جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کا زوال اور اس کے محرکات

محمد ہارون
p-2کیا جموں و کشمیر میں سب سے قدیم اور تاریخی اہمیت کی حامل سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس، جو ان دنوں کانگریس کے ساتھ ریاست میں برسر اقتدار ہے، زوال پذیر ہے؟ یہ سوال ان دنوں سیاسی مبصرین اور تجزیہ نگاروں کا محبوب موضوع ہے۔ اس کے ساتھ ہی جڑا ایک سوال یہ بھی ہے کہ اگر نیشنل کانفرنس واقعی زوال پذیر ہے، تو اس کے زوال کے محرکات کیا ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ پارلیمانی انتخابات میں نیشنل کانفرنس اور اس کی اتحادی جماعت کانگریس کو جس ہزیمت اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، اس کی مثال دونوں جماعتوں کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی ہے۔ دونوں اتحادیوں نے پارلیمانی انتخابات میں مشترکہ طور پر امیدوار کھڑے کیے تھے۔ اتحادیوں نے تمام چھ کی چھ نشستیں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ( وادی میں) اور بھارتیہ جنتا پارٹی ( جموں اور لداخ میں) کے مقابلے میں کھودیں۔ کراری شکست کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 87 اسمبلی حلقوں پر مشتمل چھ پارلیمانی نشستوں میں محض چند ایک اسمبلی حلقوں میں ہی نیشنل کانفرنس اور کانگریس کو ووٹوں کی سبقت حاصل ہوئی، یعنی اگر یہ پارلیمانی انتخابات کے بجائے اسمبلی انتخابات ہوتے، تو دونوں جماعتیں ریاست کے سیاسی منظر نامے سے تقریبا ً غائب ہوگئی ہوتیں۔ ریاست میں کانگریس کی تو بہر حال زمینی سطح پر کوئی قابل ذکر ساکھ نہیں تھی، لیکن نیشنل کانفرنس کی شکست نے اس جماعت کی چولیں تک ہلادی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نیشنل کانفرنس کا وجود ریاست کی 8دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط تاریخ کشمیر میں نظر آتا ہے، بلکہ یہ جماعت تو ریاست میں ہمیشہ ایک تحریک کی مانند رہی ہے۔ 1931 میں اس جماعت نے (مسلم کانفرنس کے نام سے) بانی لیڈر شیخ محمد عبداللہ کی قیادت میں جموں و کشمیر میں ڈوگرہ مہاراجہ کے خلاف ایک بھر پور تحریک مزاحمت چلائی۔ شاید شیخ محمد عبداللہ کو ’’شیر کشمیر‘‘ اور ’’بابائے قوم‘‘ جیسے القابات سے اسی لیے پکارا جاتا تھا کہ انہوں نے کشمیریوں کو ڈوگرہ سامراج کی طویل غلامی سے نجات دلانے میں ایک ہیرو کا کردار نبھایا تھا۔ شیخ محمد عبداللہ کے نام اور کردار کے ساتھ جڑی تمام کنٹرو وَرسیوں کے باجود نیشنل کانفرنس ماضی قریب تک ایک مقبول عام تنظیم کا درجہ رکھتی تھی۔ یہ ریاست کی واحد مین اسٹریم سیاسی جماعت تھی، جس کی جڑیں گہرائی تک پیوست تھیں۔ ملی ٹنسی کا عروج بھی اس جماعت کو ختم نہیں کرسکا۔ پھر کیا وجہ ہوئی کہ اب یہ جماعت سیاسی منظر نامے سے غائب ہوتی ہوئی محسوس ہورہی ہے؟ مبصرین کا ماننا ہے کہ 1990 میں ملی ٹنسی کی شروعات کے بعد 6 سال تک خاموش رہنے کے بعد جب نیشنل کانفرنس اسمبلی انتخابات میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ بر سر اقتدار آئی، تو اس کی کرتوتوں کی وجہ سے اس کا زوال شروع ہوگیا۔
پارٹی کے ایک سینئر کارکن نے ان کا نام شایع نہ کرنے کی گزارش کرتے ہوئے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کو بتایا کہ ’’ملی ٹنسی کی شروعات کے ساتھ ہی وادی میں قتل و غارتگری کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ ہزاروں لوگ مارے جاچکے تھے۔ خواتین کی عزتیں لٹ چکی تھیں۔ ہزاروں لوگ گمشدہ ہوچکے تھے۔ 1996 میں جب نیشنل کانفرنس برسر اقتدار آئی اور فاروق عبداللہ وزیر اعلیٰ بنے، تو لوگوں کو لگا تھا کہ وہ کشمیری عوام کے لیے مسیحا ثابت ہوں گے، لیکن ایسا نہیں ہوا، بلکہ حکومت کا ایک ظالمانہ رخ دیکھنے کو ملا۔ 96 کے بعد نیشنل کانفرنس مظلوم کشمیریوں کی نہیں، بلکہ ظلم کی علامت بن کر ابھری۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ تھی کہ فاروق عبداللہ نے غلام محمد میر عرف ممہ کنہ جیسے شخص، جس کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ انہوں نے انسداد ملی ٹنسی کی سرکاری مہم کا ساتھ دیتے ہوئے لاتعداد لوگوں کو مار دیا، کو پدم شری ایوارڈ دینے کے لیے سفارش کی۔ ایسی کرتوتوں کی وجہ سے نیشنل کانفرنس زوال پذیر نہیں ہوتی، تو کیا ہوتا؟‘‘
کشمیر یونیورسٹی میں شعبۂ سیاسیات کے پروفیسر نور احمد بابا کا کہنا ہے کہ’’ نیشنل کانفرنس 1996 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد نہ صرف ریاست میں ظلم و تشدد کو بند کرانے میں ناکام ہوئی، بلکہ یہ جماعت اُس وقت کشمیریوں کے لیے نئی دہلی سے کوئی سیاسی پیکیج حاصل کرنے میں بھی ناکام رہی۔ نتیجہ کے طور پر کشمیری عوام اس جماعت سے بددل ہوکر رہ گئے۔‘‘ اس کی سزا اس جماعت کو سال 2002 کے انتخابات میں ملی، جب یہ اسمبلی میں 57 سیٹوں سے نیچے جاکر محض 28 پر آگئی۔ ان انتخابات میں پارٹی کے صدر عمر عبداللہ کو اپنے خاندانی حلقہ انتخاب گاندربل میں اپنے حریف، جو پی ڈی پی کے امید وار تھے اور عمر عبداللہ کے مقابلے میں سیاسی لحاظ سے ایک چھوٹا قدو قامت رکھتے تھے، سے کراری شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مبصرین کی غالب اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ نیشنل کانفرنس کا زوال دراصل یہیں سے شروع ہوا۔
2008کے انتخابات میں بھی نیشنل کانفرنس کو 28 نشستیں حاصل ہوئیں۔ پارٹی نے کانگریس کے تعاون سے ریاست میں حکومت بنا تو لی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ نیشنل کانفرنس قیادت والی اس سرکار نے عوام کو بددل کردیا۔ سال 2009 میں جنوبی کشمیر کے شوپیاں میں دو مقامی خواتین کی عصمت ریزی اور قتل کے واقعہ پر وادی میں بھر پور احتجاجی لہر چھڑ گئی۔ ایک عام تاثر ہے کہ اس واقعہ میں فوجی اہلکار ملوث تھے۔ عمر عبداللہ پر اس سانحہ کی پردہ پوشی کرنے کے الزامات عاید کیے گئے، کیوں کہ انہوں نے اس واقعہ پر بار بار اپنے بیانات بدلے۔ سال 2010 میں وادی کشمیر میں فورسز کے ہاتھوں کئی کمسن بچوں سمیت 110 نوجوان مارے گئے۔ اس خونریزی کے دوران نیشنل کانفرنس کا گھنائونا چہرہ دیکھنے کو ملا، کیونکہ اس جماعت نے نہ صرف قتل و غارتگری کو جواز بخشنے کی کوشش کی، بلکہ اس میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کوئی کارروائی بھی نہیں کی۔ ان ہلاکتوں کی وجہ سے نیشنل کانفرنس کی رہی سہی عوامی ساکھ بھی ختم ہوگئی۔ سال 2013 کے آغاز میں ہی افضل گورو کوتہاڑ جیل میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ یہ واقعہ نیشنل کانفرنس کے تابوت میں آخری کیل تھا۔ اگرچہ گورو کو نئی دہلی میں قائم یو پی اے سرکار نے پھانسی دی اور اس واقعہ کا نیشنل کانفرنس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں تھا ، لیکن عمر عبداللہ نے گورو کی پھانسی کے بعد کہا کہ انہیں نئی دہلی نے گورو کی پھانسی سے محض چند گھنٹے پہلے اس بارے میں مطلع کیا تھا۔ اس طرح سے عمر عبداللہ نے خود یہ اعتراف کیا کہ مرکزی سرکار اتنے حساس معاملے میں بھی عمر عبداللہ کی رائے کو جاننے کی ضرورت نہیں سمجھتی ہے۔ یہ عمر عبداللہ کی مقبولیت کے لیے ایک بہت بڑا دھچکہ تھا۔ثانیاً یہ کہ نیشنل کانفرنس حکومت نے مرکزی سر کار کو افضل گورو کی لاش اس کے گھر والوں کو لوٹانے پر راضی کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔
صحافی اظہر رفیقی نے نیشنل کانفرنس کی عوامی ساکھ ختم ہوجانے پر اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کو بتایا کہ ’’نیشنل کانفر نس کی عوامی ساکھ کو گزشتہ چھ سالوں کے دوران سب سے زیادہ نقصان پہنچا، لیکن اس کی ذمہ دار خود اس پارٹی کی قیادت ہے۔ نیشنل کانفرنس لیڈر شپ یہ سمجھ بیٹھی کہ عوام پر ظلم ڈھا نے کے باوجود لوگ اسے قبول کریں گے۔ لیکن لوگوں نے اس جماعت کو آئینہ دکھا دیا۔مجھے نیشنل کانفرنس جموں وکشمیر کے سیاسی منظر نامے سے مکمل طور پر مٹتی ہوئی نظر آرہی ہے۔‘‘ اظہر کا کہنا ہے کہ نیشنل کانفرنس کی لیڈر شپ اقتدار کے نشے میں چور ہوکر عوام کی توہین کرنے سے بھی نہیں چوکی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ فاروق عبداللہ جیسا شخص ، جس پر کرکٹ ایسوسی ایشن اسکینڈل کے کروڑوں روپے گھپلے میں ملوث ہونے کا الزام ہے، نے کشمیریوں کو ’’مہا چور ‘‘ پکارا۔ اسی طرح نیشنل کانفرنس کے ایک اور لیڈر نے شمالی کشمیر میں انتخابی جلسے کے دوران ایک نوجوان کی مارپیٹ کر کے گھمنڈ کا بدترین مظاہرہ کیا۔ میرے خیال سے نیشنل کانفرنس کی شکست دراصل اس کی لیڈر شپ کی بداعمالیوں کا نتیجہ ہے ۔ ‘‘
جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کے زوال کے آثار تو عیاں ہیں، لیکن یہ زوال کس شدت کا ہے یہ اسمبلی انتخابات میں ہی پتہ چلے گا، جوامسال اکتوبر یا نومبر میں طے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *