انڈرگریجویشن کورس تنازعہ کے لئے یہ صحیح وقت نہیں تھا

ڈاکٹر وسیم راشد
یو جی سی اور دہلی یونیورسٹی میں یوں تو 3 سالہ گریجویٹ کورس پر فیصلہ ہو گیا ہے ۔لیکن اس پورے تنازع نے طلباء کو بے حد پریشان رکھا۔وہ طالب علم جن کو اس سال داخلہ لینا تھا وہ جانے کہاں کہاں سے ہندوستان کے دور دراز علاقوں سے داخلہ لینے کے لئے آئے اور دہلی یونیورسٹی میںدھکے کھاتے رہے اور یو جی سی اور یونیورسٹی میں تکرار چلتی رہی ۔ایک طرف وہ طالب علم تھے جو 4 سالہ کورس کے حق میں تھے اور دوسری طرف وہ جو کہ تین سالہ کورس کے حق میں تھے۔
ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اس وقت جبکہ ایڈمیشن کا وقت تھا ،ایسے میں اس پورے مسئلہ کو کیوں اٹھایا گیا؟یہ فیصلہ کہ گریجویشن کورس 4 سال کا کیا جائے ،یہ پورا پروگرام یو پی اے حکومت کا تھا یعنی کپل سبل جب وزیر برائے فروغ انسانی وسائل تھے تو انہوں نے یہ فیصلہ لیا تھا کہ کورس 4سال کا ہونا چاہئے۔ اس فیصلے کی جڑیں بھی بہت پرانی تھیں ۔ اکتوبر 2011 میں کپل سبل انڈو امریکن تعلیمی کانفرنس میں شرکت کے لئے واشنگٹن ڈی سی گئے تھے ۔وہاں امریکی ریاستی سکریٹری ہیلری کلنٹن سے ان کی تعلیمی پالیسی پر بات چیت ہوئی۔امریکہ میں چونکہ ڈگری 4 سال کی ہے اسی لئے وہاں کی تعلیمی پالیسی کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ لیا گیا۔
دہلی یونیورسٹی کے موجودہ وائس چانسلر بھی یو پی اے کی ذریعہ چنے گئے ہیں اور کپل سبل کے قریبی بھی مانے جاتے ہیں۔ 4 سالہ گریجویشن کورس کا فیصلہ اس دبائو میں کیا جارہا ہے۔ یو جی سی سپریم اتھارٹی ہے ۔لیکن اس کی غلطی یہ ہے کہ گزشتہ سال جب چار سالہ گریجویشن کورس نافذ کیا جارہاتھا،تبھی کوئی فیصلہ کیوں نہیں لیا گیا۔
ہم اپنے تعلیمی سفر سے ابھی تک 10+2+3+2 کا فارمولہ ہی پڑھتے اور سمجھتے آئے ہیں۔ جب ہم دسویں جماعت میں تھے ،اس سے 2سال پہلے سے ہی ہائر سکنڈری یعنی گیارہویں جماعت کو ختم کرکے دسویں کے بعد 2سال کا سینئر سیکنڈری کورس کیا گیا تھا۔وہ تبدیلی ایک مثبت تبدیلی تھی اور اس وقت ہندوستان کی تعلیمی پالیسی کو اس تبدیلی کی سختی سے ضرورت تھی اور وہ تبدیلی با قاعدہ بین اقوامی تعلیمی پالیسی کو مد نظر رکھتے ہوئے کی گئی تھی۔
ضروری یہ تھا کہ تین سالہ کورس اور 4سالہ کورس کی خوبیوں اور خامیوں پر پہلے باقاعدہ بحث ہونا چاہئے تھی۔جس طرح دہلی یونیورسٹی کے وائس چانسلر دنیش سنگھ 4 سالہ کورس کی حمایت کررہے ہیں ،باقاعدہ سبھی کالجوں کے پرنسپل اور اساتذہ کو بلا کر ،ہر دن بحث ہونی چاہئے تھی کہ اگر ہم اپنے طالب علموں کو بیرونی ممالک کی یونیورسٹیوں میں پڑھنے کے لئے بھیجنا چاہتے ہیں تو 4 سالہ کورس ضروری ہے یا دوسری مثبت خوبیاں۔زیادہ تر یوروپی ممالک میں 4 سالہ گریجویشن کورس ہی چلایا جاتاہے ۔لیکن ہندوستان جیسے غریب ملک میں جہاں ابھی پرائمری سطح کی تعلیم کاہی پوری طرح بندوبست نہیں ہے۔وہاں اتنی بڑی تبدیلی کرنا یقینا ٹکرائو کا سبب بن سکتا تھا جو کہ بن گیا اور اس مسئلہ پر بی جے پی اور کانگریس نے کھل کر سیاست کی۔فیصلہ چونکہ یو پی اے حکومت کے وقت میں لیا گیا تھا۔ اس لئے اس وقت بھی بی جے پی نے زبردست مخالفت کی تھی اور اب بھی دنیش سنگھ یو پی اے کا چہرہ مانے جاتے ہیں، اسی لئے بی جے پی ابھی بھی کھل کر اس فیصلے کی مخالفت کرر ہی ہے۔ لیکن ان سب میں نقصان کس کاہورہا ہے ۔یہ کوئی نہیں سمجھ پا رہا ہے۔ہر ایجوکیشن پالیسی کی خوبیاں اور خامیاں دونوں ہی ہوتی ہیں۔ اگر دہلی یونیورسٹی یایو پی اے حکومت FYUP یعنی چار سالہ انڈر گریجویٹ پروگرام کی حمایت کرتی ہے تو کیوں؟اور اگر یو جی سی اور اے بی پی پی یا بی جے پی اس کی مخالفت کرتی ہے تو کیوں؟اس پر تو بحث ہوئی ہی نہیں اور پورا معاملہ سیاسی رنگ اختیار کر گیا۔
یو جی سی کے چیئر مین کا کہنا تھا کہ یہ کورس 1986 کی تعلیمی پالیسی 10+2+3 کے مطابق نہیں ہے۔یو جی سی کے چیئر مین کو چاہئے تھا کہ وہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے اور کالج کے پرنسپل اور اساتذہ سے ملاقات کرتے اور طویل بحث و مباحثہ کے بعد ہی یہ فیصلہ کرتے کہ آخر 3 یا 4سال،کونسا فیصلہ طلباء کے حق میں ہے۔ضرورت اس وقت اس بات کی ہے کہ ہم اسی بات پر بحث کر یں کہ اسی پورے تنازع میں کس کی کہا ں غلطی رہی ہے اور اس ایشو پر کس حد تک سیاست کھیلی گئی ہے۔
اس کورس کی موافقت میں جو بہت اہم باتیں کہی گئی ہیں ۔ان میں سے ایک Interdisciplinaryمواد کی بات کہی گئی ہے جس کے تحت 11فائونڈیشن کورس کی بات مد نظر رکھی گئی ہے اور جس میں طلباء جو پہلے سال میں آتے ہیں انہیں دوبارہ سے وہی سب اپنی اسٹریم کے تحت دوہرانا پڑے گا جو وہ 11ویں میں پڑھ کر آئے ہیں۔ لیکن یونیورسٹی اساتذہ اور ماہرین تعلیم اس کو وقت کی بر بادی سے تعبیر کرر ہے ہیں ،ایمانداری سے دیکھا جائے تو ہمیں بھی یہ وقت کی بربادی ہی محسوس ہورہی ہے کیونکہ فائونڈیشن کورس کے تحت تاریخ ، جغرافیہ،سائیکلوجی وغیرہ کورس تو 10ویں تک پڑھتے ہی ہیں اور اس طرح ان کا پہلا سال تو بس اسی رویژن کی نذر ہو جائے گا۔
اس پالیسی کے تحت گریجویشن کا پہلا سال صرف پرانے کورس کو دوہرانے کا سال ہوگا اور باقی سال الگ الگ طریقے سے پلان کیے گئے ہیں۔کورس 4سال کا ہو یا تین سال کا،ایک بات ہمارے ماہرین تعلیم کو یہ دھیان میں رکھنی چاہئے کہ ہمارے زیادہ ترطلباء غریب گھروں سے آتے ہیں۔سبھی تو امریکہ ،لندن یا باہر کے ملک سے پوسٹ گریجویشن کرنے نہیں جاتے ۔بلکہ دیکھا جائے تو یہ فیصد بہت ہی کم ہے اور جہاں تک فائونڈیشن کورس کی بات ہے اس میں بھی مختلف اساتذہ اور ماہرین تعلیم کی رائے بھی بہت زیادہ مثبت نہیں ہے۔زیادہ تر اساتذہ کا کہنا ہے کہ یہ تعلیم کو پرائیوٹائزیشن کرنے کی سازش ہے۔
ترپتا واہی ہندو کالج کی ریٹائرڈ پروفیسر کا کہنا ہے کہ یہ کورس جمہوری مخالف،عوام مخالف اور تعلیمی پالیسی مخالف ہے ۔اسی لئے اس کو لاگو کرنا طلباء کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگا۔سینٹ اسٹیفن کالج کے ڈاکٹر سنجے کمار بھی اس کی مخالفت میں کہتے ہیں کہ فائونڈیشن کورس صرف وقت کی بر بادی ہے۔جو بھی اس فائونڈیشن کورس میں پڑھایا جاتا ہے، وہ طلباء اسکول میں پڑھ کر آچکے ہوتے ہیں پھر یونیورسٹی کے تقریباً 54ہزار طالب علموں کو اس چکر میں ڈالنا کہاں کا انصاف ہے؟
ونکٹیشور کالج کے پروفیسر رما سنہا کا کہنا ہے کہ یہ کورس دماغ والے طلباء کو کند ذہن بنانے کا ایک آلہ ہے۔فلاسفی ڈپارٹمنٹ سے ایک ریسرچ اسکالر کا کہنا ہے کہ ایم فل، پی ایچ ڈی والے نوکریوں کے لئے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ایسے میں 2 سال کا ڈپلومہ جو گریجویشن کورس کا حصہ ہے اس کو کرکے کیا تیر مار لیں گے،اتنا زبردست مقابلہ ہے۔
اس کورس کی حمایت میں جو لوگ ہیں وہ اس کورس کو بیرونی ممالک خاص طور پر امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں کے لئے ہی سود مند بتاتے ہیں۔خیر جو بھی ہو، اس کورس کو لے کراتنی سیاست ہو گئی ہے کہ لگتا ہے کسی کو بھی طلباء کے مفاد کی فکر نہیں ہے ۔دنیش سنگھ اپنی انا کی لڑائی لڑ رہے ہیں اور یو جی سی کے چیئر مین وید پرکاش اپنی انا کی۔ یہ وہی چیئر مین ہیں جو اَب سے 4 ماہ قبل 14 فروری کو یونیورسٹی کے سالانہ کلچرل فیسٹول کا افتتاح کرتے ہوئے دنیش سنگھ کے گن گاتے نہیں تھک رہے تھے اور جنہوں نے اپنی تقریر میں دنیش سنگھ سے اپنی زندگی سے بھی زیادہ محبت جتائی تھی۔14فروری ویلنٹائن ڈے تھا اور چیئر مین صاحب پر اس کا پورا اثر تھا۔جانے ایسا کیا ہواکہ یہ محبت کا خمار اتر گیا اور چیئر مین صاحب دنیش سنگھ کے مخالف ہو گئے ۔جو بھی ہوا لیکن دار پر تو طلباء ہی چڑھے نا؟

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *