کیسے گزرے گا مظفر نگر، شاملی کے متاثرین کا رمضان؟

ڈاکٹر وسیم راشد
آسمان سے شعلے برساتا ہوا سورج،جسم کی کھال کو جھلساتی ہوئی دھوپ،چہرے پر پڑنے والی لوٗکے تھپیڑے،45سے 48 ڈگری درجۂ حرارت سے بے حال دلّی اور اس خطرناک گرمی میں بنا بجلی و پانی کے بے حال دلّی کے عوام اور رمضان المبارک کا مقدس مہینہ جیسے اللہ نے بھی اس بار اپنے نیک بندوں کوآزمانے کا پورا ارادہ کرلیا ہو۔
لیکن ایسی روح کو جھلساتی گرمی میں کیا ہم ان بد نصیب مظفر نگر اور شاملی کے لوگوں کے بارے میں سوچ سکتے ہیں جن کے سر پر سائبان بھی نہیں ہے ،جن کو پناہ گزیں کیمپوں سے بھی دربدر کردیا گیا ہو ۔پہلے کڑکتے جاڑے میں یہ بد نصیب کھلے آسمان کے نیچے زندگی گزارنے پرمجبور تھے ۔ان کے بچے ٹھنڈی یخ بستہ زمین پر بنا لحاف و گدے کے سو رہے تھے اور اب اتنی ہی خطرناک گرمی پڑ رہی ہے ۔رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہے اور مظفر نگر و شاملی کے فساد زدگان 10 مہینے بعد بھی نہ صرف یہ کہ معاوضہ سے محروم ہیں بلکہ بنیادی سہولیات اور غذا بھی ان کو نہیں مل پارہی ہے۔ پہلے بھی پناہ گزیں کیمپوں کو اجاڑ دیا گیا تھا اور یہ تمام مظلومین ادھر ادھر بھٹکنے پر مجبور تھے۔اب پھر رمضان سے پہلے ان کی عارضی رہائش گاہوں پر محکمہ جنگلات کی جانب سے بلڈوزر چلوا دیا گیا اور تقریباً 40
مکانات کو مسمار کردیا گیا۔ ان گھروں کی عورتیں اور معصوم بتے بلبلاتے رہے ۔لیکن کسی نے ان کی نہیں سنی۔اصولاً اور قانوناً دیکھا جائے تو کسی بھی محکمہ کی زمین پر گھر بنا کر رہنا غیر قانونی بھی ہے اور غلط بھی۔لیکن یہ بے چارے لوگ جن کو پہلے راحتی کیمپوں سے دربدر کیا گیا اور پھر وہ ادھر ادھر بھٹکتے رہے اور پھر محکمہ جنگلات کی زمین پر عارضی جھونپڑی ڈال کر رہ رہے تھے۔سرکاری انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کی آڑ میں دوسرے افراد بھی پہلے جھونپڑیاں اور پھر پکے مکانات بنا کر رہنے لگے تھے اور ویسے بھی یہ محکمہ جنگلات کی زمین تھی اور فساد زدگان کو چاہئے کہ اپنے گائوں اور گھروں کوواپس جائیں۔
حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ محکمہ جنگلات کی ہی تقریباً 30بیگھہ زمین پر ایک دوسری کمیونٹی کے لوگ بھی جھونپڑیاں ڈال کر رہ رہے ہیں ۔لیکن ان کو ہٹائے جانے کی کسی نے ہمت نہیں کی۔
مسلم فساد زدگان یہاں محکمہ جنگلات کی سینکڑوں بیگھ زمین جو عرصہ سے خالی پڑی تھی اس پر جھگیاں بنا کررہنے لگے تھے ۔بے شک کسی دوسرے کی جگہ پر بسنا غیر قانونی ہے مگر ان فساد زدگان کے لئے کسی نے بھی آواز نہیں اٹھائی ۔ضلع کے کلکٹر، ایس ڈی ایم ، تحصیل دار، پٹواری، پنچایت آفیسر اور پولیس نہ تو ان سب نے فساد متاثرین کی صحیح طریقے سے شناخت کی اور نہ ہی ان کو معاوضہ دلوانے کی کوشش کی۔
ان فساد متاثرین کے ساتھ یہی نہیں ہوا کہ ان کے گھر وں کو نذر آتش کیا گیا بلکہ ان کے مویشیوں کو جلا دیا گیا اور ان کے گھروں میں لوٹ مار کی گئی ،ان کی عورتوں کی عصمت دری کی گئی اور ان کے ساتھ ہر طرف سے زیادتی اور نا انصافی ہوئی ۔فساد زدگان کا سروے کرنے والوں نے بھی بڑے پیمانے پر بدعنوانی کی۔

آخر مسلم مذہبی اور ملی تنظیمیں کیا کر رہی ہیں؟یہ کام ہماری مسلم تنظیموں کا تھا ۔یہ کام رضا کارانہ تنظیموں کا تھا۔یہ کام مسلم این جی اوز کا بھی تھا کہ ایسے اجڑے ہوئے لوگوں کی فہرست بنا کر حکومت کو دی جاتی مگر فساد کے بعد کچھ ماہ تک تو جمعیت علماء ہند ، جماعت اسلامی ہند اور دوسری تنظیموں نے خوب خبر گیری کی۔محترم ارشد مدنی صاحب نے مکانات بنا کر دیے ۔مولانا محمود مدنی نے بھی اس طرف کچھ پیش رفت کی اور دیگر تنظیموں کی طرف سے اشیائے خوردنی اور کیمپ لگانے کے لئے ضروری سامان سے ان متاثرین کی مدد کی گئی۔

دراصل ہندوستان بد عنوانی کے دلدل میں ایسا پھنس چکا ہے کہ یہاں اربوں کھربوں کے گھوٹالے ہوتے ہیں۔یہاں بیوروکریٹس بنا رشوت کے کام نہیں کرتے ،یہاں پولیس میں اوپر کے آفیسر سے لے کر معمولی سا سپاہی بھی رشوت لیتا ہے۔ایسے میں لٹے ہوئے فساد زدگان کو معاوضہ دینے میں بھی اوپر سے لے کر نیچے کے آفیسر تک سب کرپٹ اور بے ایمان ہیں ۔سروے میں ایک ہی خاندان کے باپ بیٹا برسوں سے الگ رہتے ہیں تو ان کو رپورٹ میں ایک ہی گھر کا فرد بتا کر معاوضہ ایک ہی دیا جارہا ہے جس سے ہر گھر میں یا خاندان میں دو یا تین لوگ معاوضہ سے محروم ہورہے ہیں۔
اس ضمن میں پھر وہی سوال پیداہوتا ہے کہ آخر مسلم مذہبی اور ملی تنظیمیں کیا کر رہی ہیں؟یہ کام ہماری مسلم تنظیموں کا تھا ۔یہ کام رضا کارانہ تنظیموں کا تھا۔یہ کام مسلم این جی اوز کا بھی تھا کہ ایسے اجڑے ہوئے لوگوں کی فہرست بنا کر حکومت کو دی جاتی مگر فساد کے بعد کچھ ماہ تک تو جمعیت علماء ہند ، جماعت اسلامی ہند اور دوسری تنظیموں نے خوب خبر گیری کی۔محترم ارشد مدنی صاحب نے مکانات بنا کر دیے ۔مولانا محمود مدنی نے بھی اس طرف کچھ پیش رفت کی اور دیگر تنظیموں کی طرف سے اشیائے خوردنی اور کیمپ لگانے کے لئے ضروری سامان سے ان متاثرین کی مدد کی گئی۔لیکن تب بھی جانے کیوں جب پورے ملک میں مودی نے اچھے دن کا نعرہ دیا تھا اور پورے ملک نے اچھے دن کے انتظار میں مودی کو مرکزی حکومت تک پہنچا دیا اور پھر مودی کی جیت پر خوشیاں بھی منائی گئیں لیکن کوئی ان بد نصیبوں سے پوچھے کہ ان کے تو برے دن ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے۔ان کے لئے تو سب کچھ ویسا ہی چل رہا ہے۔ہر کوئی خود میں گم ہے۔ مسلم علمائ، تنظیمیں،مسلم لیڈران، مسلم دانشوران اور ہم سبھی کی ذمہ داری ہے کہ ہم اترپردیش سرکار سے براہ راست سوال کریں۔ وہاں جاکر ان پناہ گزینوں سے مل کر صحیح سروے کرکے یو پی حکومت کو دیا جائے ۔
حیرت کی بات ہے کہ اعظم خاں بھی جو ریاست میں خود کو مسلمانوں کا مسیحا سمجھتے ہیں ،اس ضمن میں کچھ نہیں کر پائے۔حالانکہ ایک بات مجھے کہتے ہوئے عجیب لگ رہی ہے کہ ہم بار بار مسلم تنظیموں یا اسلامی برادری سے ہی کیوںتعاون کی اپیل کر رہے ہیں ۔یہ تو سبھی کی ذمہ داری ہے کہ وہ مظلومین چاہے کسی بھی فرقہ کے ہوں ،مدد کریں۔مجھے تو اس سوچ پر ہی شرم آتی ہے کہ کسی کی مدد مذہب کی بنیاد پر کی جائے۔ اس وقت مظفر نگر ،شاملی کے فساد زدگان کی مدد کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ رمضان کے بعد عید ہے اور زکوٰۃ و فطرہ کے ساتھ ان مظلوموں کو بھی اپنی خوشی میںشامل کرلیں تو یقین جانئے آپ کی عبادتیں اللہ کے حضور قبول ہوگی اور اللہ آپ کو ہر طرح سے نوازے گا۔
اس وقت ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ اب کوئی فرقہ وارانہ فساد نہ ہو پائے ۔حالانکہ شر پسند عناصر اس بات کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ وہ پھر کسی بے گناہوں کے خون سے ہولی کھیلیں اور ان کے املاک کو تباہ کریں۔ابھی حال ہی میں سنبھل کو بھی فرقہ پرستی کی آگ میں جھونکنے کی کوشش کی گئی تھی۔ لیکن شہر کے امن پسند اور مہذب باشندوں کی سوجھ بوجھ نے اس آگ میں معصوم لوگوں کو جلنے سے بچا لیا۔بس اس وقت اسی طرح کی سوجھ بوجھ کی سخت ضرورت ہے۔تاکہ پھر کسی کا گھر نہ اجڑے اور کوئی بچہ یتیم اور عورت بیوہ نہ ہو۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *