اتر پردیش میں بڑھتی لاقانونیت

درشن شرما

لیڈروں اور مجرموں کی ملی بھگت کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک کی اس سب سے بڑی ریاست میں عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔ عورتیں اور لڑکیوں کی آبرو قدم قدم پر خطرے میں ہے۔ پولیس کی بھلا کیا مجال کہ وہ مجرموں اور دبنگوں پر ہاتھ ڈال دیں، کیونکہ جن آقائوں کے ہاتھ میں اس کی نوکری ہے، وہ مجرموں اور دبنگوں کے سرپرست ہیں۔

p-8bلیڈروں اور مجرموں کی ملی بھگت کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک کی اس سب سے بڑی ریاست میں عام آدمی کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔ عورتیں اور لڑکیوں کی آبرو قدم قدم پر خطرے میں ہے۔ پولیس کی بھلا کیا مجال کہ وہ مجرموں اور دبنگوں پر ہاتھ ڈال دیں، کیونکہ جن آقائوں کے ہاتھ میں اس کی نوکری ہے، وہ مجرموں اور دبنگوں کے سرپرست ہیں۔

اتر پردیش  پولیس کی سست چال مجرموں کو پکڑنے میں ناکام رہی ہے۔ پہلے مجرم پولیس سے گھبراتے تھے، اب پولیس مجرموں سے گھبراتی ہے۔ اسے اپنی وردی چھن جانے کا ڈر ہمیشہ لگا رہتا ہے۔ ڈرے بھی کیوں نہ، کیونکہ مجرموں کے تار ایسے طاقتور لیڈروں اور افسروں سے جڑے ہوتے ہیں ، جو کہیں نہ کہیں داغدار ثابت ہوتے ہیں۔ اس سے مجرموں کے حوصلے بڑھے ہوئے ہیں۔انہیں وردی کا قطعی خوف نہیں ہے۔ غلطی ہونے کے بعد بھی وہ الٹے پولیس پر رعب جماتے ہیں۔ پولیس سب کچھ جانتے ہوئے بھی ان پر ہاتھ ڈالنے سے کتراتی ہے۔ یہ سب کو معلوم ہے کہ اگر پولیس اپنے پر آ جائے تو وہ کیا نہیں کرسکتی ۔لیکن پچھلے کچھ وقت سے ریاست کی سیاست میں داغداروں کے اثرو رسوخ بڑھنے سے مجرموں کو شہہ زیادہ ملی ہے، جس کی وجہ سے عام آدمی میں ڈر پیدا ہوا ہے۔
پولیس کی کارکردگی پر نگاہ ڈالیں تو تھانوں میں ٹھیکوں کی طرح کام کرنے والے دبنگ پولیس ملازمین عام آدمی کو قطعی ترجیح نہیں دیتے۔بڑیتنخواہ پانے کے بعد بھی وہ وصولی سے باز نہیں آتے۔لالچ کا عالم یہ ہے کہ وہ لاش کوبھی نہیں چھوڑتے ۔ قانون کی رکھوالی کرنے والے پولیس ملازمین اگر کفن پر وصولی چھوڑ کر ایمانداری کی روٹی کھانے کی عادت ڈال لیں تو لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال میں سدھار ہو سکتی ہے۔ اگر وہ چوری، چھینا جھپٹی، راہزنی ، مار پیٹ اور اسی طرح کی دیگر چھوٹی موٹی وارداتوں کیسنجیدگی سے سنوائی کر لیں تو مجال کہ ان کے علاقے میں قانون اور لاء اینڈ آرڈر بگڑے، چھوٹے موٹے مجرم پولیس کی اندیکھی کی وجہ سے بڑے گروہ بناکر بینک، ٹرین ، صرافے اور مالس دن ہاڑے لوٹ رہے ہیں۔
عوام کو متنبہ کرنے کے لئے تھانوں کی دیواروں پر دلالوں سے بچنے کے لئے موٹے موٹے لفظوں میں صلاح لکھی رہتی ہے۔ آخر عوام دلالوں کا سہار ا کیوں لیتے ہیں۔ دراصل دوست پولیس کا چولہ اوڑھنے والے خاکی وردی والوں پر عام آدمی کو بھروسہ نہیں ہے۔ انصاف پانا تو دور، ایف آئی آر درج کرانے میں ہی اسے لوہے کے چنے چبانے پڑ جاتے ہیں۔ ایڑیاں گھس جاتی ہیں۔دلالوں کا سہارا مجبوری ہے۔ ایسے میں گڈ گورننس کی منشا جتانے والی اکھلیش حکومت بد عنوانی کے اس بڑے جنجال کو کیسے کاٹ سکے گی؟
مظفر نگر فسادات اور فرقہ پرستی کو پڑھاوا دیتی ہوئی سماج وادی پارٹی پوری طرح ناکام ہو چکی ہے۔یو پی میں جرائم کا گراف سب سے زیادہ ہے اور نیشنل ریکارڈ بیورو کے مطابق جرائم کے معاملے 22ویں نمبر پر ہے۔ کاغذوں کو درست کرنے میں ہی جٹی رہنے والی پولیس عام آدمی کو کم اپنی نوکری کو بچانے میں زیادہ لگی رہتی ہے۔ لوگوں کو پریشانیاں سننے کے لئے اس کے پاس وقت نہیں ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ تھانوں میں پولیس ملازمین کی خاصی کمی ہے۔ وہ ہر روز وی آئی پی لوگوں کی سیکورٹی میں ہی لگی رہتی ہے۔2012 میں ہی اکھلیش سرکار نے پولیس محکمے میں کئی بنیادی تبدیلیاں کیں۔ سرکار نے پولیس سے ہمدردی جتاتے ہوئے سہولتیں دینے کے لئے انہیں ان کے آبائی وطن میں تعیناتی کا فرمان جاری کردیا۔لیکن یہ فرمان سرکار کے لئے دردِ سر ثابت ہوا۔آبائی وطن میں تعینات خاکی وردی والے عوام کو تحفظ دینے کے بجائے اپنے رشتہ داروں کے ساتھ زمینوں، رنجشوں کے معاملے اور دیگر سرگرمیوں میں دلچسپی لینے لگے۔ ان کی شہہ کی وجہ سے جرائم بڑھ گئے۔ 1986 سے 2012 تک پولیس جرائم میں اتنی ملوث نہیں پائی گئی، جتنی سماج وادی پارٹی کی حکومت میں چھوٹ مل جانے سے۔
بدایوں حادثے کی گونج دہلی تک محدود نہیں رہی۔ بلکہ بی بی سی لندن، ڈیلی میل اور نیو یارک ٹائمس نے بھی اسے ترجیحی طور پر چھاپا۔ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ خواتین کی سیکورٹی کے ایشو پر چو طرفہ گھری اکھلیش حکومت نے دو سپاہیوں کو برخاست کر کے متاثرہ خاندانوں کو پانچ پانچ لاکھ روپے اور سیکورٹی دینے اور فاسٹ ٹریک کورٹ میں مقدمہ چلانے کا فیصلہ لیا ہے۔ کانگریس اور بہو جن سماج پارٹی نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آئی جی ایس ٹی ایف کا کہنا ہے کہ 60سے 65 فیصد واردات اس وقت ہوتے ہیں جب خواتین قضائے حاجت کے لئے جاتی ہیں۔ وہیں بی جے پی کے ریاستی صدر لکشمی کانت اسیبے بنیاد بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ کل وہ اسکول جانے کو لے کربھی ایسا کہہ سکتے ہیں۔کانگریس کے نصیب پٹھان نے کہا کہ یہ حادثہ دبنگوں کو سیاسی تحفظ دیے جانے اور پولیس کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے۔
بہو جن سماج پارٹی کی سپریمو مایا وتی نے ریاست میں صدر راج نافذ کرنے اور بدایوں معاملے کی سی بی آئی جانچ کی مانگ کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں افراتفری کا ماحول ہے ۔جرائم پیشہ کھلے عام من مانی کر رہے ہیں۔ مرکزی وزیر برائے ترقیات خواتین و اطفال مینکا گاندھی نے بھی بدایوں حادثے میں شامل مجرموں کو سخت سزا دینے اور ملک کے ہر ضلعے میں ’ریپ کرائمس سیل‘ کھولے جانے کی مانگ کی۔ بدایوں حادثے سے اتر پردیش پولیس کے کالے کارناموں کا ایک بار پھر خلاصہ ہوا ہے۔ جب محافظ ہی رہزن بن جائیں تو کون کرے گا اتنی بڑی ریاست کی حفاظت۔حیرت کی بات یہ رہی کہ جس وقت بدایون حادثے کو لے کر پوری ریاست میں بے چینی تھی ،تبھی اعظم گڑھ میں بھی 17 سالہ ایک دلت لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کا حادثہ پیش آیا۔لاء اینڈ آرڈر کو پٹری پر لانے کے لئے اب خود وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو پولیس افسروں کی پر فارمینس کی جانچ پڑتال کرنے میں جٹ گئے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *