ایسڈ اٹیک معاملہ میں سزائے موت، ایک تاریخی فیصلہ

نوین چوہان

تیزاب کا دیا زخم تو ٹھیک ہو جاتا ہے لیکن وہ اپنے نشان کبھی نہیں چھوڑتا ۔ یہ جتنے گہرے زخم جسم پر دیتا ہے اس سے کہیں زیادہ گہرے نشان دل و دماغ پر دے جاتا ہے،جو سوتے جاگتے ہر وقت بے چین کرتے ہیں۔ وہ داغ کسی شخص کے چہرے پر نہیں بلکہ پورے سماج پر ہوتا ہے۔ مدھیہ پردیش کی انباہ عدالت نے تیزابی حملے کے معاملہ میں سزائے موت کا فیصلہ سنا کر ،وہ شاید سوتے ہوئے سماج کو جگانے کی محض شروعات ہے۔

p-5bمدھیہ پردیش کے مرینا ضلع کی ایک عدالت نے تیزابی حملہ کے ایک معاملہ میں مجرم کو سزائے موت کا حکم دے کر تاریخی فیصلہ سنایا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب ملک میں ایسڈ اٹیک کے معاملہ کے کسی مجرم کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے۔ عام طور پر مدھیہ پردیش کا مرینا ضلع کسی نہ کسی مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے سرخیوں میں رہتا ہے، لیکن یہاں کی انباہ عدالت کے تاریخی فیصلہ نے اسے راتوں رات مشہور کر دیا ہے۔ انباہ کے اعلیٰ سیشن جج پی سی گپتا نے تیز رفتار سے معاملہ سماعت کرتے ہوئے صرف 8مہینوں میں اپنا فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے اس معاملہ پر اپنا فیصلہ تعزیرات ہند کی دفعہ 302,326(A)کے تحت عمر قید دفعہ 450کے تحت 10سال کی سز ا مجرم کو دی ہے، ساتھ ہی اقتصادی جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔
21جولائی، 2013کو ملزم یوگیندر سنگھ تومر عرف جوگیندر نے مرینا میں واقع پورسا کے گاندھی نگر میں اپنی معشوقہ روبی گپتا کے گھر دیر شب گھس کر اس پر تیزاب سے حملہ کر دیا تھا۔ ملزم کے روبی کے ساتھ جسمانی تعلقات تھے اس کے باوجود اس نے ملزم کے ساتھ رہنے سے انکار کر دیا تھا۔ اسی وجہ سے یوگیندر نے روبی پر تیزاب سے حملہ کر دیا۔ ایسڈ اٹیک کے بعد روبی کی مرینا کے ضلع اسپتال میں موت ہو گئی تھی۔ موت سے قبل اس نے اپنا بیان مجسٹریٹ کے سامنے درج کرا دیا تھا۔ حملہ آو ر نے اپنی شناخت ہو جانے کے ڈر سے مہلوکہ کا دفاع کرنے آئی اس کی 60سالہ دادی اور اس کے دو خالہ زاد بھائیوں 20سالہ جانکی پرساد (جانو) اور 14سالہ راجو پر بھی تیزاب سے حملہ کیا تھا۔ واردات کو انجام دے کر ملزم فرار ہو گیا تھا۔ واقعہ کے ایک مہینے کے بعد ملزم کو پولس یکم ستمبر 2013کو راجستھان کے دھول پور سے گرفتار کرنے میں کامیاب ہوئی۔ اس کے بعد عدالت نے معاملہ کی سماعت شروع کی اور ریکارڈ آٹھ مہینے میں سماعت کرتے ہوئے 24جولائی 2014کو اپنا تاریخی فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے اس معاملہ کو ’’ریئریسٹ آف ریئرس ‘‘مانتے ہوئے مجرم کو سزائے موت دی۔
عدالت نے مانا ہے کہ مجرم کا جرم بے حد گھنائونا اور انسانیت کو شرمسار کر دینے والا ہے ۔ مقننہنے جس طرح تیزاب جیسے حملوں سے ہونے والے جرائم کی جارحیت اور خطروں کو دیکھتے ہوئے دفعات میں ترمیم کر معذوری اور جسمانی اعضا ء ضائع ہونے پر ملزم کے لئے موت کی سزا کا قانون بنایا ہے، جس سے یہ نمایاں ہوتا ہے کہ مقننہ اس طرح کے جرم سے انتہائی پریشان ہو کر فکر مند ہے، اور وہ اس طرح کے جرائم پر مکمل لگام لگانا چاہتی ہے۔ مقننہ کے ذریعہ سزا کی دفعات میں کی گئی ترمیم کی روشنی میں اس معاملہ پر غور کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ مجرم نے ٹھنڈے دماغ سے غور و خوض کرنے کے بعد جرم کو انجام دیا ہے، جس کے سبب مہلوکہ اور زخمی ہوئے لوگوں کے ساتھ ساتھ سماج کی روح بھی مجروح ہوئی ہے۔ ایسی صورت میں اس کیس میں سنگین جرم کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے عمر قید کی سزا قلیل محسوس ہوتی ہے، کیونکہ مجرم نے جس بزدلانہ طریقہ سے گھر میں سو رہی ایک بے گناہ خاتون روبی کو تیزاب ڈال کر زندہ جلادیا اور دیگرتین کو شدید زخمی کر دیا ، بلا شبہ اس جرم کو انجام دینے کا طریقہ اور تصور انتہائی سنگین اور جارحانہ سطح کا ہو کر منصوبہ بند اور گھنائونی نوعیت کا ہے، جو مجرم کو سزائے موت دینے کا تقاضہ کرتا ہے اور سزا ئے موت کا حکم ہی اس جرم کو معقول حل ہے۔کیونکہ ایک شخص صرف خاتون کے ساتھ رہنے سے انکار کرنے پر تیزاب جیسی اشیاء ڈال کر اس خاتون کا بے رحمی سے قتل کر سکتا ہے اور تین کو نقصان پہنچا سکتا ہے، تو وہ مستقبل میں اپنی خواہش کی تکمیل نہ ہونے پر کسی بھی شخص کو مار سکتا ہے۔ ماضی میں قتل کے ملزم کا جرم ثابت ہونے کے بعد بھی ملزم کی مجرمانہ کیفیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ لہٰذا، مجرم کے اس پس منظر میں عمر قید کی سزا نامعقول محسوس ہوتی ہے اور اس سے انصاف کا منشاء مکمل نہیں ہوتا ہے کیونکہ مجرم کا جرم ریئریسٹ آف ریئرس معاملہ کے زمرے میں آتا ہے۔ لہٰذا یہ عدالت مجرم یوگیندر کو آئی پی سی کی دفعہ 302کے تحت سزائے موت کا حکم دیتی ہے۔ حالانکہ موت کی سزا کا حکم سی آر پی سی کی دفعہ 366کے مطابق ہائی کورٹ کے فیصلہ پر منحصر ہے۔
سپریم کورٹ نے وقتاً فوقتا تیزابی حملوں کے معاملوں میں فیصلے دئے ہیں اور اس پر روک لگانے کے لئے گائڈ لائن بھی جاری کی ہیں۔ عدالت نے تیزابی حملوں کے معاملات کو غیر ضمانتی بنایا ہے ۔ سپریم کورٹ نے بغیر شناختی کارڈ کے اور 18سال سے کم عمر کے شخص کو تیزاب کی فروخت کرنے پر پابندی عائد کی ہے۔ اگر کوئی دوکاندار بنا شناختی کارڈ ، خریدار کا پتہ اور خریدنے کے مقصد کی جانکاری کے بغیر تیزاب فروخت کرتے پکڑا گیا تو ایسے معاملہ میں اسے ضمانت نہیں ملے گی۔ سپریم کورٹ اس مسئلہ پر مسلسل سخت رخ اپناتا جا رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے حال ہی میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو نوٹس بھیج کر ایسڈ حملوں کے خلاف کئے گئے اقدامات کے بارے میں 6ہفتوں میں جواب طلب کیا ہے۔ ملک کی عدالتیں تیزابی حملوں کے تئیں کافی سخت ہیں اور انباہ عدالت کا فیصلہ اس راہ میں ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ اس معاملہ میں پولس کا کردار بھی اہم رہا ہے۔ اس معاملہ کے سرکاری وکیل رہے رام نواس سنگھ تومر نے بتایا کہ ایسڈ حملہ معاملے میں پولس نے قابل ستائش کام کیا ہے۔ پولس نے نہ صرف ملزم کو گرفتارکر کے معینہ مدت میں چلان پیش کیا بلکہ گواہوں کو وقت پر عدالت میں پیش کر کے ان کے بیان درج کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔ پولس نے معاملہ میں کسی بھی طرح کی کمی نہیں چھوڑی۔ اسی وجہ سے عدالت کم سے کم وقت میں اپنا کام پورا کرنے میں کامیاب ہو پائی اور ملزم کو پھانسی کی سزا دے سکی۔
حکومت ہند آئی پی سی کی دفع 326میں ترمیم کر کے دفعہ 326(A)اور 326(B)لے کر آئی، جس کا سیدھا سیدھا تعلق تیزابی حملے اور اس سے ہونے والے نقصانات سے ہے۔ ان دفعات کے مطابق یہ جرم غیر ضمانتی ہے ، ساتھ ہی اس میں متاثرفرد کے علاج کا پورا خرچ دینے کا قانون ہے جبکہ جرم ثابت ہونے پر مجرم کو کم سے کم 10سال یا عمر قید کی سزا اور جو جرمانہ لگایا جائے گا وہ متاثر فرد کو ملے گا۔ سماجی تنظیمیں حکومتوں کے ساتھ کئی مطالبات رکھتی ہیں۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ تیزابی حملہ سے ناقابل تلافی نقصان ہوتا ہے اور اس سے انسان معذور ہو جاتا ہے۔ تیزابی حملے کے متاثرین کے لئے حکومتوں کی معذوروں جیسی سہولیات دینی چاہئے۔ جیسے کہ ماہانہ پینشن، پبلک ٹرانسپورٹ میں چھوٹ کے ساتھ اعلیٰ تعلیم اور سرکاری نوکریوں میں ریزرویشن دینا چاہئے۔ g

بنلہ دیش سے سبق لینے کی ضرورت ہے
اگر اس معاملہ میں بھی متاثرہ کی موت نہیں ہوتی تو شاید مجرم کو موت کی سزا نہیں دی جاتی۔ موت سے بھی بدتر زندگی جینے کے لئے تیزابی حملوں کا شکار خواتین کو مجبور ہونا پڑتا ہے۔ ملک میں ہر سال تقریباً 1000سے زیادہ تیزابی حملوں کے معاملے سامنے آتے ہیں۔ عام طور پر اس کی وجہ یکطرفہ محبت اور شادی کی تجویز کو لڑکی کے ذریعہ ٹھکرائے جانے یا رنجش کے معاملہ میں ایسڈ حملے کے واقعات ہوتے ہیں۔سرکار نے تیزابی حملوں پر لگام لگانے کے لئے قوانین تو بنائے ہیں لیکن وہ قانون ابھی بھی ناکافی ہے۔ حکومت ہند کو تیزابی حملوں پر پوری طرح روک لگانے کے لئے پڑوسی ملک بنگلہ دیش کے نقش قدم پر چلنا ہوگا، جہاں نئے قانون کے آنے کے بعد تیزابی حملوں کے معاملوں میں بڑے پیمانے پر گراوٹ آئی ہے۔ حکومت بنگلہ دیش نے 2002میں ایسڈ آفینس پریوینشن ایکٹ اور ایسڈ کنٹرول ایکٹ لے کرآئی۔ اس کے بعد بنگلہ دیش میں کھلے طور پر تیزاب کی فروخت پر پابندی لگ گئی۔ تیزابی حملے کے معاملہ میں سزائے موت اور جرمانے کانظم کیا گیا۔ معاملہ کی جانچ 30دن میں مکمل کرنے اور معاملہ کی سماعت 90دن میں ختم کرنے کا بھی نظم کیا گیا۔ اس طرح معاملوں کی نگہبانی کے لئے اسپیشل ٹریبیونل کی تشکیل کی گئی۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *