سہارا شری جیل میں کیوں ہیں؟

ڈاکٹر منیش کمار

ہندوستان۔ بنگلہ دیش کرکٹ میچ کے دوران باؤنڈری پار کرتی بال کو دیکھتے ہی ایک سوال کوند گیا۔ باؤنڈری پر سہارا انڈیا لکھا تھا۔ بنگلہ دیش اور ہندوستان کی ٹیمیں سہارا کپ جیتنے کے لیے کھیل رہی ہیں۔ حیرانی اس بات کی ہے کہ سہارا گروپ کے سپریمو سبرت رائے جیل میں ہیں۔ ملک میں چاہے کرکٹ ہو، بیڈمنٹن ہو، ہاکی ہو، فارمولہ وَن ہو یاپھر پولو، سبرت رائے نے کھیل کو فروغ دینے میں کافی مثبت تعاون دیا ہے، لیکن اس بار سہارا پریوار کے سپریمو کے ساتھ ہی کھیل ہو گیا۔ یہ سچ مچ حیرانی کی بات ہے کہ اس ملک میں گھوٹالے بازوں اور بدعنوان لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی، وہ جیل نہیں جاتے، انھیں پیشگی ضمانت مل جاتی ہے۔ شاید اس لیے ، کیونکہ ہم نے سنا تھا کہ ہندوستان کا قانون ایسا ہے کہ چاہے سو گنہگار چھوٹ جائیں، لیکن کسی بے قصور کو سزا نہیں ملنی چاہیے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ سہارا شری سبرت رائے نے ضرور کوئی ایسا جرم کیا ہوگا، جس کے لیے انھیں سزادی جارہی ہے۔ ہم نے یہ جاننے کے لیے کہ آخر سچ کیا ہے، معاملے کی پوری تحقیقات کی۔

Mastسہاراشری سبرت رائے کو 4مارچ 2014کو جیل بھیجا گیا تھا۔ وہ بھی تب، جب انھوں نے بغیر کسی شرط کے معافی مانگی اور کورٹ میں حاضر ہوئے۔ انھیں کس جرم میں جیل بھیجا گیا، یہ سمجھ سے باہر ہے۔ سبرت رائے کے خلاف کیا الزام ہے؟ کیا یہ الزام سبرت رائے کو بتائے گئے ہیں؟ کیا سبرت رائے کو جیل بھیجے جانے سے پہلے کوئی سنوائی ہوئی؟ دراصل، بات صرف اتنی تھی کہ عدالت چاہتی تھی کہ سبرت رائے اس کے سامنے حاضر ہوں۔ سبرت رائے نے کہا کہ ان کی بوڑھی ماں بیمار ہیں۔ سبرت رائے کی عمر 66سال ہے، تو ان کی ماں کی عمر 80سال سے اوپر ہی ہوگی۔ اس عمر میں کون صحت مند رہتا ہے آج کل؟ لیکن، عدالت نے سبرت رائے کی ایک نہیں سنی۔ 26فروری 2014کو عدالت نے ان کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کر دیا۔ اس کے بعد وہ عدالت میں حاضر بھی ہوئے۔ اگر سبرت رائے پر عدالت میں حاضر نہ ہونے کا الزام ہے، تو جس دن انھوں نے حاضر ہو کر معافی مانگ لی تھی، اسی دن معاملہ ختم ہوجانا چاہیے تھا۔ اگریہ عدالت کی توہین کا معاملہ ہے،تو کیا اس کی سنوائی ہوئی؟ سزا تو توہین ثابت ہونے کے بعد ہی ملے گی۔ توہین کو لے کر نہ تو کوئی سنوائی ہوئی اور نہ کوئی مقدمہ چلا۔ انھیں سیدھے جیل بھیج دیا گیا۔ ایک اور سوال یہاں اٹھتا ہے کہ کیا کسی کمپنی کے چھوٹے بڑے مقدموں میں ہر بار کمپنی مالک یا سی ای او کا حاضر ہونا ضروری ہے؟ کیا ہمارے ملک میں وکیلوں کے ذریعہ عدالت میں حاضری درج کرانے کا کوئی ضابطہ نہیں ہے؟ دیکھا تو یہ جاتا ہے کہ لوگ بیماری کابہانہ بنا کر جیل سے باہر رہتے ہیں۔ ایک ہی ملک میں الگ الگ لوگوں کے لیے الگ الگ ضابطے کیسے ممکن ہیں؟
سبرت رائے کو کس جرم کی سزا مل رہی ہے؟ اگر معاملہ دھوکہ دہی کا ہے، تو وہ لوگ کون ہیں، جن کے ساتھ دھوکہ ہوا؟ حال میں ہی شاردا کا معاملہ سامنے آیا، جس میں مغربی بنگال میں جگہ جگہ پر سرمایہ کار سڑکوں پر آگئے، کچھ لوگ خود کشی کر بیٹھے۔لیکن، سہارا کے تین کروڑ سرمایہ کاروں میں سے ایک نے بھی کوئی شکایت نہیں کی۔ دراصل، سہارا کا معاملہ یہ ہے کہ سیبی نے سہارا کی کمپنیوں کے ذریعہ سرمایہ کاروں سے پیسے لینے پر پابندی لگادی اور جتنے بھی سرمایہ کار ہیں، انھیں ان کے پیسے واپس کرنے کوکہا۔ سہارا نے کہا کہ اس نے پیسے لوٹا دیے ہیں۔ سیبی کا ماننا ہے کہ پیسے نہیں لوٹائے گئے ہیں۔ وہ عدالت کے ذریعہ پیسے کی مانگ کر رہا ہے کہ وہ خود سرمایہ کاروں کو ان کا پیسہ لوٹائے گا۔ اب سہارا کے لیے مشکل یہ ہے کہ وہ ایک ہی سرمایہ کار کو دو ۔دو بارپیسے کیوں لوٹائے گا۔ سہارا نے 2008میں 18,000کروڑ روپے ریزرو بینک آف انڈیا کی نگرانی میں چار کروڑ سرمایہ کاروں کو ادا کئے تھے۔ سیبی یا دیگر کسی ایجنسی کو سہارا کے سرمایہ کاروں کی طرف سے کبھی کوئی شکایت نہیں ملی اور نہ سہارا نے کبھی کے وائی سی (اپنے گاہک کو جانو) کے ضابطوں کی خلاف ورزی کی۔ ریزرو بینک آف انڈیا نے سہارا انڈیا فائنینشیل کارپوریشن لمیٹڈ کے بورڈ کی جولائی 2008میں تشکیل نو کی تھی اور تین آزاد ڈائرکٹروں کو مقرر کیا تھا۔ سبھی جمع کرنے والوں کے فوٹو گراف لیے گئے ، برانچوں کا آڈٹ کیا گیا اور ہنگامی جانچ کی گئی اور تکنیکی لحاظ سے انفرادی طور پر توثیق بھی کی گئی، لیکن ضابطوں کی خلاف ورزی کا ایک بھی معاملہ سامنے نہیں آیا۔سہارا کا دعویٰ ہے کہ سرمایہ کاروں کو 93فیصد رقم یعنی 23,500کروڑ روپے کی ادائیگی کی جاچکی ہے اور اس سے متعلق سبھی کاغذات سیبی کے پاس جمع کرائے جا چکے ہیں۔ تب کسی نے سہارا کی دونوں کمپنیوں کی قانونی حیثیت پر کوئی سوال نہیں اٹھایا۔ اس وقت تو یہ معاملہ سیبی کے دائرہ اختیار میں نہیں تھا۔ تو پھر اچانک سے ایک فرضی شخص روشن لال کی شکایت پر سیبی کیوں سرگرم ہوگیا؟ اس کے علاوہ رقم کی ری پیمنٹ کے لیے سیبی کو 5,620کروڑ روپے دیے گئے، لیکن ابھی تک وہ صرف ایک کروڑ روپے تقسیم کر پایا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ زیادہ تر سرمایہ کاروںکو ان کا پیسہ لوٹایا جا چکا ہے۔
سہارا کے پورے معاملے پر نظر ڈالیں، تو یہ پورا معاملہ کئی تضادات سے بھرا ہے۔ دو سال سے چل رہی سنوائی کے دوران کئی واقعے ایسے ہوئے ہیں، جو حیران کرنے والے ہیں۔ سیبی نے بغیر جانچ پڑتال کیے سہارا کے سرمایہ کاروں کو فرضی بتادیا۔ سنوائی کے دوران سہارا کے دو سرمایہ کاروں کا معاملہ آیا۔ان دو سرمایہ کاروں کے نام کلاوتی اور ہری دوار ہیں۔ کلاوتی کے بارے میں عدالت نے کہا کہ ان کا جو پتہ دیا گیا ہے، اس میں گھر کا نمبر، گلی، سڑک اور محلے کا نام صحیح نہیں ہے۔ ہری دوار کے بارے میں کہا گیاکہ یہ سمجھ سے باہر ہے کہ کسی شخص کا نام ہری دوار ہو سکتا ہے، یہ تو کسی مقام کا نام ہو سکتا ہے، شخص کا نہیں۔ یہ بھی عجیب بات ہے کہ گاؤں کے لوگ گھر کا نمبر ، گلی اور سڑک کانام کہاں سے لائیں۔ اتر پردیش اور بہار کے گاؤں میںگھر کے نمبرکا رواج نہیں ہے۔ گاؤںمیں سڑکوں یا گلیوں کا نام ہوتا ہے، یہ سن کر گاؤں والے تو مذاق ہی سمجھیں گے۔ جہاں تک بات ہری دوار کے نام کی ہے، تو ہر سو آدمیوں میں سے ایک آدمی کا نام کسی شہر یا مقام کے نام سے جڑا ہوتا ہے۔ ویسے بھی جب ان دونوں کے معاملوںپر عدالت نے اعتراض کیا ، تو ثبوت کے روپ میں انھیں سنوائی کے دوران بلالیا گیا۔ وہ سنوائی کے دوران بیٹھے رہتے تھے۔ جب ایک سنوائی کے دوران ججوںکو دونوں سے ملوایا گیا، تو انھوں نے کہا کہ وہ تو ہم نے محض ایک تبصرہ کیا تھا۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ جب سیبی کی پوری دلیل ہی اس بات پر ٹکی ہے کہ سرمایہ کار فرضی ہیں، تو اس تبصرے کو اس معاملے کے لیے غیر رسمی نہیں مانا جاسکتا ہے۔ سیبی اب تک اس بات کو ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ سہارا کے سرمایہ کار فرضی ہیں۔
لیکن المیہ دیکھئے، اس معاملے کی شروعات روشن لال نامی ایک شخص سے ہوئی۔ روشن لال نے خود کو ایک چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ اور اندور کا باشندہ بتایا۔ اس نے سہارا کی دو کمپنیوں کے ذریعہ جاری او ایف سی ڈی کے خلاف سیبی سے کارروائی کرنے کی اپیل کی تھی۔لیکن یہ روشن لال کون ہے؟ یہ اب تک کسی کو پتہ نہیں چل پایا ہے۔ سیبی نے کبھی اسے عدالت میں حاضر نہیں کیا۔ سیبی نے ایک فرضی شخص کی شکایت پر رائی کا پہاڑ بنادیا۔فرضی اس لیے، کیونکہ انعام سیکورٹیز کی طرف سے جب روشن لال کے ذریعہ بتائے گئے پتہ پر ایک خط بھیجا گیا، تو وہ پتہ فرضی نکلا۔ ایک اخبار نے بھی روشن لال کو تلاش کیا، لیکن وہ صحافی بھی ناکام رہا۔روشن لال کے ذریعہ دیا گیا پتہ فرضی ہے۔ عجیب بات ہے کہ جس روشن لال کی شکایت پر سیبی اتنا بڑا مقدمہ لڑ رہی ہے،اگر وہی فرضی ہے تو سیبی یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ سہارا میں سرمایا کاری کرنے والے لوگ فرضی ہیں۔ جو سیبی ایک روشن لال کا پتہ نہیں لگا پایا ، وہ تین کروڑ لوگوں کی شناخت کو کیسے جانچ پائے گی؟
اس بیچ ایک عجیب و غریب حادثہ ہوا۔ جب سہارا کی طرف سے کہا گیاکہ ہم نے پیسہ واپس کر دیا ہے ،تو عدالت نے سہارا سے کہا کہ آپ نے جن کے پیسے واپس کیے ہیں ، ان کی جانکاری دیجئے۔ عدالت نے سہارا کو دس دنوں کا وقت دیا۔دو لاکھ سرمایاکاروں کے سارے کاغذات جمع کرنے اور انہیں ممبئی میں سیبی کے دفتر تک پہنچانے کے لئے صرف 10 دن دیے گئے۔فائلوں سے لدے 157ٹرک لکھنؤ سے ممبئی بھیجے گئے۔ کسی بھی ٹرک کو عام طور پر لکھنؤ سے ممبئی پہنچنے میں سات دنوں کا وقت لگتا ہے۔یہ ٹرک سیبی کے دفتر 6گھنٹے دیر سے پہنچے تو دفتر کے لوگوں نے کہا کہ اب وقت ختم ہو گیا ہے۔ ٹرک پہنچنے میں تاخیر کی وجہ سے سیبی نے فائلیں لینے سے منع کر دیا۔ فائلیں پڑی رہیں۔پھر عدالت نے سیبی سے کہا کہ فائلیں لیجئے۔ تب جاکر سیبی نے فائلیں لیں۔ اب سیبی کو یہ جانچ کرنا ہے کہ سہارا کے سرمایا کار نقلی ہیں،لیکن سیبی نے ابھی تک کوئی تحقیقات نہیں کی ہے۔ اگر یہ سرمایاکار صحیح نکلے تب کیا ہوگا؟ملک کے ایک بڑے کمپنی گروپ کو ڈبونے کی ذمہ داری کس کی ہوگی؟

سہارا شری سبرت رائے کو جو جیل بھیجا گیا، سہارا میں کام کرنے والے ملازموں کو جو ذہنی الجھن جھیلنی پڑی اور کمپنی گروپ کو جو نقصان پہنچا ،ان سب کا ہرجانہ کون بھرے گا؟
عدالت کہہ رہی ہے کہ سبرت رائے کو جیل سے باہر نکلنے کے لئے سہارا کو پیسہ جمع کرنا ہوگا۔ پانچ ہزار کروڑ روپے نقد اور پانچ ہزار کروڑ روپے کی غیر منقولہ جائداد کا بانڈ دیجئے تو آپ کو ضمانت ملے گی۔ کیا سبرت ملک چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں؟عدالت نے تو ویسے بھی ان کا پاسپورٹ ضبط کر لیا ہے۔اگر وہ بھاگ بھی جاتے ہیں تو ان کی جائداد تو ہندوستان میں ہی ہے۔ سرکار اور قانون انہیں ضبط کر سکتے ہیں اور سرمایا کاروں کا پیسہ لوٹایا جاسکتاہے۔جیل بھیجنے کی ضرورت کیا ہے؟عدالت نے ضمانت کے لئے ایسی شرط رکھ دی ہے جو ایک عالمی ریکارڈ ہے۔ وہ پانچ ہزار کروڑ روپے نقد اور پانچ ہزار کروڑ روپے کی جائداد کے بانڈ پر ضمانت دینے کو تیار ہوئی۔یہ اب تک کی دنیا کی سب سے بڑی ضمانتی رقم ہے۔لیکن یہاں بھی ایک شرط ہے ۔عدالت نے انہیں ہندوستان میں اپنی جائداد بیچنے سے منع کر دیا اور بینک اکائونٹ پر پابندی لگادی۔مطلب یہ ہے کہ آپ جائداد یں بیچ نہیں سکتے ،بینک سے پیسے نکال نہیں سکتے تو پھر اتنی بڑی رقم کوئی کہاں سے لائے گا؟اس کے بعد سہارا کے وکیلوں نے12 مارچ 2014 کو سپریم کورٹ میں ہیبیس کارپیس رٹ دائر کی۔ان کے مطابق جسٹس رادھا کرشن اور جسٹس کیہر کی بینچ نے سہاراشری سبرت رائے کو غیر قانونی طریقے سے جیل بھیجا ہے۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ سہارا کے مقدمے کی سنوائی کرنے والی بینچ سے چو ک ہوئی ہے۔ان لوگوں نے چیف جسٹس سے اپیل کی تھی ،لیکن یہ کیس جسٹس کے ایس رادھا کرشن اور جسٹس جے ایس کیہر کی بینچ کے سامنے بھیج دیا گیا،جن کے خلاف یہ رٹ تھی۔مطلب یہ کہ اس کیس کی سنوائی انہی ججوں کے ذریعہ ہوئی،جن کے خلاف سہارا کے وکیلوں نے شکایت کی تھی۔سہارا کے وکیل یہ اپیل کرتے رہے کہ کم سے کم اس کیس کی سنوائی ان ججوں کے ذریعہ نہ ہو، جن کے فیصلے کے خلاف یہ عرضی ہے۔ اب سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ جن ججوں کے خلاف یہ رٹ پٹیشن دائر کی گئی،وہی اس پر فیصلہ کریں۔سبرت رائے کو جیل بھیجنے کے بعد 6 مئی 2014 کو جسٹس کیہر نے خود کو اس کیس سے الگ کرا لیا۔خبر آئی کہ انہوں نے کہا کہ سہارا کے وکیلوں کا بہت دبائو ہے،اس لئے وہ اس کیس سے الگ ہونا چاہتے ہیں تو کیا اب تک جو فیصلہ انہوں نے لیا،وہ دبائو میں لیا؟جسٹس کے ایس رادھا کرشن 14 مئی 2014 کو ریٹائر ہو گئے۔ اب اس کیس کی سنوائی جسٹس ٹھاکر اور جسٹس سیکری کی بینچ کر رہی ہے۔اب وہی فیصلہ کریں گے کہ اس معاملے میں سیبی کتنا صحیح ہے،سبرت رائے کا جرم کیا ہے اور سہارا کمپنی گروپ کا مستقبل کیا ہے؟ ویسے ایک بات سمجھ میں نہیں آتی ہے کہ ممبئی کی کوکا کولا سوسائٹی کے معاملے میں تو سپریم کورٹ لوگوں کو بے گھر کرنے کا فیصلہ دے دیتا ہے،جن لوگوں نے زندگی بھر کی کمائی سے اپنے لئے ایک گھر خریدا تھا،وہ اب کہاں جائیں گے؟آدرش گھوٹالہ معاملے میں کسی کو کچھ نہیں ہوتا ہے، کسی سے گھر نہیں چھینا جاتا ہے، کوئی بے گھر نہیں ہوتا ہے۔کیا اس لئے کہ کوکا کولا سوسائٹی میں کسی وزیر اعلیٰ کا فلیٹ نہیں ہے، کسی وزیر کے رشتہ دار نہیں رہتے یا پھر جنرل دیپک کپور جیسے بری فوج چیف کا اس میں فلیٹ نہیں ہے؟۔سہارا گروپ ریلوے کے بعد ملک میں سب سے زیادہ نوکریاں مہیا کراتا ہے۔ اس کمپنی گروپ سے لاکھوں لوگوں کا گزارا ہوتا ہے۔ سہارا پریوار کے ڈائریکٹر سبرت رائے کے جیل جانے کے بعد غریب اور درمیانی طبقے کے لاکھوں خاندانوں کی زندگی بیچ میں لٹک گئی ہے۔ جب سپریم کورٹ سبرت رائے سے 10,000کروڑ روپے جمع کرنے کو کہتاہے تو اس کا اثر لاکھوں خاندانوں پر ہوتا ہے کہ پتہ نہیں ہمارا کیا ہوگا۔گروپ سے جڑے لوگ سوچتے ہیں کہ وہ جس آفس میں کام کرتے ہیں کہیں وہ بک نہ جائے۔اگر یہ کمپنی گروپ ڈوبتا ہے تو پتہ نہیں اتنے سارے لوگ کہاں جائیں گے؟
یونان میں تھریسی میکس نام کے ایک فلسفی نے انصاف کی سب سے پہلے توضیح کی تھی۔انہوں نے ’مائٹ از رائٹ‘ یعنی جس کی لاٹھی اس کی بھینس کو انصاف بتایا تھا۔ آج انصاف کی توضیح جس کاقلم اس کی بھینس میں بدل گئی ہے۔توضیح بدلی، لیکن اس کی روح نہیں بدلی ہے۔سیبی کے پاس قلم کی طاقت ہے،جسے وہ لاٹھی کی طرح استعمال کر رہا ہے۔ویسے بھی موجودہ وقت میں انصاف صرف عدالت سے مل سکتا ہے۔وہ جو فیصلہ کرے گی ،اسے تو ماننا ہی ہوگا۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *