اسرائل کی ہٹ دھرمی، غزہ تباہ ہو رہا ہے

وسیم احمد
p-8ؒخلیجی جنگ میں امریکہ نے جو غلطی کی تھی آج اسی غلطی کو اسرائیل دہرارہا ہے۔خلیجی جنگ کا آغاز کویت کے دفاع کے لئے ہوا تھا اور اس کا اختتام مرحوم صدام حسین سے انتقام کی شکل میں سامنے آیا۔اس انتقامی کارروائی میں ہزاروں بے گناہوں کی جانیں گئیں۔ 17 جنوری 1991 کو ہندوستانی وقت کے مطابق تقریباً 2 بجے رات میں امریکہ نے کویت کے دفاع میں عراق پر پہلا ہوائی حملہ کیا۔اس کے بعد اتحادی ملکوں کی حمایت سے مسلسل ہوائی اور پھر زمینی حملے ہوتے رہے ۔نتیجتاً صدام حسین کی فوج پسپا ہوکر واپس لوٹ گئی۔ عراقی فوج کی واپسی کے بعد خلیجی جنگ کو طویل کھینچنے کا کوئی جواز نہیں بچا تھا۔صدام حسین کے خلاف انٹرنیشنل کرائم کورٹ میں مقدمہ چلنا چاہئے تھا ۔لیکن امریکہ نے ایسا نہیں کیا،حملے جاری رکھے۔ یہاں تک کہ 2003 میں صدام حسین گرفتار کرلئے گئے اور پھر عراق کی عدالت میں مقدمہ چلنے کے بعد انہیں پھانسی کی سزا دے دی گئی۔
اس واقعہ سے صرف اتنا بتانا مقصود ہے کہ کویت کی بازیابی کے بعد عراق پر حملے کے جواز کے لئے جو بات امریکہ کی طرف سے کہی جارہی تھی وہ یہ تھی کہ عراق کے پاس کثیر تعداد میں زہریلی کیمیائوں کا ذخیرہ ہے اور اس کا غلط استعمال صدام حسین کبھی بھی کرسکتے ہیں۔لہٰذا ان زہریلی کیمیائوں کو تلف کرنا ضروری ہے جبکہ صدام حسین اس بات سے مسلسل انکار کرتے رہے کہ ان کے پاس کسی بھی طرح کی زہریلی کیمیا پائی جاتی ہے ۔بالآخر ہوا وہی جس بات کو صدام حسین اپنی زندگی میں کہہ رہے تھے اور ان کی پھانسی کے بعد امریکہ نے بھی اعتراف کیا کہ عراق میں کوئی زہریلی کیمیا نہیں پائی گئی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک مفروضہ کی بنیاد پر عراق میں جو اتنی بڑی تباہی مچائی گئی جس کی تلافی کبھی نہیں کی جاسکتی ہے ،اپنی اس غلطی سے امریکہ نے سبق حاصل کیوں نہیں کیا؟ اور آج اسرائیل بھی وہی غلطی کررہا ہے جو عراق کے معاملے میں امریکہ نے کی تھی اور افسوس کی بات یہ ہے کہ امریکہ اسرائیل کی اس غلطی میںاس کا ساتھ دے رہا ہے۔اسرائیل کے رویے سے مشہور سائنسداں البرٹ آنسٹائن کا وہ قول یاد آرہا ہے جب انہیں اسرائیل کا صدر بننے کی پیشکش کی گئی تھی تو اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ ’’ میں کسی ایسے ملک کا صدر بننا پسند نہیں کروںگاجس کی بنیاد بے گناہوں کے آنسوئوں اور بے قصوروں کا خون ان کی سرزمین سے انہیں اجاڑ کر کی گئی ہو‘‘۔ آنسٹائن نے دہائیوں پہلے اسرائیل کی بربریت کو محسوس کرلیا تھا مگر امریکہ کو آج تک اسرائل میں کمی نظر نہیں آرہی ہے۔
اقوام متحدہ کی امن کونسل کے کل ارکان ہیں۔ان میں سے 17 ارکان کسی وجہ سے اس بار ووٹنگ میںشریک نہیں ہوسکے جبکہ 29 ممالک نے اسرائیل کے خلاف ووٹ کیا۔امریکہ تنہا ایسا ملک ہے جس نے اسرائیل کے حق میں ووٹ دیا۔گویا وہ اسرائیل کو حق بجانب سمجھتا ہے اور اس کے اس دعوے کو جائز ٹھہرا رہا ہے کہ اسرائیل کے تینوں لڑکوں کو اغوا اور قتل کرنے میں حماس کا ہاتھ ہے ۔ جبکہ حماس کے صدر پہلے دن سے ہی اس طرح کی واردات انجام دینے سے انکار کررہے ہیں۔لیکن حماس کی اپیل کو سننے کے بجائے اسرائیل نے اس پر ہوائی اور زمینی حملے کردیے جس کے نتیجے میں تقریبا ً ڈیڑھ ہزار افراد ہلاک ہوئے اور ہزاروں افراد زخمی ہوئے جن میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔لیکن تین ہفتے کے بعد اسرائیل پولیس کے فارن پریس نمائندہ چیف انسپکٹر مکی روزن فیلڈ نے برطانوی نیوز ایجنسی کے سامنے انکشاف کیاکہ ان تینوں لڑکوں کے اغوا اور قتل میں حماس کا ہاتھ نہیں ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تحقیقات سے پہلے غزہ پر حملہ کیوں ہوا اور اب جبکہ حقیقت سامنے آچکی ہے تو پھر اس تباہی کی تلافی کون اور کیسے کرے گا؟کیا عراق والی صورت حال یہاں بھی ہونے والی ہے اور امریکہ کی طرح اسرائیل ایک سیاسی غلطی کہہ کر ہزاروں لوگوں کی تباہی کو بے قیمت بنا دے گا۔آخر امریکہ عراق والی غلطی یہاں کیوں دہرا رہا ہے؟غالباً یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا جارہا ہے اور غزہ میں اسرائیلی آبادکاری کی راہیں ہموار کی جارہی ہیں۔
حماس پر الزام کیوں ڈالا گیا
12 جون کو تین اسرائیلی لڑکے اغوا کرلئے گئے۔ یہ سب ٹین ایجز تھے۔ پہلا لڑکا یعقوب نفتالی 16 سال کا مقام ’نوف ایالون‘ ، دوسرا لڑکا گلعاد میکائل شاعر عمر 16 سال مقام ’طلمون‘ کا رہنے والا اور تیسرا لڑکا ایال یفرح عمر 19 سال مقام ’العاد ‘ کا رہنے والا تھا۔ان تینوں لڑکوں کو مغربی کنارہ کے جنوب سے اغوا کیا گیا تھا۔ان تینوں میں سے گلعاد نے کسی طرح سے اسرائیلی پولیس سے رابطہ کیا اور انہیں اپنے اغوا کی خبر دی۔Gag Order کے ذریعہ اس کے کال کو ریکارڈ کرلیا گیا ۔گلعاد نے پیغام میں لکھا تھا ’’ They kidnapped me‘‘ اور ٹیپ کال میں سائڈ سے کچھ آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔جس میں عربی میں اغواکاروں کی باتیں عربی میں سنائی دے رہی تھیں۔یہیں سے اسرائیل کو یہ شک پیدا ہوا کہ اغوا کار فلسطینی ہیں ۔اس شک کو تقویت دینے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اسرائیل کی جیلوں میں 300 فلسطینیوں نے تقریباً 50 دنوں سے بھوک ہڑتال کررکھی تھی ۔ اس ہڑتا ل کی وجہ سے کئی کی حالت انتہائی خراب تھی اور وہ اسپتال میں بھرتی تھے۔

اقوام متحدہ کی امن کونسل کے کل ارکان ہیں۔ان میں سے 17 ارکان کسی وجہ سے اس بار ووٹنگ میںشریک نہیں ہوسکے جبکہ 29 ممالک نے اسرائیل کے خلاف ووٹ کیا۔امریکہ تنہا ایسا ملک ہے جس نے اسرائیل کے حق میں ووٹ دیا۔گویا وہ اسرائیل کو حق بجانب سمجھتا ہے اور اس کے اس دعوے کو جائز ٹھہرا رہا ہے کہ اسرائیل کے تینوں لڑکوں کو اغوا اور قتل کرنے میں حماس کا ہاتھ ہے ۔ جبکہ حماس کے صدر پہلے دن سے ہی اس طرح کی واردات انجام دینے سے انکار کررہے ہیں۔لیکن حماس کی اپیل کو سننے کے بجائے اسرائیل نے اس پر ہوائی اور زمینی حملے کردیے جس کے نتیجے میں تقریبا ً ڈیڑھ ہزار افراد ہلاک ہوئے اور ہزاروں افراد زخمی ہوئے جن میں بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے۔لیکن تین ہفتے کے بعد اسرائیل پولیس کے فارن پریس نمائندہ چیف انسپکٹر مکی روزن فیلڈ نے برطانوی نیوز ایجنسی کے سامنے انکشاف کیاکہ ان تینوں لڑکوں کے اغوا اور قتل میں حماس کا ہاتھ نہیں ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تحقیقات سے پہلے غزہ پر حملہ کیوں ہوا اور اب جبکہ حقیقت سامنے آچکی ہے تو پھر اس تباہی کی تلافی کون اور کیسے کرے گا؟کیا عراق والی صورت حال یہاں بھی ہونے والی ہے اور امریکہ کی طرح اسرائیل ایک سیاسی غلطی کہہ کر ہزاروں لوگوں کی تباہی کو بے قیمت بنا دے گا۔آخر امریکہ عراق والی غلطی یہاں کیوں دہرا رہا ہے؟غالباً یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا جارہا ہے اور غزہ میں اسرائیلی آبادکاری کی راہیں ہموار کی جارہی ہیں۔

ان کا مطالبہ تھا کہ اسرائیل نے انہیں برسوں سے بے قصور جیلوں میں بند کر رکھا ہے۔حماس بار بار ان کی رہائی کے لئے احتجاج کرتا ہے مگر اسرائیل کی طرف سے کوئی سنوائی نہیں ہورہی ہے۔ اسرائیل ان قیدیوں کو رہا کرنے سے مسلسل انکار کررہا تھا۔اسرائیل کو شک تھا کہ ان تینوں لڑکوں کو حماس نے اپنا مطالبہ پورا کرانے کے لئے اغوا کیا ہے ۔اس شک کی بنیاد پر 15 جون کو اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے خلاصہ کردیا کہ اس اغوا کے پیچھے حماس کا ہاتھ ہے۔ اس خلاصہ کے بعد اغوا کاروں کی بازیابی کے لئے جابجا چھاپے مارے جانے لگے۔اس سلسلے میں تقریباً350 فلسطینیوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔اسرائیل سیکورٹی فورس ان اغوا کاروں کی تلاش میں کمیپ جنین پہنچی تو فلسطینیوں نے یہ کہہ کر سیکورٹی فورس کو اندر جانے سے روکا کہ فلسطینی صدر محمود عباس اس اغوا کے عمل سے پہلے ہی انکار کرچکے ہیں۔ لہٰذا انہیں اندر جانے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن اسرائیلی سیکورٹی ایجنسی اغوا کے پیچھے حماس کو ہی مان رہی تھی۔لہٰذا غزہ کی کئی شمالی بستیوں کو خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔جب معاملہ طور پکڑنے لگا اور اسرائیل نے فوجی کارروائی شروع کر دی تو جواب میں فلسطین کی طرف سے بھی مزاحمت ہوئی اور اس کے بعد فلسطینیوں کے ساتھ جو خون کی ہولی کھیلی گئی وہ دنیا کے سامنے ہے۔
30 جون کو ان تینوں لڑکوں کی لاش ضلع الخلیل کے قریب مقام حلحول کے ایک غار میں ملی۔تب جاکر یہ راز کھلا کہ یہ کام حماس کا نہیں بلکہ کسی دہشت پسند گروہ کا ہے۔لاش ملنے کے بعد جرمنی چینل Zweites Deutsches Fernsehen(زیڈ ڈی ایف) پر ایک رپورٹ آئی جس میں کہا گیا کہ اغوا کے کچھ دنوں بعد ہی اسرائیلی پولیس اور اسرائیلی انٹلی جینس ایجنسی کو پتہ چل گیا تھا کہ اس حادثے کے پیچھے قتل کا کوئی معاملہ ہے،یہ معاملہ صرف اغوا کا نہیں ہے۔کیونکہ ریکارڈنگ میں جو آواز سنائی دی تھی اس میں ان تینوں لڑکوں کی گردن کو نیچے جھکانے اور پھر دس گولیوں کے چلنے کی آواز بھی ریکارڈ تھی،ان تمام شواہد کے باوجود اسرائیل کی حکومت نے حماس پر الزام ڈال کرغزہ پر ہوائی و زمینی حملے کرکے انسانیت کو شرمندہ کیا۔
حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اسرائیل اس حملے میں کسی کی پرواہ نہیں کررہا ہے۔ سیکورٹی کونسل کے 29 ممبران اسرائیلی حملے کی مذمت کرچکے ہیں۔ اقوام متحدہ بار بار فوج کشی روک کر پُر امن طریقے سے مسئلے کو سلجھانے کی اپیل کرچکا ہے۔ لیکن نتین یاہو کے عزائم ابھی طویل ترین جنگ لڑنے کے ہیں ۔جس کا اظہار انہوں نے ایک ٹیلی ویژن نشریہ میں کیا ہے کہ فلسطین کو اسلحہ سے پاک کرنے تک ہماری مزاحمت جاری رہے گی۔ اسرائیلی وزیر اعظم اپنے اس عزم کو عمل میں لانے کے لئے کس حد تک جاسکے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رہائشی مکانوں حتی کہ بچوں کے اسکولوںکو بھی نشانہ بنانے سے باز نہیں آرہے ہیں۔
ابھی حال ہی میں اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی اونزدا کے ایک اسکول کو نشانہ بنایا۔اس حملے میں کم از کم 20 بچے جاں بحق ہوگئے ۔یہ حملہ کوئی غلطی کی بنیاد پر نہیں ہوا ہے بلکہ اقوام متحدہ کے امدادی ادارے ’’ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی‘‘ کے ڈائریکٹر کرس گینیس کے مطابق اسرائیل فوج کو 17 مرتبہ بتایا گیا تھا کہ جبالیا کے اسکول میں مہاجرین پناہ لئے ہوئے ہیں۔حملے سے چند گھنٹہ پہلے بھی بتایا گیا تھا کہ مذکورہ اسکول میں شہریوں نے پناہ لے رکھی ہے۔اس حملہ پر تبصرہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے غزہ میں امدادی مشن کے ڈائریکٹر باب ٹرنر کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے یہ حملہ جان بوجھ کر کیا ہے جو اس کی حیوانیت کی کھلی نشانی ہے۔
یہ جنگ کب رکے گی؟
مصر کی طرف سے ایک مرتبہ پہلے بھی جنگ بندی کی کوشش کی گئی تھی مگر صرف 6 گھنٹے امن قائم رہنے کے بعد اسرائیل نے دوبارہ بمباری شروع کردی تھی جس کے جواب میں حماس نے بھی کئی راکٹ داغے تھے۔لیکن مصر نے ایک مرتبہ پھر جنگ بندی کے لئے ایک نیا مسودہ تیار کیا ہے اور اس مسودے پر اتفاق رائے بنانے کے لئے اسرائیلی اور فلسطینی وفود کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔البتہ مصر نے اس نئے مسودے میں فلسطینی ٹیم میں حماس کی نمائندگی کو بھی شامل کیا ہے جبکہ پہلی مرتبہ جنگ بندی کے معاہدے میں حماس کا کوئی نمائندہ شامل نہیں تھا۔لیکن ایک بڑا سوال یہ ہے کہ کیا امن معاہدے پر عمل ہوسکے گا اور جنگ ختم ہو سکے گی ؟۔
جنگ بندی کی تین ہی صورتیں ہیں ۔اگر ان میں سے کسی پر عمل ہو جائے تو ممکن ہے کہ یہ تباہ کن جنگ کا اختتام ہوجائے۔ پہلی صورت تو یہ ہے کہ اسرائیل حماس کو ختم کردے اور سرنگ بناکر جو باہر ہیں انہیں آنے دے اور خود ہی یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کردے ۔ لیکن یہ ممکن نظر نہیں آرہا ہے ۔کیونکہ اب حماس نے بھی طویل جنگ لڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے جیسا کہ حماس کے عسکری ونگ کے کمانڈر محمد ضعیف کے ایک بیان سے پتہ چلتا ہے۔ انہوں نے اپنا یہ بیان حماس کے سٹلائٹ چینل پر نشر کیا ہے جس میں کہا ہے کہ ’’جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوںگے تب تک جنگ جاری رہے گی‘‘۔ظاہر ہے یہ صورت حال بتاتی ہے کہ حماس کو ختم کرنا اور یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کرنا اسرائیل کے لئے آسان نہیں ہوگا۔
دوسری صورت یہ ہے کہ اسرائیل رفح کے قریب جنوبی سرحد جو مصر کی طرف جاتی ہے کھول دے اور غزہ کے علاقے کو حماس کے بجائے فلسطین اتھارٹی کے ماتحت کردیا جائے اور مصر فلسطین اتھارٹی کے مطالبے کے مطابق سرحد کو کھول دے۔لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہوسکے گا جب اسرائیل حصار ختم کردے اور فلسطین اتھارٹی کو اس علاقے میں اپنی تجارتی سرگرمیوں کو بحال کرنے کی اجازت دے دے۔اسرائیل اس پر سے اپنا کنٹرول ختم کردے تاکہ غزہ کے لوگ راحت محسوس کریں۔اس سلسلے میں مصر کا کردار بڑی اہمیت کا حامل ہوگا۔
تیسری صورت یہ ہے کہ غزہ پر فلسطین اتھارٹی کا کنٹرول قائم ہو اور حماس ان تمام دھوکہ بازیوں کو جو اس کے ساتھ ہوا ہے پوری دنیا کے سامنے رکھے اور اسرائیل کے قیام کے حقائق پر روشنی ڈالے ۔پچھلے معاہدے کو سامنے لائے اور حماس و غزہ کے خسارے سے دنیا کو آگاہ کرے۔لیکن یہ ممکن نظر نہیں آرہا ہے کیونکہ حماس غزہ کا کنٹرول فلسطین اتھارٹی کو دینے پر کبھی بھی رضامند نہیں ہوگا۔کیونکہ ایسی صورت میں حماس کے وجود پر سوالیہ نشان لگ جائے گا۔
کیری کا دورہ ہند اور مسئلہ فلسطین
ایک ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ خاص طور پر فلسطین سخت سیاسی بحران سے دوچار ہے اور امریکہ غزہ ایشو پر تنہا پڑتا جارہا ہے،جان کیری کا ہندوستانی دورہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ دراصل اقوام متحدہ کے سیکورٹی کونسل میں امریکہ نے تنہا اسرائیل کے حق میں ووٹ دیا تھا ۔یہی نہیں امریکہ نے اسرائیل کو ان تینوں لڑکوں کی معلومات حاصل کرنے کے لئے پانچ ملین ڈالر سے امداد بھی کی تھی اور امریکی سینٹ نے حکومت کو یہ تجویز دی ہے کہ ضرورت پڑنے پر اسرائیل کی مزید مالی مدد کی جائے گی۔
سینٹ کی یہ تجویز اقوام متحدہ کے سیکوٹی کونسل کی منشا کے خلاف ہے جس میں اسرائیلی حملے کی مذمت کی گئی ہے ۔ اب امریکی حکومت پس و پیش میں ہے ۔ایک طرف امریکی سینیٹ اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے اور اسے مالی امداد پہنچانے کی تائید کررہا ہے تو دوسری طرف عالمی دبائو بڑھتا جارہا ہے اور امریکہ سے یہ مطالبہ ہورہا ہے کہ وہ اسرائیل مظالم کے خلاف سخت موقف اختیار کرے۔اس دبائو کے نتیجے میں امریکی صدر باراک اوبامہ نے اسرائیل سے اپیل کی تھی کہ وہ جنگ بندی پر راضی ہوجائے ۔لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نتین یاہو نے امریکی صدر کے مشورے کو قبول کرنے سے صاف انکار کردیا۔ظاہر ہے کہ یہ صورت حال امریکہ کے لئے انتہائی پیچیدہ ہے ۔اسرائیلی دوستی کی وجہ سے وہ فلسطین پر ہورہے ظلم و بربریت سے آنکھیں چرائے ہوا تو ہے لیکن اس خاموشی کی وجہ سے فلسطین کے حامی ملکوں کا امریکہ پر دبائو بڑھتا جارہا ہے اور اب امریکہ کو یہ خوف ستانے لگا ہے کہ ا سرائیلی دوستی کی وجہ سے اس کی خارجہ پالیسی پر منفی اثر پڑسکتا ہے ۔خاص طور پر ہندوستان جیسا ملک جو تجارتی اعتبار سے بڑی منڈی بنتا جا رہا ہے اور امریکہ کے ساتھ نئی نئی تجارتوں پر معاہدے ہورہے ہیں مگر غزہ معاملے پر دونوں ملکوں میں اختلاف ہوگیا ہے۔ہندوستان فلسطین کے ساتھ ہے تو امریکہ اسرائیل کے ساتھ۔ یہ صورت حال امریکہ کے لئے پریشان کن ہوسکتی ہے اور امریکہ کبھی نہیں چاہے گا کہ اس کے رشتوں میں کوئی دراڑ پیدا ہو۔لہٰذا ایسے موقع پر جان کیری خود سے ہندوستان کا دورہ کرکے اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ غزہ ایشو پر اختلاف کے باوجود ان کے تجارتی رشتوں میں کوئی بدلائو نہ آئے۔اس کے علاوہ امریکہ کو یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ ہندوستان جو اسرائیلی ہتھیار کا بہت بڑا خریدار ہے اور اسرائیل کا دوست بھی،مگر غزہ حملے کے بعد ہندوستان کی پارلیمنٹ میں اس سلسلے میں بحث ہوچکی ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ ہندوستان میں اسرائیل کے تئیں سخت غم و غصہ پایا جارہا ہے،لہٰذا جان کیری ایسے موقع پر ہندوستان کا دورہ کرکے اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہندوستان اور اسرائیل کے تجارتی معاہدوں میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔یہ خدشہ اس لئے پیدا ہورہا ہے کہ جب غزہ حملے پر ہندوستانی پارلیمنٹ میں بحث ہورہی تھی تو کئی ممبروں نے اس بات کو اٹھایا تھا کہ ہندوستان اسرائیل سے اسلحہ خریدنا چھوڑ دے۔ کیونکہ وہ ہمارے پیسوں سے مضبوط ہوتا ہے اور پھر نہتھے فلسطینیوں پر ظلم کرتا ہے۔
بہر کیف جان کیری کا سفر کئی معنی میں اہمیت کا حامل ہے ۔ہوسکتا ہے کہ اسرائیل کو لے کر پوری دنیا امریکہ کے خلاف ہوگئی ہے ۔لہٰذا وہ ہندوستان کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کرنے کی غرض سے یہ دورہ کیا ہو،کیونکہ بر سراقتدار بی جے پی کے بارے میں سب کو پتہ ہے کہ اسرائیل کے تئیں یہ پارٹی نرم گوشہ رکھتی ہے اور اس کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے تو پارلیمنٹ میں بحث کرانے تک سے منع کردیا تھا۔ لیکن راجیہ سبھا چیئر مین کی اجازت سے یہ بحث ممکن ہوسکی تھی۔بہر کیف جان کیری جہاں دیگر تجارتی معاہدے کی غرض سے ہندوستان کا دورہ کیا ہے وہیں یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے دورے کا اہم ایشو غزہ مسئلہ بھی رہا ہو۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *