گڈ گورننس کے لئے کڑوی گولیاں چبانی ہوں گی

میگھناد دیسائی
انیس سو تیس کی دہائی میں ارجنٹینا 5امیر ترین ممالک میں سے ایک ہوا کرتا تھا۔ آج جب یہ قرض کی ادائیگی نہ کیے جانے کے سبب سخت امتحان سے گزر رہا ہے، یہ شہرت اور تحفظ کے سہارے اپنی نچلی سطح کی معاشی خوشحالی کو برقرار رکھ پایا ہے۔ اس نے یہ سب کچھ اس وقت کیا، جب جوآن پیرون اور ان کی اہلیہ جیسے مقبول عام سیاست داں اقتدار میں تھے۔ ان لوگوں نے ووٹروں کو رشوت دی، ٹریڈ یونینوں اور کسانوں کو خوش رکھااور قدرتی وسائل کو لوٹا۔
اگر آپ بری معیشت کو لے کر چلتے ہیں، تب مقبولیت حاصل کرنا آسان ہوتا ہے۔ غریبوں کو مدد کرنے کے نام پر ہر ایک مطالبہ کو سبسڈی کے عوض میں مان لینا آسان ہوتا ہے۔ایک بڑے غریب ملک میں غربت اور عام آدمی سے اپیل مستقل غلط استعمال کی جاتی ہے۔سب کچھ کے باوجود ایل پی جی سیلنڈرس ایسا کچھ نہیں ہے کہ آبادی کے 75فیصد لوگ اسے استعمال کرتے ہیں۔ ابھی بھی ان لوگوں کے لیے دی گئی سبسڈی غریبوں کے حق میں دی گئی خیر سگالی سمجھی جاتی ہے۔ کار اور اسکوٹر چلانے والے افراد اپنے آپ کو بلاشبہ جدوجہد کرتے ہوئے اوسط کلاس کے لوگ سمجھتے ہیں۔لیکن ایک غریب ملک میں مڈل کلاس کا تعلق آمدنی کی تقسیم میں ٹاپ سخت آمدنی کی نابرابری کے ساتھ15فیصد سے ہوتا ہے۔ یہ لوگ بڑے حساب کتاب والے اور سیاسی طورپرطاقتور ہوتے ہیں۔ یہاںتک کہ لیفٹ کی پارٹیاں مڈل کلاس کے لوگوں کے لیے سبسڈی کے لیے سڑکوںپر نکلتی ہیں، جبکہ یہ مڈل کلاس پٹرول، ڈیزل، بجلی اور پانی پر خود اپنے ذریعہ مانگی گئی سبسڈیز کا مشکل سے ہی مستحق ہوتا ہے۔ چاہے وہ او این جی سی ہو یا اسٹیٹ بجلی بورڈ، جسے بھی سروسز یا اشیاء کو سپلائی کرنا ہے، کے لیے سبسڈی مہنگی ہوتی ہے۔ بار بار کمیوں کے ساتھ بجلی اور پانی کی سروسز میں ہندوستان کا ریکارڈ خراب ہے۔یہ اس لیے ہے کہ پبلک اتھارٹیز کے ذریعہ فراہم کی گئی کسی بھی سروس کے لیے لوگ اصل قیمت سے کم پیسہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ کو خسارہ ہوتا ہے، تو آپ کے پاس سرمایہ کاری اور سروس کر بہتر بنانے کے لیے پیسہ نہیں ہوتا ہے۔سپلائی کی لاگت پر حاصل کیے گئے ریونیو میں کمی جسے ’انڈر کوریج‘ کہتے ہیں، پبلک بجٹ پر بوجھ ہوجاتا ہے۔ بہت کم ہی انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں، مگر وہ اس کے بارے میں شکایت پُر زور انداز میں کرتے ہیں۔ اس طرح غریب ہی ویٹ، سیلس ٹیکس،ایکسائز ٹیکس جیسے ٹیکسز ادا کرتے ہیں، جس سے مڈل کلاس کو دی جارہی سبسڈیز کی رقم جمع ہوتی ہے۔ اس کے باوجود ہمارے اخراجات سے ریونیو کم ہو جاتا ہے اور ہمیں سال بہ سال خسارہ درپیش ہوتا ہے۔ حکومت بھی اس کی حصہ دار ہوتی ہے، جس سے پبلک قرض میں اور بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اس طرح سے سبسڈیز ملک کو نقصان پہنچارہی ہے۔، جبکہ یہ ان لوگوں سے جوصلاحیت رکھتے ہیں اور اتنے غریب نہیں ہیں ، سے پوری ہوتی ہے۔
نئی حکومت کے پاس پسند بہت مشکل ہے۔ یہ عوامی مینڈیٹ سے منتخب ہوئی ہے۔ اسے خراب پالیسیوں کے لیے معذرت کے طور پر دھرم کو استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس طرح جس طرح سابقہ حکومت نے کیا۔ (ممبئی کمیوٹرس کے لیے ریل کے کرایہ پر نظر ثانی کا استعمال تمام بڑے میٹروز کے لیے شہری کمیوٹر ریل روڈس کے لیے کرائے کو ڈی سینٹرلائز کرنے میں کرنا چاہیے۔سابقہ دہائیوں کی خراب اقتصادی پالیسیوں کے انبار خصوصاً پیچھے کی طرح لے جانے والی سبسڈیز جس سے بہتر زندگی گزارنے والوں کو اس طرح کے چیلنجوں سے اگرچہ اس کی فوری مقبولیت سے فائدہ بھی ہوتا ہو، تب بھی نمٹنا پڑتا ہے۔
حکومت کے پہلے بجٹ کے ذریعے جو موقع ہاتھ آیا ہے، وہ انوکھا ہے۔ ووٹ آن اکاؤنٹ نے اپنے پیچھے ایک فیسکل میس (Fiscal Mess)چھوڑا ہے۔ گزشتہ سال کے خسارہ کی تعداد اور رواں مالی سال کے متوقع بجٹ خسارہ فسانہ ہیں۔اعلان شدہ ٹارگیٹ کے تحت 2013-14کے خسارہ کو حاصل کرنے کے لیے بہت کچھ ونڈو ڈریسنگ (Window Dressing) کی گئی۔برطانیہ میں اس کے بجٹ میں حکومت کے ذریعہ تمام اعداد وشمار کو آڈٹ کررہا آزاد ادارہ آفس آف بجٹ ریسپانسبلٹی کی تقرری کے ذریعے اس طرح کے کاموں کو روکا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی اصلاح ہے، جس کی ہندوستان میںشدیدضرورت ہے۔ مگر اس کے علاوہ 10جولائی کے بجٹ کو ہمیں صاف اعدادو شمار دینا چاہیے، تاکہ ہم لوگ یہ دیکھ سکیں کہ گزشتہ حکومت نے کیا مالی خسارہ ملک کو دیا ہے۔ سال رواں کے اخراجات بشمول یوپی اے کے فلیگ شپ پروگرامس جیسے منریگا اور فوڈ سیکورٹی ایکٹ کے لیے گنجائش زیرغور ہے۔ گزشتہ برس کے بہت سے بلوں کی ادائیگی نہیں ہوئی ہے۔ 2014-15کے لیے صحیح خسارہ کے بارے میں توقع ہے کہ جو کچھ اندازہ کیا گیا ہے، اس کی بنسبت وہ 5.5فیصد سے زیادہ ہوگا۔ اگر کسی مریض کی صحت یابی مطلوب ہے، تو بہت سی کڑوی گولیوں کو چبانا پڑے گا۔ وزیر اعظم کے ذرریعے وعدے کیے گئے ’گڈ گورننس‘ کو مشکل فیصلوں سے گزرنا پڑے گا۔ یہ تبھی ہوگا،جب بہت سے ٹوکسک اسٹف (Toxic Stuff)کو اچھے دن آئیں گے کے لیے ہٹایا جائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *