اسرائیل و فلسطین جنگ میں حقیقی جیت کس کی؟

وسیم حمد
p-8غزہ جنگ میں جیت کس کی ہے،حماس کی یا اسرائیل کی؟یہ ایک بڑاسوال ہے اور اس کا جواب بھی بہت پیچیدہ اور تجزیہ پر مبنی ہے۔ایک طرف اسرائیل طاقت سے لیس اور دولت سے بھرپور ہے ۔دوسری طرف فلسطین نہتھا اور بے سروسامانی میں جی رہا ہے۔ایسے میں جانی نقصان کس کا زیادہ ہورہا ہوگا ؟ اس کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔لیکن اس جنگ نے اسرائیل کو جو نقصان پہنچایا ہے وہ فلسطین کو ہوئے نقصان سے کہیں زیادہ ہے اور وہ نقصان ہے، نفسیاتی ، سفارتی اورمحسوساتی شکست ۔اگر تینوں نقصانات کا تجزیہ کرلیا جائے تو پوچھے گئے سوال کا جواب کچھ بخود سامنے آجائے گا کہ جیت کس کی ہوئی ہے۔
اسرائیلی یونیورسٹی ’’بار ایلان‘‘ میں عربی کے پروفیسر مرد خانی قادرنے ایک عبری اخبار کو دیے گئے انٹرویو کے دوران فلسطین کو شکست دینے کے لئے چند تجاویز پیش کیے۔ان تجویزوں میں ایک متبادل انہوں نے یہ بتایا کہ عرب ثقافت کو سامنے رکھتے ہوئے اسرائیل کے پاس فلسطین کو شکست دینے کے لئے فلسطینیوں کی مائوں ،بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ جبری زیادتیاں روا رکھی جائیں‘‘۔اسرائیلی پروفیسر کا یہ بیان اس بات کا اشارہ دے رہا ہے کہ اسرائیل میں نفسیاتی شکست کا احساس جنم لے رہا ہے اور پڑھا لکھا طبقہ یہ محسوس کرنے لگا ہے کہ اس میں غزہ کی اس جنگ کو اسلحہ کے بل پر جیتنے کی صلاحیت نہیں ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ایسی تجویز پیش کی جارہی ہے جو اخلاقی گراوٹ کی انتہائی نچلی سطح پر ہے۔ یہ صورت حال ہر اس قوم اور فرد کے ساتھ ہوتی ہے جو اپنی طاقت پر بہت زیادہ بھروسہ کرلیتے ہیں اور دشمن کی طاقت کا صحیح اندازہ نہیں کرپاتے ۔ایسی قوم جب اپنے ہدف میں کامیاب نہیں ہوتی ہے تو نفسیاتی شکست سے دوچار ہوجاتی ہے۔اس کے بعد وہ جنگ کوجیتنے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہوجاتی ہے۔اگر ہم تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں توماضی میں یہی صورت حال امریکہ کے ساتھ بھی پیش آئی تھی اور اس نے بھی افغانستان میں طالبانیوںکو نیست و نابود کرنے کے لئے اپنی زبردست فوجی طاقت پر بھروسہ کرلیا تھا۔ لیکن انجام کیا ہوا ؟اس کے بارے میں ایک امریکی اخبار ’’ واشنگٹن ٹائمز‘‘ نے21 اپریل 2012 کولکھا کہ’’ افغانستان میں امریکہ کو نفسیاتی شکست ہوئی ہے اور شکست کے بعد اب امریکی فوج کو افغانستان سے واپس آجانا چاہئے‘‘۔
دنیا اس بات کو اچھی طرح جانتی ہے کہ امریکہ افغانستان کے مقابلے میں ایک طاقتور ملک ہے ،اس کے باجود طالبانیوں نے امریکہ کے ان اڈوں کو بھی نشانہ بنا یا تھا جنہیں امریکی فوج نے ناقابل تسخیر قرار دیا تھا۔آج وہی صورت حال اسرائیل کی بنی ہوئی ہے۔وہ اپنی ناقابل تسخیر فضائی طاقتوں کی وجہ سے اپنے عوام کو یہ یقین دلا رہے تھے کہ فلسطین ان کے عوامی ٹھکانوں اور ایئر پورٹوں کو نشانہ نہیں بنا سکتا ہے۔ لیکن گزشتہ دنوں القسام بریگیڈیر نے تل ابیب کے بین الاقوامی ہوئی اڈہ سے محض ایک کلو میٹر کی دوری پر ایک قصبہ کو راکٹ کا نشانہ بنا کرایک مکان کو ملبہ میں تبدیل کردیا۔اس واقعہ نے امریکہ اور دوسری یوروپین ممالک میں اتنا خوف ہراس پیدا کردیا کہ انہوں نے اپنی پروازیں24 گھنٹہ کے لئے بند کردی۔ عبری اخبار’’ بدیعوت احارونوت‘ کے مطابق تل ابیب میں’ سدیہ دوف ایئرپورٹ‘ کو بھی کچھ دیر کے لئے بند کردیا گیا تھا ۔اس واقعہ کے بعد یوروپ میں یہ خوف پیدا ہوگیا ہے کہ اگر ایئر پورٹ سے محض ایک کلو میٹر کی دوری پر ایک قصبے کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے تو اگلا نشانہ ایئر پورٹ بھی ہوسکتا ہے۔
دراصل اسرائیل نے جنگ کا آغاز اس مقصد سے کیا تھا کہ غزہ کو نیست و نابود کردیا جائے۔ طاقت کے زعم میں ایسا سوچنے کا جواز اس کے پاس موجود تھا،کیونکہ وہ فلسطین (حماس) کے ہر حملے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس کے پاس ایسے آئرن ڈوم راکٹ شکن موجود ہیں جو فلسطین کے ہر راکٹ کے ہدف اور نشانے کو سمجھ کر اسے فضا میں ہی ناکام بنادے، لیکن جب جنگ شروع ہوئی تو فلسطین کے کئی راکٹ اپنے ہدف پر پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔اسرائیل کے لوگ مارے گئے ۔
حماس کے رویے نے اسرائیل کو یہ ماننے پر مجبور کردیا ہے کہ وہ اس کا ایک مضبوط دشمن ہے اور نہ صرف اس کے تقریباً69نوجوانوںکو ہلاک کرنے کی ،بلکہ جنگ کو طویل کھینچنے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔غرض اسرائیل نے فلسطین کو نیست و نابود کرنے کا جو خواب دیکھا تھا، اس میں ناکامی نے بھی اس کو نفسیاتی شکست میں مبتلا کردیا ہے۔اسی نفسیاتی شکست کے احساس کا نتیجہ ہے کہ اب اسرائیل کی طرف سے کھلے عام عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ پناہ گزینوں کی رہائش گاہوں پرتابڑ توڑ حملے ہورہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اسکولوں میں پناہ لئے ہوئے بچوں اور عورتوں کو ہلاک کیا جارہا ہے اور عالمی اپیلوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔غرض وہ کسی بھی طرح سے اس جنگ کو اپنے حق میں کرکے عوام اور نوجوانوںسے نفسیاتی شکست کے احساس کو ختم کرنے کی کوشش کررہاہے۔
دوسری طرف اس جنگ میں اسرائیل نے فلسطین کا جانی نقصان تو بہت کیا لیکن سفارتی طور پر اسے بڑی ناکامی ہاتھ لگی ہے۔اس جنگ میں اسرائیل کے رویے نے پوری دنیا میں یہ پیغام دیا ہے کہ وہ ایک جابر قوم ہے اور جنگ کے دوران اصولِ جنگ کو یکسر نظر انداز کردیتی ہے۔پوری دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا ملک ہوگا جہاں کے بڑے شہروں میں اسرائیلی بربریت کے خلاف احتجاج نہ ہوا ہو،پوری دنیا میں اسرائیل کی شبیہ ایک درندہ صفت قوم کی شکل میں ابھر کر سامنے آئی ہے ،اسرائیل نے اس جنگ کا االزام حماس پر تھوپنے کی بہت کوشش کی لیکن دنیا نے اسرائیل کی ہر دلیل کو مسترد کردیا۔یہ اسرائیل کی بڑی سفارتی ناکامی ہے ۔
سفارتی سطح پر اسرائیل کو ناکامی کا پہلا جھٹکا اس وقت لگا جب اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں اس کے حق میں صرف امریکہ کا ایک ووٹ پڑا ،باقی 29 ملکوں نے اس کے خلاف ووٹ کیا۔ اس ووٹنگ میں اس کے کئی دوست ملک جن میں ہندوستان بھی شامل ہے اسرائیل کی بربریت کو دیکھتے ہوئے مخالف ہوگئے اور بعد کے دنوں میں ہندوستان جیسے دوست ملک نے بھی فلسطین کا زبردست مالی تعاون کیا۔یہ بھی اسرائیل کی ایک بڑی سفارتی ناکامی ہے۔
اگر دیکھا جائے تو اسرائیل نہ صرف نفسیاتی اور سفارتی سطح پر اس جنگ کو ہار رہا ہے بلکہ محسوساتی طور پر بھی حالات اس کے حق میں نہیں ہیں۔اب اس نے محسوس کرنا شروع کردیا ہے کہ جنگ چاہے جتنی طویل ہو ،وہ اس جنگ کو جیت نہیں سکتا ہے۔کیونکہ حماس کا حوصلہ بلند ہے اور وہ اپنے مطالبے سے بالکل پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے۔چنانچہ 72 گھنٹے کی جنگ بندی کے دوران جب اسرائیل فوج واپسی کا عمل شروع کررہی تھی تو اس وقت بھی حماس کا یہ مطالبہ برقرار تھا کہ ’’اسرائیل اور مصر کی طرف سے غزہ کی ناکہ بندی کو ختم کیا جائے اور ساتھ ہی اسرائیل کریک ڈاؤن کے دوران گرفتار کیے افراد سمیت دیگر قیدیوں کو رہا کرے‘‘۔حالانکہ اسرائیل اب بھی حماس کے اس مطالبے کو ماننے سے انکار کررہا ہے۔ مگر حماس کا اپنے موقف پر قائم رہنا، اسرائیل کو یہ سوچنے پر مجبور کررہا ہے کہ وہ اس جنگ میں 2009 اور 2012 کی جنگ کی بہ نسبت زیادہ نقصان اٹھا رہا ہے۔یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل نے حماس کے ہاتھوں نوجوانوں کی اتنی بڑی تعداد کو کھویا ہے۔جنگ میں نقصان کا یہ احساس بھی اسرائیل کے لئے ایک بڑے خسارے کا سبب بن سکتا ہے۔غرضیکہ اس جنگ میں اگر چہ فلسطین جانی طور پر زیادہ نقصان اٹھا رہا ہے مگر نفسیاتی،سفارتی اور محسوساتی طور پر خسارہ اسرائیل کا ہورہا ہے ۔
اس جنگ میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں عمارتوں اور صنعتوںکازبردست نقصان ہوا ہے،۔اسرائیلی حملے میں دو ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں ،جن میں چار سو سے زیادہ بچے،تقریبا ڈھائی سو عورتیں،74 بوڑھے شامل ہیں۔ان حملوں میں دس ہزار سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے ہیں جن میں 2805 بچے، 1823عورتیں اور 343 بوڑھے شامل ہیں۔اسرائیل نے شروع کے چار ہفتوں میںغزہ پر کل 55800 حملے کیے،ان میں6663فضائی، 33871 بری اور 16209 سمندری حملے کیے۔ان حملوں میں 138 مساجد پورے طور پر اور 110 مساجد جزوی طور پر منہدم ہوئی ہیں۔52 اسپتالوں کو نقصان پہنچا ہے، 8 ڈیم جہاں بجلی تیار ہوتی تھی کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔جس طرح اونروا کے ٹھکانوں پر جہاں پناہ گزیں ٹھہرے ہوئے تھے سات مرتبہ حملے ہوئے،اس حملے میں فلسطین کا پانچ ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔یہ خسارہ تو صرف وہ ہے جو براہ راست ہوا ہے ۔بالواسطہ نقصان جیسے مکانات کی مرمت وغیرہ ، اس کے علاوہ ہے۔البتہ اسرائیل کا اس جنگ میں زیادہ خرچ ہوا ہے ۔اس کے تمام اخراجات 15 ارب اسرائیلی کرنسی شیکل کے قریب ہے۔( ایک شیکل مساوی 17.83 ہندوستانی روپے کے لگ بھگ ہے)۔
بہر کیف جنگ میں ہمیشہ جانی نقصان پہنچانے کو ہی جیت کیعلامت سمجھا جاتاہے ۔کوئی یہ نہیں جان سکتا ہے کہ نفسیاتی ہار اور نفسیاتی جیت بھی جنگ کا ایک حصہ ہے۔حالیہ جنگ نے جہاں فلسطین کو جانی نقصان بہت زیادہ پہنچایا ہے وہیں اسرائیل کو مالی اعتبار سے بہت پہنچا ہے۔ لیکن یہ اس کے لئے اہم نہیں ہے۔ اہم یہ ہے کہ وہ اس جنگ میں نفسیاتی، سفارتی اور محسوساتی طور پر شکست کھا رہا ہے۔ g

فلسطین میں کل ہلاکت : تقریباً2000
زخمی : 10ہزار سے زائد
مدارس میں پناہ گزیں : 245,000
دیگر مقامات میںپناہ گزیں : 200,000
ایسے خاندان جن کے تین
یا اس سے زائد افراد گم ہیں : 68
ایسے خاندان جن کے تین
یا اس سے زائد افراد اسرائیلی
حملے میں ہلاک ہوئے : 360
غزہ میں جن کو پانی ,بجلی
ملنے میں بے پناہ مشقت ہوئی : 1.8 ملین
اسرائیل پر کل راکٹ حملے : 2984
فلسطینی راکٹ جو آئرن ڈوم
راکٹ شکن کی زد میں آئے : 547
اسرائیل میں کل ہلاکت : 69
اسرائیلی زخمی : 400
احتیاطی طور پر تیار اسرائیلی فوج : 86000
غزہ میں اسرائیلی سرنگوں کے انکشافات : 32
ایک سرنگ پر کل خرچ : 3 ملین
اسرائیل کے کتنے آئرن ڈوم
استعمال ہوئے : 547
فی آئرن ڈوم کی لاگت : 33 ملین ڈالر
غزہ پر کل اسرائیلی حملے : 4370

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *