آئین کے راستے ہی یہ ملک چلےگا

کمل مرارکا
ایک بار پھر ملک نے یومِ آزادی منایا۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی اخبارو رسائل میں یومِ آزادی کے حوالے سے مضامین لکھے گئے۔ حقیقت میں آزادی کے معنی کیا ہیں؟ ہم سبھی کو، پھر چاہے وہ سیاسی لیڈر ہوں، دیگر لوگ، صنعتی گھرانوں کے مالک، یا سول سوسائٹی کے لوگ ہوں، سبھی کو ایک بار پھر سے اس سوال پر غور کرنا چاہیے۔ کیا ہم اسی راہ پر چل رہے ہیں، جیسا کہ آئین میں بتایا گیا ہے یا 1952 سے لے کر آج تک آئین کے سبھی حصے کو دھیرے دھیرے مسخ کر رہے ہیں؟ مسخ اس شکل میں کہ کاغذوں پر تو ہم آئین کے مطابق چل رہے ہیں، لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔ مثال کے طور پر، آئین میں اس بات کا ذکر ہے کہ سرکار کا انتخاب کیسے ہوتا ہے اور اس کی ذمہ داریاں کیا ہیں، سرکار کا رول کیا ہو۔ یہ بھی واضح ہے کہ منتخب کی گئی سرکار پالیسیاں بنائے، وہ چاہے سیاسی ہو، اقتصادی ہو یا سماجی، لیکن ان کا نفاذ ایڈمنسٹریٹو آفیسرز کے ذریعے ہونا چاہیے۔ ان میں انڈین ایڈمنسٹریٹو سروِس اور دوسری سروسز کے افسران ہیں، جو ایک مشکل مرحلہ کے بعد منتخب ہوتے ہیں۔ ان سروسز کے لیے مقابلہ جاتی امتحانوں کے ذریعے قابل لوگوں کا سلیکشن ہوتا ہے، اس لیے ان پالیسیوں کے نفاذ کے لیے یہ افسر سب سے بہتر ثابت ہو سکتے ہیں۔ لیکن، کیا ان کا صحیح استعمال ہو رہا ہے؟ نہیں۔کمل مرارکا
بدقسمتی سے، جو بھی سیاسی پارٹیاں منتخب ہو کر آئیں، انہوں نے چھوٹے چھوٹے مدعوں پر ہی اپنی دلچسپی دکھائی، نہ کہ بڑے اور ضروری موضوعات پر۔ کوئی بھی سیاسی پارٹی ان بنیادی خامیوں کو دور نہیں کرنا چاہتی، جو پورے ملک میں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر جب ملک کا بٹوارہ ہوا، تو بدقسمتی سے جناح نے بٹوارہ مذہب کی بنیاد پر کیا اور پاکستان کی تعمیر ہندوستان میں رہ رہے مسلمانوں کے لیے ہوئی۔ لیکن اسی دن سے، جس دن سے بٹوارہ ہوا، یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ ہندوستان میں اس سے زیادہ مسلم رہ گئے، جتنے کہ تقسیم ہند کے بعد پاکستان گئے۔ یہ کیا ظاہر کرتا ہے؟ اور جو مسلم ہندوستان میں ہی رہ گئے، انہوں نے یہیں پر رہنے کو کیوں ترجیح دی؟ کیوں کہ مہاتما گاندھی، جواہر لعل نہرو، سردار پٹیل اور مولانا آزاد نے ملک کے عوام کو یہ بھروسہ دلایا تھا کہ پاکستان ایک اسلامی اسٹیٹ ہو سکتا ہے، لیکن ہندوستان سیکولر اسٹیٹ بنا رہے گااور سرکار ملک کے شہریوں کے لیے مذہب کو کبھی بنیاد نہیں بنائے گی۔ مذہب ایک ذاتی معاملہ ہے، اس کا صرف اتنا سا مطلب ہے کہ آپ خدا کو صرف کسی اور نام سے یاد کر رہے ہیں۔ آپ کہیں اسے بھگوان کہہ سکتے ہیں، کہیں اللہ، کہیں جیسس کرائسٹ تو کہیں واہے گرو۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ انہیں کس نام سے بلا رہے ہیں، لیکن کیا ہم اُس جذبے کے ساتھ چل رہے ہیں؟ اگر میں مسلمان ہوتا (جو کہ میں نہیں ہوں) اور ہندوستان میں رہ رہا ہوتا، تو مایوس ہوتا، کیوں کہ ملک کے عظیم لیڈروں نے جو وعدہ کیا تھا، اسے بعد کی سرکاروں نے نبھایا نہیں۔ ہاں، یہ صحیح ہے کہ سب نے ہمیں صرف ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا۔ اس ملک کی کل آبادی کا 15 فیصد حصہ مسلمانوں کا ہے، لیکن ان کی حصہ داری کیا ہے، یہ بڑا سوال ہے۔ انڈین ایڈمنسٹریٹو سروسز میں دو فیصد، انڈین پولس سروِس میں دو فیصد اور کارپوریٹ دنیا میں تو بمشکل ایک یا دو فیصد۔ پھر انہیں کیا حاصل ہوا؟ صاف ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ برابری کا سلوک نہیں ہوا۔ انہیں یکساں مواقع نہیں ملے۔ انہیں تعلیم نہیں مل پائی۔ زیادہ تر مسلمان آج بھی اَن پڑھ ہیں، غیر تعلیم یافتہ ہیں۔ یہ ایک افسوس ناک صورتِ حال ہے۔
ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے، ایک سماجوادی اور جمہوری ملک ہے۔ اب یہ بے حد ضروری ہے کہ موجودہ سرکار آئین میں مذکور پالیسی سے متعلق رہنما اصولوں کی پیروی کرے۔ یہ معنی نہیں رکھتا کہ کس کی سرکار بن رہی ہے۔ کوئی بھی سرکار اقتدار میں آئے، ہمیں آئین میں مذکور اصولوں پر چلنا ہی ہوگا، سرکار کو غریبوں کے حق میں سوچنا ہوگا۔ طلبا، درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل، خواتین اور اقلیتوں کے مفادات کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ کارپوریٹ طریقے سے چل کر یہ حاصل نہیں ہو پائے گا۔
غریبی کے بارے میں جو اعداد و شمار آ رہے ہیں، وہ مجھ جیسے شخص کو شرم سے سر جھکانے کو مجبور کر رہے ہیں۔ میں نے کبھی غریبی نہیں دیکھی، لیکن میری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ کوئی یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ 5 روپے یا 12 روپے میں پیٹ بھرا جا سکتا ہے۔ یہ شرمناک ہے۔ اعداد و شمار اہم نہیں ہیں، ضروری یہ ہے کہ ہمیں غریبوں کے لیے ضرور کچھ کرنا چاہیے۔ کانگریس پارٹی نے منریگا اور حالیہ فوڈ سیکورٹی ایکٹ جیسے پروگراموں کی شروعات کی، لیکن یہ نہ تو منظم ہیں اور نہ ہی انہیں صحیح ڈھنگ سے چلایا جا رہا ہے۔ ان اسکیموں کے نام پر بے شمار پیسہ خرچ ہو رہا ہے۔ بے شک یہ اسکیمیں صحیح سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے، لیکن منریگا اور فوڈ سیکورٹی ایکٹ میں جس طرح پیسہ بہا یا جا رہا ہے، اس کے لیے بڑی اقتصادی بنیاد کی ضرورت ہے اور اس کے بغیر اسے لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ یہ سب سے ضروری ہے کہ پلاننگ کمیشن ایک عملی پالیسی بنائے۔ یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہم کس طرح سے سب سے نچلے طبقے یا غریب طبقے کو متوسط طبقہ کے زمرے میں لے آئیں۔ امیر اور امیر ہو رہے ہیں، یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے، لیکن غریب ابھی بھی وہیں ہیں، جہاں وہ پہلے تھے، جب کہ ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
ملک کا متوسط طبقہ بہتری کے راستے پر ہے اور آپ کے ارد گرد مال، موٹر گاڑی، اچھی سڑکوں اور غیر ملکی برانڈ کی چمک دمک ہے، لیکن یہ اس آدمی کی کسی بھی طرح سے مدد نہیں کر سکتیں، جس کے پاس زمین نہیں ہے۔ بے زمین مزدور ابھی ابھی بے زمین مزدور ہی ہیں اور گاؤں کا غریب آدمی ابھی بھی غریب آدمی ہی ہے۔ وہ صرف ٹی وی پر ابھرتی ہوئی تصویروں کے ذریعے اس چمک کو دیکھ سکتا ہے، جو اس کے اندر ٹیس پیدا کرتی ہے۔ اس دور میں آئین پر عمل کرنے کی بے حد ضرورت ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *