تاریخ کو لے کر جنگ

میگھناد دیسائی
ڈاکٹر جیمس اَشر بائبل کے ایک بڑے مشہور اسکالر تھے۔ تخلیق کے باب میں جن نسلوں کا ذکر کیا گیا ہے، ان کی گنتی کرنے کے بعد انہوں نے بتایا کہ خدا نے اس دنیا کو 4004 قبل مسیح میں بنایا۔ بائبل کے مطابق اپنی اس گنتی میں تو وہ بالکل صحیح تھے، لیکن تاریخ کے بارے میں غلط تھے۔ آج بھی وہ عیسائی، جو ڈاروِن (کی تھیوری) کو نہیں مانتے، ڈاکٹر اَشر کا حوالہ دیتے ہیں۔
بائبل ایک مذہبی کتاب ہے، جس میں تاریخ اور مائتھولوجی (اساطیر) دونوں ہی شامل ہیں۔ ایسی بہت سی جگہیں ہیں، جہاں کی کھدائی سے اس تاریخ کا پتہ چلا ہے، جن کا ذکر بائبل میں موجود ہے۔ ’ایلیڈ‘ اور ’اُڈیسی‘ (جیسے ناولوں) کا استعمال بھی قدیم یونانی تہذیب کی ابتدائی صدیوں کی تاریخ کا پتہ لگانے کے لیے کیا گیا ہے۔ ان ناولوں کے بعض حصے تو تاریخ پر مبنی ہیں، جب کہ بقیہ دوسرے حصے اساطیر (دیو مالائی کہانیاں) ہیں۔
انڈین کونسل آف ہسٹوریکل ریسرچ (آئی سی ایچ آر) کے نئے چیئرمن، ڈاکٹر وائی ایس راؤ مہابھارت کی کھوج تاریخی متن کے طو رپر کرنے کے خواہش مند ہیں۔ سیکولر تاریخ نویسوں کے درمیان اس بات کو لے کر غصہ ہے، جو یہ کہہ رہے ہیں کہ کوئی بھی اس قسم کے پروجیکٹ کو لے کر سنجیدہ نہیں ہے۔ ان کا یہ ماننا ہے کہ نئی حکومت کے ذریعے راؤ کو تاریخ نویسوں کے اوپر ہندتوا کے ایک ایجنٹ کے طور پر تھوپا گیا ہے۔
پوری دنیا کے اندر تاریخ نویسوں کے درمیان لڑائی جھگڑے اور تنازعات ہر جگہ ہوتے ہیں۔ مثال کے طو رپر برطانوی تاریخ نویس چار صدیوں کے بحث و مباحثہ کے بعد بھی خانہ جنگی کے بارے میں متفق نہیں ہو سکے ہیں۔ لیکن وہ اس سے متعلق دستاویزات، کھدائی وغیرہ میں ملنے والے فن کے نمونے اور واقعہ نگاری کو لے کر متفق ہیں۔ امریکی سائنس داں بھی اپنی خانہ جنگی کے اسباب کو لے کر متفق نہیں ہیں۔
ہندوستان میں، تاریخ نویسوں کے درمیان تکثیریت ہوائی کرتی تھی۔ بھارتیہ وِدیا بھون نے چھ جلدوں پر مبنی، ہندو نظریہ سے ہندوستان کی تاریخ لکھوائی۔ لیکن یہ سب جواہر لعل نہرو کے وقت میں ہوا، جب لبرل دور ہوا کرتا تھا۔ یہ اندرا گاندھی تھی، جنہوں نے ہم اور آپ کی شروعات کی۔ اچھے تاریخ نویس سیکولر اور سوشلسٹ ہوا کرتے تھے۔ انہیں اربابِ اقتدار سے سرپرستی بھی حاصل ہوا کرتی تھی۔ غالب نقطہ نظر سے جو اتفاق نہیں کرتا تھا، اسے رائٹ وِنگ اور شاید کمیونلسٹ بھی کہا جاتا تھا۔ میں یہ باتیں تجربے کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں، کیوں کہ میں نے ’کمیبرج ایکانوک ہسٹری آف انڈیا‘ پروجیکٹ میں چھوٹا سا رول نبھایا تھا۔ ڈاکٹر دھرما کمار، جن کا میں اسسٹنٹ ہوا کرتا تھا، کو ہمیشہ برطانوی حکومت کا حامی مانا گیا، کیوں کہ وہ ہندوستان کی جدید تاریخ کے لیفٹ نظریہ سے متفق نہیں تھیں۔ وہ اس بات کو ماننے کو تیار نہیں تھیں کہ دو سو سالہ برطانوی دورِ حکومت تباہیوں کا دور تھا۔ انہیں اپنے ناقدین پر ہمیشہ ہنسی آتی تھی۔
سیکولر تاریخ نویسوں کے درمیان زبردست تکثیریت کے باوجود، سیاسی نظریات کی یہ یکسانیت اب منظر عام پر آئی ہے۔ ایک تاریخ نویس مہابھارت کو تاریخ کے ایک سنجیدہ موضوع کے طور پر کیوں نہیں لے سکتا ہے؟ ظاہر ہے کہ اس رزمیہ (جنگ سے متعلق منظوم داستان) میں کہانی ہے اور مائتھولوجی ہے اور اس کے بہت سے نسخے ہیں۔ تاہم، اس کی بنیاد وہ خونیں جنگ ہے، جو ’ہولوکاسٹ‘ (قتل عام) جیسی تھی۔ اگر آپ اس جنگ کی کہانی کو بغور پڑھیں گے، تو پتہ چلے گا کہ 18 دنوں کے دوران 18 بڑی جنگیں لڑی گئیں، اور اخیر میں اس جنگ میں حصہ لینے والے ہزاروں سپاہیوں، گھوڑوں اور ہاتھیوں میں سے صرف 10 لوگ مرنے سے بچ گئے۔
مہابھارت میں جیسا کہ بتایا گیا ہے، اگر شمالی ہند کے ہر بالغ کشتریہ (چھتریہ) کو مار دیا گیا تھا، تو ہمیں یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ کیا یہ واقعہ صحیح تھا۔ ڈی ڈی کوشامبی، جو ایک بڑے تاریخ نویس ہیں، نے سوچا کہ اُن دنوں (تقریباً تین اور چار ہزار سالوں کے درمیان کسی بھی وقت) کی قدیم ہندوستانی تہذیب کے دوران معدنیاتی وسائل، ٹکنالوجی اور ایسے لوگوں کی کمی تھی، جو اتنی بڑی جنگ لڑ سکیں، جس میں پچاس لاکھ لوگوںکی موت ہو گئی۔
لیکن ، مان لیجیے کہ صرف 50,000 لوگ ہی مرے۔ تو، کیا یہ متعدد تاریخ نویسوں یا صرف ایک ہی تاریخ نویس کے لیے ایسا دلچسپ سوال نہیں ہے کہ اس کی تفتیش کی جائے؟ کیا اس جگہ کی کھدائی نہیں ہونی چاہیے، یہ دیکھنے کے لیے کہ کیا وہاں پرانی ہڈیاں تو نہیں پڑی ہوئی ہیں؟ اگر بابری مسجد کی جگہ پر رام چندر جی محل ہو سکتا ہے، جیسا کہ کچھ لوگوں کا ماننا ہے، تو گہری کھدائی کے ذریعے پرانے باقیات اور آثارِ قدیمہ کا پتہ لگانے میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔
اصل اعتراض اس بات کو لے کر نہیں ہے کہ راؤ مہابھارت کی تفتیش تاریخ کے ایک کام کے طور پر کرنا چاہتے ہیں۔ تاریخ نویس ناراض اس لیے ہیں، کیو ںکہ وہ آئی سی ایچ آر کے چیئر مین ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ اپنا تحقیقی کام کافی دنوں سے کر رہے تھے۔ میرے خیال سے ایشو یہ ہے کہ کسی بھی سیاسی پارٹی کی سرکار ہی یہ کیوں طے کرتی ہے کہ آئی سی ایچ آر کا چیئرمین کون ہوگا۔ خود تاریخ نویس آپس میں مل کر اپنے چیئرمین کا انتخاب کیوں نہیں کر سکتے؟ ظاہر ہے، چونکہ سرکار ہی ریسرچ کے لیے گرانٹ دیتی ہے، اس لیے یہ فیصلہ بھی اسی کے دائرۂ اختیار میں ہے۔ اس وقت جو تاریخ نویس شکایت کر رہے ہیں، وہ بھی سرکاری مزے لوٹ چکے ہیں، جب وہ سیاسی طور پر پسند کیے جاتے تھے۔
اچھی بات تو تب ہوتی، جب فورڈ کی طرز پر ہی پرائیویٹ ریسرچ فاؤنڈیشنز کو ریسرچ کے لیے فنڈ دیا جاتا، کسی بھی قسم کا سیاسی ایجنڈا تھوپے بغیر۔ وقت آ پہنچا ہے کہ ہندوستان میں ریسرچ فنڈنگ کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *