سیبی اور سہارا کا سچ

SubrataRoySEBIسہارا کی دو کمپنیاں ہیں۔سہارا نے SIRECLاور SHICL نام کی دو کمپنیوں کی شروعات کی۔یہ کمپنیاں سماج کے اس طبقے میں کام کرتی تھیں جو اب تک ملک کے معاشی نظام سے باہر ہیں۔ ایسے لوگ جن کا گزشتہ 67 سالوں میں سرکار ایک بینک اکائونٹ نہیں کھلوا سکی ،ایسے لوگ،جو کبھی کسی بینک کے اندر نہیں گئے،سماج کے ایسے غریب لوگوں کے بیچ سہارا کی یہ کمپنیاں کام کرتی تھیں اور انہیں دولت جمع کرنے کے لئے حوصلہ افزائی کرتی تھیں۔ملک کی 40فیصد آبادی کو بینکنگ سہولتیں فراہم نہیں ہیں اور ایسی صورت میں سہارا گروپ کی دونوں کمپنیوں کے پاس اگر تین کروڑسرمایا کار ہیں تو اس کے لئے سہارا کو مبارک باد دینا چاہئے۔بنگلہ دیش میں ایسے کام کے لئے نوبل ایوارڈ ملا،لیکن ہندوستانمیں سہارا چیف کو جیل ملی۔
سہارا کی یہ دونوں کمپنیاں رکشے والے، ریڑھی پٹری والے، سڑک پر سبزی بیچنے والے، چائے بیچنے والے جیسے لوگوں سے ہر روزچھوٹی رقم جمع کراتی تھیں اور جب بھی انہیں بڑی رقم کی ضرورت پڑتی، اسے مہیا کراتی تھیں۔ بیٹی کی شادی ہو، گھر بنوانا ہو، بیٹے کی پڑھائی ہو، نیا کام شروع کرنا ہو یا پھر کوئی ایمرجینسی ہو ،جب بھی انہیں پیسے کی ضرورت پڑتی تو سہارا کی یہ کمپنیاں انہیں پیسہ مہیا کراتی تھیں۔ ملک کا کوئی بھی سرکاری یا غیر سرکاری بینک یا فنانشیل آرگنائزیشن سماج کے اس طبقے تک پہنچ بھی نہیں پایا ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کام کے لئے کسی کو اپنا کام چھوڑ کر بینک یا سہارا کے دفتر نہیں جانا پڑتا تھا۔سہارا کے ساتھ جڑے ہوئے لوگ خود چل کر ان کے پاس آتے تھے اور پیسے لے کر جاتے تھے۔ پیسہ جمع کرنے والے لوگ مقامی ہوتے تھے اور دونوں کے بیچ بھروسے کا رشتہ ہوتا تھا۔
یہاں ایک بات سمجھمیں آتی ہے کہ اگر ان غریب لوگوں میں سے کوئی یہ کہے کہ سہارا کی کمپنیاں پیسے واپس نہیں کرتیں ،پیسے لے کر بھاگ جاتی ہیں یا پھر اس میں دھوکہ دھڑی کرتی ہیں تب تو سہارا کو جو بھی سزا دی جائے، کم ہے۔لیکن اگر سہارا کے سرمایا کاروں کو کوئی دقت نہیں ہے، وقت پر پیسہ مل جاتا ہے،معاہدے کے مطابق حساب کتاب بھی صحیح رہتا ہے اور ان اسکیموں سے انہیں بہت فائدہ ہوتاہے تو سہارا کو کس بات کی سزا مل رہی ہے؟اس کی اسکیموں میں پیسے دینے والوں کو کوئی مسئلہ نہیں، پیسہ لینے والوں کی طرف سے کوئی گڑ بڑی نہیںتو پھر سرکار یا سیبی کو کیا دقت ہے؟کیا سرکار کو اس بات سے دقت ہو رہی ہے کہ جو کام ملک کے بینک نہیں کر پا رہے ہیں، وہ کام ایک کمپنی کرنے میں کامیاب ہو گئی؟کیا سیبی کو اس بات سے پریشانی ہے کہ اتنے سارے لوگ پیسے جمع کر پا رہے ہیں اور انہیں سرکار کی مدد کے بغیر ضرورت کے وقت پیسے مل جاتے ہیں؟
اب سوال یہ ہے کہ سہارا کے چیف سبرت رائے جیل میں کیوں ہیں؟کیا انہوں نے دھوکہ دھڑی کی ہے؟کیا وہ سرمایا کاروں کے پیسے لے کر بھاگ گئے یا پھر کسی سرمایا کار نے شکایت کی ہے؟سہارا کا دعویٰ ہے کہ منسٹری آف کارپوریٹ افیئرس کے دستوروں کے مطابق کمپنی نے 1.98 کروڑ سرمایا کاروں کے ریٹرن 2006 میں رجسٹرار آف کمپنی کے حکم سے جمع کیے۔2008-09 میں بھی سہارا نے سرمایا کاروں سے او ایف سی ڈی کے تحت پیسے اٹھائے۔ اس کی منظوری سہارا نے رجسٹرار آف کمپنیز کانپور سے SIRECL کے لئے اور آر او سی مہاراشٹر سے SHICLکے لئے منظوری لی تھی۔ سہارا کا دعویٰ ہے کہ ان دونوں کمپنیوں کی بیلنس شیٹ اور ریٹرن وہ ہمیشہ رجسٹرار آف کمپنیز کے سامنے جمع کراتا رہا ہے جو ان کے کھاتے کی جانچ وقتاً فوقتاً کرتے رہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آر او سی ہی ان کمپنیوں کے لئے ریگولیٹر کا کام کر رہا تھا۔اس وقت کسی سرکاری ایجنسی یا پھر سیبی نے کوئی سوال نہیں کھڑا کیا تھا۔
نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ 21 اپریل 2010 کو سیبی نے رجسٹرار آف کمپنیز کے ریجنل ڈائریکٹر کو یہ لکھا تھا کہ SIRECLاور SHICLنام کی دو او ایف سی ڈی کمپنیاں سیبی کے یہاں رجسٹرڈ نہیں ہے ۔اس لئے ان کمپنیوں کی سرگرمیوں پرسیبی کا اختیار نہیں ہے۔اس لئے جو بھی کارروائی ہونی ہے،وہ رجسٹرار آف کمپنیزکے ذریعہ ہوگی۔سوال یہ ہے کہ کیا سیبی لیٹر لکھ کررجسٹرارآف کمپنیز سے کسی کمپنی کے خلاف کارروائی کی مانگ کر سکتی ہے؟یہ مانگ کر سکتی ہے کہ چونکہ یہ ایک کمپنی ہمارے دائرہ ٔ اختیارمیں نہیں ہے اس لئے آپ اس پر کارروائی کریں۔ اس کے علاوہ جولائی 2010 میں سیبی نے پارلیمنٹ میں اٹھائے گئے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ کمپنی ایکٹ 1956 کے مطابق کسی بھی غیر رجسٹرڈ کمپنی کے ذریعہ ذاتی طورپر ڈی بینچرس اٹھانے کا بندوبست منسٹری آف کارپوریٹ افیئرس کے دائرہ ٔ اختیار میں آتا ہے،یہ اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا ۔لیکن 2010 میں سیبی نے پلٹی مار دی۔الٰہ آباد ہائی کورٹ میں داخل ایک حلف نامے میں سیبی نے کہا کہ SIRECLاور SHICL اس کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔ اب دونوں ہی باتیں سیبی کیسے کر سکتی ہے؟سیبی کو پہلے یہ بتانا چاہئے کہ دونوں باتوں میں صحیح کیا ہے؟اگر پہلے والا بیان صحیح ہے تو سیبی اپنی باتوں سے کیوں پلٹ گئی؟اور اگر بعد والا بیان صحیح ہے تو اس کے پہلے کے دو بیانوں کا کیا مطلب ہے؟سیبی نے آر او سی اور پارلیمنٹ کو کیوں گمراہ کیا؟سوال یہ ہے کہ کیا کوئی ریگولیٹر یا سرکاری ادارہ پارلیمنٹ میں کچھ اور جواب دے اور ایک مہینے کے بعد ٹھیک اس کا الٹ جواب سپریم کورٹ میں دے سکتا ہے؟
پہلا سوال یہیں پر آکر رکتا ہے کہ سہارا کی دونوں کمپنیاں کس کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔ سہارا کہتا ہے کہ یہ معاملہ رجسٹرار آف کمپنیز کا ہے،لیکن سیبی کہتی ہے کہ وہ SIRECLاور SHICL ٰیعنی دونوںکمپنیوں کی ریگولیٹر ہے۔ حالانکہ ملک کے کئی جانے مانے ماہرین ِ قانون کا ماننا ہے کہ اس تنازع میں سیبی غلط ہے اور سہارا صحیح۔ اس کے باوجود سیبی کی شکایت پر سہارا کو سزا مل رہی ہے۔ سیبی کی دلیل ہے کہ اگر سرمایا کاروں کی تعداد پچاس سے زیادہ ہے تو اسے نجی منصوبہ بندی نہیں کہا جاسکتا۔سوال یہ ہے کہ کیا قانون میں ایسی کوئی حد بندی طے کی گئی ہے؟اگر 50 سے زیادہ سرمایا کارہونے سے وہ نجی منصوبہ بندی نہیں رہتا ہے تو 2006 میں جب سہارا نے 1.98 کروڑ سرمایا کاروں کے ریٹرن جمع کیے تھے ،تب سیبی نے شکایت کیوں نہیں کی یا پھر سرکار کی کسی ایجنسی نے سہارا کو کیوں نہیں پکڑا؟ویسے بھی 50سے زیادہ سرمایا کاروں والا قانون یو پی اے سرکار نے ایک آرڈیننس کے ذریعہ 2010 میں بنایا ۔جب قانون ہی 2010 میں بنا،تو وہ سہارا پر ریٹروسپیکٹیو طریقے سے کیسے لاگو ہو سکتا ہے؟دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا 50 سے زیادہ سرمایا کاروں والی نجی کمپنیوں کے معاملے میں سہارا اکیلا ہے۔اگر دو کمپنیاں اور بھی ہیں تو ان کے خلاف سیبی نے کیا ایکشن لیا ہے،یہ ملک کے عوام کو بتانا چاہئے۔ سوال یہ ہے کہ ایک بزنس جو سرکار کی منظوری سے گزشتہ 11سالوں سے چل رہا ہے ،کیا اس کے بعد قانون بدلا جاسکتا ہے اور کیا نئے قانون کے مطابق مذکورہ بزنس کرنے والی کمپنیوں کو قصوروار ٹھہرایاجاسکتاہے؟
سہارا نے 2008 میں 18,000 کروڑ روپے بھارتیہ ریزرو بینک کی نگرانی میں چار کروڑ سرمایا کاروںکو چکائے تھے اور اس وقت اس کے سرٹیفائڈ ہونے پر کو ئی سوال نہیں اٹھایا گیا تھا۔نوٹ کرنے والی بات یہ ہے کہ سیبی یا دیگر کسی ایجنسی کو سہارا کے سرمایا کاروں کی طرف سے کبھی کوئی شکایت نہیں ملی اور نہ کمپنی نے کبھی کے وائی سی ( اپنے گراہک کو جانو) کی تجویز کی خلاف ورزی کی۔اگر کوئی شکایت ملتی تو سہارا کے خلاف کارروائی کاکوئی ٹھوس سبب بنتا۔ویسے بھی آر بی آئی نے سہارا انڈیا فائنانشیل کارپوریشن لمیٹیڈ کے بورڈ کو جولائی 2008 میں از سر نو منظم کیا تھا اور تین آزاد سرمایا کاروں کو مقرر کیا تھا، جن میں پرائیویٹ بینک آئی سی آئی سی آئی کے سابق ڈائریکٹر این ایچ سینور ،چارٹرڈ اکائونٹنٹ ٹی اینمنوہرن اور آئی اے ایس آفیسراروند جادھو شامل تھے۔ سبھی جمع کرنے والوں کے فوٹو گراف لئے گئے، برانچوں کو آڈیٹ کیا گیا اورمکمل جانچ کی گئی اور تکنیکی طور پر انفرادی طور سے تصدیق بھی کی گئی۔لیکن آئین کی خلاف وزری کا ایک بھی معاملہ سامنے نہیں آیا۔سہارا کا دعویٰ ہے کہ سرمایا کاروں کو 93فیصد رقم یعنی 23.500 کروڑ روپے کی ادائیگی کی جاچکی ہے اور اس سے متعلق سبھی کاغذات سیبی کے پاس جمع کرائے جا چکے ہیں۔تب کسی نے سہارا کی دونوں کمپنیوں کی قانونی حیثیت پر کوئی سوال نہیں اٹھایا ۔اس وقت تو یہ معاملہ سیبی کے دائرۂ اختیار میں نہیں تھا تو پھر اچانک ایک فرضی آدمی روشن لال کی شکایت پر سیبی کیوں متحرک ہو گئی؟اس کے علاوہ از سر نو ادائیگی کے لئے سیبی کو 5.620 کروڑ روپے دیے گئے ہیں، لیکن ابھی تک سیبی صرف ایک کروڑ روپے کی تقسیم کرپائی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ زیادہ تر سرمایا کاروں کو ان کا پیسہ لوٹایا جاچکا ہے۔سبرت رائےکے ساتھ سہارا کی دو کمپنیوں کے ڈائریکٹر وں کو بھی جیل بھیجا گیا ہے۔ جیل بھیجنے کے بعد کورٹ نے یہ شرط لگا دی کہ جب تک سہارا انڈیا پانچ ہزار کروڑ روپے نقد اور پانچ ہزار کروڑ روپے کی بینک گارنٹی نہیں جمع کرے گا، تب تک انہیں جیل میں رہنا پڑے گا۔ اتنا ہینہیں ،نومبر 2013 سے سہارا کے سارے بینک اکائونٹس اور جائدادوںپرپابندی لگا دی گئی ۔مطلب یہ کہ بینک سے آپ پیسے نہیں نکال سکتے ، اپنی جائداد بیچ بھی نہیںسکتے تو پھر پیسہ کہاں سے آئے گا؟ اور پیسہ نہیں آئے گا تو آپ کو جیل میں رہنا پڑے گا۔ویسے بھی دس ہزار کروڑ روپے کوئی چھوٹی رقم تو ہے نہیں۔ سہارا میں کام کرنے والوں کو تنخواہ ملنے تک میں مشکل ہوگئی ہے۔تقریباً 100 دنوں تک جیل میں رکھنے کے بعد اب کورٹ نے جائداد بیچنے یا گروی رکھنے پر سے پابندی ہٹا دی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس طرح کی پابندی لگا کر کسی کے سامنے اتنی بڑی رقم کی شرط رکھ دینا آخر کتنا مناسب ہے؟ویسے بھی سبرت رائے کا پاسپورٹ وغیرہ ضبط کر لیا گیا تھا۔سبرت رائے اور سہارا کے دو ڈائریکٹروں کو یہ سزا کس بات کی مل رہی ہے،یہ بھی بہت مشکل سے سمجھا جاسکتا ہے۔ ان کا جرم کیا ہے، یہ جاننے کے لئے بھی قانون کی اچھی جانکاری کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر آپ کو قانون کی جانکاری ہے تو بھی آپ کنفیوژ ہو جائیں گے کہ آخر سبرت رائے کس بات کی سزا بھگت رہے ہیں اور اگر قانون کی جانکاری نہیں ہے تو آپ کو کورٹ کے فیصلے پر بھروسہ کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا چار ہ نہیں ہے۔g

سہارا۔سیبی تنازع
24نومبر2010: سیبی نے سہارا گروپ کی کمپنیوں سہارا انڈیا ریئل اسٹیٹ کارپوریشن اور سہارا ہاؤسنگ انوسٹمنٹ کارپوریشن کے پروموٹروںاور ڈائریکٹروں کو سیکورٹیزکے ایشوکے ذریعہ سرمایہ جمع کرنے پر پابندی لگائی۔
13دسمبر2010: الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ برانچ نے سیبی کے حکم پر اسٹے دیا۔
جنوری 2011: سپریم کورٹ نے سرمایہ کاروں سے رقم جمع کرنے کے لیے دو فرموں کو روکنے سے متعلق سیبی کی درخواست خارج کی، لیکن سرمایہ کاروں کو اطلاع کرنے، جانکاری دینے اور یہ بتانے کے لیے سیبی کواختیارات دیے کہ معاملہ زیر غور ہے۔ اس کے بعد سیبی نے سرمایہ کاروں کوباخبر کرنے کے لیے اپنی ویب سائٹ پرایک پبلک نوٹس جاری کیا۔
اپریل 2011: سیبی نے سرمایہ کاروں کو وارننگ دینے کے لیے ایک پبلک نوٹس جاری کیا، جس میں بتایا گیا کہ سہارا گروپ کی دو کمپنیوں کے ذریعہ پیسہ جمع کرنے پرپابندی لگی ہوئی ہے۔
مئی2011:سپریم کورٹ نے عوام سے رقم جمع کرنے کے لیے سہارا گروپ کی دو کمپنیوں کے ذریعہ استعمال کیے گئے مالی وسائل کی اپنی جانچ کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے سیبی کو ہدایت دی۔
جون 2011: سیبی نے فوراً 15فیصد سالانہسود کے ساتھ متبادل طور پر ویری ایبل ڈبینچر کی فروخت کے ذریعہ سے جمع پیسوں کی واپسی کے لیے سہارا کی فرموں کو ہدایت دی۔
جولائی2011: سہارا نے سپریم کورٹ میں اپیل کی۔ کہا، سیبی کو ایسا کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ مرکزی سرکارسے نوٹس مانگا۔
اکتوبر 2011: ایس اے ٹی نے سہارا کے خلاف سیبی کے حکم کو برقرار رکھا۔
نومبر2011: سپریم کورٹ نے ایس اے ٹی کے حکم پر اسٹے دیا۔
جنوری 2012: سپریم کورٹ سہارا گروپ کی کمپنیوں کو او ایف سی ڈی اسکیم میں عوام کے ذریعہ کی گئی سرمایہ کاری کو محفوظ کرنے کے دو طریقوں کے بیچ سلیکشن کرنے کے لیے تین ہفتے کا وقت دیتا ہے، مناسب بینک گارنٹی دینے یامتعلقہ رقم کے لائق جائیداد اٹیچ کرنے میں سے کوئی ایک۔
31اگست 2012: سپریم کورٹ کے جسٹس رادھا کرشنن اور جسٹس کھیہر کی بینچ نے سیبی کے حق میںفیصلہ سنا یا اور سہارا کی دو کمپنیوں کو تین مہینے کے اندر 15فیصد سود سمیت اپنے او ایف سی ڈی سرمایہ کاروں کی 20,000کروڑ روپے کی مکمل بقایا رقم واپس کرنے کا حکم دیا۔
اکتوبر 2012: سہارا نے سپریم کورٹ میں ایک ریویو پٹیشن دائر کی۔
19اکتوبر 2012: سیبی نے اہم حکم کا سہار اکے ذریعہ عمل نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
نومبر 2012: سیبی نے عدالت کے ذریعہ مقررہ مدت کے اندر سرمایہ کاری دستاویز فراہم نہ کرنے کے الزام میں سہارا کے خلاف کنٹیمپٹ پٹیشن دائر کی۔
دسمبر 2012: سہارا گروپ کو سپریم کورٹ سے عارضی راحت ملتی ہے سپریم کورٹ پیسے چکانے کے لئے مزید وقت دیتا ہے
جنوری 2013: سہارا سپریم کورٹ کے ذریعے دیے گئے مقرررہ وقت کا خیال نہیں رکھ پاتا ہے۔کمپنی مارکیٹ ریگولیٹری سیبی کے پاس دوسری قسط کی رقم جمع کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ جنوری کے پہلے ہفتہ تک 10,000 کروڑ روپے جمع کرنا ضروری تھا۔
فروری 2013: سپریم کورٹ نے سرمایا کاروں کا پیسہ لوٹانے کے لئے مقررہ وقت میں توسیع کے لئے دی گئی عرضی پر سنوائی سے منع کر دیا۔ سیبی نے گروپ اور گروپ چیف کی جائدادیں اٹیچ کرنے کے لئے کاررروائی شروع کی۔
مارچ 2013 :سہارا اس کے خلاف اسپیشل اپیل ٹریبونل میں جاتاہے ۔سیبی نے رائے کی گرفتاری کی مانگ کی۔
جولائی 2013 :سپریم کورٹ نے سبرت رائے کو ملک چھوڑنے سے منع کیا۔
فروری 2014 :عدالتی سنوائی میں حاضر ہونے میں ناکام رہنے کے لئے رائے کے خلاف سپریم کورٹ نے غیر ضما نتی وارنٹ جاری کیا۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *