سی آئی اے کئی ملکوں میں اقتدار کی تبدیلی کرا چکی ہے

ارون تیواری

فورڈ فاؤنڈیشن کے ذریعے چلنے والی تنظیموں اور ان میں کام کرنے والے سماجی کارکنوں کو ہندوستان میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ بات جگ ظاہر ہے کہ فورڈ فاؤنڈیشن سی آئی اے کی ایک برانچ کی طرح کام کرتی ہے اورسی آئی اے دنیا بھر میں امریکی پالیسیوں اور امریکی مفاد کے لیے کام کرتی ہے۔اپنے مقصد کے لیے سی آئی اے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ ہندوستان میں سی آئی اے غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعہ امریکی ایجنڈے کو نافذ کرانے پر آمادہ ہے۔ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اقتدار کی تبدیلی کے نام پرکئی سانحوں کو جنم دیا ہے اور ان ملکوں کے معصوم لوگوں کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔

p-4bدنیا میں اپنی طاقت کا لوہا منوانے کے لیے دوسرے ملکوں میں اقتدار میں تبدیلی کرانے کی امریکی حکمت عملی جگ ظاہر ہے۔ عراق کا حال دنیا کے سامنے ہے۔ صدام حسین پر مختلف الزام لگا کر انھیں اقتدار سے بے دخل کردیا۔ افسوسناک بات یہ رہی کہ امریکہ نے اپنی داداگیری کا نمونہ صاف طور پر پیش کیا ، لیکن کسی بھی طاقتور ملک نے اس کی مخالفت نہیں کی۔ ملک میں صدام کا دور ختم ہو جانے کے بعد وہاں کے حالات نہیں سنبھلے، بلکہ اور زیادہ بدتر ہوگئے۔ آج وہاں خانہ جنگی چل رہی ہے۔
کم وبیش یہی حالات شام کے بھی ہیں۔ فری سیرین آرمی اور بشارالاسد کی فوجوںکے بیچ چل رہی جنگ میں ملک کے کئی حصے تباہ ہوچکے ہیں۔ ایران میں بھی اگر خانہ جنگی جیسے حالات نہیں ہیں، تو وہاں کی اقتصادی حالت بہت ہی برے دور میں پہنچ چکی ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ یہ سبھی ملک امریکی مداخلت کے پہلے تک اقتصادی اور سماجی طور پر مستحکم تھے۔ ان ملکوں کے اندر تھوڑی بہت ہلچل ضرور رہی تھی، لیکن ان کی حالت اتنی خراب نہیں تھی۔ تو کیا ان ملکوں میں رہنے والے کروڑوں عوام کے ساتھ انصاف کے لیے امریکہ کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے؟
اقتدار کی تبدیلی کے لیے امریکہ کئی بار راست طور پر تو کبھی بالواسطہ طور پر فعال رہتا ہے۔ اس کے ان خفیہ پروگراموں کو اکثر سی آئی اے کے ذریعہ کنٹرول کیا جاتا ہے۔یہ تبدیلی کئی بار امریکہ کی شمولیت سے ہوتی ہے، تو کبھی شدت پسندوں کو فنڈنگ اور ٹریننگ دے کر تیار کیا جاتا ہے۔ اس میں اُس ملک کی سرکار کے خلاف لوگوں کو تیار کرنا اور فوجی بغاوت جیسے کام سی آئی اے کے ذریعے کرائے جاتے ہیں۔ کئی بار امریکہ نے راست طور پر فوجی مداخلت کے ذریعے بھی اقتدار میںتبدیلی کرائی ہے، جس میں 1989میں پناما میں امریکی حملہ او ر سال 2003میں عراق پر حملہ شامل ہے۔
اس کے علاوہ امریکہ کئی ملکوں کی اپوزیشن پارٹیوں کو بھی بغیر کسی وجہ کے حمایت دیتا رہا ہے، جس سے کسی بھی ملک کی سرکار کو اکھاڑ کر پھینکا جاسکے۔ اس کی مثال چلی اور اٹلی جیسے ملک ہیں،جہاں سی آئی اے سے فنڈ حاصل کرنے والی اینٹی کمیونسٹ اپوزیشن پارٹیوںنے سرکار کی مخالفت کی۔ امریکہ کی دوسرے ممالک میں مداخلت کرنے کی شروعات روسی بولشیوک انقلاب کے بعد سے ہی شروع ہو گئی تھی۔تب اس نے روس میں سرکار مخالف گروپ کو حمایت دینی شروع کر دی تھی۔اس کے علاوہ سرد جنگ کے دوران امریکہ نے مشرقی یوروپ اور سوویت سنگھ کی کمیونسٹ حکومتوںکے خلاف کھڑے گروپوں کی مسلسل حمایت کی۔ اگر دوسرے ملکوں کی بات کی جائے، تو 1946میں جمہوریت کا مزہ چکھنے والے شام کو تین سال کے اندر ہی فوجی بغاوت کا سامنا کرنا پڑا، جس سے ملک میں جمہوری سرکار کا خاتمہ ہوگیا۔ اس فوجی بغاوت کی قیادت کرنے والے شام کے آرمی چیف حسنی الزعیم نے چھ بار سی آئی اے کے افسروں سے ملاقات کی تھی۔ ایسا کہا جاتا ہے کہ زعیم نے امریکہ سے فنڈ او رفوجی مدد کے لیے فریادکی تھی،لیکن یہ انکشاف نہیں ہو سکا ہے کہ امریکہ نے اس کی مدد کی تھی یا نہیں۔ حالانکہ اقتدار میں آتے ہی زعیم نے امریکہ کے حق میں کئی قدم اٹھائے تھے۔
امریکہ کا شکار ہونے والے ملکوں میںایران کا نام آج سے شامل نہیں ہے۔ سال 1953میں امریکہ نے برطانیہ کے ساتھ مل کر ایران کی جمہوری سرکار کو اکھاڑنے کا کام کیا تھا۔ ایسا بتایا جاتا ہے کہ اس وقت کے ایرانی وزیراعلیٰ محمد مصدق نے ملک کی پیٹرولیم انڈسٹری کو نیشنلائز کرنے کی بات کہی تھی۔ اس کی وجہ سے ایرانی۔برطانوی تیل کمپنی کا منافع کم ہونے کا خوف پیداہوگیا تھا۔ سی آئی اے کے ذریعہ جاری کیے گیے کاغذات سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت برطانیہ ڈر گیا تھا اور اس نے امریکہ سے فریادکی تھی کہ ایران کی اس سرکار کو اکھاڑ کر ایک کٹھ پتلی سرکار بٹھادی جائے۔ اس آپریشن کی قیادت سی آئی اے افسرکیرمٹ روجویلٹ جونیئر نے کی تھی۔گواٹیمالا میں بھی امریکہ نے سی آئی اے کے تعاون سے1954میں جمہوری سرکارکو ہٹوانے میں اہم شرکت نبھائی تھی۔
اس کے علاوہ بھی ایسے ملکوں کیطویل فہرست ہے ، جن میں امریکہ نے سی آئی اے کے ذریعہ یا تو براہ راست فوجی مداخلت کی یا پھر بالواسطہ طور پر سرکار کو ہٹانے کے لیے مخالفین کی مدد کی۔ ان میں کیوبا، انڈونیشیا، کانگو، جنوبی ویتنام، گھانا، برازیل،چلی، ارجنٹینا ، افغانستان، ترکی،پولینڈ اور نکارگوا جیسے ملک شامل ہیں۔ یہ فہرست یہیں آکر نہیںرکتی اوربھی ایسے کئی ملک ہیں، جن کا ذکر یہاں نہیںکیا جاسکا ہے۔ امریکہ ایک عالمی طاقت ہے۔ عالمی طاقت ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ دنیا میں اس کی پالیسیاں قائم ہوں۔ امریکی خفیہ ایجنسی کی سب سے بڑی ذمہ داری دنیا بھر میں امریکی پالیسیوں کو نافذ کروانا ہے اور اس کے لیے حمایت حاصل کرنا ہے۔ اسی مقصد کو پورا کرنے کے لیے امریکہ نے کبھی جمہوریت کے نام پر، کبھی انسانی حقوق، کبھی جوہری اور نسل کشی کے ہتھیار کے بہانے بناکر مخالفت کرنے والی سرکاروں کو گرانے کا کام کیا ہے۔ ہندوستان جیسے ملک میں اقتدار میں تبدیلی کرانا مشکل ہے، کیونکہ یہاںفوجی بغاوت نہیں ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی ایجنسیاں غیرسرکاری تنظیموں کے ذریعے اپنے مفاد حاصل کرنے کا کام کرتی ہیں۔ ملک میں پھیلے بیچینی کے جذبات کو بھڑکاکر یہ ایجنسیاں پانی، جنگل، زمین، روزگار، ماحولیات، تو کبھی لوک پال کے نام پر ہندوستان کے جمہوری اداروں کو تباہ کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔ ملک کے عوام کو ایسی غیر سرکاری تنظیموں سے محتاط رہنا چاہیے، جو غیر ملکی پیسے سے چلتی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *