عراق کی آگ ہندوستان پہنچی

پربھات رنجن دین

مولانا سلمان ندوی کے کارناموں سے ملک کی خفیہ ایجنسی میں کھلبلی مچ گئی۔ مولانا ندوی نے عراق میں قتل عام کرنے والے دہشت گرد البغدادی کو اسلامی دنیا کا خلیفہ مان لیا اور پانچ لاکھ جنگجوؤں کو عراق بھیجنے کی پیروی کرکے مذہبی اشتعال پیدا کرنے کی کوشش کی۔ یہ بات اور ہے کہ زیادہ تر لوگوں نے مولانا ندوی کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا، لیکن کچھ لوگ غفلت میں آگئے۔ کچھ سنی نوجوان جذبات میں بہہ کر عراق جانے کے لیے تیار ہو گئے اور اس کے جواب میں کچھ شیعہ نوجوان بھی عراق جا کر البغدادی سے لڑنے کے لیے تیار ہو گئے۔ مولانا ندوی نے یہ متنازع بیان 7 جولائی کو دیا تھا، لیکن اب وہ اپنے بیان سے مکر گئے ہیں اور میڈیا پرالزام لگا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مولانا ندوی نے یہ مذمتی بیان پہلے کیوں نہیں جاری کیا؟ انہوں نے لوگوں کے جذبات کو بھڑکنے کیوں دیا؟ مولانا سلمان ندوی کے متنازع بیان سے پیدا ہونے والے ہنگامہ اور خفیہ ایجنسی میں پھیلی سنسنی پر پیش ہے چوتھی دنیا کی یہ ایکس کلوسیو رپورٹ …

mastخونخوار دہشت گرد تنظیم کے طور پر اچانک ابھرے اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا (آئی ایس آئی ایس) کے سرغنہ ابو بکر البغدادی کا ایک منٹ کا آڈیو ٹیپ اور لکھنؤ کے مشہور و معروف مدرسہ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے ڈین مولانا سلمان ندوی کا متنازع بیان مرکز اور ریاست کی خفیہ ایجنسیوں کے لیے پریشانی کا سبب بنا ہوا ہے۔ بغدادی کے ٹیپ اور ندوی کے بیان کے برے اثرات کو جانچنے پرکھنے میں خفیہ ایجنسیاں ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئی ہیں۔ خفیہ ایجنسیوں کو شک ہے کہ بغدادی کے بلاوے اور ندوی کے اُکساوے پر عراق کی جنگ میں اترنے کے لیے ہندوستانی نوجوانوں کی آئی ایس آئی ایس میں بھرتی کا کہیں لکھنؤ ہی تو مرکز نہیں بن رہا ہے؟
شیعوں کے خلاف زبردست جنگ کی شروعات کرنے والے آئی ایس آئی ایس کی طرف سے کچھ ہندوستانیوں کے لڑنے کی خبریں ابھی جانچ کا موضوع ہی تھیں کہ راجدھانی لکھنؤ میں واقع اسلامی تحقیق و تعلیم کے مرکز دارالعلوم ندوۃ العلماء کی شریعہ فیکلٹی کے ڈین مولانا سلمان ندوی کے بیان سے سنسنی پھیل گئی۔ پورے ملک ہی کیا، دنیا بھر کی نگاہیں لکھنؤ پر ٹک گئیں کہ یہ کون سا بیان آ گیا! اور اس کے پیچھے آخر ارادہ کیا ہے؟ مولانا سلمان ندوی نے پانچ لاکھ ہندوستانی سنی نوجوانوں کی فوج بنا کر اسے عراق میں شیعوں کے خلاف اتارنے کی حمایت کی۔ اتنا ہی نہیں، انہوں نے ہندوستانی سنی نوجوانوں کی فوج بنانے کی اپیل سعودی عرب سے کی اور سعودی عرب سرکار کو اس بارے میں خط بھی لکھ ڈالا۔
انارکی کی حدیں پار کرنے والی اتنی آزادی صرف ہندوستان میں ہی مل سکتی ہے۔ ایسے سنسنی خیز بیان کے باوجود حکومت ہند کی طرف سے نہ کوئی سرکاری بیان آیا اور نہ کسی قانونی کارروائی کی آہٹ ہی دکھائی دی۔ یہ وہی مولانا ہیں، جنہوں نے خونخار دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس کے سرغنہ ابو بکر بغدادی کے تئیں کھلی حمایت کا اظہار کیا تھا اور خود مختار خلیفہ ہونے کے اس کے اعلان کو منظوری دی تھی۔ اس کے باوجود ملک نے ان کے خلاف کسی قسم کی مناسب کارروائی ہوتے نہیں دیکھی۔
ایسے حساس مدعے پر حکومت ہند کی طرف سے خاموشی تو اختیار کر لی گئی، لیکن یہ مدعا اتنا سنگین ہے کہ اس پر ملک کی خفیہ ایجنسیاں محتاط اور سرگرم ہو گئی ہیں۔ وزارتِ داخلہ نے اس معاملے میں کوئی واضح ردِ عمل ظاہر نہیں کیا ہے، لیکن مشکوک سرگرمیوں کی نگرانی اور جوابی بیانوں کی جانچ بڑی باریک بینی سے کی جا رہی ہے۔ انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے دہشت گردانہ معاملوں کے سینئر تجزیہ کار بھی یہ مانتے ہیں کہ اگر وقت رہتے حالات کو نہیں سنبھالا گیا، تو دہشت گردانہ سرگرمیوں کا اگلا اڈّہ ہندوستان ہی بن سکتا ہے۔ ایک طرف آئی ایس آئی ایس جیسی دہشت گردانہ تنظیموں کے حامیوں میں کھلے عام بیان بازیاں ہو رہی ہیں، تو دوسری طرف اس تنظیم کا سرغنہ بھی ہندوستانی نوجوانوں کو جنگ کے لیے دعوت دے رہا ہے۔ اُدھر، القاعدہ بھی ہندوستان میں جہاد شروع کرنے کا جیسے الٹی میٹم ہی جاری کر رہا ہے۔
آئی ایس آئی ایس سرغنہ ابو بکر البغدادی کے آڈیو ٹیپ صرف عراق ہی نہیں، بلکہ لکھنؤ کے ان علاقوں میں بھی بج رہے ہیں، جو سنی اکثریت والے علاقے مانے جاتے ہیں۔ اس ٹیپ میں ہندوستانی سنی نوجوانوں کو آئی ایس آئی ایس میں شامل ہونے کی کھلی دعوت دیتے ہوئے بغدادی کو صاف صاف سنا جا سکتا ہے۔ قریب ایک منٹ کا یہ آڈیو ٹیپ خاص طور پر رمضان کے پیغام کے نام سے جاری کیا گیا ہے۔ آڈیو ٹیپ میں بغدادی کے بیان کا اردو ترجمہ بھی شامل ہے۔ اس پیغام میں ہندوستانیوں کو دعوت دیتے ہوئے آئی ایس آئی ایس کی قطار میں چینی، امریکی، فرانسیسی، جرمن اور آسٹریلیائی نوجوانوں کے بھی شامل رہنے کی بات کہی گئی ہے۔ 28 جولائی کو دہلی کے سرائے کالے خاں علاقے میں گرفتار کیے گئے لشکر طیبہ کے دہشت گرد عبدالسبحان قریشی نے بھی کہا ہے کہ وہ نوجوانوں کو لشکر میں بھرتی کرانے کا کام کر رہا تھا۔ خفیہ ایجنسیاں اس اہم سراغ پر کام کر رہی ہیں کہ قریشی ان نوجوانوں کو آئی ایس آئی ایس کے حوالے کرنے میں مرکزی رول تو نہیں نبھا رہا تھا۔ اب تو قریشی کے بھائی کے بارے میں بھی پتہ چل گیا، جو کہ کولکاتا کی علی پور جیل میں بند ہے اور وہیں سے ملک و بیرونِ ملک دہشت گردانہ سرگرمیوں کو مانیٹر کر رہا تھا۔ خفیہ ایجنسیوں نے اس کے اور پاکستان میں بیٹھے اس کے آقاؤں کے درمیان جیل میں ہو رہی بات چیت کو بھی پکڑا ہے۔
بہرحال، خفیہ ذرائع بتاتے ہیں کہ ہندوستان کے مسلم نوجوانوں کو نہ صرف آئی ایس آئی ایس، بلکہ چیچنیا، افغانستان اور شام میں بھی لڑوایا جا رہا ہے۔ تمل ناڈو کے کئی نوجوانوں کو شام میں لڑنے کی سرکاری طور پر تصدیق ہو ئی ہے۔ آئی ایس آئی ایس کی تو اتنی دھوم مچی ہے کہ ہندوستان کے تقریباً ایک ہزار سے زیادہ نوجوان عراق میں شیعوں کے خلاف لڑائی میں اترے ہوئے ہیں، جب کہ ان کے عراق میں پھنسے ہونے کی بات کہہ کر ہندوستان میں بھرم پھیلایا جا رہا ہے۔ افغانستان میں انڈین مجاہدین کے ممبران کے طالبان کے ساتھ لڑنے کی بھی سرکاری سطح پر تصدیق ہو چکی ہے۔
خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ بتاتی ہے کہ القاعدہ ہندوستان میں جہاد کے نام پر دہشت گردی پھیلانے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ القاعدہ نے اسے ’غزوۂ ہند‘ کا نام دیا ہے، اس کا مطلب ہوتا ہے فیصلہ کن جنگ۔ شروع میں تو اس کے لیے عرب نوجوانوں کو بھرتی کیا گیا، اب اس میں کشمیری نوجوانوں کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔ تحریک طالبان نے تو کشمیر میں اپنا آفس کھولنے تک کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ ہری پربت کی دیواروں پر لکھے ہوئے ’ویلکم طالبان‘ کے نعرے اس اعلان کی تصدیق کرتے ہیں۔ آئی بی کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ القاعدہ کا بھی ایک آڈیو ٹیپ ملا ہے، جو الشہاب کی طرف سے جاری کیا گیا ہے اور اس میں صاف طور پر دہلی، اتر پردیش، بہار، گجرات اور جنوبی ہند کی ریاستوں کے مسلم نوجوانوں سے گلوبل جہاد میں شریک ہونے کی اپیل کی گئی ہے۔

یہ وہی ریاستیں ہیں، جہاں انڈین مجاہدین دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہے اور اپنی تنظیم میں نوجوانوں کو بھرتی کر رہا ہے۔ القاعدہ کے کندھے پر سوار ہو کر انڈین مجاہدین بھی بین الاقوامی سطح کا بننے کی جدوجہد کر رہا ہے۔ قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کی دستاویزیں صاف طور پر بتاتی ہیں کہ القاعدہ اور طالبان، دونوں ہی انڈین مجاہدین کو مضبوط کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ یاسین بھٹکل اور ریاض بھٹکل جیسے دہشت گردوں کا استعمال اسی میں ہو رہا ہے۔ انڈین مجاہدین کے کئی رکن افغان – پاک سرحد پر طالبان کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ پاکستان بھی چاہتا ہے کہ طالبان اور القاعدہ کی لڑائی کا مرکز پاکستان کے بجائے ہندوستان بن جائے۔ اس کے لیے پاکستانی خفیہ ایجنسی سارے ہتھکنڈے اپنا رہی ہے۔ پاکستان سرحد سے دہشت گردوں کو ہندوستان میں دھکیلنے کا ایک نکاتی پروگرام اسی ارادے کا نتیجہ ہے۔
لشکر طیبہ میں کیرالہ کے نوجوانوں کو بھرتی کرانے کا معاملہ این آئی اے پکڑ چکی ہے اور ٹی نذیر اور سرفراز نواز جیسے بدنام زمانہ دہشت گردوں سمیت 13 دہشت گردوں کو این آئی اے کی خصوصی عدالت سے سزا بھی مل چکی ہے۔ انھیں لوگوں کے ذریعے بھرتی کیے گئے چار نوجوان کشمیر کے کپواڑہ میں ہوئے انکاؤنٹر میں مارے گئے تھے۔ ان میں سے عبدالجبار نامی نوجوان فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا، لیکن بعد میں کیرالہ پولس کے ہاتھوں پکڑ لیا گیا تھا۔ اس معاملہ کو بعد میں این آئی اے کے حوالے کر دیا گیا، جس میں 24 لوگوں کے خلاف چارج شیٹ داخل کی گئی۔
اُدھر مہاراشٹر کے چار نوجوانوں عارف فیاض ماجد، فہد تنویر شیخ، امن نعیم ٹنڈیل اور شاہین فاروقی تنکی کے آئی ایس آئی ایس کے ساتھ عراق میں لڑنے کی سرکاری سطح پر تصدیق ہو چکی ہے۔ ان چاروں نوجوانوں کے اہل خانہ سے بھی پوچھ گچھ کی گئی ہے اور اس کے بعد آئی بی کی تفصیلی رپورٹ مرکزی وزارتِ داخلہ کو سونپ دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کیرالہ، تمل ناڈو اور کرناٹک کے بھی کچھ سنی نوجوان موصل اور تکریت میں آئی ایس آئی ایس کے ساتھ شیعوں کے خلاف چل رہی لڑائی میں شامل ہیں، جب کہ ان کے عراق میں پھنسے ہونے کی باتیں کہی گئی تھیں۔
مہاراشٹر کے کلیان کا رہنے والا عارف فیاض ماجد اپنے تین دیگر ساتھیوں کے ساتھ 23 مئی کو نکلا تھا اور 24 مئی کو اس نے اپنے گھر والوں کو فون کرکے بتایا تھا کہ وہ اور اس کے ساتھی بغداد میں ہیں۔ عراق کی خفیہ ایجنسی نے ہندوستان کی خفیہ ایجنسی کی چھان بین کو آگے بڑھاتے ہوئے بتایا کہ ان کے موبائل سے ہوا کال ان کے موصل میں ہونے کی تصدیق کرتا ہے، جو آئی ایس آئی ایس کے قبضے میں چلا گیا تھا۔ عارف فیاض ماجد، فہد تنویر شیخ اور امن نعیم ٹنڈیل انجینئرنگ کے طالب علم تھے، جب کہ شاہین فاروقی تنکی ایک کال سنٹر میں کام کرتا تھا۔ عارف فیاض ماجد کے ذریعے اپنے گھر کے لوگوں کو لکھا ہوا خط بھی خفیہ ایجنسی نے برآمد کیا ہے۔ ان نوجوانوں کے علاوہ 18 دیگر ہندوستانی سنی نوجوانوں کے وہاں ہونے کی تصدیق ہوئی، لیکن ان کی تفصیل یہاں نہیں مل پائی۔ شام کے ہندوستان میں واقع سفیر ریاض کمال عباس نے بھی کہا تھا کہ شام کے علاوہ چیچنیا، افغانستان اور کچھ دیگر ملکوں میں جہاد کے نام پر چل رہے تشدد میں ہندوستان کے دہشت گرد بھی شریک ہیں۔

نہ پرزور مذمت، نہ کوئی فتویٰ
شیعوں کے خلاف عراق میں پانچ لاکھ ہندوستانی سنی نوجوانوں کی فوج بناکر بھیجنے کے بارے میں حکومت سعودی عرب کو لکھے گئے خط نے اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ کی اسلامی سیاست کو گڈ مڈ کرکے رکھ دیا ہے۔ لکھنؤ کے دارالعلوم ندوۃ العلماء کی شریعہ فیکلٹی کے ڈین مولانا سلمان ندوی کے ذریعے بھیجے گئے اس خط پر سنی مولاناؤں کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ وہ اس کی مذمت کے لیے بھی آگے نہیں آ رہے ہیں۔ مولانا ندوی کے بیان کے خلاف کوئی فتویٰ بھی جاری نہیں ہوا۔ اس سے ان کی اندرونی حالت آسانی سے سمجھی جا سکتی ہے۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مجلس عاملہ کے رکن مولانا اطہر علی نے اتنا ہی کہا کہ سعودی عرب کی سرکار کو خط لکھنے سے اچھا تھا کہ مولانا ندوی ہندوستانی سرکار سے اپیل کرتے، تاکہ عراق کے شیعہ – سنی تنازع کا سفارتی حل نکالنے کی کوئی مثبت پہل ہو۔ وہ خود ہی سوال اٹھاتے ہیں کہ سعودی عرب سعودی عرب سرکار ہی کیا کر لے گی؟ سنی نوجوانوں کی فوج بنائے جانے کے بارے میں ندوی کے بیان کی بات پر مولانا اطہر علی نے کہا کہ اس کا کوئی مطلب نہیں ہے، اس سے آپسی بھید باؤ ہی بڑھتا ہے۔
علماء کونسل کے رکن مولانا محمود دریا بادی مولانا ندوی کے ذریعے اس طرح کا خط لکھے جانے کو وہ نا قابل اعتبار مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر یہ سچ ہے، تو قابل افسوس ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ عراق اور شام کے تنازع کو شیعہ – سنی کے اینگل سے دیکھنا اور سمجھنا غلط ہے اور اس طرح کے خط دونوں فرقوں کے درمیان بھید بھاؤ کی خلیج کو بڑھاتے ہی ہیں۔
لکھنؤ کی عیدگاہ کے امام مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے اس مسئلے پر اپنا ردِ عمل دینے سے ہی منع کر دیا، تو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مجلس عاملہ کے رکن اور یو پی کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ظفریاب جیلانی نے مولانا ندوی کی مذمت کی اور کہا کہ یہ خط ملک کے مفاد کے خلاف ہے اور اس سے شیعہ- سنی فرقوں کے درمیان غیر ضروری تناؤ بڑھے گا۔

اعظم خاں سے شیعہ ناراض کیوں؟

اتر پردیش کے سیاسی گلیارے میں اس بات کو لے کر کافی بحث چل رہی ہے کہ شیعہ فرقہ کے لوگ ریاست کے سینئر وزیر کابینہ اعظم خاں سے ناراض کیوں ہیں؟ شیعہ اور سنی فرقوں کے درمیان پھیلے تناؤ کو اعظم خاں کہیں اندر ہی اندر ہوا دینے کی کوشش تو نہیں کر رہے ہیں؟ لوک سبھا الیکشن میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جیت سے خاص طور پر اعظم خاں زیادہ ہی بوکھلائے ہوئے ہیں اور ان کے اناپ شناپ بیان بھی سامنے آئے ہیں۔ اعظم خاں کی ناراضگی شیعہ فرقہ کے لوگوں سے اس لیے بھی ہے کہ انہیں لگتا ہے کہ شیعہ فرقہ کے لوگوں نے بی جے پی کو ووٹ دیا اور دوسرے یہ کہ اعظم خاں خود بھی سنی ہیں۔ یہ تناؤ اس قدر پھیل گیا کہ الوداع کی نماز کے بعد شیعوں نے وزیر برائے اقلیتی بہبود اعظم خاں کا گھر تک گھیرنے کی کوشش کی۔ اس کوشش میں پولس کی لاٹھیاں چلیں اور کئی شیعہ مذہبی رہنماؤں سمیت متعدد لوگ زخمی ہوئے۔ اس کے بعد تو اعظم خاں کے خلاف شیعہ مذہبی رہنما مولانا کلب جواد نے محاذ ہی کھول دیا۔ شیعہ فرقہ کے لوگ وزیر کابینہ اعظم خاں کو سماجوادی پارٹی سے ہٹانے، سنٹرل وقف بورڈ کے سابق چیئرمین کو گرفتار کرنے اور لاٹھی چارج کا حکم دینے والے ڈی ایم – ایس پی کو برخاست کرنے کی مانگ کر رہے ہیں۔ سیاست نے یہ شکل اختیار کر لی ہے کہ شیعہ فرقہ ایک طرف کانگریس لیڈر احمد پٹیل، تو دوسری طرف اعظم خاں کو اپنے نشانے پر لے رہا ہے۔ کلب جواد کا کہنا ہے کہ احمد پٹیل اور اعظم خاں کے اشارے پر نہتھے شیعہ علماء پر لاٹھی چارج کرایا گیا، تاکہ دہلی و لکھنؤ میں بیچی گئی کروڑوں کی وقف جائیداد سے دھیان ہٹایا جا سکے۔ لاٹھی چارج کے خلاف کلب جواد اور ان کے وفد نے نو مقررہ گورنر رام نائک سے بھی ملاقات کی اور ان کے سامنے اپنی مانگ رکھی۔ جواد کا کہنا ہے کہ انگریزوں کے بعد سماجوادی پارٹی کے لوگوں نے ہی مذہبی رہنماؤں پر لاٹھیاں چلوائی ہیں۔
صاف شفاف نہیں مولانا ندوی کی صفائی
لکھنؤ کے مشہور و معروف اسلامی تحقیقی ادارہ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے ڈین مولانا سلمان ندوی سے اس سلسلے میں اس نامہ نگار نے بات چیت کی۔ مولانا ندوی نے پانچ لاکھ سنیوں کی فوج بنانے کی وکالت کیے جانے کے اپنے بیان کے بارے میں بتانے سے پہلے عراق میں وہاں کے وزیر اعظم نوری المالکی کے ذریعے سنیوں کا قتل عام کرائے جانے کی سخت مذمت کی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل مل کر شیعہ اور سنیوں کے درمیان دشمنی پیدا کر رہے ہیں اور پوری دنیا میں ان کے ایجنٹ اسے پھیلا رہے ہیں۔ مولانا ندوی نے اپنے بیان پر آتے ہوئے اتنا ہی کہا کہ مسلم مذہبی رہنما ہونے کے ناتے ان کا یہ فرض ہے کہ ملک و بیرونِ ملک پیش آنے والے واقعات پر وہ دین، قرآن اور حدیث کے مطابق ہی بیان دیں۔ مولانا ندوی نے یہ بھی کہا کہ آئی ایس آئی ایس (داعش) کے لیڈر ابو بکر البغدادی کو بھی انہوں نے امن و امان قائم کرنے کی صلاح دی ہے۔ اپنے متنازع بیان کے بارے میں ندوی نے اتنا ہی کہا کہ میرے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ پھر آپ نے اُس انگریزی اخبار کو اپنا مذمتی بیان کیوں نہیں بھیجا؟ اس سوال پر مولانا ندوی نے کہا کہ اخبار کو مذمتی بیان بھیجا گیا ہے۔ لیکن، اُس اخبار کے مقامی ایڈیٹر نے صاف صاف کہا کہ مولانا ندوی کی طرف سے کوئی مذمتی بیان نہیں آیا ہے۔

مولانا ندوی نے البغدادی کو اب بھی دہشت گرد نہیں مانا
مولانا سید سلمان حسینی ندوی نے متنازع بیان دے کر سنسنی پھیلا دی۔ مولانا ندوی کے مطابق، انہوں نے عراق میں قتل عام کر رہے آئی ایس آئی ایس کے سرغنہ ابوبکر البغدادی کو 7 جولائی کو خط لکھا تھا، جب کہ انہوں نے 17 جولائی کو اس خط کو اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر شائع کیا۔ مطلب یہ کہ انہوں نے 7 تاریخ کو خط لکھ کر میڈیا کو اس کی خبر نہیں دی۔ یہ خبر سب سے پہلے ایک اردو اخبار نے اپنے پہلے صفحہ پر لیڈ اسٹوری بناکر شائع کی تھی، لیکن کھلبلی تب مچی، جب اس خبر کو ایک انگریزی اخبار نے 26 جولائی کو اپنے پہلے صفحہ پر چھاپا۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ میڈیا نے 7 تاریخ کو دیے گئے اس بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا، تب بھی یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ مولانا ندوی نے اس کی باقاعدہ طور پر مذمت کرنے میں اتنی دیر کیوں کر دی؟ انہوں نے باقاعدہ طور پر اپنا مذمتی بیان فیس بک کے ذریعے 31 جولائی کو جاری کیا۔ بیان صحیح تھا یا اسے توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، اس سے زیادہ فرق نہیں پڑتا، کیوں کہ مولانا ندوی کے بیان سے جذبات بھڑک رہے تھے۔ سنی نوجوان عراق جاکر البغدادی کی دہشت گرد تنظیم میں شامل ہونے کو تیار ہو گئے تھے، لہٰذا اس کے جواب میں شیعہ نوجوانوں نے بھی عراق جانے کے لیے کمر کس لی تھی۔ لوگوں کے مذہبی جذبات بھڑکتے رہے، جو نقصان ہونا تھا، وہ ہوتا رہا۔ ماحول بد سے بدتر ہوتا چلا گیا، لیکن مولانا ندوی نے میڈیا کو موردِ الزام ٹھہرانے کے علاوہ زخموں پر مرہم رکھنے والا ایک بھی بیان نہیں دیا۔ حیرانی تو اس بات کی ہے کہ آج بھی وہ البغدادی کو ایک دہشت گرد بتا کر اس کی مذمت نہیں کر رہے ہیں، جب کہ یہ پوری دنیا دیکھ رہی ہے کہ البغدادی اور اس کے جنگجو عراق میں قتل عام کر رہے ہیں، جو نہ صرف غیر اسلامی ہے، بلکہ نہایت ہی وحشیانہ اور غیر انسانی بھی ہے۔

شیعہ بھی عراق جانے کو تیار
شیعہ فرقہ کے نوجوان بھی بڑی تعداد میں عراق جانے کو تیار ہیں۔ ان کی بھی خواہش ہے کہ عراق میں واقع شیعہ مسلک کے مقدس مقامات پر آئی ایس آئی ایس کے تباہ کن حملوں کے خلاف وہ جنگ میں اتریں اور اپنے مقدس مقامات کی حفاظت کریں۔ تقریباً 30 ہزار شیعہ نوجوانوں نے مختلف ٹریول ایجنسیوں کو اپنے پاسپورٹ دیے ہیں اور عراق جانے کا انتظام کرنے کو کہا ہے۔ ایک لاکھ سے زیادہ شیعہ نوجوانوں نے عراق کے شیعوں کے تئیں اپنی حمایت جتائی ہے۔
ہندوستان میں سنیوں کی آبادی زیادہ ہے، لیکن شیعہ فرقہ کے بھی تقریباً 4-5 کروڑ لوگ یہاں رہتے ہیں۔ عراق میں لڑنے کے لیے شیعوں کی بھرتی کا کام انجمن حیدری نام کی تنظیم کر رہی ہے۔ اس تنظیم سے جڑے سید بلال حسین عابدی عراق جانے کے خواہش مند شیعہ نوجوانوں کا ویزا ایپلی کیشن دہلی میں واقع عراقی سفارت خانہ میں جمع کرنے جا رہے ہیں۔ دہلی کے کربلا روڈ پر انجمن حیدری کا آفس ہے۔ شیعوں کی تنظیم ’آل انڈیا شیعہ حسینی فنڈ‘ یہ کہہ چکی ہے کہ چار ہزار شیعہ نوجوانوں نے عراق جانے کے لیے درخواست دے رکھی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *