کانگریس کی ہار کا سبب مسلم نوازی نہیں، مسلمانوں کو بے وقوف سمجھنے کی بھول تھی

ڈاکٹر قمر تبریز
p-3سابق وزیر دفاع اور کانگریس کے سینئر لیڈر اے کے انٹونی، جو خود اقلیتی طبقہ، یعنی عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، نے حال ہی میں ایک متنازع بیان دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 2014 کے عام انتخابات میں کانگریس پارٹی کو شرمناک شکست کا سامنا اس لیے کرنا پڑا، کیوں کہ پارٹی کا جھکاؤ مسلم طبقہ کی طرف زیادہ تھا۔ اس کی وجہ سے دوسری قوموں میں یہ پیغام گیا کہ کانگریس پارٹی پوری طرح سے مسلم نواز ہے اور اسی وجہ سے کانگریس کی سیکولر شبیہ پر لوگوں نے شک کرنا شروع کر دیا۔
یہاں پر دو سوال اٹھتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ کانگریس پارٹی نے یہ بیان اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے ہی اپنے ایک لیڈر سے کیوں دلوایا؟ دوسرے یہ کہ کیا اب کانگریس پارٹی مسلمانوں کے لیے کوئی بھی کام نہیں کرے گی؟ پہلے سوال کا جواب تو یہ ہے کہ ہر بار کے لوک سبھا الیکشن کے بعد کانگریس پارٹی اپنی شکست کے اسباب جاننے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دیتی ہے اور اتفاق سے پچھلے دو بار سے اس کمیٹی کی سربراہی اے کے انٹونی کو ہی سونپی جا رہی ہے۔ لیکن حیرانی اس بات پر ہے کہ انٹونی بھی مسلمانوں کی طرح اقلیتی طبقے سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی پارٹی یا کانگریس کی قیادت میں چلنے والی یو پی اے سرکار نے اقلیتوں کی ترقی اور ان کی پس ماندگی کو دور کرنے کے لیے کتنی سنجیدگی سے کام کیے ہیں، یہ بات تو کم از کم انہیں معلوم ہونی ہی چاہیے۔ یا پھر یہ سمجھ لیا جائے کہ کانگریس نے انہیں چونکہ وزیر دفاع کے عہدہ پر، اقلیتی سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر منموہن سنگھ کو وزیر اعظم کے عہدہ پر اور مسلم اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے محمد حامد انصاری کو نائب صدر کے عہدہ پر فائز کر دیا تھا، اس لیے تینوں اقلیتوں کے مسائل حل ہو گئے ہیں؟ ہر گز نہیں، بلکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اسی طرح پہلا آر ٹی آئی کمشنر وجاہت حبیب اللہ کو بناکر، ایس وائی قریشی کو چیف الیکشن کمشنر، غلام ای واہن وَتی کو اٹارنی جنرل اور آصف ابراہیم کو آئی بی چیف بناکر کانگریس نے کافی ڈھنڈورا پیٹا، لیکن ان تمام بڑے عہدوں پر مسلمانوں کی تقرری سے ہندوستان کے عام مسلمانوں کو کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچا۔
سچائی تو یہ ہے کہ کانگریس خود کو حد سے زیادہ عقل مند اور دوسروں کو بیوقوف سمجھتی ہے۔ اس نے ملک کے عوام سے جڑنے کی پالیسی پر کبھی عمل نہیں کیا، بلکہ اس پارٹی کا مزاج شروع سے ہی سرمایہ دارانہ رہا ہے۔ جواہر لعل نہرو اور اندرا گاندھی کے زمانے میں کانگریس پارٹی ملک بھر کے بڑے بڑے زمینداروں، سرمایہ داروں اور ہر علاقے کے با اثر لوگوں سے سیدھے رابطہ بنا کر رکھتی تھی اور انہیں خوش کرنے کے بعد، ان کے ہی توسط سے ہر علاقے کے لوگوں کے ووٹ بڑے پیمانے پر حاصل کرتی تھی۔ کانگریس کا کوئی بھی بڑا لیڈر کبھی بھی ملک کے غریب عوام کے پاس گیا ہی نہیں اور نہ ہی ان کے مسائل کو جاننے اور پھر ان مسائل کو حل کرنے کی کبھی کوشش کی۔ لہٰذا، اقلیتوں کی فلاح و بہبود سے متعلق جب اس پارٹی نے سوچنا اور کام کرنا شروع کیا، تو اس کا طریقہ بھی وہی اپنایا، جو اس کے ذریعے شروع سے عوام کے ووٹ حاصل کرنے کا طریقہ رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگ، چاہے وہ سکھ ہوں، عیسائی ہوں، جین ہوں، مسلمان ہوں یا پارسی ہوں، ترقی کی راہ میں آگے بڑھنے کے بجائے دنوں دن اور پیچھے ہوتے چلے گئے۔ جب کہ دوسری طرف پارٹی نے تین اقلیتی طبقوں، یعنی سکھ، عیسائی اور مسلمانوں میں سے ایک ایک کو ملک کے تین بڑے عہدوں پر فائز کرکے صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کی کہ اس ملک کی اقلیتیں پوری طرح سے محفوظ ہیں اور دوسری قوموں کے ساتھ ترقی کی دوڑ میں بھی شامل ہیں۔ لیکن زمینی حقیقت ایسی ہے نہیں۔
مسلمانوں کی بات کریں، تو سال 2005 میں سچر کمیٹی کی تشکیل کرکے کانگریس کی قیادت والی یو پی اے سرکار نے یہ پتہ لگانے کی کوشش کی کہ آزادی کے بعد سے اب تک ملک میں رہنے والی سب سے بڑی اقلیت، یعنی مسلمانوں کی مختلف شعبوں میں صورتِ حال کیا ہے۔ اس کمیٹی کی رپورٹ جب منظر عام پر آئی، تو پتہ چلا کہ مسلمانوں کی حالت اس ملک میں دلتوں سے بھی بدتر ہے اور وہ زندگی کے ہر شعبے میں پچھڑے ہوئے ہیں۔ اب، جب سرکار کو یہ بات معلوم ہو ہی گئی تھی کہ مسلم سماج زندگی کے ہر شعبے میں پچھڑا ہوا ہے، تو آئینی رو سے یہ اس کی ذمہ داری تھی کہ وہ ان کے پچھڑے پن کو دور کرنے کے لیے سنجیدگی سے عمل کرتی، لیکن اس نے کام کرنے سے زیادہ ڈھول پیٹا اور ہر بات کے لیے مسلمانوں پر احسان جتایا اور پھر کبھی ریزرویشن کے نام پر، تو کبھی طلبہ کو وظیفہ کے نام پر اور کبھی مدرسوں کی تجدید کاری اور وقف املاک کی حفاظت کا وعدہ کرکے انہیں خوب بیوقوف بنایا۔

کانگریس کی قیادت والی پچھلی یو پی اے سرکار نے بھی جب سچر کمیٹی کی سفارشات کو نافذ کرنا شروع کیا، تو اس کے لیے اس نے غریب مسلمانوں سے براہِ راست رابطہ نہیں بنایا، بلکہ مسلمانوں کے درمیان سے ہی چند دلالوں کا انتخاب کیا اور پھر اپنا کمیشن رکھنے کے بعد سچر کمیٹی کی سفارشوں کے نفاذ کی رقم ان کے سپرد کردی، جنہوں نے خود کھایا اور اپنے جاننے والوں کو بھی جی بھر کر کھلایا اور دوسری طرف بیچارہ غریب مسلمان جہاں تھا، وہیں رہا اور اس بات کا انتظار کرتا رہا کہ کانگریس سرکار ان کی بھلائی کے لیے اب کچھ کرے گی، اب کچھ کرے گی۔

کام کرنے کا طریقہ تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ کی طرح مشرا کمیشن کی رپورٹ کو بھی پارلیمنٹ کی میز پر رکھنا چاہیے تھا۔ مشرا کمیشن کے مواد کو تو ’چوتھی دنیا‘ نے شائع بھی کر دیا تھا اور یہ پارلیمنٹ میں موضوعِ بحث بھی بنا تھا۔ سچر رپورٹ کے منظر عام پر آ جانے کے بعد مسلمانوں کو مذہب کے نام پر نہیں، بلکہ ان کی پس ماندگی کے نام پر انہیں ریزرویشن دیا جانا چاہیے تھا، یا اگر ریزرویشن نہیں دینا تھا، تو کم از مختلف سرکاری اور دیگر شعبوں میں ان کے لیے الگ سے کوئی انتظام کیے جانے چاہیے تھے اور وہ بھی خاموشی کے ساتھ۔ لیکن کانگریس نے ایسا کبھی نہیں کیا، بلکہ اگر اس نے مسلمانوں کی پس ماندگی کو دور کرنے کے لیے کوئی ایک کام کیا، تو اسے دس گنا بڑھا کر بتایا۔ اسی لیے جب مسلمانوں نے خود کو ٹھگا ہوا محسوس کیا، تو وہ کانگریس سے دور ہوتے چلے گئے۔ تاریخی طور پر بھی اگر دیکھا جائے، تو مسلمانوں کے حوالے سے کانگریس کی نیت کبھی صاف رہی ہی نہیں۔ پنڈت جواہر لعل نہرو کی مادری زبان اردو تھی۔ اس زبان سے وہ اتنا محبت کرتے تھے کہ اپنی شادی کا کا کارڈ بھی انہوں نے صرف اردو زبان میں ہی چھپوایا تھا۔ لیکن جب وہ ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم بنے، تو انہوں نے اتر پردیش میں اس وقت آزادی کے پہلے سے چلے آر ہے اردو میڈیم سرکاروں اسکولوں کو بند کروا دیا۔ ایڈمنسٹریٹو سروِسز، فوج، پولس اور اس قسم کی دیگر بڑی سرکاری نوکریوں میں سے غیر اعلانیہ طور پر مسلمانوں کی تعداد کو گھٹایا جانے لگا۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک سول سروسز میں مسلمانوں کی نمائندگی کبھی بھی 5 فیصد سے آگے گئی ہی نہیں۔ فوج اور پولس میں بھرتی کا وہی متعصبانہ پیمانہ اپنایا گیا، جو انگریزوں نے اپنایا تھا۔ انگریزوں نے ہندوستان کی تمام قوموں کو مارشل ریس (لڑاکو قوم) اور نان مارشل ریس (غیر لڑاکو قوم) میں تقسیم کر دیا تھا، جو کہ تعصب کی بنیاد پر تھا۔ دراصل، 1857 کی بغاوت کا ذمہ دار چونکہ انگریز مسلمانوں کو مانتے تھے، اس لیے انہوں نے مسلمانوں سے چڑ کر انہیں ’نان مارشل ریس‘ قرار دے دیا اور پھر فوج اور پولس سے ان کی چھنٹنی کا سلسلہ شروع کر دیا۔ کانگریس نے بھی بعد کے دنوں میں وہی کیا اور مسلمانوں کو ان دونوں بڑی اور معزز نوکریوں سے دور رکھا، جس کا خمیازہ مسلمانوں کو مختلف فرقہ وارانہ فسادات کی شکل میں آج بھی بھگتنا پڑتا ہے۔
کانگریس کی قیادت والی پچھلی یو پی اے سرکار نے بھی جب سچر کمیٹی کی سفارشات کو نافذ کرنا شروع کیا، تو اس کے لیے اس نے غریب مسلمانوں سے براہِ راست رابطہ نہیں بنایا، بلکہ مسلمانوں کے درمیان سے ہی چند دلالوں کا انتخاب کیا اور پھر اپنا کمیشن رکھنے کے بعد سچر کمیٹی کی سفارشوں کے نفاذ کی رقم ان کے سپرد کردی، جنہوں نے خود کھایا اور اپنے جاننے والوں کو بھی جی بھر کر کھلایا اور دوسری طرف بیچارہ غریب مسلمان جہاں تھا، وہیں رہا اور اس بات کا انتظار کرتا رہا کہ کانگریس سرکار ان کی بھلائی کے لیے اب کچھ کرے گی، اب کچھ کرے گی۔ مدرسوں کی تجدید کاری کے نام پر بھی جو رقم مرکزی سرکار کے خزانے سے ریلیز کی گئی، وہ چند دلال قسم کے ملاؤں تک تو پہنچی، مدرسوں میں پڑھنے والے غریب طلبہ تک کبھی نہیں پہنچ پائی۔ مسلم لڑکیوں کے لیے کہیں بھی ہوسٹل نہیں بنائے گئے، اسکولوں میں کبھی بیت الخلاء نہیں بنائے گئے، جن علاقوں میں مسلم طالب علم ایک ہی کمرے کے گھروں میں رہتے ہیں، وہاں پر سچر کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر الگ سے لائبریری یا اسٹڈی روم نہیں بنائے گئے، جہاں پر وہ یکسوئی سے بیٹھ کر اپنے امتحانات کی تیاری کر سکیں۔ ان سب کے باوجود کانگریس کے لیڈر لگاتار جھوٹ بولتے رہے اور ملک کے مختلف اخباروں کے نامہ نگاروں اور ایڈیٹروں کو پیسہ کھلا کر اور انہیں ہوائی جہاز کا تفریحی سفر کراکر اپنی قصیدہ گوئی ان کے اخباروں میں کراتے رہے کہ سچر کمیٹی کی دو چار کو چھوڑ کر تمام سفارشات نافذ کر دی گئی ہیں۔
انٹونی صاحب کو کانگریس پارٹی کی یہ ساری خامیاں نظر نہیں آئیں۔ انہیں تو یہ کہنا چاہیے تھا کہ کانگریس نے پالیسیاں تو مسلمانوں کے تعلق سے اچھی بنائی تھیں، لیکن انہیں نافذ کرنے کا صحیح میکانزم اختیار نہیں کیا تھا اور اس کے باوجود چونکہ کانگریسی لیڈران جھوٹ بول کر اور مسلمانوں کے تعلق سے بنائی اسکیموں کو چڑھا بڑھا کر بیان کر رہے تھے، اس لیے مسلمانوں نے کانگریس کو ووٹ نہیں دیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کانگریس عام انتخابات میں بری طرح ہار گئی۔ انٹونی کو کانگریس پارٹی کو ایک مشورہ اور دینا چاہیے کہ سیکولر ازم کا مطلب صرف ’مسلمان‘ ہی نہیں ہوتا، بلکہ سیکولر ازم کا مطلب سب کو یکساں مواقع فراہم کرنا اور سب کے ساتھ یکساں سلوک کرنا ہوتا ہے۔
کانگریس سے یہ غلطی ضرور ہوئی ہے کہ اس نے سیکولرازم کا مطلب صرف مسلمان سمجھ لیا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیکولر ازم کی اس تعریف سے کانگریس باہر نکلے اور پارٹی کے اندر سے ان تمام لوگوں کو باہر کا راستہ دکھائے، جو نعرہ تو سیکولر ازم کا دیتے ہیں، لیکن کام کمیونل ازم کا کرتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *