بہار ماڈل کو آگے بڑھایا جائے گا: جتین رام مانجھی

4-inteviewگزشتہ پارلیمانی انتخابات میں جے ڈی یو کی بہت ہی خراب کارکردگی کے پیش نظر بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے استعفیٰ دے کر جس شخص کے ہاتھ میں ریاست کی باگڈور سونپی ، وہ مہا دلت طبقہ سے تعلق رکھنے والے سینئر سیاستداں جتین رام مانجھی ہیں۔جو کہ اس بار خود پارلیمانی انتخاب ہار گئے تھے ۔نئے وزیر اعلیٰ آئندہ ڈیڑھ سال سال میں بہار کی ترقی کا کیا منصوبہ ذہن میں رکھتے ہیں، اس سوال اور دیگر نکات پر ’’چوتھی دنیا ‘‘ کے بہار کے نمائندہ اشرف استھانوی نے جو تفصیلی بات چیت کی، اس کے اہم اقتباسات پیش کئے جا رہے ہیں

آپ بہار کے ایک سینئر سیاست داں ہیں۔ گزشتہ چار دہائیوں سے بھی زیادہ عرصے سے آپ ریاستی اسمبلی کے لیے منتخب ہوتے چلے آرہے ہیں۔ وزیر کی حیثیت سے بھی کام کرتے رہے ہیں۔ لیکن وزیراعلیٰ کا عہدہ جس طرح خود چل کر آپ کے پاس آیا۔ اس کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں اور وزیر اعلیٰ کے عہدہ پر فائز ہو کر آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں؟
یہی تو جمہوریت کا کمال ہے۔ جمہوریت میں کب راجا رنک ہو جائے گا اور رنک راجا بن جائے گا، کوئی نہیں جانتا۔ جمہوریت میں کوئی خاص حکمراں طبقہ نہیں ہوتا۔ اس میں سب کے لیے یکساں مواقع ہوتے ہیں۔ اگر آپ عوامی زندگی میں ایماندار اور ذمہ دار ہیں تو آپ کو سماج، دیش اور پردیش کی خدمت کا موقع ملتا ہی ہے۔ پھر بھی یہ کام چونکہ عوام اور اُن کے ذریعہ منتخب عوامی نما ئندوں کی مدد اور تعاون کے بغیر ممکن نہیں، اس لیے میں اس کے لیے اپنے انتخابی حلقہ سمیت پوری ریاست کے عوام، تمام ارکانِ قانون سازیہ بالخصوص نتیش کمار جی کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے مجھے خدمت کا اتنا بڑا موقع عنایت کیا۔ ظاہر ہے کہ اتنا بڑا عہدہ پا کر کوئی بھی انسان خاص طور پرمہا دلت طبقے سے آنے والا انسان خوش ہوگا ہی۔ مگر اس کے ساتھ ہی کچھ بڑی ذمہ داریاں بھی ہمارے کندھوں پر آگئی ہیں۔ اس لیے ذمہ داری کا احساس اور دبائو بھی ہے۔ اسے ہم نے چیلنج کے طور پر قبول کیا ہے۔ ہم ان ذمہ داریوں کو نبھانے اور توقعات پر پورا اُترنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔
کہاجا رہا ہے کہ آپ ایک کمزور اور شیڈولڈ وزیر اعلیٰ ہیں۔ اس لیے افسران آپ کے حکم کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں؟
جواب :- بالکل نہیں! یہ آپ سے کس نے کہہ دیا؟ وزیر اعلیٰ وزیر اعلیٰ ہوتا ہے۔ اُس کی طاقت عوام، عوام کے ذریعہ منتخب نمائندے اور آئینی تحفظات ہوتے ہیں۔ جب تک آپ کے ساتھ ریاست کی عوام اور اُن کے ذریعہ عطا کی گئی اکثریت کی طاقت ہوتی ہے، حکومت مضبوطی کے ساتھ چلتی ہے۔ افسران کو منتخب حکومت کے احکام پر عمل کرنا ہی ہوتا ہے۔ یہ اُن کی منصبی ذمہ داری ہوتی ہے۔ چنانچہ میری حکومت میں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ افسران ہمارے احکام پر پوری سنجیدگی کے ساتھ عمل کر رہے ہیں۔ حکم عدولی یا عدم تعاون کا کوئی معاملہ نہیں ہے۔
ریاست میں حکمراں جماعت جنتادل یو میں آپ کی حکومت کے قیام اور کابینہ کی توسیع کے بعد کافی اُتھل پتھل مچی ہوئی ہے۔ ناراض ارکانِ اسمبلی کی تعداد لگاتار بڑھتی جا رہی ہے۔ ایسے میں یہ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آپ کی حکومت بقیہ میعاد پوری نہیں کر پائے گی اور قبل از وقت اسمبلی انتخابات کرائے جا سکتے ہیں۔اس پر آپ کا کیا کہنا ہے؟
میری حکومت کو ناراض عناصر کی سرگرمیوں یا اپوزیشن بی جے پی کی سازشوں سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ میری حکومت اپنی میعاد پوری کرے گی اور ریاستی اسمبلی کے انتخابات آئندہ سال اکتوبر- نومبر میں اپنے وقت پر ہی ہوں گے۔ قبل از وقت انتخاب کا کوئی امکان نہیں ہے۔ بی جے پی اس کوشش میں ضرور ہے کہ حکومت کو کسی طرح غیرمستحکم کر کے قبل از وقت انتخاب کی راہ ہموار کی جائے۔ لیکن اُس کی یہ سازش کبھی کامیاب نہیں ہوگی کیوں کہ میری حکومت کو کانگریس، راشٹریہ جنتادل اور سی پی آئی کی بلا شرط حمایت حاصل ہے۔ جو سیکولرزم کی حفاظت کے سوال پر دی گئی ہے۔ رہی بات ناراض عناصر کی تو تھوڑی بہت ناراضگی ہر پارٹی میں ہوتی ہے۔ ناراضگی دور بھی کی جاتی ہے۔ جنتادل یومیں بھی لوگوں سے بات کر کے اُن کی ناراضگی کے اسباب معلوم کیے جا رہے ہیں اور پارٹی اُسے دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ راجیہ سبھا کے ضمنی انتخاب کے بعد کابینہ کی توسیع بھی ہوگی۔ یہ کوئی بڑا معاملہ نہیں ہے۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ بی جے پی کو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی ہے کہ بہار میں دلت وزیر اعلیٰ اور دلت اسپیکر ہوں۔ اس لیے وہ اس حکومت کو گرانا چاہتی ہے۔ یہ جمہوریت میں انتہائی خطرناک رجحان ہے اور اسی کے پیش نظر تمام سیکولر پارٹیاں بی جے پی کے خلاف متحد ہو گئی ہیں۔ اس لیے اب اس کی سازش کو ناکام ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
راشٹریہ جنتادل، کانگریس اور سی پی آئی جیسی پارٹیاں آپ کو فی الوقت بی جے پی کی سازش سے بچانے کے لیے بلاشرط حمایت دے رہی ہیں اور راجیہ سبھا انتخاب میں بھی حکمراں جماعت کے امیدواروں کو حمایت دے رہی ہیں۔ تو کیا یہ اتحاد آئندہ اسمبلی انتخاب میں بھی جاری رہے گا۔ یا اُس وقت لوک سبھا انتخاب کی طرح ایک بار پھر اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنا راگ ہوگا؟
یہ سوال کافی اہم ہے۔ اس وقت ملک نظریاتی طور پر انتہائی خطرناک دور سے گزر رہا ہے۔ ملک کی عوام اور تمام سیکولر طاقتوں کو اس خطرہ کو محسوس کرنا ہوگا اور بی جے پی اور دوسری فرقہ پرست طاقتوں کو روکنے کے لیے متحدہو کر ایک پلیٹ فارم پر آنا ہی ہوگا۔ آج ملک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ہر محب وطن ہندستانی کو یہ طے کرنا ہے کہ ہمارا ملک گاندھی کے دکھائے راستے پر چلے گا یا گوڈسے کی پیروی کرے گا؟ ہمارا ملک سیکولر رہے گا یا ہندو راشٹر میں تبدیل ہونے کی کوشش میں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر جائے گا؟ آج بہار ہی نہیں قومی سطح پر بھی غیرکانگریس اور غیر بایاں محاذ کا دور ختم ہو چکا ہے۔ اب تو ایک ہی ایشو ہے۔ سیکولر یا غیر سیکولر؟ اور اسی پوائنٹ پر سب کو آنا ہوگا۔ بہار میں بھی اب جنگل راج کا کوئی معاملہ نہیں ہے۔ اس لیے تمام سیکولر طاقتوں کو متحد ہو کر فرقہ پرستی کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔ بہار میں سیکولر طاقتوں نے جس اتحاد کا اس وقت مظاہرہ کیا ہے، وہ آئندہ اسمبلی انتخاب میں بھی جاری رہے گا۔ اس کا مجھے پورا یقین ہے۔ اتحاد کی کیا صورت ہوگی اور سیٹوں کی تقسیم کس طرح ہوگی یہ سب وقت آنے پر طے ہوگا اور مجھے نہیں لگتا ہے کہ اس میں کوئی پریشانی ہوگی۔
سوال : – ساڑھے سات سال تک بی جے پی کے ساتھ کام کرنے کے بعد گزشتہ ایک سال سے حکومت بحرانی دور سے گزر رہی ہے۔ ترقیات کی رفتار مدھم پڑی ہے۔ عام انتخابات کے دوران ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے سبب بھی کام متاثر ہوئے ہیں۔ ایسے میں بچی ہوئی مدت میں حکومت کی ساکھ کو بحال کرنے اور عوامی توقعات پر پورا اُترنے کی آپ پر بڑی ذمہ داری ہے۔ ایسے میں آپ کی حکومت کی ترجیحات کیا ہوںگی؟
ہماری حکومت کی ترجیحات وہی ہوں گی جو نتیش حکومت کی تھی۔ ہم انصاف کے ساتھ ترقی کی راہ پر تیزی سے آگے بڑھیں گے۔ صحت، تعلیم، پانی، بجلی اور سڑک کی تعمیر کا کام تیزی سے آگے بڑھایا جائے گا اور مقررہ نشانے کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اقلیتوں، دلتوں اور دیگر کمزور اور محروم طبقات کی فلاح اور ترقی کے لیے چلائے جا رہے منصوبوں کو مکمل کر کے ریاست کے عوام کو راحت پہنچانے اور بہتر زندگی مہیا کرانے کی کوشش کی جائے گی۔ ریاست کو خصوصی درجہ دلانے کی جو لڑائی نتیش حکومت نے شروع کی تھی، اُسے جاری رکھا جائے گا، بہار ماڈل کو آگے بڑھایا جائے گا اور ریاست کو انصاف دلانے کی پوری کوشش کی جائے گی۔
آپ نے جو ترجیحات گنائی ہیں اُن پر عمل درآمد کے لیے افسران کا تعاون ضروری ہے لیکن ریاست میں افسرشاہی بے لگام ہو چکی ہے۔ افسران کے عدم تعاون اور عوامی نمائندوں کو اختیارات سے محروم کیے جانے کے سبب ترقیاتی کام زمین پر نہیں اُتر پا رہے ہیں۔ کئی بار عوام نمائندوں اور افسران کا ٹکرائو ترقیاتی منصوبوں کے عدم نفاذ کا سبب بنتا ہے۔ ان چیلنجوں سے آپ کس طرح نپٹیں گے؟
جمہوری نظام میں عوامی نمائندوں کی طرح افسران کی بڑی اہمیت ہے۔ پروگراموں کے نفاذ کی ذمہ داری اِن افسران پر عائد ہوتی ہے۔ اس لیے دونوں کے درمیان بہتر تال میل کا ہونا نہایت ضروری ہے۔ دونوں کے اپنے اپنے اختیارات ہیں۔ اس لیے دونوں کو ایک دوسرے کے وقار اور عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے کام کرنا چاہیے۔ عوامی نمائندوں کو اختیارات ملنے چاہئیں اور ملیں گے۔ افسران کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔ حکومت انہیں عوامی نمائندوں سے بھی زیادہ بہتر تنخواہ اور سہولیات مہیا کراتی ہے۔ انہیں اس کا احساس ہونا چاہیے اور انہیں اپنا فرض پوری ذمہ داری، ایمانداری اور تندہی کے ساتھ نبھانا چاہیے۔
سرکاری کنٹرول والے اقلیتی اداروں کا بُرا حال ہے۔ اقلیتی کمیشن، اقلیتی مالیاتی کارپوریشن، بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ، اُردو ڈائرکٹوریٹ اور اُردو مشاورتی کمیٹی جیسے ادارے بے عملی کا شکا ہیں۔ یہ سب ہاتھی کے دانت بنے ہوئے ہیں۔ جو دکھانے کے لیے تو ہیں مگر کام کچھ نہیں ہو رہا ہے۔ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ تو مالی بدعنوانی اور بدانتظامی کا اڈہ بن گیا ہے۔ ایسے میں اقلیتوں میں حکومت کی طرف سے مایوسی پیدا ہو رہی ہے جو انتخابات میں منفی کردار ادا کر سکتی ہے۔ آپ کی حکومت اِن اداروں کو فعال بنانے کے لیے کیا کر رہی ہے؟
ہم ایسے تمام اداروں کی کارگزاریوں کا جائزہ لے کر اُن میں سدھار لانے اور انہیں فعال بنانے کی کارروائی بہت جلد شروع کر رہے ہیں۔ جن کمیشنوں اور کمیٹیوں اور بورڈوں کی مدت کار ختم ہو رہی ہے اُن میں بہت جلد ایماندار، فعال اور ذمہ دار سربراہوں کو لایا جائے گا۔ اور ایک ماہ کے اندر تمام کمیٹیوں، کمیشنوں، کارپوریشنوں کی تشکیل نو کر کے انہیں ذمہ داریوں کو پابندیٔ وقت کے ساتھ نبھانے کے لیے پابند عہد بنایا جائے گا۔ تاکہ اقلیتوں کا اعتماد حکومت پر بحال رہے۔
حکومت نے عدلیہ، میڈیا اور اُردو تنظیموں کے دبائو کے بعد اُردو ڈائریکٹوریٹ کو مالی اور انتظامی اختیارات سونپ دیئے مگر آج تک ایک فُل ٹائم اُردو ڈائریکٹر کا تقرر نہیں کر سکی۔ آج بھی یہ ڈائریکٹوریٹ ایک غیر اُردوداں افسر کے اضافی چارج میں ہے۔ ایسا کیوں؟
اُردو ڈائریکٹوریٹ کو مالی اور انتظامی اختیارات سونپے جانے کے فوراً بعد عام انتخابات کا اعلان ہونے کے سبب انتخابی ضابطۂ اخلاق نافذ ہو گیا اس لیے اس ڈائریکٹر اُردو کا تقرر نہیں ہو سکا تھا۔ یہ کام اب بہت جلد انجام پائے گا اور دوسری خرابیاں بھی دور کی جائیں گی۔
بہار کے نصف سے زائد سرکاری اسکولوں کو آج بھی اُردو اساتذہ نہیں مل سکے ہیں۔ اور ہر اسکو ل میں اُردو یونٹ کے قیام کا سرکاری خواب اب بھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکا ہے۔ آپ اس سلسلے میں کیا کہنا چاہیں گے؟
بہار کے ہر اسکول میں خواہ وہاں اُردو پڑھنے والوں کی تعداد کچھ بھی ہو، اُردو یونٹ کا قیام حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے اساتذہ کے تقرر کا عمل جاری ہے۔ اس کام میں تیزی لا کر مقررہ نشانوں کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
ریاست اور ملک کے عوام کو آپ کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
ہمارا ایک ہی پیغام ہے۔ اور وہ ہے پیغامِ محبت۔ ملک سے محبت رکھنے والے ہر ہندستانی سے بھی کہنا چاہیں گے کہ سیکولرزم اس ملک کی شناخت اور اس کی روح ہے۔ سیکولرزم کے بغیر یہ ملک متحد نہیں رہ سکے گا۔ اس لیے ہر حال میں ملک کی سیکولر شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے سیکولر طاقتوں کی حمایت کریں اور جہاں پر بھی رہیں آپسی اتحاد اور بھائی چارہ کی رسّی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہیں۔g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *