دیکھئے نہرو کی وراثت کو راہل اور سونیا نے کیسے ہڑ پ لیا

ڈاکٹر وسیم راشد
حالہی میں بی جے پی لیڈر اور سابق مرکزی وزیر قانون ڈاکٹر سبرا منین سوامی کے ذریعے نیشنل ہیرالڈ بلڈنگ کے معاملے میں سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کو دہلی مجسٹریٹ کورٹ کی جانب سے سمن دیا گیا ہے۔ اخباروں میں بہت حد تک اس کی تفصیلات آگئی ہیں، لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اردو اخباروں میں بہت زیادہ اس مسئلہ کو جگہ نہیں دی گئی۔
قومی آواز ہمارے بچپن کا اخبار ہے اور ایک زمانہ تھا آئی ٹی او کی نشاندہی نیشنل ہیرالڈ بلڈنگ سے ہی کی جاتی تھی۔ فخر سے سر اٹھائے یہ عظیم الشان بلڈنگ اس بات کی علامت تھی کہ یہاں سے تین بڑی زبانوں کے اخبار نکلتے تھے۔ انگریزی کا نیشنل ہیرالڈ، اردو میں قومی آواز اور ہندی میں نو جیون، جو کہ دہلی کے ساتھ ساتھ لکھنؤ سے بھی شائع ہوتا تھا۔
عجیب بے حسی ہے ہماری قوم کے لیڈران کی اور اردو زبان کے نام و نہاد ٹھیکہ داروں کی کہ نہ تو اخبار بند ہونے پر کوئی احتجاج ہوا اور نہ ہی اب، جب کہ سبرا منین سوامی نے یہ بیڑہ اٹھایا ہے، تب بھی کسی اردو اخبار، صحافی، لیڈر یا کسی تنظیم کے عہدیداران نے اس موضوع پر لکھنے اور احتجاج درج کرانے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ قومی آواز بلا شبہ اردو کا سب سے بڑا اخبار تھا۔ آج بھی اس اخبار کے قاری اس کو یاد کرتے ہیں۔ آج بھی اس اخبار کے اداریے اور کالم ذہن میں محفوظ ہیں۔ قومی آواز کے مدیران بھی بہت نامور رہے ہیں، جن میں عشرت علی صدیقی، موہن چراغی وغیرہ بہت مشہور و معروف رہے اور اس کے علاوہ آج کے نامور صحافیوں میں سے بھی کئی نام ہیں، جنہوں نے اس اخبار سے اپنی صحافت کی شروعات کی اور اس سے وابستہ رہے، جن میں عزیز برنی، نورجہاں ثروت کے نام بھی لیے جاسکتے ہیں۔
ظاہر ہے، اردو پڑھنے والوں کو جتنی تکلیف قومی آواز کے بند ہونے سے ہوئی تھی، اتنی ہی نیشنل ہیرالڈ کے قاری کو بھی ہوئی ہوگی۔ جواہر لعل نہرو کے ذریعے شروع کیا گیا یہ اخبار کس طرح سیاسی مفاد اور پیسے کی ہوس کا شکار ہوگیا، اس کی کہانی تو بیان کرنا اس مختصر اداریہ میں ممکن نہیں ہے، لیکن ہاں ڈاکٹر سوامی نے جو الزام لگائے ہیں، ان کو سمجھنا ضروری ہے کہ آخر سونیا گاندھی اور راہل گاندھی نے آج کی 1600 کروڑ روپے کی جائداد کو کیسے ہڑپ لیا۔
صدر کانگریس سونیا گاندھی اور جنرل سکریٹری راہل گاندھی نے سیکشن 25 کے تحت ینگ انڈین نام کی ایک پرائیویٹ کمپنی بنائی تھی اور پھر اس کے ذریعے ایسو سی ایٹیڈ جرنلس لمیٹڈ، جو کہ ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی تھی، پر قبضہ کر لیا، جس کے تحت انگریزی روزنامہ نیشنل ہیرالڈ، اردو روزنامہ قومی آواز اور ہندی روزنامہ ’نوجیون‘ نکلتا تھا اور جو ان اخباروں کی مالک تھی اور دہلی ہی نہیں، اتر پردیش کے دیگر مقامات پر بھی ریئل اسٹیٹ جائدادوں کی بھی مالک تھی۔ یہ پوری ڈیل، یہ پورا معاہدہ غیر قانونی اور شرمناک تھا، جس کا مقصد صرف ہیرالڈ ہاؤس کی پوری جائداد پر قبضہ کرنا تھا۔ نیشنل ہیرالڈ 1935 میں جواہر لعل نہرو نے لکھنؤ سے نکالنا شروع کیا تھا، پھر یہ دہلی سے بھی نکلنے لگا اور دہلی میں بہادر شاہ ظفر مارگ پر ہیرالڈ ہاؤس میں اس کا دفتر تھا۔ چونکہ یہ کانگریس کا اخبار تھا، اس لیے اس اخبار کی پوری فنڈنگ پارٹی کے پیسے سے ہی ہوتی تھی۔ حالانکہ یہ اخبار پہلے بھی بند ہوا تھا، ایک بار 2 سال کے لیے 1977 کے جنرل الیکشن میں اندرا گاندھی کی ہار کے بعد اور دوسرا 1986 میں بند ہونے کی نوبت تھی، لیکن راجیو گاندھی کے ذاتی دخل کی وجہ سے یہ بند نہیں ہو پایا اور پھر بدقسمتی سے 2008 میں یہ اخبار بند ہو گیا اور اس کے ساتھ ساتھ ایک نامور اردو اخبار کا سورج بھی غروب ہو گیا۔
وہ جائداد جو عوام کی ملکیت تھی، جو دہلی کے دل میں واقع تھی اور جس کا کرایہ بھی کروڑوں کے حساب سے آ رہا تھا، وہ پوری جائداد راہل اور سونیا نے ’ینگ انڈیا کمپنی‘ کے نام سے پوری ہڑپ لی اور اس میں ایسو سی ایٹیڈ جرنلس کی پوری آمدنی ینگ انڈیا کو ٹرانسفر ہوتی گئی۔ دراصل، اس ینگ انڈیا کو بنایا ہی اس لیے گیا تھا کہ پوری آمدنی کو پبلک آمدنی سے پرائیویٹ میں تبدیل کیا جا سکے، یعنی پورے پیسے کو، جو کہ عوام کا پیسہ تھا، اس کو راہل اور سونیا گاندھی اپنے نام کرا سکیں اور تقریباً 2000 کروڑ کے اثاثہ کو منتقل کیا جا سکے۔ جس وقت ینگ انڈیا کو قائم کیا گیا تھا، اس کا کل اثاثہ 5 لاکھ تھا۔
ایسوسی ایٹیڈ جرنلس کو کچھ خاص کانگریسی لیڈروں نے قائم کیا تھا، جس کے صدر جواہر لعل نہرو تھے۔ چونکہ اس کمپنی کا مقصد ہی اخبار نکالنا تھا، اس لیے ایسو سی ایٹیڈ جرنلس کو دہلی، ممبئی، بھوپائڈ اندرو، ہریانہ اور یو پی کے متعدد شہروں میں بہترین جگہوں پر، یعنی پرائم لوکیشن پر سستے داموں زمین مہیا کرائی گئی۔ اس میں عوام کا چندہ بھی شامل تھا، لیکن گاندھی خاندان نے اس پوری جائداد کو ہی اپنے ذاتی مقصد کے لیے استعمال کیا۔ 1970 کے آس پاس سے ان اخباروں کی حالت خراب ہونی شروع ہو گئی تھی اور تینوں ہی اخباروں میں تنخواہیں اور دوسرے الاؤنس کئی کئی مہینوں تک نہیں دیے جا رہے تھے اور پھر ظاہر ہے نوبت اس کو بند کرنے کی آگئی، لیکن ہمیں آج بھی یاد ہے کہ جب قومی آواز اور نیشنل ہیرالڈ کو بند کیا گیا تھا، اس وقت ہر ملازم کو کئی کئی لاکھ روپے ملے تھے، جو شاید اخبار چلتے رہتے، تو بھی نہیں مل پاتے، یعنی آج اگر ان معاملات کی بھی چھان بین کی جائے، تو اس کے پیچھے بھی کچھ سیاسی عوامل کارفرما نظر آئیں گے۔
ویسے تو اس پورے معاملے کو اگر لکھا جائے، تو صفحات کے صفحات سیاہ ہو جائیں گے، کیوں کہ پوری تاریخ ہے اس بلڈنگ کی اور پوری تاریخ ہے ینگ انڈیا کے ذریعے ہڑپے گئے تمام شیئرز کی۔ اس پورے معاملے کو صرف ایک اداریے میں سمیٹا نہیں جا سکتا، کیوں کہ شیئر ہولڈرس کے نام اور سبھی لوگ جو اس میں شامل ہیں، ان پر باقاعدہ لکھا جانا نہایت ضروری ہے۔ جس وقت نیشنل ہیرالڈ اور قومی آواز کو بند کیا گیا تھا، اس وقت کے اخبار کے تراشے میں نے دیکھے ہیں۔ قومی آواز بہت اچھا بزنس کر رہا تھا۔ بہت مشہور تھا۔ اس کے قاری اس کا بے صبری سے انتظار کرتے تھے۔ آج جب سبرامنین سوامی کے ذریعے سارا معاملہ سامنے آیا ہے، تو ایک بار پھر کانگریس کی اصلیت سامنے آگئی ہے۔ نہروجی نے ایک اچھے اور نیک مقصد کے لیے یہ اخبارات نکالے تھے، لیکن ان اخباروں کو بند کرنا بھی اس خاندان کی سیاست تھی۔
اس پورے معاملے کی تفصیل جاننے کی ضرورت ہے، ورنہ یہ کروڑوں کی جائداد کا منافع اسی طرح دونوں ماں بیٹے کھاتے رہیں گے۔ دیکھتے ہیں کہ عدالت اس ضمن میں کیا فیصلہ کرتی ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *