معصوم فلسطینیوں کی آہ و بکا اور ہماری عید

ڈاکٹر وسیم راشد
عید آئی بھی اور گزر بھی گئی، لیکن فلسطین کے معصوم بچے ،بچیاں اور خواتین نہ تو عید کے کپڑے بنا پائے، نہ ہی پہن پائے، اور سفید کفن میں لپٹ کر یہ معصوم ابدی نیند سوگئے۔ پوری دنیا میں جبکہ اس وقت مسلمان چاروں طرف سے مارے جارہے ہیں، غزہ پربمباری جاری ہے ، رات دن غزہ کے مظلوم مارے جارہے ہیں ،بعض ملکوں میں بے حس مسلمان عید مناتے رہے۔ سعودی عرب میں وہی عید کی گہما گہمی رہی۔ ہندو پاک میں بھی عورتوں، مردوں اور لڑکیوں سے بازار بھرے رہے، چاروں طرف رنگین آنچل لہراتے رہے۔ ہر طرف سے’ عید مبارک، عید مبارک‘ کی صدائیں گونجتی رہیں، لیکن غزہ کے شہیدوں کی لاشوں پر رونے والے صرف ان کے اپنے رشتہ دار اور ماں باپ ہی تھے، باقی سب اپنی عید کی خوشیوں میں مصروف تھے۔ اور اسی عید کے دوران جبکہ غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 1000 ہوچکیہے، غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اقوام متحدہ کے زیر اہتمام چلنے والے ایک اسکول پر اسرائیلی فوج کی گولہ باری کی وجہ سے کم سے کم 15افراد شہید اور 200زخمی ہوگئے۔ اس اسکول میں فلسطینیوں نے اسرائیلی جارحیت سے بچنے کے لیے پناہ لی ہوئی تھی۔ اس میں معصوم بچّے بھی تھے، عورتیں بھی تھیں، شرم اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ایک طرف تو برکس اور اقوام متحدہ میں غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف قرار دادیں پاس ہوتی ہیں تو دوسری طرف کوئی بھی اس معاملے میں کھل کر احتجاج درج نہیں کراتا۔ یوں تو پوری دنیا میں ہی مظاہرے ہورہے ہیں اور اسرائیل کے خلاف نفرت و غم و غصہ ہے۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ سبھی عرب ممالک کے سربراہان اور دوسرے ممالک کے سربراہان ایک ساتھ مل کر آواز اٹھاتے، لیکن برطانیہ ، فرانس، جرمنی، جاپان، اٹلی اور جنوبی کوریا سمیت 17ممالک نے برکس ممالک کے ساتھ ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا ۔ امریکہ نے تو پولنگ کی تجویز کے خلاف ووٹ دیا ۔ اس کا کہنا تھا کہ فلسطینی علاقوں میں بین الاقوامی قانون پر عمل ہونا چاہیے۔

ہم صرف غزہ پر حملوں کی ہی تصاویر دیکھ دیکھ کر بے چین ہورہے ہیں، معصوم بچوں کی لاشیں ہمیں خون کے آنسو رلارہی ہیں، لیکن اس سے بھی زیادہ دردناک حالات سے وہ عورتیں، بچّے اور بوڑھے گزررہے ہیں، جو اسرائیل کی جیلوں میں قید ہیں۔ مختلف ذرائع سے جو اعدادوشمار ہمارے سامنے آرہے ہیں، ان میں 1500مرد، 400کے قریب بچّے اور تقریباً 210خواتین اسرائیلی قید خانوں میں ہیں۔ اسرائیلی تشدد نے تو گوانتاناموبے جیل کے تشدد کو بھی مات کردیا ہے۔ اسرائیلی فلسطینی قیدیوں خاص طور پر بچوں پر اس طرح کے تشدد کر رہے ہیں کہ بچّے ہوش و حواس کھو بیٹھے ہیں۔

امریکہ کا جوبھی موقف رہا ہو، لیکن جانے کیوں عرب ممالک کی جانب سے جس طرح کا احتجاج درج ہونا چاہیے، وہ نہیں ہوپارہا ہے۔غزہ میں ہورہے ہوائی حملوں اور خاص طور پر زمین پرجس طرح فوجی طاقت کا استعمال کر کے عورتیں اور بچّے مارے جارہے ہیں، وہ نہایت ہی دردناک ہے۔ اس وقت سوشل میڈیا پر گود کے دودھ پیتے بچوں سے لے کر بڑے بچوں تک خون میں لہولہان جس طرح کی تصاویر دیکھنے کو مل رہی ہیں، اس سے انسان کے اشرف المخلوقات ہونے پر سے اعتبار اٹھ جاتا ہے۔ خون میں نہائے ہوئے گورے گورے خوبصورت بچّے جن کو گودوں میں اٹھائے انسانیت سے فریاد کر رہے ہیں کہ عید تو ہماری بھی تھی، ہمارے معصوم بچوں نے تو ابھی آنکھیں کھول کر صرف گولہ بارود کی بو سونگھی تھی، توپوں کی گھن گرج کی آوازیں سنی تھیں اور بھوک پیاس کی تڑپ دیکھی تھی ۔سوال یہ ہے کہ جب ہمارے معصوموں کو عید نصیب نہیں ہوئی، توباقی اہل اسلام کیسے عید مناسکتے ہیں۔
اس وقت بھی غزہ کے اسکولوں میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد پناہ لیے ہوئے ہیں۔ جنگ کی وجہ سے شہریوں کی خوراک کا ذخیرہ تیزی سے ختم ہورہا ہے اور لاشوں کا یہ عالم ہے کہ کفن بھی نصیب نہیں ہورہا ہے۔ ہر دن شہیدوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ دنیا کے لیے یہ تعداد صرف ایک نمبر ہے کہ آج اتنے مارے گئے، کل اتنے، لیکن غزہ پر یہ خون کی ہولی اگر اسی طرح جاری رہی، تو زمینی حملوں، فضائی حملوں اور بھوک پیاس سے پورا غزہ ہی لاشوں کا ڈھیر بن سکتا ہے۔ اسرائیل نے اقوام متحدہ کی جنگ بندی کی اپیل کو بھی مسترد کر دیا ہے۔ حالانکہ اقوام متحدہ کے چار ٹر کے مطابق ایسے ممالک جو کھلم کھلا اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کریں گے، انھیں اقوام متحدہ سے نکال دیا جائے گا، لیکن اسرائیل جوکہ 66سالوں سے اس منشور کی خلاف ورزی کرتا چلا آرہا ہے کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ اسرائیل نے پوری دنیا کے امن و سکون کو آگ لگا کر اور تمام قوانین کو بالائے طاق رکھ کر غزہ پر درندگی اور بربریت کی مثال قائم کردی ہے۔ اسرائیل نے جنیوا قانون کا بھی مذاق اڑایا ہے، جس کے تحت اسپتالوں، کالجوں، اسکولوں، ڈسپنسریوں پر حملے نہیں کیے جاسکتے، لیکن اس کے باوجود ان کو نشانہ بنایا گیا۔ کیمیاوی ہتھیار اور فاسفورس بم استعمال کیے گئے۔ایسا لگتا ہے کہ اسرائیلی فلسطینیوں کی نسل ہی ختم کرنے پر اتارو ہوگئے ہیں اور ان کے معصوم دودھ پیتے بچوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔
جنگ کا ایک اور قانون یہ ہے کہ بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو نشانہ نہیںبنایا جاتا ہے ۔ ہتھیار نہ اٹھانے والوں پر فائرنگ اور بمباری نہیں کی جاتی، لیکن اسرائیلی فوجوں نے کچھ نہیں دیکھا، کچھ نہیں جانا کہ اسپتال ہے، اسکول ہے، مریض ہیں، ایمبولینس ہے یا امدادی کارکن ہیں، سب کو نشانہ بنایا ہے اور ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے۔ 2009میںبھی فلسطینی عوام کو امداد پہنچانے والے امدادی کارکنوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا گیا تھا۔ اس وقت جو کارکن گرفتار کیے گئے تھے ،وہ آج جیلوں میں بند ہیں۔ ایک مسلمان قیدی نے رملہ جیل سے لکھا ہے کہ میں انسانی حقوق کے ان 21ارکان میں سے ہوں، جو اس وقت بھی قید ہیں۔ جنگ کے دوران ہم زخمیوں کے لیے دوائیں پہنچانے غزہ کی طرف جارہے تھے کہ اسرائیلیوں نے ہماری گاڑیوں پر فائرنگ کردی اور ہمیں پکڑ کر جیل میں ڈال دیا۔ ہم دنیا کے مہذب لوگوں کو بتانا چاہتے ہیںکہ ہمارے ساتھ کیا سلوک کیا جارہاہے۔
ہم صرف غزہ پر حملوں کی ہی تصاویر دیکھ دیکھ کر بے چین ہورہے ہیں، معصوم بچوں کی لاشیں ہمیں خون کے آنسو رلارہی ہیں، لیکن اس سے بھی زیادہ دردناک حالات سے وہ عورتیں، بچّے اور بوڑھے گزررہے ہیں، جو اسرائیل کی جیلوں میں قید ہیں۔ مختلف ذرائع سے جو اعدادوشمار ہمارے سامنے آرہے ہیں، ان میں 1500مرد، 400کے قریب بچّے اور تقریباً 210خواتین اسرائیلی قید خانوں میں ہیں۔ اسرائیلی تشدد نے تو گوانتاناموبے جیل کے تشدد کو بھی مات کردیا ہے۔ اسرائیلی فلسطینی قیدیوں خاص طور پر بچوں پر اس طرح کے تشدد کر رہے ہیں کہ بچّے ہوش و حواس کھو بیٹھے ہیں۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ عالمی ریڈکراس کے نمائندوں تک کو اسرائیلی جیلوں کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
ہم اپنے بچپن میں اسرائیل کی جارحیت کے داستانیں سنتے تھے، اب خود اپنی آنکھوں سے دلدوز مناظر دیکھ رہے ہیں۔ چند لوگ اکٹھا ہوکر اسرائیلی سفارتخانے کو گھیر لیں، ان سب سے کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پوری دنیا متحد ہوکر اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائے ، لیکن امریکہ کی ناراضگی کوئی مول نہیں لینا چاہتا۔ جانے کب تک ظلم و بربریت کا تماشا دنیا کھلی آنکھوں سے دیکھتی رہے گی۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *