الگ ودربھ کیوں؟

پروین مہاجن
p-11دربھ ریاست کی مانگ 108 سال پرانی ہے۔ یہ مانگ سب سے پہلے 1905میں اٹھائی گئی تھی، جب بیرار ضلع نظام شاہی سے آزاد ہو کر انگریزوں کے ماتحت آگیا تھا۔ 1938میں سی پی اینڈ بیرار اسٹیٹ اسمبلی نے مراٹھی زبان بولنے والوں کے لیے الگ ودربھ ریاست بنانے کی قرارداد پاس کی تھی۔ آزادی کے بعد اسٹیٹ فارمیشن کمیشن نے بھی ودربھ ریاست کی سفارش کی تھی۔ 1948میں جے وی پی (پنڈت جواہر لعل نہرو، سردار ولبھ بھائی پٹیل اور ڈاکٹر پٹابھی سیتا رمیا) کمیٹی نے بھی ودربھ ریاست بنانے کی سفارش کی تھی۔ اسٹیٹ ری آرگنائزیشن کمیشن نے ودربھ ریاست کی بار بار سفارش کی، اس کے باوجود ودربھ ریاست نہیں بن پائی۔ اس کے بعد کئی چھوٹی ریاستوں کی تشکیل ہوئی، لیکن سیاسی بساط پر ودربھ کو ہمیشہ مات ملتی رہی۔ گزشتہ 54سالوں سے پچھڑے پن کا ڈنک برداشت کر رہے ودربھ کی نجات تبھی ممکن ہے، جب وہ مہاراشٹر کی غلامی سے آزاد ہوجائے۔ یہ حق واضح طور پرودربھ کے عوام کا ہے اور اس کا اظہار جن منچ، ودربھ راجیہ آندولن سمیتی اور نوراجیہ نرمان نرمان مہاسنگھ (بھارت) ودربھ کے ذریعے مختلف اضلاع میں کرائے گئے ریفرنڈم سے ہوچکا ہے۔ اس کے باوجود ریاستی سرکار ودربھ کی پسماندگی دور کرنے کے لیے سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ سرکار میں مغربی مہاراشٹر کا دبدبہ ہونے کے سبب ودربھ کی بے اعتنائی بدستور جاری ہے۔ آزاد تلنگانہ کی مانگ ودربھ کے بعد شروع ہوئی تھی اور اس کی تشکیل ہو بھی گئی، لیکن ودربھ کے ساتھ اب تک انصاف نہیں ہوا۔ ودربھ کے منصوبوں کے لیے مختص رقم میں بھی کٹوتی کر کے مغربی مہاراشٹر کا پیٹ بھراجاتا رہا۔
لگتا ہے، ودربھ کومہاراشٹر میں پچھڑے پن کے لیے ہی جوڑا گیا۔ الگ ودربھ کے لیے جب جب بھی تحریک چلی، متحدہ مہاراشٹر کے پیروکاروں نے پھوٹ ڈال کر اسے ناکام کرنے کی سازش رچی۔ بار بار ایک ہی دلیل دے کر ودربھ کے عوام کو ٹھگا اور چھلا گیاکہ الگ ہونے پر ودربھ کی سرکار کے پاس اتنا بھی ریوینو نہیں ہوگا کہ وہ اپنے افسروں اور ملازمین کوتنخواہ دے سکے۔ سیاسی، صنعتی اور جغرافیائی نقطہ نظر سے ودربھ ایک خوشحال ریاست بننے کی اہلیت رکھتا ہے۔ قدرت نے ودربھ کو جنگلات اورمعدنیات کے بھرپور ذخیرہ کی سوغات عطا کی ہے۔ پانی کی املاک بھی کافی ہے، لیکن وسائل کی کمی اور سرکاری قاعدہ قانون کے سبب مفاد عامہ میں اس کا استعمال نہیں کیا جاسکا۔ ودربھ کے حصے میں جو بھی منصوبے آئے، انھیں سرکار نے بارآور نہیں ہونے دیا۔ قومی آبپاشی منصوبے گوسی خورد، جس کے تعمیری کام سے نیتا اور ٹھیکیدار مالامال ہوتے رہے ہیں، لیکن گوسی خورد گزشتہ 27-28سالوں سے اپنے ادھورے پن کو لے کر سسک رہی ہے۔ اس منصوبے سے بے گھر ہوئے لوگ آج بھی معاوضہ اور بازآبادکاری کے لیے حکومت اور انتظامیہ کا منہ تک رہے ہیں۔ کہنے کو تو ناگپور میں ایشیا کی سب سے بڑا صنعت بوٹی بوری بھی ہے، لیکن وہاں قائم ہونے والی صنعت کوسرکارمناسب بجلی، پانی مہیا کرانے کے لیے کبھی سنجیدہ نہیں رہی، نتیجتاً صنعتوں کی نقل مکانی دیگر مقامات یا دوسری ریاستوں میں ہونے لگی۔
ودربھ میں پیدا ہونے والی بجلی سے ممبئی سمیت دیگر علاقے جگمگا رہے ہیں،لیکن مقامی عوام کے نصیب میں ہمیشہ بجلی کٹوتی کی مار ڈال دی گئی ہے۔ یہاں کے کسان مالی تنگی کے سبب خودکشی کر رہے ہیں۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں روزگار کی تلاش میں بھٹک رہے ہیں۔ سرکاری نوکریوں میں مشرقی مہاراشٹر کا دبدبہ قائم ہے۔ ودربھ کی حصہ داری محض 8فیصد ہے۔ گزشتہ 7-8سالوں سے ناگپور میںمِہان پروجیکٹ ، کارگو ہب بنانے کا ڈھنڈورہ سرکار اور سیاستدانوں کے ذریعے پیٹا جارہا ہے۔ بے روزگار نوجوان امید لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ اپنے بزرگ والدین کی دیکھ بھال کر سکیں گے۔ جس رفتار سے مِہان کا کام چل رہا ہے، اس سے تو لگتاہے کہ ابھی اس کام کے مکمل ہونے میں 25سال اور لگیں گے۔ گزشتہ دنوں ناگپور کے ایم پی نتن گڈکری نے مرکزی وزیر بننے کے بعد اعلان کیا کہ مِہان ان کا ڈریم پروجیکٹ ہے، اسے شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے وہ پورازور لگادیں گے۔ جبکہ زمینی سچائی یہ ہے کہ ودربھ کے نوجوانوں کو مِہان کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے کا انتظار کب تک کرنا ہوگا، اس بارے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ممبئی میں بیٹھنے والی کوئی بھی سرکار ودربھ کے ساتھ انصاف کرپائے گی، اس کا بھروسہ یہاں کے عوام کو نہیں ہے۔ اس لیے اب ایک ہی بات کہی جارہی ہے کہ مہاراشٹر سے الگ ودربھ ریاست کی تشکیل ہونی چاہیے۔ ودربھ کی ترقی الگ ہوئے بغیر نہیں ہونے والی، یہ آواز ہ شو سینا کو چھوڑ کر ہرسیاسی پارٹی کی طرف سے اٹھ رہی ہے،لیکن ڈر یہ ستاتا رہا ہے کہ کہیں مہان کا حشر بھی بوٹی بوری کی طرح نہ ہوجائے۔ اگر ودربھ ریاست بنتی ہے، تو یہاں کی سرکار گوسی خورد، مِہان جیسے منصوبوں کو ترجیح دے گی، جس سے یہاں صنعتیں قائم ہوں گی، روزگار کے مواقع بڑھیں گے او رنوجوانوں کو ملازمت کے لیے پونہ اور ممبئی نہیں ہجرت کرنی پڑے گی۔ اگر آبپاشی کے منصوبے وقت پر پورے ہوئے، تو کسانوں کے کھیت پانی کی کمی سے نہیں سوکھیں گے۔ ودربھ کو کسانوں کی خودکشی کے بدنما داغ سے آزادی ملے گی، کیونکہ زرعی پیداوار پر مبنی صنعت قائم کر کے ان کی فصل کی مناسب قیمت دلائی جاسکے گی۔ وزیر اعظم نریندر مودی بار بار اپنے خطابات میں کسانوں کو پریشانی سے نجات دلانے کی بات کرتے ہیں۔ یہاں پیدا ہو رہی بجلی سے اپنی ضرورتیں پوری کر کے ودربھ اسے دیگر ریاستوں کو بھی بیچ سکے گا۔ الگ ہونے پرودربھ اپنا پچھڑاپن چھوڑ کر ایک ترقی پسند اورترقی یافتہ ریاست کے طور پر اپنی پہچان بنالے گا۔
اگر جغرافیائی اعتبار سے دیکھا جائے، تو ودربھ میں 11اضلاع ہیں۔برہم پور اور کھام گاؤں کو ضلع بنانے کی مانگ مان لی جائے، تو یہ تعداد 13ہوجائے گی۔ گڑھ چرولی ضلع کی تقسیم کر کے اہیری ضلع بنایا جائے، تو یہ تعداد 14ہوجائے گی۔ ایوت محل میں وانی کو ضلع بنانے کا مطالبہ مان لیا جائے، تو اضلاع کی تعداد 15ہوجائے گی۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے، تو ودربھ میں 65کی بجائے 90اسمبلی حلقے ہوجائیں گے۔جب ملک کے دیگر حصوں میں چھوٹی ریاستوں کی تشکیل ہو سکتی ہے، تو پھر الگ ودربھ ریاست کیوں نہیں بن سکتی؟ ودربھ ہر لحاظ سے ریاست بننے کے لائق ہے۔ یہاں راجدھانی بنانے کے تعلق سے بھی کوئی مسئلہ اور اختلاف نہیں ہے۔ ناگپور پہلے بھی سینٹرل انڈیا کی راجدھانی رہا ہے اور مستقبل میں بھی سارے وسائل کے ساتھ تیار ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ہمیشہ چھوٹی ریاستوں کی تشکیل کی حمایت کر تی رہی ہے۔ اٹل بہاری واجپئی کی قیادت والی این ڈی اے سرکار نے چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ اور اتراکھنڈ جیسی ریاستوں کی تشکیل کی تھی، تب بھی الگ ودربھ کی مانگ اٹھی تھی، لیکن شوسینا کی مخالفت کی وجہ سے ودربھ کے ساتھ انصاف نہیں ہوسکا۔ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے دوران بھی الگ ودربھ کی مانگ اٹھی، لیکن مرکز کی یو پی اے سرکار نے پرنب مکھرجی کمیٹی کی تشکیل کر کے اس پر پانی ڈالنے کاکام کیا اور کانگریس کے لیڈروں نے اعلیٰ کمان کے آگے گھٹنے ٹیک دیے۔
حقیقت یہ ہے کہ آزادی کے بعد اسٹیٹ ری آرگنائزیشن کمیشن بنائے گئے اور سبھی کمیشنوں نے الگ ودربھ ریاست بنانے کی سفارش کی۔ اس کے باوجود 108سال پرانی اس مانگ پر اب تک کسی بھی سرکار (مرکز اور ریاست) نے انصاف کرنے کی ضرورت محسوس نہیںکی۔ اس کاسبب ودربھ کی سیاسی قیادت کا کمزور ہونارہا ہے، لیکن اب حال میں حالات میں تبدیلی آئی ہے۔ بی جے پی، جو چھوٹی ریاستوں کی حامی ہے، اس کی مرکز میں مکمل اکثریت والی سرکار ہے۔ ودربھ کو سیاسی نقطہ نظر سے قومی قیادت کے روپ میں نتن گڈکری جیسا الگ ودربھ حامی لیڈر بھی ملا ہے۔ مکمل اکثریت ہونے کے سبب سرکار کے پاس اب شو سینا کی رکاوٹ کا بہانہ بھی نہیں رہا۔ اس کے باوجود اگر شو سینا سپریمو اددھو ٹھاکرے مخالفت کرتے ہیں، تو انھیں آنجہانی بالا صاحب ٹھاکرے کا وہ اعلان یاد دلایا جاسکتا ہے، جس میں انھوں نے شو سینا۔بی جے پی سرکار بننے سے پہلے کہا تھا کہ اگر دو سالوں میں ودربھ کی ترقی نہیں ہوئی، تو میں خود ودربھ کو مہاراشٹر سے الگ کر دوں گا۔ چونکہ ان کی زندگی میں ودربھ کی پسماندگی دور نہیں ہوئی، اس لیے الگ ودربھ کی مخالفت کرنے اور متحدہ مہاراشٹر کا دم بھرنے کا شوسینا کے پاس کوئی حق نہیںرہاہے۔ اس کے علاوہ پارلیمانی انتخابات میں کانگریس کے ایک بھی امیدوار کو پارلیمنٹ نہ بھیج کرودربھ کے عوام نے اپنے ارادے صاف کر دیے ہیں۔ اب ودربھ کے ساتھ انصاف کرنے کی ذمہ داری بی جے پی سرکار کی ہے، جس نے اپنے تین پارلیمانی انتخابات کے مینی فیسٹو میں الگ ودربھ کی حمایت کرتے ہوئے اپنی سرکار بننے پر اس کی تشکیل کا وعدہ کیاتھا۔ اب موقع آگیا ہے کہ بی جے پی اپنا وعدہ پورا کرے۔ اپنی اس مانگ کو لے کر الگ ودربھ حامی سبھی تنظیموں نے ناگپور سے دہلی تک تحریک چلانے کا من بنایا ہے۔ اگر سرکار یہ چاہتی ہے کہ تلنگانہ کی طرح الگ ودربھ تحریک تشدد کا روپ اختیار نہ کرے، بھاری جان و مال کا نقصان نہ ہو، تو اسے اس مسئلے پر فوری قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔

بجلی کی کافی پیداوار کے باوجود لوڈ شیڈنگ کی مار
مہاراشٹر میں سب سے زیادہ بجلی ودربھ میںپیدا ہوتی ہے، اس کے بعد بھی یہاںکے لوگوں کو بجلی کٹوتی کی مارجھیلنا پڑتی ہے۔ ریاستی سرکار نے ودربھ میں قریب 85پاور پروجیکٹ لگانے کی منظوری دی ہے۔ اس کے علاوہ قریب 50تجاویز منظوری کے لیے زیر غور ہیں۔ ودربھ کاالمیہ یہ ہے کہ اس کی زمین پر مذکورہ پلانٹ قائم کیے جارہے ہیں، وہ بھی قابلِ کاشت زمین پر۔ اتنا ہی نہیں، آبپاشی کے پانی کی دھار بھی پاور پلانٹوں کی طرف موڑ دی گئی ہے۔ پینے کا پانی بھی پاور پلانٹوں کو ضرورت پڑنے پر دینے کی تیاری ہے۔ پاور پلانٹوں کی قرار میں یہ تجویز سرکار کی طرف سے شامل کی گئی ہے کہ ان کے ذریعے پیدا کی گئی بجلی مغربی مہاراشٹر اور ممبئی کو دی جائے گی۔ یعنی زمین، پانی اور دیگر وسائل ودربھ کے استعمال ہوں گے، لیکن اس کے حصے میں آئے گیخشکی،آلودگی، لوڈشیڈنگ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کسانوں کے کھیت خشک ہورہے ہیں، خودکشی لگاتار ہورہی ہیں اور سرکار پیکیج کا کھیل کھیلنے میں لگی ہوئی ہے۔

آرٹیکل 371(2)کا بندوبست ناکام

ریاست میں عدم توازن دور کرنے کے مقصد سے آئین ہند کے آرٹیکل 371(2)کے تحت ماڈرن ڈیولپمنٹ بورڈز کی تشکیل گئی تھی، لیکن ودربھ کے نقطہ نظر سے یہ بندوبست بھی پوری طرح ناکام رہا۔ پہلے تو 38سال تک اس کی تشکیل کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔ طویل جدوجہد کے بعد سال 1994میں بورڈ قائم کیا گیا۔ حالانکہ، ودربھ ماڈرن ڈیولپمنٹ بورڈ راست طور پر گورنر کی نگرانی میں کام کرتا ہے، لیکن اسے سیاسی قوت ارادی کہیں یا سازش، کہ گورنر کے احکامات پر عمل نہیں کیا گیا۔ لہٰذا مغربی مہارا شٹر کا اڈنڈا پورا ہو گیا۔مراٹھواڑہ کا اڈنڈا پورا ہونے کے قریب ہے، بس ایک ودربھ ہی ایسا ہے کہ جس کا اڈنڈا کم نہیں ہورہا ہے۔ سیاسی دبدبے کے سبب مغربی مہاراشٹر نے اپنا اڈنڈا سب سے پہلے پورا کیا او رودربھ کو نظر انداز کردیا گیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *