مین پوری کی مہا سبھا: بی جے پی ، سماجوادی پارٹی میں چھڑے گی جنگ

درشن شرما
p-9b بی جے پی اترپردیش میں پارلیمانی انتخابات میں ملی جیت سے بہت خوش ہے۔خوشی کو نہ چھپا پانے والی بی جے پی یو پی کے اقتدار پر قابض سماجوادی پارٹی کو مسلسل للکار رہی ہے۔ سماج وادی پارٹی کو بچائو کے سوا کچھ نظر نہیں آرہا ہے لیکن سماج وادی پارٹی کے سپریمو اول درجہ کے لیڈر ملائم سنگھ یادو ہیں کہ ہار مانتے نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہار جیت تو لگی رہتی ہے۔ وہ کئی کھیل کھیلے ہیں اور کئی کھیل کھیلاچکے ہیں۔ یہی وجہ رہی کہ سماجوادی پارٹی کے سپریمو مین پوری سیٹ سے کسی ایسے کو ٹکٹ دینا چاہ رہے تھے جو قد آور ہو اور موقع بہ موقع ان کی مدد کرنے میں آگے بڑھ کر مورچہ سنبھال سکتا ہے۔اس بار وہ کسی اقلیتی طبقے کو مین پوری سے انتخاب لڑانے کے موڈ میں تھے،لیکن کافی غور و فکر کے بعد انہوں نے اپنے خاندان کے ہی تیسری نسل کے پوتے تیج پرتاپ سنگھ عرف تیجو کو مین پوری سے ٹکٹ دے کر یہ صاف کردیا ہے کہ وہ دھوکے والی سیاست نہیں کرسکتے ہیں۔ وہ لوک سبھا انتخاب میں سبق لے چکے ہیں۔ اگر ان کے خاندان کے کئی ممبر انتخاب نہ لڑتے تو شاید وہ پارٹی کے اکلوتے ممبرِ پارلیمنٹ بن کر رہ جاتے۔
انہوں نے اپنے خاندان کے رکن تیجو کو اتار کر چرچے ہی ختم کر دیے۔ ہاورڈ سے گریجویٹ تیجو ملائم کے بھتیجے آنجہانی رنویر سنگھ کے بیٹے ہیں۔ وہ سیفئی کے بلاک چیف ہیں جو کہ ملائم کے مین پوری پارلیمانی حلقے کے کام کاج سنبھالتے رہے ہیں۔ پارٹی اسمبلی کی سیٹوں پر امیدواروں کی لسٹ بنا رہی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے ترجمان راجندر چودہری کا کہنا ہے کہ اسمبلی کی خالی 12 سیٹوں میں سے 7 امیدواروں کا سماج وادی پارٹی کی طرف سے اعلان ہوچکا ہے۔ان میں لکھنؤ قدیم اسمبلی حلقے سے جوہی سنگھ، سہارن پور نگر سیٹ سے سابق ممبر اسمبلی سنجے گرگ، کیرانا سیٹ سے ناہید حسن، مراد آباد کی ٹھاکور دوار سیٹ سے نواب جان خاں اور بوندیل کھنڈ کی حمیر پور سیٹ سے سابق وزیر شیو چرن پرجا پتی امیدوار ہوں گے۔ اس کے علاوہ بہرائچ کی بلہا سیٹ سے سابق ممبر اسمبلی شبیر احمد بالمیکی اور بجنور سیٹ سے کنور رانی روچی بیرا کو پارٹی نے امیدوار بنا یاہے۔
ادھر ضمنی انتخاب کو لے کر بی جے پی خیمے میںبھی کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر ڈاکٹر لکشمی کانت باجپئی اور ریاستی مہا منتری (تنظیم) سنیل بنسل پارٹی انچارج کو ٹپس دے رہے ہیں۔ چونکہ امیت شاہ 19 اگست کو پہلی بار لکھنؤ آرہے ہیں۔ پارٹی ان کے استقبال کی تیاری میں لگی ہے۔ وہیں پارٹی کے کارکنان کو پڑھانے کے لئے پھر سے ریہرسل شروع ہوگیا ہے۔اس میں بوتھ کمیٹی، ووٹر لسٹ ،ووٹنگ سینٹروں کا نظام اور مختلف موضوعات پر وسیع چرچا اور تبصرے ہورہے ہیں۔ پالیسی کے مطابق بی جے پی نے اپنے انچارج طے کر دیے ہیں۔ کیرانہ کے انچارج لوکیندر سنگھ چوہان، نوئیڈا کے امیت اگروال ، بجنور کے سریش رانا، سہارن پور اشونی تیاگی ، ٹھاکردوار سے اشوک کٹریا، چرکھاری کے اجے پٹیل، حمیر پور کے راجیش دریویدی ، و جے دیپ پروہیت،لکھنؤ قدیم کے انچارج گوپال ٹنڈن و مان سنگھ ، نگھاسن کے انچارج سبھاش ترپاٹھی، اور لوکیندر پرتاپ سنگھ ، بلہا کے انچارج کرن سنگھ پٹیل و راما کانت تیواری، سیراتھو کے انچارج دیویندر سنگھ چوہان، روہنیاں کے انچارج لکشمن اچاریہ و نند لال، گریجویٹ الیکشن مراد آباد کے انچارج سمیر سنگھ اور مین پوری لوک سبھا کے انچارج سبرت پاٹھک بنائے گئے ہیں۔
کہتے ہیں کہ مین پوری کے لوک سبھا کا ضمنی انتخاب دلچسپ ہوگا۔ اس سیٹ کو جیتنے کے لئے سماج وادی پارٹی اور بی جے پی کے بیچ کانٹے کا مقابلہ ہونے کے پورے آثار دکھائی دینے لگے ہیں۔ انتخابات میں بھاری کامیابی سے حوصلہ مند بی جے پی سماج وادی پارٹی کے گڑھ میں پارٹی کو گھیرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔ لڑائی رتّی رتّی و ماسہ ماسہ ہوگی۔ کہتے ہیں کہ اٹاوہ کی قد آور بی جے پی لیڈر سریتا بھدوریہ کو بی جے پی اعلیٰ کمان انتخابی میدان میںاتار سکتی ہے، لیکن کچھ کا کہنا ہے کہ بی جے پی اعظم گڑھ میں ملائم کے ہاتھوں ہار کا منہ دیکھ چکے رما کانت یادو کو اتارنے کے موڈ میں دکھائی دے رہی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ایسا کرنے سے لڑائی دلچسپ ہو سکتی ہے۔ چونکہ بہو جن سماج پارٹی پہلے ہی ضمنی انتخاب نہ لڑنے کا اعلان کر چکی ہے۔ایسے میں سماج وادی پارٹی بی جے پی کے بیچ کانٹے کا مقابلہ ہونے کے آثار ہیں۔ فی الحال بی جے پی کا زیادہ تر زور ذات برادری کی بنیاد پر ہے۔ کیونکہ مین پوری میں یادو ووٹروں کے بعد ٹھاکر ووٹروں کی تعداد زیادہ ہے۔ اس لحاظ سے پارٹی کے ریاستی صدر اور قد آور لیڈر سریتا بھدوریہ کو وہاں سے انتخاب لڑنے کی تیاری چل رہی ہے۔ سریتا بھدوریہ کی مائیکہ بھی مین پوری لوک سبھا حلقے کے کشنی اسمبلی حلقے کے تحت آتی ہے۔ اسی صورت حال کی وجہ سے سیاسی گلیاروں میں یہ چرچا گرم ہے۔
لوک سبھا انتخابات میں ملی سخت ہار کے بعد سماج وادی پارٹی ضمنی انتخاب میں کوئی جوکھم نہیں لینا چاہتی ہے۔ پارٹی سبھی 12 سیٹوں کے ساتھ ہی لوک سبھا کی مین پوری سیٹ پر فتح حاصل کر کے مخالفین کو پیغام دینا چاہتی ہے کہ ریاست کے عوام کے بیچ اکھلیش سرکار کی ساکھ بر قرار ہے۔ اس کے مد نظر ہی پارٹی نے ضمنی انتخاب کی تیاریوں کو عملی جامہ پہنانا شروع کر دیا ہے۔ اس بار ملائم سنگھ کے تیور تیز ہیں ۔ انہوں نے وزیروں اور انچارجوں کی پڑھائی شروع کر دی ہے۔ وزیر اعلیٰ بیٹے کو بھی سبق پڑھا رہے ہیں۔ سماج وادی پارٹی سپریمو کا صاف کہنا ہے کہ انتخابی نتیجے پارٹی کے حق میں آنے چاہئے۔ اس کے لئے ابھی سے سبھی اپنی ذمہ داری والے حلقوں میں جاکر رابطہ کرنا شروع کر دیں۔ پارٹی اور سرکار کی پالیسیوں کو عوام کے بیچ لے جائے۔چارج والے وزیر اپنے اپنے حلقے میں کم سے کم ایک ایک ہفتہ ضرور گزاریں۔
اسی طرح ملائم نے وزیروں کو انتخاب جیتنے کے قریب ایک درجن ٹپس دیے ہیں۔ پارٹی ہائی کمان کی منشا کے مطابق سہارن پور اسمبلی سیٹ کا ذمہ وزیر سیاحت اوم پرکاش سنگھ اور رام سکل گورجر کو سونپا ہے۔ لکھنؤ قدیم سیٹ کے لئے وزیر صحت احمد حسن، پسماندہ طبقہ کے وزیر فلا ح و بہبود امبیکا چودھری ،دیہی ترقیات کے اسٹیٹ منسٹر اروند سنگھ گوپ اور پروفیشنل ایجوکیشن کے اسٹیٹ منسٹر ابھیشیک مشر کو ذمہ داری دی گئی ہے۔ بجنور اسمبلی سیٹ کے لئے وزیر محنت شہید منظور و لدھو اور وزیر صنعت بھگوت شرما گنگوار، مراد آباد کی ٹھاکر دوار سیٹ کے لئے مویشیوں کے وزیر راج کیشور سنگھ اور اسٹیٹ منسٹر کمال اختر ، بوندیل کھنڈ کی حمیر پور سیٹ کے لئے وزیر معدنیات گائتری پرساد پرجا پتی اور سماجی فلاح کے اسٹیٹ منسٹر نریندر سنگھ ورما ، بنارس کی روہنیا سیٹ کے لئے ذمہ داری وزیر ٹرانسپورٹ درگا پرساد یادو اور رام دلار راج بھرکو دی گئی ہے۔ گوتم بودھ نگر کی نوئیڈا اسمبلی سیٹ کے لئے کھیل کود کے وزیر نارد رائے اور قانون ساز کونسل کے ممبر اسمبلی اسیم یادو ، بہرائچ کی بیلہا سیٹ کے لئے اسٹیٹ منسٹر ڈاکٹر ایس پی یادو ،اسٹیٹ منسٹر پنڈت سنگھ کو ذمہ داری دی گئی ہے۔ لکھیم پور کھیری کی نیدھاسن سیٹ کے لئے کابینی وزیر رام مورتی ورما اور سٹیٹ منسٹر رام کرن آریہ کو انچارج بنایا گیا ہے۔ کوشامبی کی سیراتھو سیٹ پر وزیر باغبانی پارس ناتھ یادو اور اسٹیٹ وزیر صحت شنکھ لال مانجھی کو انچارج بنایا گیاہے۔ مہوبہ کی چرکھاری سیٹ کا انچارج وزیر بنیادی تعلیم منسٹر رام گووند چودھری اور ایم ایل سی رام سندر نشاد کو بنایا گیا ہے۔
کانگریس سینئر لیڈر بینی پرساد ورما کا کہنا ہے کہ لوک سبھا انتخا بات میں اتر پردیش میں بھاری جیت سے حوصلہ مند بی جے پی اب ریاست میں ضمنی انتخابوں کی تیاری میں لگ گئی ہے۔ بینی کا کہنا ہے کہ ریاست میں ایسی چرچائیں چل رہی ہیں کہ امیت شاہ ریاست کی برسر اقتدار پارٹی کے 40-50 ممبران اسمبلی کو توڑ کر اکھلیش سرکار کو گرانے کی کوشش میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مرکز ی سرکار پوری اکثریت سے بنی ہے تو ریاستوں میں ضمنی انتخاب ہوئے ہیں ۔ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی بھی اتر پردیش میں کوئی نہ کوئی تدبیر کرکے ضمنی انتخاب کرا سکتی ہے۔ بی جے پی سرکار اگر اتر پردیش کی سرکار کو مستحکم کرنے کی سازش رچتی ہے، تو ایسی صورت حال میں سماج وادی پارٹی کے سپریمو ملائم سنگھ یادو اگر چاہے تو وہ بینی پرساد ورما ان کی (ملائم سنگھ کی ) مدد کر سکتے ہیں۔ سماج وادی پارٹی اگر مستحکم رہی اور بی جے پی اگر کوئی کمزور کوشش کرتی ہے تو اسے روکنے کے لئے وہ سماج وادی پارٹی کی مدد کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست کی اکھلیش حکومت میں بد عنوانی کے بڑھ جانے اور لاء اینڈ آرڈر برباد ہو جانے کی وجہ سے سرکار کے تئیں عوام میں اعتماد پیدا ہو گیا ہے۔ سرکار کو چاہئے کہ وہ ان خامیوں کو ٹھیک کرے۔
ادھر الیکشن کمیشن اتر پردیش نے اسمبلی کی خالی 12 اور لوک سبھا کی ایک سیٹ کے لئے ضمنی انتخاب کی تیاری شروع کردی ہے۔ کمیشن کے افسروں کا ماننا ہے کہ ضمنی انتخاب کے لئے اکتوبر کا مہینہ اچھا ہے۔ایسی صورت میں اکتوبر کے دوسرے ہفتہ میں انتخاب کرانا کئی معنٰی میں مناسب رہے گا۔ اس کے لئے کمیشن نے پورا خاکہ کھینچ لیا ہے۔ ستمبر ماہ کے ضمنی انتخاب میں کئی سیٹوں سے انتخاب جیت کر ممبر اسمبلی بنے ڈاکٹر مہیش شرما ، حُکُم سنگھ، کلراج مشر، اجے مشر ساوتری بائی پولے، سادھوی نرنجن جیوتی، اوما بھارتی، کنور بھارتیندر، کنور سرویش کمار، رادھو لکھن پال، کیشو پرساد اور انوپریہ پٹیل لوک سبھا انتخاب جیت کر پارلیمنٹ پہنچے ہیں جس میں نوئیڈا، کیرانہ ، لکھنو قدیم، نگھاسن، بلہا، حمیر پور، ، چر کھاری، بجنور، ٹھاکر دوار، سہارن پور نگر ، سیراتھو اور روہنیاں اسمبلی سیٹوں پر ضمنی انتخاب ہونے ہیں۔ اس کے علاوہ سماج وادی سپریمو ملائم سنگھ یادو کی مین پوری لوک سبھا سیٹ چھوڑے جانے سے یہاں بھی ضمنی انتخاب ہونے ہیں۔ ایک سرکاری رپورٹ کے مطابق زیادہ تر ممبر پارلیمنٹ چنے گئے ممبران اسمبلی نے 22 مئی سے 29 مئی کے دوران اپنے استعفیٰ دیے ہیں۔ الیکشن آفس کے زیادہ تر ذرائع کے مطابق استعفیٰ کے چھ ماہ کے اندر ضمنی انتخاب ہو جانے چاہئے ۔ ایسے میں 29 نومبر تک ہر سمت میں سبھی سیٹوں کے ضمنی انتخاب ہونے ہیں۔ استعفیٰ دینے والے سبھی ممبران اسمبلی کی لسٹ ریاستی سرکار نے الیکشن آفس کو بھیج دی ہے اور ضمنی انتخاب کرانے کا خاکہ بھی تیار کر لیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق 10 اکتوبر سے 20 اکتوبر کے بیچ اسمبلی اور لوک سبھا کے ضمنی انتخاب کرانے کا ممکنہ پروگرام بنایا گیا ہے۔ افسروں کا کہنا ہے کہ انتخاب کرانے کے لئے کم از کم 40 دن پہلے نوٹیفکیشن جاری ہو جانی چاہئے۔ جس وجہ سے اگر 10سے 20 اکتوبر کے بیچ ضمنی انتخاب ہوتے ہیں تو اس کا نوٹیفکیشن کمیشن ستمبر ماہ میں جاری کر دے گا۔ اس کے پہلے انتخاب کرانے کے سوال پر الیکشن افسروں کا کہنا ہے کہ اگست اور ستمبر ماہ میں بارش ہوتی ہے اور تمام ضلعوں میں سیلاب کی صورت حال ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اکتوبر کے مہینے میں ضمنی انتخاب بہتر طریقے سے کرائے جاسکتے ہیں۔انہیں وجہوں کو دیکھتے ہوئے اسمبلی اور لوک سبھا ضمنی انتخاب کرانے کا ممکنہ کام اکتوبر ماہ کے لئے تیار کیا گیا ہے۔
کل ملا کر انتخاب چاہے جب ہو، لیکن یہ ضمنی انتخاب کسی بڑے انتخاب سے کم دم خم نہیں رکھنے والا ہے۔ بی جے پی چاہتی ہے کہ مخالفین کو اٹھنے کا موقع ہی نہ دے۔ اس لئے ملائم کے گڑھ میں گھسنے کے لئے سنگھ سمیت بی جے پی پوری تیاری میں ہے۔ ڈال ڈال پات پات کی لڑائی ہے۔ بی جے پی مین پوری میں ملائم کے پوتے تیجو کو گھیرنے کے لئے تدبیر کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ دیکھنا ہے کہ تیجو کو ملائم سنگھ بی جے پی کے چکر بھیو سے نکال پاتے ہیں یا نہیں؟ کیونکہ ڈاکٹر لکشمی کانت باجپئی کے تام جھام سے ہی دکھ رہا ہے کہ وہ سماج وادی پارٹی کو سبق پڑھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ لیکن بی جے پی صدر کو سوچنا پڑے گا کہ یہ اب مودی کی لہر نہیں بلکہ مقامی لیڈروں کی مشقت کام آئے گی۔ تبھی ریاست کے اچھے دن بی جے پی والے لا سکیں گے۔ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *