پاکستان پھر سے فوجی حکومت کے نشانے پر

ڈاکٹر وسیم راشد
پندرہ اگست کو ہندوستان کا جشن آزادی تھا اور اس سے صرف ایک روز قبل یعنی 14 اگست کو پاکستان جشن آزادی مناتا ہے ۔لیکن اس مرتبہ پاکستان کے جشن آزادی پرتشویش اور خوف کے بادل منڈلاتے رہے اور پورا پاکستان دہلتا رہا۔ کیونکہ عمران خاں کی’ تحریک ِ انصاف پارٹی‘ اور طاہر القادری کی’ عوامی تحریک‘ نے مل کر نواز حکومت کے خلاف ایک بڑی ریلی نکالا اور اس ریلی کا نام رکھا ’’ آزادی مارچ‘‘۔اس ریلی کی ابتدا لاہور سے ہوئی اور اس کی آخری منزل دارالحکومت اسلام آباد تھی۔ہم نے جس وقت یہ خبر یعنی 13 اگست کی رات سنی تو دل دہل گیا کہ اللہ خیر کرے،پاکستان میں ایک بار پھر فوجی حکومت دستک دے رہی ہے۔ کافی دن سے ہندوستان کے سیاسی گلیاروں میں یہ خبر گردش کررہی تھی کہ پاکستان میں نواز حکومت کا تختہ پلٹنے کی تیاری ہے اور شاید پھر سے فوج کا قبضہ ہوجائے۔ پاکستان کی سیاست میں فوج جو بھی رول ادا کرتی ہو ،دونوں ممالک میں بسنے والوں کے دل اس طرح کی خبروں سے دہل جاتے ہیں۔ آزادی کے 67 سالوں میں یوں تو تقسیم کے بعد دونوں ممالک کے کافی عزیز و اقارب اب اس دنیا میں نہیں ہیں،لیکن ابھی بھی ہند وپاک دونوں ملکوں میں ایک دوسرے کے رشتہ دار رہتے ہیں ۔کسی کے دادا دادی، کسی کے چچا تایا ،کسی کے سگے بہن بھائی جن کو تقسیم نے جدا کردیاہے ،وہ سبھی لرز جاتے ہیں یہ سوچ کر کہ ویسے بھی ویزا کی مشکلات بے پناہ ہیں ۔اب تو اور جانے اپنوں کی شکلیں دیکھنا نصیب ہوںگی یا نہیں۔
14اگست 2006 کا پاکستان کا جشن یوم آزادی مجھے یاد ہے ۔ جب میں اپنے ایک رشتہ دار کی شادی میں کراچی گئی تھی۔اتفاق کی بات ہے ہمارے رشتہ دارکا گھر لبِ سڑک تھا۔ہمارے دماغ میں پاکستان کے یوم آزادی کا نہ ہی تصور تھا اور نہ ہی ہمیں یاد رہا۔اچانک باہر نظر پڑی تو پورا بازار اور سڑکوں پر ٹریفک نظام جیسے تھم گیا تھا۔لوگ بھی گاڑیوں سے نکل نکل کر سڑک پر قومی ترانے کے احترام میں کھڑے ہوگئے۔یہ منظر آنکھوں کو بھلا لگا۔ آج اپنے وطن عزیز میں بیٹھ کر وہ وقت یاد آیا تو اس وقت وہاں کے حالات کی سنگینی کا بھی احساس ہوا کہ ان 8 برسوں میں پاکستان پوری طرح دہشت گردی ، بد امنی ، بے روزگاری،مہنگائی کے مسائل سے دوچار ہے ۔ آج جو الزامات نواز حکومت پر لگائے جارہے ہیں۔ اسی طرح بھٹو کی حکومت پر بھی لگائے گئے تھے اور اسی طرح کے الزامات ضیاء الحق کی حکومت پر بھی اور اسی طرح پرویز مشرف پر بھی۔لیکن اب پاکستان دہشت گردی کے سخت ترین دور سے گزر رہا ہے۔ تحریک ِ انصاف نواز حکومت پر لگاتار دھاندلی کے الزمات لگا رہی ہے اور 2013 الیکشن میں بقول تحریک انصاف کہ بے پناہ دھاندلی ہوئی ہے اور اسی لئے عمران خاں وزیر اعظم نواز شریف سے استعفیٰ کی مانگ کر رہے ہیں۔حالانکہ نواز شریف نے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کے جج صاحبان پر مشتمل کمیشن تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا، لیکن عمران خاں نے اس کا جواب یہ کہہ کر دیا کہ میاں صاحب عدالتی کمیشن تب بنے گا جب آپ مستعفی ہو جائیں گے۔ پورا پاکستان اس آزادی مارچ سے اس لئے بھی کانپ رہا تھا کہ 14 اگست کولاہور کے زماں پارک سے شروع ہوئے اس قافلہ سے جو لاہور سے شروع ہوا ،اس میں ببانگ دہل یہ اعلان کیا گیا کہ وہ شریف خاندان کی بادشاہت ختم کرکے رہیں گے اور حقیقی جمہوریت لائیں گے۔عوام اس لئے گھبراتے رہے کہ کہیں کوئی انہونی نہ ہوجائے۔ حالانکہ پاکستان کے چینلز یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ اس مارچ میں مٹھی بھر لو گ ہی موجود تھے۔پاکستان کے مختلف اخبارا ت کا میں نے 15 اگست کو مطالعہ کیا تو تقریباً سبھی میں عمران خاں کے اس مارچ کی سخت تنقید کی گئی تھی۔پہلے حکومت نے سخت ناکہ بندی کی تھی ،لیکن پھر خود حکومت نے حالات کے مد نظر وہاں پولیس تعینات کی ،جو حکومت کا اچھا قدم تھا۔وہاں کے زیادہ تر اخبارات کا یہ بھی خیال تھ اکہ جان بوجھ کر نوجوان نسل کے ذہنوں سے 14 اگست کی یادوں کو ختم کرنے کی سازش ہے ۔کیونکہ پاکستان کے ہر شہر پر صوبے میں پہلی اگست سے ہی جھنڈے لہرانے شروع ہو جاتے تھے۔لیکن اس بار وہ گہما گہمی نظر نہیں آئی ۔ ایک اور افسوس کی بات یہ تھی کہ پاکستان کے قومی پرچم کے بجائے کہیں عوامی تحریک ،کہیں تحریک انصاف کے جھنڈے نظر آرہے تھے۔
ایک بات اور سمجھ میں نہیں آتی کہ طاہر القادری جمہوری اور سیاسی طور پر عوام میں مقبول تو ہیں لیکن وہ اس طرح کی آواز نہیں رکھتے جیسی کہ عمران خاں کی اسمبلی میں ہے۔ خیبر پختونخوا کی حکمرانی ان کے پاس ہے۔پھر ان کو طاہر القادری سے ہاتھ ملانے کی یا ان کی بی ٹیم بننے کی کیا ضرورت تھی۔ عمران خاں ایک آل رائونڈر بہترین کھلاڑی تھے،لیکن اب یہ کیا ہوا کہ وہ چوہدریوں اور طاہر القادری کے ہاتھوں کھیلنے لگ گئے۔
پاکستانی اخبارات پڑھتے ہوئے ایک بڑی دلچسپ بات ہاتھ لگی اور میں بے تحاشہ ہنس پڑی۔ آپ سے بھی چلئے وہ بات شیئر کرتی ہوںکہ طاہر القادری نے 1986 میں مجیب الرحمن شامی صاحب کے ڈائجسٹ میں جناب محبوب جاوید سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے ادارہ منہاج القرآن قائم کرنے کا حکم خود حضور اکرمﷺ نے دیا تھا اور ان کی اس بات پر پاکستان میڈیا میں لے دے ہوئی اور جیو ٹی وی کے ایک صحافی نے ان سے اس بات کی تصدیق کرنی چاہی تو وہ مکر گئے اور الٹا اس بات کے ثابت ہونے پر سر کٹانے کو تیار ہو گئے ۔حالانکہ ان کا وہ بیان ان کی کتابیں سب کچھ ریکارڈ میں موجود ہے لیکن وہ پھر بھی نہیں مانے کہ ایسا کچھ کہا ہو۔
ایک اور بڑی دلچسپ بات بتادوں ۔میں پاکستان کے مشہور مزاح نگار اور شاعر جناب عطاء الحق قاسمی کی تحریریں بھی بڑے شوق سے پڑھتی ہوں اور اخباروں میں ان کے کالم بھی 13 اگست کے کالم جنگ میں ان کا ایک مضمون شائع ہوا اور میری نظر سے گزرا جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ طاہر القادری نے خود ایک بار کہا تھا کہ انہیں بشارت دی گئی ہے کہ ان کی عمر حضرت محمدﷺ کی عمر سے زیادہ یعنی 63 سال یا اس سے زیادہ نہیں ہوگی بلکہ وہ 62 سال میں ہی دنیا چھوڑ جائیں گے۔یہ بات لکھنے کے بعد عطا ء الحق قاسمی نے جنگ کے مشہور کالم نگارجبار مرزا سے کہا کہ وہ تحقیق کریں کہ مولانا طاہر القادری کے 62 برس مکمل ہوئے یانہیں تو بڑی دلچسپ بات سامنے آئی کہ مولانا طاہر القادری 19 فروری 1951 کو پیدا ہوئے تھے ۔اس طرح ان کی عمر 63 سال 6 ماہ ہوچکی ہے اور بشارت کی رو سے انہیں دنیا سے چلے جاناچاہئے تھا۔ خیر یہ تو بیوقوفی کی ہی بات تھی لیکن ایسے شخص کو جس پر ہزاروں لوگوں نے بیعت کر رکھی ہو ایسی جھوٹ فریت کی باتیں زیب نہیں دیتیں اور خود عوام کا ایسے شخص کے ہاتھ پر بیعت کرنا احمقانہ عمل ہی کہلائے گا۔
اس لانگ مارچ کے ساتھ ساتھ ایک بات اور بھی بہت اہم ہے ۔جانے کیوں ایسا ہوجاتاہے کہ جب بھی ہندو پاک کے تعلقات میں بہتری کی امید ہوتی ہے، کوئی نہ کوئی ایسی بات ہوجاتی ہے جس سے دونوں ممالک کے عوام فکر مند ہوجاتے ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے خود نواز شریف کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا جس کی سب نے ہی سراہنا کی تھی اور پھر اب دوبارہ بھی ملاقات ہونے جارہی ہے ۔ایسے میں مودی جی کو پراکسی وار کی بات کارگل میں نہیں کرنی چاہئے تھی۔
خیر سیاست تو ایسے ہی دائوں کھیلتی رہے گی ۔ہم تو بس دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری چاہتے ہیں ۔تجارتی روابط بہتر ہونا چاہئے اور ویزا قوانین میں نرم ہو ،یہی ہماری خواہش ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *