جموں و کشمیر: کانگریس کی ڈوبتی نیا کو تنکوں کے سہارے کی تلاش

محمد ہارون، کشمیر
p-3bسیاست میں کبھی نہ کوئی مستقل دوست ہوتا ہے اور نہ دُشمن۔ جموں و کشمیر میں کانگریس پارٹی کی سرگرمیوں کو دیکھ کر یہ مقولہ سو فیصد صیح لگتا ہے۔ کیونکہ تازہ میڈیا رپورٹوں میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ ساڑھے پانچ سال سے نیشنل کانفرنس کے ساتھ حکومت کرنے والی کانگریس اب اسمبلی انتخابات کے قریب آتے ہی پی ڈی پی کے ساتھ انتخابی گٹھ جو ڑ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔دراصل حالیہ پارلیمانی انتخابات میں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی کراری شکست کے بعد کانگریس کو ریاست میں اپنا مستقبل مخدوش نظر آرہا ہے۔واضح رہے کہ پارلیمانی انتخابات میں وادی میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی ) اور جموں اور لداخ میں پی جے پی نے بازی ماری۔ کل چھ میں سے تین پارلیمانی نشستیں بی جے پی اور تین پی ڈی پی نے حاصل کرلیں۔ کانگرنس اور نیشنل کانفرنس جنہوں نے مشترکہ امیدوار کھڑے کردیئے تھے کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔یہاں تک کہ ان انتخابات میں کانگریس غلام نبی آزاد اور نیشنل کانفرنس کے فاروق عبداللہ جیسے امیدواروں کو بالترتیب 60 ہزار اور 40ہزار ووٹوں سے ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ اس طرح سے یہ بات باکل واضح ہوگئی کہ کانگریس جموں میں اپنا روایتی ووٹ بینک بی جے پی اور نیشنل کانفرنس وادی میں پی ڈی پی کے آگے گنوا بیٹھی ہے۔ بی جے پی کو 37اسمبلی حلقوں پر مشتمل جموں صوبے کی دو پارلیمانی نشستوں پر جیت حاصل کرنے کے دوران 29اسمبلی حلقہ ہائے انتخابات میں ووٹوں کی برتری حاصل رہی ۔ باکل اسی طرح وادی میں پی ڈی پی کو 46میں سے تقریباً40اسمبلی حلقہ ہائے انتخابات میں ووٹوں کی برتری حاصل رہی ْ۔ کل ملاکر ان انتخابی نتائج کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ جموں میں بی جے پی نے کانگریس کو اور وادی میں پی ڈی پی نے نیشنل کانفرنس کو دھول چٹوائی ۔ اس صورتحال کو بھانپتے ہوئے اب ہوا کا رخ دیکھ کر کشتی چھوڑنے کے مصداق کانگریس نے اپنی اتحادی جماعت نیشنل کانفرنس کو چھوڑ کر پی ڈی پی کے ساتھ پینگیں بڑھانی شروع کردی ہیں۔
تجزیہ نگار مقبول ساحل اس موضوع پر ’’چوتھی دُنیا ‘‘ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ’’ مجھے ریاست میں کانگریس کا مستقبل مخدوش نظر آرہا ہے۔ میرے خیال میں کانگریس اب ریاست میں اپنے وجود کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے پی ڈی پی کے ساتھ تعلقات بڑھا رہی ہے کیونکہ پی ڈی پی بلا شبہ ایک طاقت کے طور پر ابھر رہی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کانگریس کی ان کوششوں کا پی ڈی پی کی جانب سے کیا جواب ملے گا؟ مجھے نہیں لگتا ہے کہ پی ڈی پی کوکانگریس سے کوئی فائد ہ ملنے والا ہے بلکہ اگر مستقبل میں پی ڈی پی کو ریاست میں حکومت بنانے کیلئے کسی اور پارٹی کے تعاون کی ضرورت ہوتو اسکے پاس کانگریس کے بجائے بی جے پی ایک بہتر آپشن ہے کیونکہ مرکز میں بی جے پی کی حکومت ہونے کی وجہ سے ریاست میں پی ڈی پی کیلئے بی جے پی کا ساتھ یقینا سود مند ثابت ہوگا۔‘‘
دریں اثنا ء ریاستی کانگریس کے ایک سینئر لیڈر نے ان کا نام مخفی رکھنے کی شرط پر ’’چوتھی دُنیا‘‘ کو بتایاکہ کانگریس پی ڈی پی کا ساتھ جیتنے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ پارلیمانی انتخابات میں پارٹی کو ملک بھر میں جس بری صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کو دیکھ کر ہماری کوشش ہے کہ کانگریس مستقبل میں بھی ریاست میں حکومت کا حصہ بنی رہے۔ہمیں آنے والے انتخابات میں پی ڈی پی اور بی جے پی کی جیت یقینی نظر آرہی ہے لیکن پی ڈی پی کیلئے مخلوط سرکار قائم ہونے کی صورت میں اس پارٹی کیلئے پی جے پی سے زیادہ بہتر کانگریس ہے کیونکہ کانگریس کو وادی کے لوگوں نے قبول کرلیا ہے جبکہ بی جے مسلم آبادی کیلئے ابھی ناقابل قبول ہے۔ ہمیں امید ہے کہ پی ڈی پی کے ساتھ ہماری بات چیت کے مثبت نتائج بر آمد ہونگے۔‘‘ذرایع کا کہنا ہے کہ 16جون کو سرینگر میں کانگریس کے مرکزی لیڈر غلام نبی آزاد اور ریاستی کانگریس کے صدر پروفیسرسیف الدین سوز کی ایک طویل میٹنگ میں اسمبلی انتخابات کیلئے حکمت عملی طے کرتے وقت پی ڈی پی کو گٹھ جوڑ کرنے کی پیش کش کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم ذرائع کے مطابق پی ڈی پی نے تاحال کانگریس کی اس پیش کش کا کوئی جواب نہیں دیا ہے کیونکہ پی ڈی پی چاہتی ہے کہ اسے ریاستی انتخابات میں اتنی سیٹیں ملیں کہ وہ اپنے بل پر حکومت قائم کرسکے۔ قابل غور ہے کہ کانگریس نے بڑی جانفشانی کے ساتھ کام کرتے ہوئے ریاست میں اپنی جگہ بنا لی تھی۔یہ پارٹی پچھلے 12 سال سے ریاست میں مخلوط حکومتوں کا حصہ رہی ہے۔ بلکہ اسے ریاست میں اب ’’کنگ میکر‘‘کے نام سے پکارا جاتا تھا۔حالانکہ سال 2002کے اسمبلی انتخابات سے قبل کانگریس کا جموں کشمیر کے سیاسی منظر نامے پرکوئی وجود نہیں تھا۔ 1996 کے انتخابات میں اس پارٹی نے 87ممبران پر مشتمل اسمبلی میں محض 7سیٹیں حاصل کی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مفتی محمد سعید اور انکی صاحبزادی محبوبہ مفتی کانگریس کے اعلیٰ لیڈران میں شامل تھے۔ لیکن سال 2002کے انتخابات میں منقسم منڈیٹ نے کایا پلٹ دی۔ نیشنل کانفرنس جسے اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل تھی، ان انتخابات میں بری طرح شکست سے دوچار ہوئی۔ انتخابات میں نیشنل کانفرنس 57سیٹوں سے نیچے آکر28پر پہنچ گئی۔کانگریس کو 20سیٹیں ملیں اور مفتی محمد سعید کی نئی پارٹی پی ڈی پی حیر ت انگیز طور 16سیٹیں ملیں۔ چنانچہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور کانگریس نے ریاست میں مخلوط سرکار قائم کی ۔ سال 2008کے انتخابات کے بعد ریاست میں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی حکومت بنی۔ اس طرح سے دو بار کانگریس ریاست کی مخلوط حکومت کی ایک اہم اتحادی پارٹی کے طور پر اپنی حیثیت منواتی رہی۔لیکن ایسا لگتا ہے کہ جموں میں بی جے پی کے عروج اور وادی میں پی ڈی پی کے فروغ کے نتیجے میں کانگریس کے لئے ریاست کی سرزمین سکڑ رہی ہے۔تجزیہ نگار طارق علی میر نے ’’چوتھی دُنیا ‘‘ کے ساتھ اس ضمن میں ایک بات چیت میں کہا کہ ’’ کانگریس صرف اسی صورت میں ریاست کے مستقبل کی حکومت کا حصہ ہوسکتی ہے اگر اسے کم ازکم 15 نشستیں حاصل ہوئیں لیکن آثار و قرائن کو دیکھ کر ایسا نہیں لگتا کہ یہ پارٹی اب کی بار آٹھ سیٹوں سے زیادہ حاصل کرپائے گی کیونکہ جموں کے ہندو اکثریتی علاقوں جہاں اصلاً کانگریس کا ووٹ بینک تھا، میں بی جی پی اپنی جڑیں مضبوط کرنے میں مکمل طور کامیاب ہوچکی ہے جسکی مثالیں حالیہ پارلیمانی انتخابات میں عیاں طور سے دیکھنے کو ملیں۔‘‘ کیا کانگریس جموں کشمیر میں اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب ہو پائے گی یا پھر ایک بار اسکی حالت وہی ہوگی جو سال 2002کے اسمبلی انتخابات سے پہلے تھی؟ اس سوال کا جواب جاننے کیلئے بہر حال آنے والے وقت کا انتظار کرنا پڑا گا۔ تاہم تمام آثار و قرائن یہ بتاتے ہیں کہ کانگریس ملک کے دوسرے حصوں کی طرح ریاست جموں و کشمیر میں بھی اپنا وجود کھوتی جارہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *