ہندوستانی مسلمانوں نے بھی غزہ کو بھلا دیا

 وسیم احمد

اسے ستم ظریفی نہ کہا جائے تو اور کیا ہے کہ جہاں حکومت ہند پارلیمنٹ میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے خلاف مذمتی قرار داد پاس نہ کرسکی، وہیں ہندوستانی مسلمان بھی اس سلسلے میں کوئی مشترکہ عملی دلچسپی نہیں دکھا سکے۔ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے بھی غزہ کو بھلا دیاہے ۔ تقسیم وطن سے قبل بابائے قوم مہاتما گاندھی نے فلسطینیوں کے تئیں پوری حمایت اور ہمدردی کا اعلان کیا تھا، انڈین نیشنل کانگریس نے متعدد قراردادیں پاس کی تھیں ، 1992تک ہندوستان نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم نہیں کیے تھے اور 1967 کے ساتھ 1973میں یہ سرکاری اور عوامی سطح پر اسرائیل کے خلاف کھڑا تھا مگر آج جب وہاں انسانیت کا قتل عام ہورہا ہے اور طبی و دیگر امداد کے لئے عام فلسطینی دنیا بالخصوص ہندوستان کی جانب امید کی نظر سے دیکھ رہا ہے، ہندوستانیوں خصوصاً مسلمانوں میں احتجاج اور دعاؤں سے آگے کوئی سرگرمی نہیں دیکھی جارہی ہے۔ آخر کیوں عملی دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کر پارہی ہیں حقوق انسانی و مسلم تنظیمیں، ان سب نکات پر اس فکر انگیز تجزیہ میں روشنی ڈالی گئی ہے۔

mastآٹھ جولائی سے غزہ پر شروع ہوئے اسرائیلی حملے میں تقریبا دو ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اسرائیل کی بربریت اور ان کے مظالم کے خلاف دنیا کے سو سے زیادہ ملکوں میں احتجاج ہوئے۔ اس سلسلے میں ہندوستان میں عوامی سطح پر اسرائیلی سفارت خانے اور دیگر مقامات پر احتجاج کے علاوہ دعائوں کا اہتمام ہوا ۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف دعائوں اور احتجاجوں سے ہی مسئلے کا حل نکالا جاسکتا ہے یا بیان جاری کردینے اور ہمدردی کے چند الفاظ اخباروں میں لکھ دینے سے مظلوم کے آنسو پونچھے جاسکتے ہیں یا انہیں مالی ومادی کی ضرورت ہے؟ اس سلسلے میں سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ آج فلسطین کے تئیں ہندوستان کے مسلمانوں میں وہ جذبہ ہمدردی نظر نہیں آرہا ہے جو عراق میں خانہ جنگی کے تئیں دکھائی پڑتا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب فلسطین میں مسلمانوں کی تباہی عراق کی بہ نسبت کہیں زیادہ ہے اور یہاںسوال قبلہ اول کو بچانے کا بھی ہے ،اس کے باجوود علماء ،تنظیمیں اور عوام میں آخر ویسی دلچسپی کیوں نہیں دکھائی دے رہی ہے ؟۔ آخر اس کے اسباب کیا ہیں؟جب اس سلسلے میں مختلف تنظیموں سے بات کی گئی تو اندازہ ہوا کہ کچھ تنظیمیں فلسطینی سفار ت خانے کے توسط سے امداد پہنچا نے کے طریقوں پر غور کرہی ہیں تو کچھ ایسی ہیں جو فلسطینی مہاجرین کے لئے کام کرنے والی اقوام متحدہ کی تنظیموں سے اجازت لینے کے لئے کوشش کررہی ہیں۔جب انہیں اجازت مل جائے گی تب یہ انہیں اپنی امدادی رسد پہنچائیں گی اور کچھ ایسی بھی ہیں جنہوں نے گزشتہ تلخ تجربات کی وجہ سے اس مرتبہ کوئی کوشش ہی نہیں کیں۔ ان میں جو تنظیمیں کوشش کررہی ہیں ، ان کی کوششوں کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ہے ۔مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فلسطین کا تنازع کوئی نیا نہیں ہے۔ یہ سلسلہ تقسیم وطن کے بہت قبل سے چلا آرہا ہے اور 1967 کے بعد سے تو فلسطینیوں پر مسلسل مظالم ہورہے ہیں اور گزشتہ 7 برسوں سے غزہ کا اسرائیل نے مسلسل بلاکیڈ رکھا ہے۔ ابتدائی دور میں فلسطینیوں کی امداد کے لئے ہندوستانی مسلمانوں کی طرف سے مشترکہ کوشش ہوئی تھی ،جس کے کچھ مثبت نتائج بھی سامنے آئے تھے مگر اس مرتبہ ان تمام تنظیموں سے بات کرنے کے بعد اندازہ ہوا کہ نہ تو کوئی بھی خود سے آگے بڑھنے کو تیار نہیں ہے اور نہ ہی ماضی کی طرح کوئی مشترکہ کوشش کی جارہی ہے۔ ان میں سے کئی نے تو ایک بڑی اور قدیم تنظیم جمعیت علماء ہند پر تکیہ کرکے سارا معاملہ ان پر ہی چھوڑ دیا ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ان میں سے کئی تنظیموں کے سربراہوں کے بیان میں کھلا تضاد نظر آیا۔ چنانچہ امیر جماعت اسلامی ہند سید مولانا جلال الدین عمری سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت جس میں جماعت شامل ہے، کی طرف سے طبی امداد اور مالی اعانت کی کوشش ہوئی مگر حکومت کی طرف سے اجازت نہیں دی گئی۔لیکن جب مشاورت کے صدر ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ’’ فلسطینیوں کو مالی و مادی امداد بھیجنے کے لئے وزارت خارجہ اور وزارت خزانہ سے اجازت لینی پڑتی ہے ۔پھر یہ دونوں وزارتیں کسٹم ڈپارٹمنٹ کو لکھتی ہیں ،تب جاکر مالی ومادی امداد فلسطین بھیجنے کی منظوری ملتی ہے۔ چونکہ ہم نے گزشتہ مرتبہ2008-09 میں غزہ جنگ کے دوران کوشش کی تھی مگر کامیابی نہیں مل سکی۔ لہٰذا اس مرتبہ ہم نے کوئی کوشش نہیں کی۔البتہ مولانا محمود مدنی سے یہ بات ہوئی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے توسط سے امداد بھیجنے میں قدم آگے برھائیں گے اور ہم ان کا مکمل تعاون کریں گے‘‘۔ بڑ ی حیرت کی بات ہے کہ2008 اور 2009 کو ایک عرصہ بیت گیا اور ایسا بھی نہیں ہے کہ مسئلہ فلسطین ختم ہوچکا تھا تو پھر انہوں نے اس لمبے عرصے میں ان رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لئے کوئی مزید قدم کیوں نہیں اٹھایا؟۔صرف یہ سوچ کر کہ منظوری ملنے میں بڑی مشقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، عملی قدم آگے نہ بڑھانا افسوسناک ہے۔ جب مسلم پولیٹیکل فارم کے ڈاکٹر تسلیم رحمانی سے اس سلسلے میں پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا کہ ’’ یہ تنظیمیں مادی امداد اس لئے نہیں کر پاتی ہیں کیونکہ فلسطین تک مادی امداد پہنچانے میں کئی قانونی رکاوٹیں پیش آ تیہیں ۔وہ رکاوٹیں یہ ہیں کہ عالمی قوانین کے مطابق اگر کوئی باہری ملک فلسطینی پناہ گزینوں کے لئے کسی طرح کی امداد پہنچانا چاہتا ہے تو یہ امداد صرف اردن کے راستے یونائٹیڈ نیشنز ریلیف اینڈورکس ایجنسی (UNRWA) کے ذریعہ ہی پہنچائی جاسکتی ہیں۔ مگر ماضی میں دیکھا جاچکا ہے کہ اسرائیل انروا کے لئے بھیجی گئی امداد کو ان تک پہنچنے نہیں دیتا ہے ۔جب بھی فلسطین کے لئے کوئی امدادی رسد بھیجی گئی تو اسرائیل نے اسے درمیان میں ہی تباہ کر دیا جیسا کہ 2012 میں غزہ کے کمانڈوز نے غزہ میں محصور مکینوں کی امداد کے لئے ترکی کی قیادت میں امدادی سامان لے جانے والے فریڈم فلٹیلا پر حملہ کردیا تھا۔جس میں کئی لو گ ہلاک ہوئے تھے‘‘۔ ڈاکٹر تسلیم رحمانی کا مزید کہنا ہے کہ’’ حکومت کی بات چھوڑیے مگر ہمارا زور اس پر نہیں ہونا چاہئے کہ حکومت کیا کر رہی ہے؟ بلکہ ہندوستانی مسلم قیادت کیا کررہی ہے، اس پر بات کرنی ضروری ہے۔ ہندوستانی مسلمان مظاہرے کررہے ہیں اور احتجاج کررہے ہیں ۔لیکن وہ چاہیں بھی تو ان کی مدد نہیں کرسکتے جب تک کہ مسلم قیادت آگے نہ آئے اور اور مشترکہ کوشش نہ کرے ۔ اگر ریلیف کا سامان اکٹھا کربھی لیا جاتا ہے تو اس کا غزہ تک ترسیل کا کوئی راستہ نہیں ہے۔یہاں تو یہ ہورہا ہے کہ مولانا سلمان ندوی ایک بیان دیتے ہیں ،دوسرا دیتے ہیں ،تیسرا دیتے ہیں پھر اس کی تردید کرتے ہیں۔ ان کو غزہ کے مسلمانوں سے کوئی ہمدردی ہوتی تو سب کو متحد کرتے۔ جمعیت علماء ہند، جماعت اسلامی ہند، مسلم مجلس مشاورت،آل انڈیا ملی کونسل، مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند اور دیگر تنظیمیں چاہیں تو متحد ہوکر عرب لیگ یا مصر کی لیڈر شپ سے رابطہ کرکے امداد بھیج سکتی ہیں۔لیکن ابھی تک سب بیان بازی کررہے ہیں۔ متحد ہو کر عالمی لیڈر شپ سے رابطہ میں کوئی نہیں ہے۔ ترکی کی حکومت کے ذریعہ بھی رسد غزہ بھیجی جاسکتی ہے۔ پہلے بھی وہ ترکی کے ذریعہ ہی غزہ تک امداد پہچانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ ترکی میں ایک این جی او ہے جس کا نام ہیومینٹرین ریلیف فائونڈیشن (آئی ایچ ایچ) ہے۔ یہ غزہ میں ریلیف کا کام کرتی ہے۔ہندوستانی مسلم قیادت سعودی عرب سے ڈرتی ہے ۔کیونکہ اگر وہ غزہ کے مسلمانوں کی مدد کر ے گی تو سعودی امداد آنی بند ہوجائے گی۔ کیونکہ سعودی عرب حماس کو ختم کرنے کے لئے اسرائیل کی مدد کررہا ہے۔ظاہر ہے کہ ہندوستان کی مسلم تنظیمیں کیسے اس کے خلا ف جائیں گی؟ اس سلسلے میں جمعیت علماء ہند (محمود ) کے جنرل سکریٹری مولانا محمو د مدنی نے کہا کہ ’’ ایسا نہیں ہے کہ فلسطین کے سلسلے میں کوششیں نہیں ہوئی ہیں۔ جب سے یہ تنازع نئے سرے سے شروع ہوا ہے۔ اس سلسلے میں بڑے پُر زور انداز میں مظاہرے کرکے ہندوستانی مسلمان اپنا احتجا ج بھی درج کرارہے ہیں۔اور ہم نے ایک تحریک بھی چلائی ہے کہ لوگ مس کال کرکے اپنا احتجاج درج کریں ۔اس سلسلے میں ابھی تک6 لاکھ مس کال آچکی ہیں ۔ہم ایک طے شدہ وقت تک اس کو جاری رکھیں گے۔

اس سلسلے میں سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ آج فلسطین کے تئیں ہندوستان کے مسلمانوں میں وہ جذبہ ہمدردی نظر نہیں آرہا ہے جو عراق میں خانہ جنگی کے تئیں دکھائی پڑتا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب فلسطین میں مسلمانوں کی تباہی عراق کی بہ نسبت کہیں زیادہ ہے اور یہاںسوال قبلہ اول کو بچانے کا بھی ہے ،اس کے باجوود علماء ،تنظیمیں اور عوام میں آخر ویسی دلچسپی کیوں نہیں دکھائی دے رہی ہے ؟۔

 

اس کے بعد نئی دہلی میں واقع یونائٹیڈ نیشنز ہائی کمشنر فار رفیوجیز میں پورے ملک کے عوام کی جانب سے احتجاج درج کرایا جائے گا۔ اس کے علاوہ جمعیت علماء کی اپیل پر ہر جمعہ کی نماز کے بعد پورے ملک میں جگہ جگہ مظاہرے ہورہے ہیں۔ یعنی ہر جمعہ کو 70,80 شہروں میں لگاتار مظاہرے ہورہے ہیں۔ہم اس کو کمیونل ایشو نہیں بنانا چاہتے مگر پھر بھی ہم فلسطین پر جلد ہی کانفرنس کرائیںگے ۔جہاں تک امداد کی بات ہے ہم نے نئی دہلی کے یو این ایچ سی آر کو خط لکھ کر اجازت طلب کی ہے۔ جب یہ اجازت نامہ ہمیں دستیاب ہو جائے گا توہم آر بی آئی کے پاس جائیں گے۔اس کے علاوہ وزارت خارجہ اور مرکزی حکومت کو بھی یہ اجازت نامہ دکھائیں گے اور پھر امدا د بھیجنے کی کوشش کی جائے گی۔چھوٹی سی رقم کے لئے کئی ذرائع ہوسکتے ہیں لیکن وہاں کے حالات اتنے خراب ہیں کہ چھوٹی موٹی امداد سے کام نہیں چلے گا۔اس لئے یو این ایچ سی آر کی اجازت بہت ضروری ہے تاکہ فلسطین کے ریلیف کیمپوں میں کام کر رہی انروا تک یہ امداد پہنچیں اور پھر ان کے توسط سے یہ متاثرین تک پہنچے۔ انسٹی ٹیوٹ آف آبجکٹیو اسٹڈیز ( آئی او ایس ) کے چیئر مین ار آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے ’’چوتھی دنیا‘‘ کو بتایا کہ ’’ جمعیت علماء ہند ( محمود) کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کا فلسطینیوں کی مدد کے لئے جب خط آیا تو ہم نے ہر طرح سے ان کی ھمایت کا فیصلہ کیا۔اس سلسلے میں وہ اقدام کر رہے ہیں اور توقع ہے کہ اس سے فلسطینی متاثرین کو امداد پہنچانے کا کوئی راستہ یقینا نکلے گا‘‘۔ جہاں تک مالی امداد کا تعلق ہے،اس سلسلے میں دیگر گروپوں کی جانب سے بھی پیش رفت کی جارہی ہے۔مثال کے طور پر حیدر آباد کی انڈو-عرب فرینڈشپ سوسائٹی نے نئی دہلی میں فلسطینی سفیر عدلی شعبان حسن صادق کو نقد 25 لاکھ روپے پیش کیے تاکہ یہ غزہ متاثرین کو مالی امداد کے طور پر بھیجا جاسکے۔ ناظم عمومی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی مدنی کا’’ چوتھی دنیا‘‘ سے کہنا ہے کہ ’’ یہ اجتماعی کام ہے۔لہٰذا بلا تفریق مذہب و ملت اور مکاتب فکر ملک کے عوام کو کامن پلیٹ بنا کر آگے بڑھنا چاہئے۔ماضی میں 1967 اور 1973 کی عرب-اسرائیل جنگوں کے دوران اس قسم کے جذبوں کا اظہار ہوا بھی ہے ‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’’ اس کاز کے لئے ملک کی مسلم قیادت کو اجتماعی طور پر کوئی حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے اور حکومت ہند کو اس ضمن میں کھل کر اسرائیلی ظلم و بربریت کے خلاف بولنا پڑے گا اور جو این جی اوز وہاں امداد بھیجنا چاہتے ہیں، انہیں سہولت فراہم کرنی ہوں گی۔‘‘ سوال یہ ہے کہ کیا مسلم تنظیمیں ،ادارے، علماء و دیگر شخصیتیں جنہوں نے اس دُکھ کی گھڑی میں غزہ کے بلکتے یتیم بچوں، بیوائوں و دیگر متاثرین کو بھلا دیا ہے،اپنے فروعی اختلافات اور مفادات کو نظر انداز کرکے اتحاد کا مظاہرہ کریں گی اور مشترکہ منصوبہ بندی کر کے اقدامات کے لئے آگے بڑھیں گی۔تاریخ منتظر ہے ان کے مشترکہ اقدامات کا۔ آج ایک ایسے وقت میں جبکہ غزہ میں کئی لاکھ افراد بے گھر ہوگئے ہیں اور وہ ہزاروں مجروحین کے ساتھ طبی امداد و دیگر رسد کے منتظر ہیں، اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ ہندوستان کی مسلم تنظیمیں ،ادارے،علماء و دیگر شخصیات اپنی دیرینہ روایت کے مطابق اپنے فروعی اختلافات کو نظر انداز کرکے ایک مشترکہ پلیٹ فارم بنائیں اور اس انسانی تقاضہ کو پورا کرنے کے لئے آگے بڑھیں۔ حکومت ہند کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ فلسطینیوں کے تئیں اپنی مثبت روایتی پالیسی کا اظہار کرتے ہوئے اس مشترکہ کوشش کو ہر قسم کی سہولیات فراہم کرائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *