سلمان خورشید کے ’’غریب حاجی‘‘ سشما کے لئے باعث کار ِ ثواب

اے یو آصف

حج بے شک مسلمانوں کے لئے ایک مقدس فریضہ رہا ہے اور حج کمیٹی کے ذریعے ہر سال اس کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے لیکن ہر سال حاجیوں کو جن مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ان سے اب حج پر جانے والے عازمین حج کمیٹی کے نام سے ہی کانپ جاتے ہیں۔ ہر سال ہی حج کمیٹی آف انڈیا کی کانفرنس منعقد ہوتی ہے اور تمام پریشانیوں کو بیان کیا جاتاہے مگر کوئی حل نہیں نکلتا ہے۔بہر حال اس بار 23 جون 2014 کو پارلیمنٹ انیکسی میں حکومت ہند کے تحت قائم حج کمیٹی آف انڈیا کی30 ویں سالانہ کل ہند کانفرنس اپنے روایتی انداز سے ہٹ کر تھی۔ مہمان ذی وقار مرکزی وزیر خارجہ سشما سوراج نے عازمین حج کے برسوں سے چلے آرہے متعدد مسائل کو اٹھا کر اور ان کے حل کے تئیں سنجیدگی کا مظاہرہ کرکے وہاں موجود شرکاء ہی نہیں بلکہ ملک کے مسلمانوں کو یہ امید دلائی ہے کہ عازمین حج کی تعداد میں مسلسل تخفیف کا سلسلہ شاید اب بند ہو اور آئندہ زیادہ تعداد میں لوگ ہندوستان سے حج پر جاسکیں، سفر اور حج کے دوران انہیں دشواریاں نہ ہوں یا کم ہوں اور ہندوستانی نوابوں بشمول نظام حید آباد کے ذریعہ مکہ مکرمہ میں قائم اور اب گم رباطوں(ٹھہرنے کی جگہوں) کاپتہ لگایا جاسکے اور مکہ مکرمہ میں حاجیوں کے لئے مستقل استقامت گاہ تعمیر ہو سکے اور حج کمیٹی کے ذریعے عازمین حج ہی نہیںبلکہ عمرہ اور شیعہ برادری کے لئے خصوصاً عراق کے مقدس مقامات پر بھی جانے والے زائرین کے سفر کا انتظام ہو ۔پیش ہے اس سلسلے میںتفصیلی جائزہ۔

Mastہر سال حج بیت اللہ شریف سے دو ڈھائی ماہ قبل عازمین حج کے مسائل پر غورو فکر کرنے اور ہندوستانی عازمین حج کو مزید سہولیات پہنچانے کی غرض سے قومی راجدھانی دہلی میں حج کانفرنس منعقد ہوتی ہے جس کے دوران عموما ً مرکزی وزیر خارجہ کے ذریعہ کلیدی خطبہ دیا جاتا ہے۔ اس کانفرنس کا اہتمام حکومت ہند کے قانون حج کمیٹی ایکٹ 2002 کے تحت قائم قانونی ادارہ اور نوڈل ایجنسی حج کمیٹی آف انڈیا کرتی ہے۔ یہ کانفرنس گزشتہ 29برسوں سے ہوتی آئی ہے۔ اس برس 30ویں آل انڈیا سالانہ حج کانفرنس 23جون 2014 کو پارلیمنٹ انیکسی میں ہوئی جبکہ گزشتہ برس 29ویںکانفرنس 27 جون کو وگیان بھون میں منعقد ہوئی تھی۔
اس بار کی حج کانفرنس نسبتاً بالکل الگ تھی۔ گزشتہ بار کی حج کانفرنس کے مہمان خصوصی اور اُس وقت کے مرکزی وزیر خارجہ سلمان خورشید کے بالمقابل اِس بار حج کانفرنس کے مہمان ذی وقار اور موجودہ وزیر خارجہ سشما سوراج نے شرکاء کا دل موہ لیا اور کانفرنس کے دوران چند شرکاء و ارکان پارلیمنٹ کے سوالات کے جوابات دیے اور اسی روز شام کو عازمین حج کو درپیش مسائل پر اپنی رہائش گاہ پر گفتگو بھی کی۔اس دوران مرکزی وزیر خارجہ کی یہ ادا بھی شرکاء کو بہت بھائی جب ابولفضل انکلیو نئی دہلی میں واقع مرکز جماعت اسلامی ہند کے احاطہ میں اشاعت اسلامی ٹرسٹ کی جامع مسجد کے امام قاری عبد المنان کے ذریعے کانفرنس کے آغاز میں حج بیت اللہ شریف سے متعلق قرآنی آیات کی تلاوت شروع ہوتے ہی انہوں نے اپنی ساڑی کا پلو ( آنچل) اپنے سر پر بصد احترام رکھ کر سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرالی۔اس موقع پر قاری عبد المنان نے جن آیات کی تلاوت کی وہ حج سے متعلق تھیں جن پر خوش ہوکر وزیر خارجہ ودیگر شرکاء نے کہا کہ آپ کا انتخاب انتہائی بروقت تھا۔ ان آیتوں کا ترجمہ ہے’’کہو اللہ نے جو کچھ فرمایا ہے سچ فرمایا ہے۔تم کو یکسو ہوکر ابراہیم ؑ کے طریقہ کی پیروی کرنی چاہئے،اور ابراہیم ؑ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے۔بے شک سب سے پہلی عبادت گاہ جو انسانوں کے لئے تعمیر ہوئی وہ وہی ہے جو مکہ میں واقع ہے۔ اس کو خیر وبرکت دی گئی تھی اور تمام جہاں والوں کے لئے مرکز ہدایت بنایا گیا تھا۔ اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں۔یہ ابراہیم ؑ کا مقام ِ عبادت ہے ، اور اس کا حال یہ ہے کہ جو اس میں داخل ہوا مامون ہوگیا۔لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے، اور جو کوئی اس کے حکم کی پیروی سے انکار کرے تو اسے معلوم ہوجانا چاہئے کہ اللہ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے‘‘۔( سورۃ آل عمران 95-97)
عیاں رہے کہ گزشتہ بار سلمان خورشید نے کل ایک لاکھ 70 ہزار سے زائد عازمین حج میں سے حج کمیٹی کے ذریعہ جانے والے تقریباً ایک لاکھ 25 ہزارحاجیوں کو ’غریب‘ کہہ دیا تھا جس پر ملک میں ان کی زبردست تنقید ہوئی تھی۔اس موقع پر ممبئی میں واقع پرائیویٹ ٹورسٹ آپریٹرس ( پی ٹی او) کے کو آرڈینیٹر اور حج و عمرہ پرائیویٹ ٹورس کے سابق چیئرمین ابراہیم ہشام کو لسا والا نے ’ چوتھی دنیا‘ (8-14 جولائی 2014) سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ یہ عازمین حج کی تذلیل ہے۔ لہٰذا انہیں اپنا استعمال کیا ہوا لفظ واپس لے لینا چاہئے‘‘ مگر وہ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے اور عازمین حج بے حرمتی اور ذلت کا شکار ہوتے رہے۔
اس بار سلمان خورشید کے بر عکس سشما سوراج نے بڑی ہی عاجزی و انکساری سے شستہ اردو لب و لہجے میں کہا کہ ’’حج بیت اللہ شریف اسلام کے پانچ بنیادی ارکان (کلمۂ شہادت، نماز، روزہ ، زکوٰۃ اور حج)میں سے ایک ہے۔ لہٰذا جو شخص حسب استطاعت اس عبادت کو انجام دیتا ہے، اسے اس کا اجرو ثواب تو ملتا ہی ہے، مگر اسی کے ساتھ ساتھ ان عازمین حج کی خدمت کرنے والوں کو بھی ثواب ملتا ہے۔مجھے بے حد خوشی ہے کہ میں حج کمیٹی کے ساتھ عازمین حج و زائرین کی خدمت کرکے ثواب کما رہی ہوں۔میں دعا گو ہوں کہ خدا تمام عازمین کے حج کو قبول کرے‘‘۔
سشما سوراج کے ذریعے عازمین حج کو باعث کار ثواب بتانے کے مذکورہ کلمات کو سن کر کانفرنس ہال میں موجود ایک غیر بی جے پی ؍این ڈی اے رکن پارلیمنٹ نے ’چوتھی دنیا‘ سے برجستہ کہا کہ اگر الفاظ اور لب و لہجہ کی بات ہو تو مسلمانوں سے بی جے پی کے تکلیف دہ تعلقات کے لئے یہ بہترین دوا یا پیلئے ٹیو (Palliative)ثابت ہو سکتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مرکزی وزیر خارجہ اس تقریر کے ذریعے ملک کے مسلمانوں تک پہنچ گئیں۔پنجابی، ہندی، کنّڑ ، بنگلہ اور انگریزی بولنے والی سشما نے محض اپنی اردو زبان دانی کا ہی جادو نہیں دکھایا اور شرکاء کے دلوں پر جادو نہیں کیا بلکہ حاجیوں کے مسائل کے تعلق سے چند اہم وعدے کرکے عمل کی طرف قدم بھی بڑھایا ۔مرکزی وزیر نے وعدہ کیا کہ وہ سعودی عرب سے ہندوستان کے کوٹے میں 20 فیصد تخفیف کرنے کے فیصلہ کوواپس لینے کے لئے درخواست کریں گی۔عیاں رہے کہ سعودی عرب گزشتہ چند برسوں سے ہر سال تمام ممالک سمیت ہندوستان کے حج کوٹہ میں بھی 20 فیصد تخفیف کررہا ہے۔گزشتہ برس عازمین حج کی کل 2 لاکھ 97 ہزار درخواستیں آئی تھیں جن میں 20 فیصد کی تخفیف ہوئی تھی اور پھر حج کمیٹی کے ذریعے حج پر جانے والوں کا کوٹہ ایک لاکھ 25 ہزار 25 سے کم ہوکر ایک لاکھ 21 ہزار 420 ہوگیا تھا ۔مگر ویٹ لسٹ کے نمبرکا لحاظ رکھتے ہوئے ایک لاکھ 21 ہزار 338 افراد ہی حج پر جاسکے تھے۔ اس بار 2014 میںحج پر جانے کے لئے 3 لاکھ 37ہزار 281 درخواستیں موصول ہوئیں ،جن میں سے گزشتہ برس کے کوٹہ پر تخفیف کے بعد یہ تعداد محض ایک لاکھ 20 ہزار پر فکس ہوگئیں ۔لہٰذا اس سلسلے میں عازمین حج میں بے چینی فطری ہے اور نئی مرکزی وزیر خارجہ سشما سوراج کا سعودی حکومت سے ہندوستانی حج کوٹہ میں 20 فیصد تخفیف کے فیصلہ کوواپس لینے کا وعدہ بہت اہم اور غیر معمولی ہی نہیں بلکہ ہندوستانی عازمین حج کے لئے باعث اطمینان اور باعث مسرت ہوجاتاہے۔سشما سواراج نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ ’’ بہت سے لوگوں کواپنی پوری زندگی میں حج پر جانے کا صرف ایک بار موقع نصیب ہوتا ہے۔لوگ حج پر جانے کے لئے برسوں رقم جمع کرتے ہیں۔لہٰذا ہماری حکومت کی کوشش ہوگی کہ سفر حج کو آرام دہ اور سہولت بھرا بنایا جائے‘‘۔
سشما سوراج نے عازمین حج کے لئے کیے جارہے انتظامات میں کمیوں کا بھی اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسی عجب بات ہے کہ ملک کے دیگر مقررہ ہوائی اڈوں سے جارہے عازمین حج سے ایئر انڈیا کے ذریعے 62 ہزار 8 سو روپے چارج کیے جاتے ہیں جبکہ سری نگر سے روانہ ہونے والے ریاست جموں و کشمیر کے عازمین کو 1.54 لاکھ روپے دینا پڑتا ہے۔ ان کے خیال میں اس ریاست کے حاجیوں پر یہ بہت زیادہ بوجھ ہے۔ لہٰذا حکومت اس بوجھ کو دور کرے گی۔انہوں نے اس بات کا بھی اشارہ دیا کہ حکومت ہند مکہ مکرمہ میں ہندوستانی حاجیوں کو رہائش فراہم کرنے کے لئے ایک کمپلیکس کی تعمیر کے بارے میں سوچ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ کیا ہم لوگ سعودی حکومت کے تعاون سے اسی علاقہ میں کوئی کمپلیکس نہیں بنا سکتے ہیں جس کا استعمال حاجیوں کے لئے تین ماہ کیا جائے اور باقی 9 ماہ اس کا استعمال عمرہ و زیارت پر جانے والے لوگ کریں‘‘۔ مرکزی وزیر کی اس جانب توجہ بہت صحیح ہے ۔

کیونکہ عازمین حج اور عمرہ کے لئے مکہ میں قیام کا مسئلہ بہت بڑا مسئلہ ہے اور انہیں اس تعلق سے کافی پریشانیوں کا سامنا درپیش ہوتا ہے۔ اگر وہ مکہ اور اس کے قرب و جوار میں کمپلیکس کی تعمیر کی اپنی تجویز پر عمل کرنے میں واقعی کامیاب ہوجاتی ہیں تو یہ مکہ میں عازمین و زائرین کے قیام کے تعلق سے مسئلہ کا ایک مستقل حل ثابت ہو سکتا ہے۔
حیرت انگیز بات تویہ ہے کہ سشما سوراج نے وہ اہم بات کہہ دی جو کسی وزیر نے آج تک نہیں کہی اور جس کی طرف ابھی تک کسی کا دھیان نہیں گیا۔ انہوں نے اپنے خطبہ میں ہندوستان کی آزادی سے قبل مکہ مکرمہ میں موجود ہندوستانی جائدادوں (رباطوں) سے متعلق مسئلہ کو بھی اٹھایا اور کہا کہ موجودہ حکومت انکوائری کرے گی کہ آخر ان جائدادوں کا کیا حشر ہوا اور وہ اب کہاں ہیں؟نیز کس حالت میں ہیں؟انہوں نے کہا کہ ’’ میری معلومات کے مطابق ،ہندوستانی جائدادوں کی ایک بڑی تعداد آزادی سے قبل مکہ اور مدینہ میں موجود تھیں ۔جو کہ اب وہاں موجود نہیںہیں۔لہٰذا اب اس بات کی ضرورت ہے کہ یہ پتہ لگایا جائے کہ وہاں حاجیوں کے لئے عطیہ کی گئی ان جائدادوں کا آخر کیا ہوا؟‘‘انہوںنے یہ بھی کہا کہ وہ ٹھیکہ دار جنہوں نے ٹھیکے کے خلاف کام کیا یا مکہ اور اس کے قرب و جوار کے علاقوں میں خدمات دینے میں آنا کانی کرتے رہے کو بلیک لسٹ کیا جانا چاہئے اور دیگر ٹھیکہ داروں سے عمارتوں کو واپس لے لینا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عازمین حج کو فلائٹ میں تاخیر یا فلائٹ کے منسوخ ہونے سے زبردست دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس ضمن میں انہوں نے ایئر انڈیا کو اسے دیے گئے ایک درجن ہوائی اڈوں پر امبارکیشن پوائنٹس پر سروسز کو بہتر بنانے کے لئے ہدایت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ مجھ سے کہا گیا ہے کہ ایئر انڈیا کو دیے گئے ایک درجن ہوائی اڈوں میں سے 8 پرائیویٹ ایئر لائنس کو دے دیے گئے ہیں ،جن کے ایئر کرافٹ پرانے ہیں۔لہٰذا حکومت اس قسم کے پرانے جہازوں کو اجازت دے کر کوئی خطرہ مول نہیں لے گی‘‘۔
مرکزی وزیر کی اس بات پر شرکاء میں موجود بعض ارکان پارلیمنٹ چونک گئے اور پھر اس پر ایئر انڈیا سے احتجاج بھی کیا گیا۔ اس کے بعد ہی ایئر انڈیا کے ذمہ دار کو اسی وقت گزشتہ سال 14 برس پرانے استعمال کیے گئے ہوائی جہاز کو اب نہ استعمال کرنے کا عہد و پیمان کرنا پڑا۔
نئی مرکزی وزیر خارجہ کی یہ بات بالکل صحیح ہے کہ ’’ میرا بار بار کا مشاہدہ ہے کہ حجاج خوشی سے حج کے لئے ہندوستان سے روانہ ہوتے ہیں مگر وہاں سے سفر کی مشکلات اور سہولیات کی کمی کے باعث پریشان ہوکر واپس لوٹتے ہیں‘‘۔
ویسے ان کی یہ تجویز بھی بہت مناسب ہے کہ حج کے علاوہ عمرہ کے لئے بھی حج کمیٹی آف انڈیا کو اختیار دیے جانے چاہئے اور اس کے لئے مذکورہ ایکٹ میں دیگر مطلوبہ ترمیمات کے ساتھ یہ ترمیم بھی کی جانی چاہئے۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ مرکزی وزیر نے حج کمیٹی کو حج امور کے علاوہ عمرہ و زیارت کا کام سونپنے کی بات کرتے ہوئے عراق میں موجود مقدس مقامات کو بھی شامل کیا جو کہ ہندوستان کی شیعہ برادری کے لئے یقینا خوشی کی بات ہے۔
قابل ذکر ہے کہ حج کمیٹی کے ذریعے جانے والے حاجیوں کے علاوہ پرائیویٹ ٹورسٹ آپریٹرس کے تحت حج پر جانے والوں کی بھی اچھی خاصی تعداد ہوتی ہے۔ گزشتہ برس پی ٹی او کے ذریعے اس سے پہلے نجی طور پر حج پر جانے والے 45 ہزار حاجیوں کے مقابلے صرف 11 ہزار افراد ہی حج پر جاپائے تھے۔ ان کے مسئلہ پر وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’’ ہمیں شکایت ملی ہے کہ ٹور آپریٹرس عازمین سے زیادہ کرایہ وصول کرتے ہیں جو کہ بلیک مارکٹنگ ہے اور قابل اطمینان سروسز بھی فراہم نہیں کرتے ہیں۔لہٰذا انہیں بھی اپنی کارکردگی کو درست کرنا پڑے گا‘‘۔
سچ تو یہ ہے کہ مرکز میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد حج کمیٹی آف انڈیا کے زیراہتمام ہونے والی یہ پہلی کل ہند حج کانفرنس تھی جیسا کہ اس میںبعض شرکاء سے بات چیت کرکے ’ چوتھی دنیا‘ کے نمائندہ کو اندازہ ہوا کہ چند ارکان پارلیمنٹ و دیگر اہم افراد باضابطہ تیاری کرکے آئے تھے کہ عازمین حج سے متعلق مسائل اور بد عنوانیوں کو جم کر اٹھائیں گے اور نئی مرکزی وزیر سشما سوراج کو لپیٹیں گے مگر سشما نے ایک ایک کرکے تمام مسائل کو خود اٹھا کر اور اس ضمن میں اقدامات کرنے کی بات کرکے ان کی تیاریوں پر پانی پھیر دیا۔ تبھی تو کرناٹک میں وزیر امور حج اور ریاستی حج کمیٹی کے ذمہ دار روشن بیگ نے مرکزی وزیر سشما سوراج سے مخاطب ہوکر کہا کہ ’’ آپ نے جن دلچسپیوں اور فکرمندیوں سے تمام مسائل کی احاطہ بندی کی ہے ، اس سے ایسا محسوس ہوا کہ یہ تمام باتیں کسی مرکزی وزیر کی نہیں بلکہ ایک حاجی یا حجّن کی ہیں۔ ہمیں توقع ہے کہ آپ کی توجہ سے مسائل کے تعلق سے عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے‘‘۔ اس موقع پر ایک رکن پارلیمنٹ نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر ’چوتھی دنیا‘ سے کہا کہ ’’ میں تو خود بھی اندر سے جلا ہوا آیا تھا کہ ٹھیک سے خبر لوں گا مگر میڈم نے کانفرنس کا رنگ ہی بدل دیا‘‘۔
اس 30ویں حج کانفرنس میں متعدد ارکان پارلیمنٹ بھی موجود تھے۔کچھ شروع سے دن بھر چلنے والی کارروائی میں شریک رہے تو کچھ چائے کے وقفہ کے دوران مرکزی وزیر کے چلے جانے کے بعد بحث میں شامل ہوئے۔ ان میں مغربی بنگال سے آئے ترنمول کانگریس کے تین ارکان پارلیمنٹ میں سے سابق مرکزی وزیر سلطان احمد (لوک سبھا) معروف معالج ڈاکٹر ممتاز سنگھا میتا چودھری ( لوک سبھا ) اور مدیر اعلیٰ بنگلہ روزنامہ ’قلم ‘ احمد حسن عمران ( راجیہ سبھا) کرناٹک سے ڈاکٹر ممتاز چائولہ اور غیر منقسم آندھرا پردیش اور نئی ریاست تلنگانہ سے واحد مسلم نمائندہ اسد الدین اویسی ( لوک سبھا) قابل ذکر ہیں۔حیرت کی بات یہ ضرور رہی کہ لوک جن شکتی پارٹی ؍این ڈی اے کے واحد مسلم چہرہ محبوب علی قیصر اس اہم کانفرنس میں حاضر نہیں تھے جبکہ اس سے قبل بی جے پی ؍این ڈی اے کے واحد مسلم نمائندہ سید شاہ نواز حسین اس کانفرنس میں شرکت ضرور کیا کرتے تھے اور عازمین سے متعلق مسائل کے حل میں بحیثیت رکن پارلیمنٹ اور بطور مرکزی وزیر برائے سول ایسو سی ایشن خوب دلچسپی لیا کرتے تھے۔
مرکزی وزیر سشما سوراج کے کانفرنس ہال سے جانے کے بعد اس وقت ایک عجیب و غریب سماں بندھ گیا جب حید آباد میں واقع آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے مطالبہ کیا کہ حیدر آباد کی رباطوں کا پتہ لگا کر ان کی واپسی کرائی جائے، پرائیویٹ ٹور آپریٹرس کے کوٹہ کو ختم کیا جائے اور تمام کوٹہ حج کمیٹی کے حوالے کردیا جائے اور اس بات پر زور ڈالتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’ ہمیں سبسڈی کی ضرورت نہیں ہے۔ مسلمان سبسڈی کے بغیر حج پر جانے کے اہل ہیں۔ ویسے بھی یہ سبسڈی حاجیوں کو نہیں بلکہ ایئر انڈیا کو دی جاتی ہے۔ اس لئے بہتر ہوگا کہ حکومت اس رقم کا استعمال سعودی عرب میں اپنی عمارت کوخریدنے اور بچوں کو اسکالر شپ دینے میں کرے‘‘ ۔اس پر حج کمیٹی آف انڈیا کے چیئر مین قیصر شمیم نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ آپ دیر سے آئے۔لہٰذا آپ یہ سن نہ سکے کہ آپ کے اٹھائے گئے نکات پر مرکزی وزیر خارجہ نے کیا کہا جو کہ پہلے ہی ان ایشوز پر اظہار خیال اور وعدہ کرکے جاچکی ہیں اور اگر آپ اس وقت موجود ہوتے تو آپ کو مزہ آتا۔حج کمیٹی کے چیئر مین کی اس بات پر اویسی نے ناراض ہوتے ہوئے کہا کہ ’’ میں کوئی مشاعرہ میں شرکت کرنے نہیں آیا ہوں کہ مزہ لوں‘‘۔
محمد ادیب نے کہا کہ حاجیوں کو بھیجنے کے لئے ارکان پارلیمنٹ کا جو کوٹہ ختم کردیا گیا ہے اسے پھر سے بحال کیا جاناچاہئے۔ان کے مطابق یہ ارکان پارلیمنٹ کا حق ہے کیونکہ لوگ ان کے پاس امید لے کر آتے ہیں۔ سابق مرکزی وزیر سلطان احمد نے کہا کہ ہوائی اڈہ پر حج فلائٹوں میں تاخیر معمول بن گیا ہے۔ لہٰذا حکومت کو اس پر قابو پانے کے لئے مؤثر قدم اٹھانا چاہئے۔
معروف سماجی کارکن ، صحافی اور رکن راجیہ سبھا احمد حسن عمران نے سشما سوراج سے دس زبانوں میں چھپے حج گائڈ میں بنگلہ زبان کو شامل کرنے کے لئے انکا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس بات کی بھی شدید ضرورت ہے کہ بنگلہ و دیگر علاقائی زبانوں کے عازمین حج کے ساتھ گئے خدام میں ان زبانوں سے واقف افراد شامل ہوں ۔ انہوں نے تبونگ حاجی کے طریقہ کو ہندوستان میں نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔ عیاں رہے کہ سابق وزیر برائے اقلیتی امور کے رحمن خاں گزشتہ یو پی اے حکومت کے دور میں اس سلسلے میں انتھک کوشش کر چکے ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں بڑے خرچ پر ایک کانفرنس بھی دہلی میں کی تھی مگر اسے اس ملک میں ناقابل عمل سمجھا گیا ۔تبونگ حاجی طریقہ کے تحت ملیشیا میں ایک بیت المال یا فنڈ قائم کیا جاتا ہے جن میں کوئی بھی اپنی کمائی ہوئی رقم وقتا فوقتا جمع کرتا رہتا ہے جوکہ سود سے نہیں بلکہ اسلامی طریقہ سے بڑھتا رہتا ہے اور حج پر جانے کے وقت کسی عازم حج کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے۔
اڑیسہ حج کمیٹی کے چیئر مین اور رکن سمبلی ایوب خاں کا مطالبہ تھا کہ اڑیسہ کے حجاج فی الحال کولکاتہ سے حج پر جاتے ہیں جس کے سبب انہیں بڑی دقتوں کا سامنا کرپڑتا ہے۔ لہٰذا بھوبنیشور میں امبینک مینٹ پائینٹ ضرور ہونا چاہئے جس سے اڑیسہ کے عازمین حج پر خرچ کا بوجھ کم ہوجائے گا۔انہوں نے اس پر حیرت کیا کہ جب حکومت سپریم کورٹ کے 2017 تک سبسڈی ختم کرنے کے حکم کی واپسی کی بات کرتی ہے تو وہ گلوبل ٹنڈرس کے حکم کو واپس کرنے کے لئے آگے کیوں نہیں بڑھتی ہے؟
دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کے چیئر مین ڈاکٹر پرویز میاں نے مطالبہ کیا کہ دہلی کو 2001 کے بجائے 2011کی مردم شماری کی بنیاد پر کوٹہ الاٹ کیا جائے۔انہوں نے حج منزل ’سٹی چیک ان‘ منصوبہ شروع نہ کیے جانے پر بھی وزارت خارجہ اور شہری ہوا بازی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ قطعی ناقابل عمل تھا۔
حج کمیٹی آف انڈیا اور ریاستی حج کمیٹیوں کے ذمہ داروں کے اس اہم و غیر معمولی سالانہ حج کانفرنس میں سفیر ہند برائے سعودی عرب حامد علی رائو اور ارکان پارلیمنٹ و دیگر حضرات موجود تھے مگر مسلم تنظیموں اور شخصیات کی اس میں اس بار عدم شرکت نا قابل فہم رہی۔ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتاہے کہ نئی مرکزی وزیر خارجہ سشما سوراج کی خصوصی دلچسپی سے ہر سال ہونے والی یہ روایتی حج کانفرنس اس بار روایتی نہیں رہی اور عازمین حج کے مسائل کے حل کی جانب عملی اقدامات کے امکانات بڑھے۔ویسے آنے والا وقت ہی یہ بتا پائے گا کہ گزشتہ 30 برسوں سے الجھے ہوئے عازمین حج کے مسائل کا دائمی حل کتنا ہو پائے گا اور حج کمیٹی اور وزارت خارجہ اس میں کتنی متحرک ، مفید اور مؤثر ہو پائے گی؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *