فوج میں بدعنوانی کا بول بالا ، منھ کھولنے والا پاگل قرار دیا جائے گا

پربھات رنجن دین

تمغوں کے لیے فرضی مڈبھیڑ، ہتھیار مافیاؤں سے ساز باز، غیر قانونی پیسے کے لیے زمین گھوٹالہ اور ترقی کے لیے ہتھکنڈے۔ یہ سب حساس شمال مشرقی ریاستوں میں تعینات فوج کی اکائیوں کی فطرت بن چکی ہے۔ وہ چین سے کیا لڑیں گے، جنھیں خود کے آپسی تضادات سے فرصت نہیں ہے۔ نارتھ ایسٹ (شمال مشرقی ہندوستان) میں تعینات آرمی آرڈنینس کور کی جو نئی کرتوتیں سامنے آئی ہیں، وہ حیرت سے بھری ہوئی ہیں۔ اعلیٰ افسروں کی بدعنوانی کے خلاف جس نے بھی شکایت کی، اسے یہاں پاگل قرار دینے کی مجرمانہ کوششیں ہو رہی ہیں۔ اگر کسی صحت مند آدمی کو پاگل ہونے کی حالت میں پہنچانے یا پاگل ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تو ہندوستانی قانون اسے نہایت سنجیدگی سے لیتا ہے۔ مجرمانہ سازش کرنے والے ایسے فرد یا افراد کے خلاف تعزیراتِ ہند کے تحت سخت سزا کی بات کہی گئی ہے۔ لیکن، یہ عام احساس ہے کہ ہندوستانی فوج کے کچھ بدعنوان افسروں میں ہندوستان کے قانون کا کوئی خوف نہیں ہے۔

Mastآسام میں سلچر کے پاس ماسم پور میں تعینات ہندوستانی برّی فوج کی 57 ماؤنٹین ڈویژن آرڈنینس یونٹ (ایم ڈی او یو) میں یہی سب کچھ ہو رہا ہے۔ اس یونٹ میں بالکل بغاوت کا عالم ہے۔ اوسط درجے کے افسروں اور عام فوجیوںمیں اپنے اعلیٰ افسروں کے بدعنوانی سے بھرے کارناموں اور ان کے ذریعے انتشار کا ماحول بنانے کے خلاف زبردست غصہ ہے۔ یہ ناراضگی کب کون سی مخالف شکل لے لے گی، کوئی نہیں کہہ سکتا۔ لیکن، کچھ فوجی ہی دبی زبان سے یہ کہتے ہیں کہ ایسے ہی حالات میں آئے دن مختلف فوجی یونٹوں میں آپس میں گولیاں چلتی ہیں اور لوگ مارے جاتے ہیں۔ مرنے والوں میں افسر بھی ہوتے ہیں اور عام فوجی بھی۔ حساس نارتھ ایسٹ میں تعینات فوج کی اکائیوں میں بن رہے ایسے غیر فوجی ماحول پر آرمی ہیڈ کوارٹر کوئی دھیان نہیں دے رہا ہے، جو کہ حیرانی کی بات ہے۔ آرمی آرڈنینس کور ہیڈکوارٹر میں بھی اس معاملے کو لے کر کسی طرح کی سرگرمی نہیں دکھائی دے رہی ہے، جب کہ شکایت آرڈنینس ہیڈ کوارٹر تک پہنچ چکی ہے۔

57 – ایم ڈی او یو کی ذمہ داری چین سے لگی بین الاقوامی سرحد پر دن رات چوکسی میں لگیں مختلف فوجی اکائیوں کو فوجی آرڈنینس سمیت سارے سازو سامان کی سپلائی کرنا ہے۔ اس کی گنتی جنگی اکائی (فیلڈ یونٹ) کی شکل میں ہوتی ہے، اس لیے وار اکاؤنٹنگ سسٹم کے تحت اس کا آڈٹ نہیں ہوتا۔ اس خصوصی اختیار کی آڑ میں اعلیٰ فوجی افسر کھل کر بدعنوانی میں ملوث ہیں۔ ان کے کالے کارناموں کے خلاف جو بھی افسر یا فوجی منھ کھولتا ہے، اس کا ٹرانسفر کرکے، اس پر حملے کراکر یا اسے پاگل قرار دے کر راستے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔ آرمی آرڈنینس کور کو اس میں مہارت حاصل ہے۔ غور طلب ہے کہ کچھ عرصہ پہلے سنٹرل کمانڈ کے آرمی آرڈنینس کور میں تعینات میجر آنند کمار کو پاگل ثابت کرنے کے بعد انہیں بے عزت کرکے نوکری سے نکالا گیا تھا۔ میجر آنند کمار کی غلطی یہی تھی کہ انہوں نے فوج کے حساس آرڈنینس کی فروخت باہری اور مشتبہ لوگوں کے ہاتھوں کیے جانے کا پردہ فاش کیا تھا، جس میں تمام اعلیٰ افسر ملوث تھے۔ وہی کرتوت اب پھر سے دوہرائی جا رہی ہے۔
ایسا کئی بار ہوا ہے کہ دہشت گردوں اور نکسلیوں کے پاس سے فوج کے جنگی سامان اور فوج کے ذریعے تیار کردہ فوجی آلات برآمد ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ اتر پردیش اور مدھیہ پردیش کے جنگلوں میں سرگرم ڈکیتوں کے پاس سے بھی فوج کے جنگی ساز و سامان پکڑے جا چکے ہیں۔ اتر پردیش کے مافیا ایم ایل اے مختار انصاری کے پاس سے تو فوج کی لائٹ مشین گن تک پکڑی جا چکی ہے۔ آرمی آرڈنینس کور کے میجر آنند کمار اور اتر پردیش پولس کے ڈی ایس پی شیلندر سنگھ یہی تو شکایت کر رہے تھے۔ میجر آنند کو نوکری سے نکال دیا گیا اور شیلندر سنگھ کو ڈی ایس پی کی نوکری سے استعفیٰ دینا پڑا۔ اور اب، یہی مخالفت صوبیدار اجے کمار سنگھ یا آرڈنینس ٹیکنیشین نائک سلیم خان یا آنریری کیپٹن پی این تیواری یا حولدار سریندر سنگھ کر رہے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ اُس بار شکایت کرنے والا ایک کمیشنڈ افسر تھا اور اِس بار جونیئر کمیشنڈ یا نان کمیشنڈ افسران شکایت کر رہے ہیں۔ ان میں نائک سلیم خان کو پاگل ثابت کرنے والا فارم 10- بھر کر فوج کے ذہنی امراض کے اسپتال (160 ملٹری ہاسپیٹل) میں جبراً بھرتی کرا دیا گیا۔ اس سے پہلے نائک سلیم خان کی بری طرح پٹائی بھی کی گئی۔ 160 ملٹری رپورٹ میں اس بات کی تصدیق بھی ہوئی کہ کمپنی حولدار میجر اور دیگر فوجیوں کے ہاتھوں سلیم خان کی بری طرح پٹائی کرائی گئی اور اُلٹا اسے پاگل قرار دے کر اسپتال میں ڈمپ کر دیا گیا۔ اسی طرح صوبیدار اجے کمار سنگھ پر فوج کے اندر قاتلانہ حملہ کراکر انہیں راستے سے ہٹانے کی کوشش ہوئی، جب کہ افسروں کی بدعنوانی کی شکایت کرنے والے دیگر لوگوں کا فوراً ٹرانسفر کر دیا گیا۔ حملے کی شکایت کرنے پر صوبیدار اجے کمار سنگھ کو عارضی ڈیوٹی پر باہر بھیج دیا گیا۔ شوہر کی سیکورٹی کے لیے فکر مند صوبیدار کی بیوی کو ڈی جی او ایس تک کو خط لکھ کر آگاہ کرنا پڑا۔
خیر، دیگر جنگی اسلحوں اور ساز و سامان کی غیر قانونی فروخت کے سلسلے میں ہم آپ کو یہ یاد دلاتے چلیں کہ فوج میں استعمال گولی کے خالی کھوکھے تک کی گنتی کرکے انہیں بحفاظت رکھے جانے کا التزام ہے۔ فائرنگ پریکٹس کرنے والے جوانوں سے گولیوں کے کھوکھے تک چنوا لیے جاتے ہیں۔ لیکن، اعلیٰ افسر حساس فوجی ساز و سامان کو کھلے بازار میں بیچ ڈالنے میں بھی نہیں ہچکچا رہے ہیں۔ آسام کے رنگا پہاڑ میں واقع ماؤنٹین ڈویژن کے امیونیشن پوائنٹ سے بھیجے گئے خالی امیونیشن اسٹیل باکس (ایچ ٹو اے باکس) کو باہری لوگوں کے ہاتھوں بیچ ڈالنے میں 57 ایم ڈی او یو کے کمانڈنگ افسر کرنل ارونیندر ٹھاکر نے کوئی پرہیز نہیں کیا اور اس سے حاصل پیسہ ہڑپ لیا۔ بھاری تعداد میں ایچ ٹو اے باکس باہر بیچنے کا پردہ فاش ایک ٹرک کے لیے خاموشی کے ساتھ جاری ہوئے گیٹ پاس سے ہو گیا۔ میجر اے چوہان کے دستخط سے جاری گیٹ پاس 57 ایم ڈی او یو میں چل رہے گورکھ دھندے کا خلاصہ کرتا ہے۔ فوج کے امیونیشن باکس کو سول میں بیچنا فوجی جرائم کے زمرے میں آتا ہے، لیکن فوجی ذرائع کہتے ہیں کہ یہ غیر قانونی کام بغیر کسی روک ٹوک کے چل رہا ہے۔ اس معاملے کی شکایت پر 117 فیلڈ ریجمنٹ سے آئے جانچ افسروں نے ڈیفنس سیکورٹی سروِس کے آنریری کیپٹن پی این تیواری یا دیگر کسی بھی متعلقہ افسر یا ملازم سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی۔ اس درمیان صوبیدار پی اے خان سمیت کئی افسران و ملازمان کا کسی دوسری جگہ تبادلہ بھی کر دیا گیا۔
اس سے بھی حیران کر دینے والا واقعہ تو تب ہوا، جب نئے مقرر ہوئے تقریباً ڈیڑھ سو فائر مینوں (نان کامبیٹینٹ) کو ریگولر آرمی دکھا کر انہیں سال بھر سے زیادہ وقت تک فوج کا مفت راشن کھلایا جاتا رہا، جب کہ ان فائرمینوں سے گوشت خوری کے لیے فی کس 75 روپے اور سبزی خوری کے لیے فی کس 50 روپے وصول کیے جاتے رہے اور وصولی کی رقم ہڑپی جاتی رہی۔ قابل ذکر ہے کہ فوج میں صرف جنگی اکائیوں (کامبیٹینٹ یونٹس) کے افسروں اور جوانوں کو مفت راشن کی سہولت دستیاب ہے۔ فائر مینوں کو فوج کا مفت راشن دلانے کے لیے دستاویزوں میں گڑبڑی کی گئی۔ فرضی لوسٹ راشن سرٹیفکیٹ (ایل آر سی) بنوائے گئے، نام بدلے گئے، سبھی کو ریگولر آرمی کا جوان دکھایا گیا اور فری راشن کے نام پر فوج کو ایک بڑا اقتصادی نقصان پہنچایا گیا۔ فوج کی اعلیٰ اور سرکردہ انتظامیہ کا حال یہ ہے کہ یونٹ کا پریڈ اسٹیٹمنٹ یا ایشو راشن رجسٹرار تک چیک نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی ایک فائر مین کو بلاکر اس کا بیان ریکارڈ کرنے کی بنیادی ذمہ داری کو پورا کرنے کا کام کیا گیا۔ فرضی دستاویز بنا کر فوج کی سپلائی کے راشن ڈراء کرنا اور اسے غیر فوجیوں کو کھلانا جرم ہے، لیکن اس جرم پر کوئی لگام نہیں ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ہندوستانی فوج میں ایک فوجی کو ہر دن 620 گرام آٹا؍ چاول، 480 گرام دودھ، 90 گرام دال، 185 گرام گوشت ؍ 12 انڈے، 90 گرام تیل، 9 گرام چائے کی پتی، 90 گرام پھل اور 220 گرام سبزی مفت دینے کا انتظام ہے۔
فوج کے اعلیٰ اور سرکردہ کمان کے پاس درج بالا ساری شکایتیں کی گئیں۔ یونٹ لائن کے تین چار تالابوں کی مچھلیوں کا سالانہ ٹھیکہ سکندر علی ٹھیکہ دار کو دے کر اس کا پیسہ کھا جانے سے لے کر اسٹور میں فرضی کمی دکھا کر کھلے بازار سے اونچی قیمتوں پر سامان خریدنے تک کی جانکاریاں اوپر دی گئیں۔ لیکن، کوئی ٹھوس نتیجہ نہیں نکلا۔ مقامی خریداری میں متعلقہ کاروباریوں کو ادائیگی بھی دکھائی گئی، لیکن اسٹور میں مال آیا ہی نہیں۔

مقامی خریداری کے نام پر بازار میں ہزاروں روپے کی ادائیگی دکھاکر پیسہ ہڑپ لیا گیا، لیکن مال اسٹور میں آیا ہی نہیں۔ اس کے باوجود اسٹور انچارج حولدار سریندر سنگھ کو جبراً اسٹاک ٹیک اووَر کرنے کا دباؤ ڈالا گیا۔ اس کی شکایت کرنے پر مناسب کارروائی کرنے کی بجائے سریندر سنگھ کا ہی تبادلہ کر دیا گیا۔ فوج کے ذرائع کا کہنا ہے کہ 57 ایم ڈی او یو کے اسٹور میں لی گئی تلاشی میں 12 ٹرک اضافی مال پڑا پایا گیا، جسے واپس لینے کا حکم ہوا۔ اس حکم پر دیگر فوجی یونٹوں سے ان کی ضرورت پوچھے بغیر سامان واپس کر دیا گیا، لیکن کچھ ہی دنوں کے بعد اسی سامان کی کمی دکھاکر اسے کھلے بازار سے اونچی قیمت پر مقامی خریداری کے تحت خرید لیا گیا۔ اسٹور میں پڑا اضافی سامان دیگر یونٹوں سے ان کی مانگ پوچھے بغیر واپس بھیج کر اسی سامان کو کھلے بازار سے خریدنے جیسے کئی سنگین گھوٹالے ہو رہے ہیں، لیکن کوئی دیکھنے سننے والا نہیں۔ صرف خانہ پری ہو رہی ہے۔ گھوٹالوں کی شکایت پر فوج نے آسام کے ڈِنگجانگ واقع 117 اِنفینٹری بریگیڈ کے بریگیڈیئر وِکاس رینا کی قیادت میں کورٹ آف انکوائری تشکیل کی۔ جانچ کمیٹی میں دو کرنل بھی شامل کیے گئے، لیکن جانچ کمیٹی نے شکایت کرنے والے صوبیدار اجے کمار سنگھ کا ہی بیان درج نہیں کیا۔ المیہ یہ ہے کہ جانچ کے لیے ہی صوبیدار کو 57 ماؤنٹین ڈویژن ہیڈکوارٹر کے آرڈر (نمبر 57387/3/A) کے تحت اگرتلہ واقع 301 لائٹ انفینٹری ریجمنٹ سے ماسم پور بھیجا گیا تھا۔ صوبیدار کو 9 سے 16 مئی تک ماسم پور میں روک کر رکھا گیا، لیکن ان کا بیان درج نہیں کیا گیا۔ جانچ ٹیم نے صرف حولدار سریندر سنگھ کا بیان درج کیا۔ ان سات دنوں میں جانچ ٹیم موج مستی کرتی رہی۔ صوبیدار اجے کمار سنگھ نے کورٹ آف انکوائری کے سربراہ بریگیڈیئر وِکاس رینا کو رجسٹرڈ پوسٹ سے بیان بھیجا، پھر بھی اسے لینے سے انکار کر دیا گیا۔ جانچ ٹیم کو ایسا غیر قانونی کام نہیں کرنا چاہیے تھا۔ مزاحیہ بات تو یہ ہے کہ بنیادی شکایت کرنے والے کا بیان درج کیے بغیر ہی کورٹ آف انکوائری ختم بھی ہو گئی اور اب سمری آف ایویڈنس کی تیاری ہو رہی ہے۔ اس سے پہلے بھی صوبیدار اجے کمار سنگھ کی شکایت کی جانچ کے لیے 117 ویں فیلڈ ریجمنٹ کے کمانڈنگ افسر کرنل پی ایس ودھونس کو حکم دیا گیا تھا، لیکن اس جانچ کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اور، جب بریگیڈیئر سطح کے سرکردہ افسر وِکاس رَینا کو جانچ کی ذمہ داری سونپی گئی، تب بھی معاملے ڈھاک کے تین پات ہی رہا۔ 57 ایم ڈی او یو میں چل رہے گھوٹالے میں کمانڈنگ افسر کرنل ارونیندر ٹھاکر اور صوبیدار میجر مدن لال کے براہِ راست رول کی شکایت کی گئی ہے۔ جانچ غیر جانبدارانہ ہوتی، تو پورا نیکسس سامنے آ جاتا۔
آپ کو یاد ہی ہوگا کہ فوجیوں کو ایکسپائرڈ غذائے خوردنی سپلائی کیے جانے کے معاملے میں آرمی سروِس کور کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایس کے ساہنی کا کچھ ہی عرصہ پہلے کورٹ مارشل کرکے جیل بھیجا جا چکا ہے۔ فوج میں غذائی گھوٹالے کے کچھ دیگر الزام بھی جنرل ساہنی پر ثابت ہوئے تھے۔ اب تک لیفٹیننٹ جنرل سطح کے دو ہی افسروں کو اس طرح سزا ملی ہے۔ سُکنا زمین گھوٹالے میں لیفٹیننٹ جنرل پی کے رتھ کو بھی کورٹ مارشل کی کارروائی جھیلنی اور سزا بھگتنی پڑی۔ سُکنا گھوٹالے میں ہی لیفٹیننٹ جنرل اودھیش پرکاش کو صرف جبراً اپنی مرضی سے رِٹائرمنٹ لینے بھر سے ہی نجات مل گئی تھی۔
اس سے پہلے آرمی آرڈنینس فیکٹری بورڈ کے ڈائرکٹر جنرل سدیپت گھوش اور تین دیگر لوگوں کو بھی سی بی آئی رنگے ہاتھوں پکڑ چکی ہے۔ ڈی جی نے غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ ملی بھگت کرکے کئی دیگر سودے طے کرائے تھے۔ آرڈنینس فیکٹری بورڈ کا ہیڈکوارٹر کولکاتا میں ہے اور یہیں سے فوج کے جنگی سامان بنانے والی 40 فیکٹریاں چلائی جاتی ہیں۔ ہتھیار ڈیلر سدھیر چودھری اور اس کے ساتھی پردیپ رانا نے مل کر زمین سے آسمان میں مار کرنے والی اوسط رینج کی میزائل بنانے کی 10 ہزار کروڑ کی ڈیل او ایف بی کے ڈی جی سے ساز باز کرکے کی تھی۔ یہ ڈیل اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز سے ہوئی تھی، جس کے عوض میں چھ سو کروڑ کا کمیشن لیا گیا تھا۔ اسی ڈیل کے تحت بہار کے نالندہ میں 12 سو کروڑ کی لاگت سے آرڈنینس فیکٹری کا لگنا طے ہوا تھا، جس میں بوفورس گوپ کے گولے اور دیگر جنگی سامان بنائے جاتے۔ بعد میں راز کھلنے پر سرکار نے اسرائیلی کمپنی سمیت تقریباً درجن بھر ایسی کمپنیوں سے قرار ردّ کر دیے تھے۔ اسی طرح سو کروڑ کے دفاعی سودا گھوٹالے میں اے ڈی جی (ٹیکنیکل اسٹور) میجر جنرل انل سوروپ کا نام آ چکا ہے۔ یہ گھوٹالہ اجاگر ہونے کے بعد میجر جنرل انل سوروپ نوئیڈا کے سیکٹر 44 واقع اپنی رہائش گاہ سے پراسرار طریقے سے غائب ہو گئے تھے۔ بعد میں یہ راز بھی کھلا کہ فوج نے خود ہی میجر جنرل انل سوروپ کو اغوا کر رکھا تھا۔ فوج کہتی ہے کہ انہیں پوچھ گچھ کے لیے لے جایا گیا تھا، جب کہ فوج کے ذرائع کہتے ہیں کہ دفاعی سودے میں پھنسے سرکردہ افسروں کو جال سے باہر نکالنے کی کوشش ہو رہی تھی۔

فوج کے بھی بڑے سہاگ بھاگ …
سکنا زمین گھوٹالے سے اچانک سرخیوں میں آئی ہندوستانی فوج کی مشرقی کمان ایک طرف اپنے فرائض منصبی اور عزائم کو پورا کرنے کے لیے، تو دوسری طرف کچھ افسروں کی بدعنوانی پر مبنی کرتوتوں کی وجہ سے جانی جا رہی ہے۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ سکنا زمین گھوٹالے میں لیفٹیننٹ جنرل اودھیش پرکاش کو اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔ مشرقی کمان میں پھیلی بدعنوانی پر لگام کسنے کی جدو جہد کے سبب ہی مشرقی کمان کے اس وقت کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل وی کے سنگھ اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل دیپک کپور کی تنا تنی سرخیوں میں رہی تھی، جس کا خمیازہ آرمی چیف بننے کے بعد وی کے سنگھ کو اپنی تاریخ پیدائش کو لے کر بھگتنا پڑا تھا۔ لیکن، یہ بھی سچ ہے کہ تین منی پوری نوجوانوں کو فرضی مڈبھیڑ میں مارے جانے کے سبب یہ مشرقی کمان دنیا بھر میں بدنام ہوئی۔ مدعالیہ کی فہرست میں اس افسر کا نام بھی شامل تھا، جسے یو پی اے سرکار نئے آرمی چیف کے طور پر نامزد کرکے گئی اور این ڈی اے سرکار نے آتے ہی اس کے نام پر رضامندی کی ناسمجھ مہر لگا دی۔
جی ہاں، اس افسر کا نام لیفٹیننٹ جنرل دلبیر سنگھ سہاگ ہے۔ سہاگ کو آرمی چیف بنانے کے لیے منی پور مڈبھیڑ کانڈ کے مدعالیہ کی فہرست سے ان کا نام ہٹایا گیا۔ اس کی وجہ سے تین تین افسروں کے نام اس فہرست سے ہٹانے پڑے۔ مزیدار پہلو یہ ہے کہ خود مرکزی حکومت مدعالیہ کی فہرست میں رہ گئی، لیکن سہاگ کا نام ہٹا دیا گیا۔ وہی سہاگ اب ہندوستانی فوج کے جھنڈا بردار بنیں گے۔ یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ منی پور مڈبھیڑ کانڈ بھی فوجی خفیہ یونٹ کے افسر میجر ٹی روی کرن کے سبب اجاگر ہو سکا، جنہوں نے اپنے سینئر افسروں کو خط لکھ کر یہ بتایا کہ تین بے قصور منی پوری نوجوانوں آر کے رونیل، فزام ناؤبی اور ٹی اچ پریم کو کس طرح سے کرنل گوپی ناتھ شری کمار، میجر روبینہ کور کھیر اور میجر نیکٹر باؤم نے مارا تھا۔ اس فرضی مڈبھیڑ کے پیچھے کس سرکردہ افسر کی سازش اور ہدایت تھی، اس پر سب خاموش ہیں؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *