جناب ایسے مناتے ہیں ہم جشنِ آزادی

ڈاکٹر وسیم راشد
ہماری آزادی 67سال کی ہوگئی ہے۔ یعنی جس عمر میں ہمارے ملک میں کوئی بھی شخص ریٹائرڈ ہو کر بس آخری پڑاؤ کی طرف گامزن ہوتا ہے، ہماری آزادی بھی اس آخری پڑاؤکی طرف جارہی ہے۔ لیکن، کیا ہم اس آزادی کے بوڑھے ہونے پر فخر سے یہ کہہ سکتے ہیںکہ بچپن اور جوانی اس کی لاجواب رہی ہے۔ نہیں کہہ سکتے، کیونکہ آزادی کے 67سال بعد بھی ہمارے ملک میں غریبی، بے روزگاری، بھکمری، جہالت، بدعنوانی، فرقہ پرستی اور توہم پرستی سے نہ تو ہمیں نجات ملی ہے اور نہ ہی ہم ملک کی اقتصادی حالت سدھار پائے ہیں۔ پھر یہ کیسی آزادی ہے؟ آج بھی اقلیتوں پر اور خاص طور پر مسلمانوں پر ،جس طرح بھی مظالم ڈھائے جارہے ہیں، اس نے تو جیسے آزادی کا مقصد ہی ختم کردیا ہے۔ ہمیں بار بار یہ بتانا پڑتا ہے ، جتانا پڑتا ہے کہ یہ ملک ہمارا بھی ہے، اس ملک کو آزادی دلانے میں ہمارے بزرگوں کا بھی اتنا ہی حصہ ہے، جتنا دوسروں کا ہے۔
’چوتھی دنیا‘ کی افطار پارٹی، کانسٹی ٹیوشن کلب کے پرشکوہ ہال میں اپنی پوری رعنائی پر تھی۔ ای ٹی وی سے پروگرام ریکارڈ کرنے آئے ہوئے رپورٹر ز وہاں موجود نامور مہمانوں سے ان کے خیالات و تاثرات ، احساسات و جذبات ریکارڈ رکر رہے تھے۔ میری بھی باری آئی، نہ جانے کیسے میرے منہ سے نکل گیا کہ مذہبی یگانگت ، قومی یکجہتی اور مذہبی ہم آہنگی کی مثال اگر دیکھنی ہو، تو پرانی دہلی جائیے۔ وہاں دیکھئے کہ کیسے سبھی مذاہب کے لوگ آج بھی مل جل کر عید، دیوالی، 15اگست مناتے ہیں۔ اگر پورے ملک میں یومِ آزادی کا جشن کیسے منایا جاتا ہے، یہ دیکھنا ہو تو بھی پرانی دہلی میں دیکھئے۔اور یہ حقیقت بھی ہے،پورے ہندوستان میںیوں تو 15اگست کا دن قومی تیوہار کے طور پر منایا جاتا ہے، لیکن یہ جوش و خروش باقی شہروں اورخود دہلی میں صرف اسکولوں، کالجوں، سرکاری دفتروں میں ہی ہوتا ہے، وہ بھی صبح صبح، جب جھنڈا سلامی کے لیے سب کو اکٹھا کیا جاتا ہے، اور وہ بھی لوگ اس دن آنے سے کتراتے ہیں اور کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح جانے سے بچ جائیں،تاکہ نیند پوری کر کے خوب سوکر صبح کا آغاز کیا جائے۔ لیکن، پرانی دہلی اس وقت بھی پوری طرح جاگی ہوئی ہوتی ہے۔

جو جوش و خروش، جو دیوانگی، جو جنون یومِ آزادی کا پرانی دہلی میں نظر آرہا تھا، وہ یقیناً قابل دید تھا اور یہی نہیں، باقاعدہ شادی شدہ لڑکیاں اپنے شوہروں کے ساتھ مائیکے جارہی تھیں، جہاں شام کو دعوتوں کا اہتمام کیا جارہا تھا۔ پرانی دہلی کے لوگ نہ صرف شام کودوست احباب کی دعوت کرتے ہیں، بلکہ گھروں کی بہو بیٹیاں بھی ان دعوتوں میں شریک ہوتی ہیں اور ترنگی چوڑیاں اور ترنگے دوپٹے تحفوں کی شکل میں دیے جاتے ہیں۔

حالانکہ لوگ اس پر یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ چونکہ لال قلعہ پرانی دہلی میں ہے اور جشن آزادی کی تقریب لال قلعہ پر منعقد ہوتی ہے، اس لیے وہاں کے لوگ صبح صبح جاگ جاتے ہیں، لیکن لال قلعہ باہری حصے میں ہے۔ اندرون علاقہ جائیے، تو بھی صبح سے ہی آسمان پر رنگ برنگی پتنگوں کی بہار نظر آجاتی ہے۔ ہمیں یاد ہے ہمارے بچپن میں ہماری پرانی دہلی میں بچے پورے سال پیسے بچاکر رکھا کرتے تھے، تاکہ 15اگست کے دن پتنگیں خرید سکیں۔ اس بار بھی پرانی دہلی کی ہر چھت پر بچّے،جوان اور بوڑھے پتنگ اڑاتے ہوئے نظر آئے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کہ عید، ہولی، دیوالی سے بھی بڑا کوئی تیوہار ہو۔ بازارترنگی چوڑیوں سے بھرے پڑے تھے اور یہ تو 15اگست والے دن کی حالت تھی۔ اس سے پہلے والے پورے ہفتے نوجوان لڑکیوں، عورتوں اور گھریلو ادھیڑ عمر کی عورتوں نے خوب جم کر ترنگی چوڑیوں کی خریداری کی تھی۔ ترنگے دوپٹے بھی بازاروں میں لہرارہے تھے اور 15اگست والے دن بھی نوجوان لڑکیاں ترنگے دوپٹے خرید خرید کر وہیں کھڑے کھڑے پہن رہی تھیں۔ ہمارے ذہن میں بار بار یہ جملہ گونج رہا تھا کہ ’پھر بھی یہ گلہ ہے کہ وفادار نہیں۔‘
جو جوش و خروش، جو دیوانگی، جو جنون یومِ آزادی کا پرانی دہلی میں نظر آرہا تھا، وہ یقیناً قابل دید تھا اور یہی نہیں، باقاعدہ شادی شدہ لڑکیاں اپنے شوہروں کے ساتھ مائیکے جارہی تھیں، جہاں شام کو دعوتوں کا اہتمام کیا جارہا تھا۔ پرانی دہلی کے لوگ نہ صرف شام کودوست احباب کی دعوت کرتے ہیں، بلکہ گھروں کی بہو بیٹیاں بھی ان دعوتوں میں شریک ہوتی ہیں اور ترنگی چوڑیاں اور ترنگے دوپٹے تحفوں کی شکل میں دیے جاتے ہیں۔
بازاروں اور گلی کوچوں کی بات کریں، تو چاروں طرف لاؤڈ اسپیکر پر قومی گیت بج رہے تھے، جن میں میرا رنگ دے بسنتی چولا، اے میرے وطن کے لوگو، اے وطن اے وطن ہم کو تیری قسم، آواز دو ہم ایک ہیں جیسے گانے ،دلوں کو قومی یک جہتی اور وطن پرستی کے جذبوں سے سرشار کر رہے تھے۔ چاروں طرف ٹی وی رپورٹرس بڑے بڑے کیمرے لیے یہ منا ظر شوٹ کر رہے تھے، تاکہ آزادی کے اس حسین رنگ کو ناظرین کو دکھا سکیں۔ غرضیکہ پوری پرانی دہلی ایک عجیب سی سرشاری میں ڈوبی ہوئی تھی اور ہم بار بار یہی سوچ رہے تھے کہ کیا وطن پرستی کے جذبے کو دکھانے کے لیے اس سے بہتر کوئی تصویرہوسکتی ہے۔ یہ وہ قوم ہے، جس پر بار بار غداری کا، دہشت گردی کا الزام لگتا ہے۔جاہل بھی یہی قوم ہے، دہشت گرد بھی یہی قوم ہے۔ اگر کہیں بم بلاسٹ ہوتا ہے، تو بھی سب سے پہلے ہم پرشک کیاجاتا ہے، ہمارے نوجوانوں کو پکڑ کر جیلوں میں ٹھونس دیا جاتا ہے اور بناء دلیل بناء وکیل کے یہ نوجوان سالوں جیلوں میں سڑتے رہتے ہیں، تب کہیں جاکر جمعیت علماء ہند، یا کسی مذہبی تنظیم کو ان کا خیال آجاتا ہے، تو وکیل میسر ہوجاتا ہے۔ ورنہ ان کے غریب والدین گھر بار بیچ کر یہ ثابت کرتے کرتے کہ ان کا بچہ بے گناہ ہے، ختم ہوجاتے ہیں۔
ہمارے نوجوان یارشتے دار اپنے عزیز و اقارب سے ملنے کے لیے پاکستان جاتے ہیں، تو ان پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے خاص طور پرنوجوانوں پر۔ ان کے پیچھے آئی بی لگ جاتی ہے۔ اب حال یہ ہوگیا ہے کہ مسلم خاندان اپنے نوجوان لڑکوں کو پاکستان جانے ہی نہیں دیتے۔ خود میر ا سگا بھتیجہ ، جو دہلی میں مقیم ہے، اس سے جب کہا گیا کہ پاکستان میں اپنے رشتے داروں کے گھر شادی میں چلے جاؤ، تو اس کا جواب تھا ’’میں اپنے پاسپورٹ پر پاکستان کی ویزا نہیں لگوانا چاہتا۔‘‘ یہ ذہنیت کسی ایک مسلم نوجوان کی نہیں ہے، زیادہ تر کی ہے۔ اگر شک و شبہ کا یہی عالم رہا، تو شاید ہی کوئی کسی کی موت وزندگی کے معاملات میں شریک ہو پائے گا۔
یہ تمام زمین سے جڑے وہ حقائق تھے، جن کا یک ایڈیٹر ہونے کے ناتے بیان کرنا مجھے ضروری لگا اور خیال آیا کہ جو جوش و جذبہ ہماری قوم میں ہے وطن کے لیے اور جس طرح ہم جشن آزادی مناتے ہیں،کیا کوئی بھی ایسا کیمرہ ، ایسا چینل نہیں ہے، جو اس جذبے کو دکھا سکے، جو آج کے دن ہمارے شہر میںنظر آتا ہے۔ اس کے برعکس ہم نے نئی دہلی کو بھی اسی دن دیکھا ہے، سڑکیں سنسان، گلیاں ویران، بازار بند جیسے کرفیو لگا ہوا ہے۔ کسی ایک گھر پر شاذ ونادر کوئی ترنگا لہراتا نظر آتا ہو، کہیں ایک آدھ خاتون کے ہاتھوں میںشاید ہی ترنگی چوڑیاں سجتی ہوں اور شاید ہی کسی حسین لڑکی کا شانہ ترنگے دوپٹے سے لہراتا ہو، مگر پرانی دہلی جیسے دلہن بنی ہوئی نظر آتی ہے۔ ہر گھر پر ترنگا، ہر دل میں وطن کا جوش، ہر لب پر قومی ترانہ۔تو دل چاہتا ہے کہ پوری دنیا کو بتائیں کہ جناب ایسے مناتے ہیں ہم جشنِ آزادی۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *