے کہ پائلٹ بابا کو مقامی لوگ ذرا بھی پسند نہیں کرتے۔ پائلٹ بابا اپنے آشرم میں غیر ملکی لڑکیوں کو غیر قانونی طریقے سے ٹھہرانے، بے روزگاروں کا استحصال کرنے اور جنگلاتی زمین پر غیر قانونی تعمیر کی وجہ سے کھنڈوری سرکار کے نشانے پر رہے ہیں۔ رام دیو کی پائلٹ بابا سے دوستی لوگوں کو راس نہیں آئی۔
گنگوتری سے لے کر اتر کاشی تک قدرتی آفت سے تباہ ہوئے عوام کی کھوج خبر نہ لینا بھی رام دیو کے لیے نقصاندہ ثابت ہوا۔ ویسے، رام دیو کا ماننا ہے کہ جب کاشی بلاکر گنگا نریندر مودی کا بیڑا پار کر سکتی ہیں، تو ان کا کیوں نہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ گنگوتری تو ان کا روحانی میدانِ عمل رہی ہے، تو پھر گنگا کی مہربانی ان پر کیوں نہیں رہے گی؟ رام دیو کی گنگا یاترا مستقبل میں کیا گل کھلائے گی، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا، لیکن فی الحال ان کے منصوبے صاف نظر آ رہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *