دھیان چند سے پہلے سچن کو بھارت رتن کیوں؟

نوین چوہان
p-12eسال 2011 میں بھارت رتن دیے جانے کے ضابطوں میں کچھ بنیادی تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ جس فیلڈ کے لوگوں کو یہ اعزاز دیا جاتا ہے، اس میں بھی کچھ بنیادی تبدیلی کی گئی تھی۔ جس وقت سرکار نے یہ قدم اٹھایا تھا، اس وقت یہ امید جگی تھی کہ ہاکی کے جادوگر میجر دھیان چند کو بھارت رتن ملنے کا راستہ اب صاف ہو جائے گا اور جلد ہی وہ بھارت رتن سے سرفراز ہونے والے پہلے کھلاڑی ہوں گے۔ ایسا لوگوں کا اس لیے بھی ماننا تھا، کیوں کہ دھیان چند ملک کے ایسے پہلے کھلاڑی تھے، جنہوں نے صرف ملک میں ہی نہیں، بلکہ ملک سے باہر بھی کافی شہرت حاصل کی تھی۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہندوستان کو آزادی سے پہلے دنیا میں اعزاز دلانے والے کھلاڑی کی لگاتار اندیکھی کی گئی اور ہاکی کے اس جادوگر کو بھارت رتن نہیں دیا گیا۔ دوسری طرف کرکٹ کے جادوگر ماسٹر بلاسٹر سچن تندولکر کو یہ اعزاز ان کے 200 واں ٹیسٹ میچ کھیل کر انٹرنیشنل کرکٹ کو الوداع کہنے کے ٹھیک اگلے دن دیے جانے کا اعلان کر دیا گیا۔ کھیل کے شائقین سرکار کے اس فیصلہ سے خوش بھی تھے اور غمگین بھی۔ وہ چاہتے تھے کہ بھارت رتن سب سے پہلے اس کھلاڑی کو ملے، جس نے غلامی کے دور میں بھی ہندوستان کو دنیا میں ایک الگ پہچان دلائی اور ہندوستانی ہاکی کو اس کے سب سے اونچے مقام پر پہنچا دیا۔ ایسی کامیابی ہندوستان کو آج بھی کسی کھیل میں نہیں مل سکی ہے۔
سال 2011 میں دھیان چند کو بھارت رتن دیے جانے کی مانگ میں تیزی آئی۔ اس کے بعد بھارت رتن کے التزام میں ترمیم کرتے ہوئے کھلاڑیوں کو بھی اس انعام سے نوازے جا سکنے کا التزام کیا گیا۔ یہ تبدیلی بنیادی طور پر دھیان چند کو ذہن میں رکھ کر کی گئی تھی۔ 2013 میں وزیر کھیل کے ذریعے ان کے نام کی سفارش کیے جانے سے پہلے تک کئی بار لوگ دھیان چند کو بھارت رتن دیے جانے کی مانگ کرتے رہے ہیں۔ وزارتِ کھیل نے اس کے لیے پہل بھی کی۔ 16 جولائی، 2013 کو اس وقت کے وزیر کھیل جتیندر سنگھ نے دھیان چند کو موت کے بعد بھارت رتن دیے جانے کی سفارش ایک خط لکھ کر وزیر اعظم کے دفتر سے کی تھی۔ اس کے لیے وزیر اعظم کے دفتر کی بھی رضامندی تھی، لیکن دھیان چند کے وقار کو درکنار کرتے ہوئے سرکار نے 24 گھنٹے کے اندر سچن تندولکر کو بھارت رتن دینے کا فیصلہ کر لیا۔ اس کے پیچھے کیا وجوہات ہیں؟ پچھلے سال دھیان چند کو بھارت رتن سے نوازے جانے کا فیصلہ تقریباً ہو ہی گیا تھا، لیکن تندولکر کے ذریعے کھیل سے سبکدوشی اختیار کرنے کے فیصلہ سے اچانک سب کچھ بدل گیا۔ 24 اکتوبر، 2013 کو جانے مانے ماہر نفسیات سی این آر راؤ کے نام کو وزیر اعظم کی منظوری مل چکی تھی، لیکن 14 نومبر، 2013 کو اچانک وزارتِ کھیل کو سچن کا بایو ڈاٹا وزیر اعظم کے دفتر کو بھیجنے کے لیے کہا گیا۔ وزارتِ کھیل نے اس پر فوری کارروائی کرتے ہوئے سچن کا بایو ڈاٹا وزیر اعظم کے دفتر کو بھیج دیا۔ نومبر – دسمبر کے دوران مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ، دہلی اور میزورم میں اسمبلی انتخابات ہونے تھے، اس لیے یو پی اے سرکار نے دونوں کے ناموں کو منظوری کے لیے الیکشن کمیشن کو بھیجا۔ اسے الیکشن کمیشن نے بھی بغیر کسی دیری کے اپنی منظوری دے دی اور اس طرح سچن تندولکر کو بھارت رتن دینے کا راستہ صاف ہوگیا۔
اس تنازع نے اس وجہ سے طول پکڑا، کیوں کہ حق اطلاع قانون (آر ٹی آئی) کے تحت وزارتِ کھیل کے ذریعے وزیر اعظم کے دفتر کو لکھا گیا ایک خط سامنے آیا ہے کہ وزارتِ کھیل نے دھیان چند کے نام کی سفارش کی تھی، نہ کہ سچن تندولکر کے نام کی۔ باوجود اس کے سچن تندولکر سے متعلق آر ٹی آئی کارکن سبھاش اگروال کو ملی اطلاعات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وزارتِ کھیل کے ذریعے کی گئی دیگر سفارشات کو بھی وزیر اعظم کے دفتر نے نظر انداز کر دیا، جس میں اڑن پری پی ٹی اوشااور شطرنج کھلاڑی وشوناتھن آنند کے نام بھی شامل ہیں۔ اس انعام کے لیے کی جانے والی سفارشیں پوری طرح وزیر اعظم کے دفتر پر منحصر ہوتی ہیں۔ افسران کسی بھی تیسرے فریق کے ساتھ بات چیت اور مشورہ کرنے کے لیے آزاد ہوتے ہیں۔ اس کے بعد جن ناموں پر صدر راضی ہوتے ہیں، ان ناموں کی فہرست صدر جمہوریہ کی سکریٹریٹ جاری کرتی ہے۔
وزیر کھیل جتیندر سنگھ نے 16 جولائی، 2013 کو جو خط لکھا تھا، اس میں انہوں نے کہا تھا کہ دھیان چند کے نام پر بھارت رتن ایوارڈ کے لیے کھیلوں میں ان کے کنٹری بیوشن پر غور کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے ملک کو تین اولمپک گولڈ میڈل دلوایا۔ آنجہانی میجر دھیان چند موت کے بعد بھارت رتن پانے کے سب سے قابل امیدوار ہیں۔ انہوں نے کھیل کے شعبہ میں سب سے بہتر مظاہرہ کیا ہے، جس سے ملک کو عزت و افتخار حاصل ہوا ہے۔ ان کی کرشمائی کارکردگی کے سبب ہی انہیں ہاکی کے جادوگر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جس دور میں وہ ہاکی کھیلا کرتے تھے، وہ ہندوستانی ہاکی کا سنہرا دور تھا۔ وہ نہ صرف ایک بہترین کھلاڑی تھے، بلکہ وہ ٹیم کے ایک بہترین رکن بھی تھے۔ ہاکی کے میدان میں اپنے بہترین کھیل کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر انہیں بہت تعریف اور عزت ملی۔ وہ ایک بے حد عام اور سادہ لوح زبان تھے۔ ان کی حصولیابیوں کا احترام کرتے ہوئے ملک کا ایک معزز انعام لائف اچیومنٹ ایوارڈ ان کے نام پر دیا جاتا ہے۔ یہ انعام ان کھلاڑیوں کو دیا جاتا ہے، جنہوں نے کھلاڑی کے طور پر بہترین مظاہرہ کیا اور سبکدوشی کے بعد بھی کھیلوں سے جڑے رہے۔ اس کے علاوہ ان کے یومِ پیدائش کو ملک میں نیشنل اسپورٹس ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔
وزیر اعظم وزیر کھیل جتیندر سنگھ کے خط سے بہت خوش ہوئے اور انہوں نے اس خط کو پرنسپل سکریٹری کے پاس اگلی کارروائی کے لیے بھیج دیا۔ بدقسمتی سے وہ خط نوکرشاہوں کے بیچ کہیں کھو گیا۔ اس کے ایک مہینہ بعد اگست 2013 میں وزیر اعظم کے دفتر کے اس وقت کے ڈائرکٹر راجیو ٹوپنو نے کہا کہ اس مسئلے (دھیان چند) کو وزیر اعظم کے چیف سکریٹری کے سامنے دسمبر میں پدم ایوارڈس کی فہرست کو آخری شکل دیتے وقت رکھا جائے گا۔ لیکن اس کے بعد اس مسئلے پر ایک بار پھر سے خاموشی چھا گئی۔ 14 نومبر، 2014 کو راجیو ٹوپنو نے وزارتِ کھیل سے سچن تندولکر کا پروفائل فوراً وزیر اعظم کے دفتر کو بھیجنے کی درخواست کی، جسے صدر جمہوریہ کو بھارت رتن کے لیے بھیجے جانے والے خط کے ساتھ منسلک کیا جانا تھا۔ اتفاق سے سچن تندولکر اسی دن اپنے کریئر کا آخری ٹیسٹ ممبئی میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیل رہے تھے۔ اس کے بعد 16 نومبر کو سچن تندولکر اور سی این آر راؤ کو بھارت رتن دینے کا حتمی فیصلہ ہوگیا۔ اس پورے واقعہ میں یہ بات صاف نہیں ہوئی کہ وزیر اعظم کے دفتر اور صدرِ جمہوریہ نے بھارت رتن کا اعلان کرنے سے پہلے دھیان چند کے نام پر گفتگو کی یا نہیں۔ لیکن ایک بات تو پوری طرح صاف ہے کہ وزارتِ کھیل کا ماننا ہے کہ دھیان چند سچن سے پہلے بھارت رتن پانے کے حقدار تھے، اسی لیے وزارتِ کھیل نے دھیان چند کو بھارت رتن دینے کی سفارش کی تھی، لیکن یو پی اے سرکار نے دھیان چند کے نام کو نظر انداز کرکے سچن تندولکر کو بھارت رتن دے دیا۔
اس پورے معاملے کو دیکھ کر تو ایسا لگتا ہے کہ یو پی اے سرکار نے اپنے سیاسی فائدے کے لیے دھیان چند کو درکنار کیا۔ جس وقت سچن تندولکر کو یہ انعام دیا جا رہا تھا، اس وقت کئی لوگوں نے سوال اٹھایا تھا کہ سچن سے پہلے یہ انعام دھیان چند کو ملنا چاہیے تھا۔ دھیان چند کے نام پر عام اتفاق رائے بننے کے بعد اچانک سچن کا نام آگے آنا اور انہیں بھارت رتن دیا جانا بڑا ہی ڈرامائی لگتا ہے۔ یہ فیصلہ بھی تب کیا گیا، جب عام طور پر انعاموں کا اعلان نہیں کیا جاتا ہے، کیو ںکہ اس وقت پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے تھے، اس کے باوجود کانگریس سرکار نے یہ فیصلہ لیا۔ وزارتِ کھیل کے خط پر وزیر اعظم کا متفق ہونا اور اگلی کارروائی کے لیے خط بھیجنے کے بعد بھی اس پر عمل نہیں ہونا، اسے سیاست نہیں تو اور کیا کہا جائے گا؟
یہاں پر سوال یہ اٹھتا ہے کہ سچن تندولکر کو کس کے دباؤ میں ملک کا سب سے بڑا انعام اتنی جلد بازی میں دیا گیا اور اس کے لیے دھیان چند کے نام کو کیوں درکنار کر دیا گیا؟ اس مسئلے پر دھیان چند کے بیٹے اور سابق اولمپین اشوک کمار کا کہنا ہے کہ اسے لے کر سیاست ہو رہی ہے۔ یہ ہزاروں لاکھوں لوگوں کے لیے مایوسی کا سبب ہے کہ سچن تندولکر کو دھیان چند پر ترجیح دی گئی۔ یہ میجر دھیان چند کے خلاف کھیلا گیا ایک سیاسی کھیل ہے۔ جس طرح حال ہی میں ختم ہوئے فیفا ورلڈ کپ میں میسی کو گولڈن بال خطاب دینے کو لے کر ان کے ہی ہم وطن میراڈونا نے اعتراض جتایا تھا کہ میسی کو گولڈن بال دیا جانا مارکیٹنگ کا فیصلہ ہے، شاید ایسا ہی کچھ سچن کو بھارت رتن دینے میں بھی ہوا۔ یہاں بازار کے فائدے کے ساتھ ساتھ سیاسی فائدے بھی دیکھے گئے۔ سرکار چاہتی تو سچن کے ساتھ دھیان چند کو بھی بھارت رتن دے سکتی تھی، لیکن ملک کے بڑے بڑے لیڈر کرکٹ بورڈ میں کسی نہ کسی عہدے پر رہے ہیں یا رہ چکے ہیں۔ انہیں کرکٹ کے علاوہ اور کسی کھیل کی فکر نہیں ہے۔ پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگ صرف ہاکی کو بڑھاوا دینے کی بات کرتے ہیں، ہاکی کی خیر خبر لینے والا کوئی بھی پارلیمنٹ میں موجود نہیں ہے، اسی لیے یہ تنازع ہو رہا ہے اور سچن کے نام کو بے وجہ گھسیٹا جا رہا ہے اور دھیان چند کو درکنار کیا جا رہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *