تلنگانہ اور آندھرا پردیش: نئی ریاستوں کو درپیش چیلنجز اور امکانات

اے یو آصف

آزادی کے بعد ہندوستان کے مختلف خطوں کی اقتصادی، تعلیمی، سماجی اور لسانی ترقی کو یقینی بنانے کے لئے ریاستوں کی تشکیل نو ہوتی رہی ہے۔ ابھی حال میں اوائل جون 2014 میں بھی ایک جنوبی ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا جس کے نتیجے میں تلنگانہ خطہ پر مشتمل ملک کی نئی 29 ویں ریاست تلنگانہ وجود میں آگئی جبکہ غیر منقسم ریاست کا باقی حصہ سیماندھرا کا خطہ ریاست کے پرانے نام پر آندھرا پردیش ہی رہا۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ حالیہ اسمبلی و پارلیمانی انتخابات میں دونوں ریاستوں میں علاقائی پارٹیاں بر سر اقتدار ہو گئیں۔ اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اقتصادی، تعلیمی، سماجی اور لسانی ترقی کے نام پر ان دونوں ریاستوں کو کیا کیا فائدے اور نقصانات ہوں گے؟کس کو کیا ملے گا،کیا نہیں ملے گا؟ نیز کیا کیا چیلنجز درپیش ہوں گے؟اور یہ ان چیلنجز سے کس طرح نمٹیں گی؟آئیے، ان دونوں نئی ریاستوں تلنگانہ اور آندھرا پردیش کا جائزہ لیتے ہیں:

p-3گزشتہ 2 اور 8جون2014 کو ریاست آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد دو نئی ریاستیں وجود میں آچکی ہیں اور ان کے وجود میں آتے ہی جنوبی ہند کے اس خطہ میں سب کچھ تبدیل بھی ہوگیا ہے۔ سیاست بدل گئی ہے، اقتدار تبدیل ہوگیا ہے، ملازمین کا مستقبل دونوں ریاستوں کے درمیان جھول رہا ہے، بڑے اور پرانے تعلیمی اداروں کے تلنگانہ میں رہ جانے کے سبب آندھرا پردیش میں معیاری اداروں کی سخت کمی ہوگئی ہے، دونوں ریاستوں میں پاور سپلائی کی تقسیم پر کشیدگی پائی جارہی ہے، تقسیم ریاست سے منقسم پولس فورس کو چیلنجز درپیش ہیں اور نئی ریاست آندھرا پردیش کو 15ہزار کروڑ روپے کا خسارہ اور زبردست مالی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
کانگریس جس نے مرکز میں سابقہ یو پی اے حکومت کے اپنے دور میں تلنگانہ کو نئی ریاست بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور غیر منقسم ریاست میں برسراقتدار تھی، وہاں اپنے اتحاد کے ساتھ اسمبلی میں محض 22 سیٹیں لا پائی ہے اور دوسری نئی ریاست آندھرا پردیش کی اسمبلی میں اپنا کھاتہ بھی کھول نہیں پائی ہے۔ علاوہ ازیں 119 سیٹ والی تلنگانہ اسمبلی میں ٹی آر ایس کو 63 سیٹیں اور 17پارلیمانی سیٹوں میں 11سیٹیں اورٹی ڈی پی ۔ بی جے پی اتحاد کو 21سیٹیں ملی ہیں۔
اسی طرح دیگر امیدواروں نے 13سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ آندھرا پردیش میں 175 سیٹوں والی اسمبلی میں ٹی ڈی پی ۔ بی جے پی اتحاد نے 107 سیٹیں پائی ہیں۔ یہاں وائی ایس آر کانگریس کو 66 اور دیگر امیدواروں کو 2سیٹیں ملی ہیں۔ یہاں 16پارلیمانی سیٹوں پر بھی ٹی ڈی پی ۔ بی جے پی اتحاد جیتا ہے جبکہ وائی ایس آر کانگریس کے حصے میں 9سیٹیں آئی ہیں اور سی پی آئی نے 3 اور آر ایس پی نے 2سیٹوں پرکامیابی حاصل کی ہیں۔ اس طرح پورا سیاسی ماحول ان دونوں نئی ریاستوں میں بدل گیا ہے اور کانگریس کو انہی کوتاہیوں اور غلط فیصلوں کی قیمت چکانی پڑی ہے۔
دونوں نئی ریاستوں تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں اسٹیٹ کیڈر عہدوں کی تقسیم تو ہوچکی ہے مگر دونوں طرف کے سرکاری ملازمین کو بڑے ہی جذباتی اور تلخ لمحات کا سامنا ہے۔ حالانکہ تقسیم ریاست کے بعد دونوں سیکریٹریریئٹس ، ڈائریکٹوریٹس،اور کارپوریشنز کے ملازمین حیدرآباد میں آئندہ دس برسوں تک کام کرتے رہیں گے، آندھرا پردیش کے ملازمین کا کہنا ہے کہ آخر میں انہیں حیدر آباد جسے انہوں نے دہائیوں سے اپنا وطن مانا، سے باہر نکلنا پڑے گا۔ ان دونوں ریاستوں میں کل 11لاکھ سرکاری ملازمین ہیں۔ تقسیم کے نتیجے میں تلنگانہ میں 41.68 فیصد اور آندھرا پردیش میں 58.32 فیصد سرکاری ملازمین رہ جائیں گے۔
دوسرا سنگین مسئلہ تعلیمی اداروں کا ہے۔ جیسا کہ سب کو معلوم ہے ، زیادہ تر معیاری تعلیمی ادارے تلنگانہ بالخصوص حیدر آباد میں ہیں، لہٰذا آندھرا پردیش میں معیاری تعلیمی اداروں کی اچانک کمی واقع ہوگئی ہے۔ اسے لے کر آندھرا پردیش کی نئی نسل میں سخت تشویش پائی جارہی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ تلنگانہ میں شامل اور اس کی مستقل راجدھانی بننے والے حیدرآباد میں پہلے سے انڈین اسکول آف بزنس (آئی ایس بی) ،نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ٹکنالوجی (نیفٹ) ،نیشنل اکیڈمی آف لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ (نلسار)، برلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی اینڈ سائنسز ( بی آئی ٹی ایس) اور انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ فنانشیل اینالیسٹس آف انڈیا ( آئی سی ایف اے آئی ) موجود ہیں۔
حالانکہ اس بات کی یقین دہانی کرائی جارہی ہے کہ آئندہ دس برسوں تک طلباء کے داخلے پہلے کی طرح ہوتے رہیں گے مگر اس بات کے اندیشے تو ہیں ہی کہ آئندہ دس برسوں میں آندھرا پردیش میں حیدر آباد کے معیاری تعلیمی اداروں کی طرح کے اداروں کو قائم کرنا آسان نہیں ہوگا۔ ویسے اس بات سے قطعی انکار نہیں کیا جاسکتاہے کہ غیر منقسم ریاست کی 42 یونیورسٹیوں میں سے 34 ریاستی سطح پر چلائی جاتی ہیں جن میں کوسٹل آندھرا اور رائل سیما خطوں میں دس دس ہیں جبکہ تلنگانہ میں 14 ہیں۔ علاوہ ازیں 3سینٹرل یونیورسٹیاں حیدر آباد میں واقع ہیں،جن کے داخلے مرکزی سرکار کے ضوابط کے مطابق ہوتے ہیں۔ اس سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ آندھرا پردیش کے طلباء کے خلاف ان سینٹرل یونیورسٹیوں میں کوئی فرق و امتیاز ہرگز برتا نہیں جاسکے گا۔ یہی صورت حال یہاں کم و بیش 5 ڈیمڈ یونیورسٹیوں میں پائی جاتی ہے۔
غیر منقسم ریاست میں 3.6 لاکھ سیٹ کے تقریباً 750 پرائیویٹ انجینئرنگ کالجز ہیں جن میں سے 344 تلنگانہ میں ہیں تو 366 آندھرا پردیش میں۔ ان اداروں میں مقامی وغیر مقامی والی 85:15 موجودہ پالیسی فی الحال چلتی رہے گی۔ جہاں تک میڈیکل تعلیم کا معاملہ ہے ، آندھرا پردیش اس میں تلنگانہ سے آگے ہے۔ 6200 سیٹ کے 42 میڈیکل کالجوں میں 21 آندھرا پردیش میں ہیں اور ان میں 8سرکاری سیکٹر میں ہیں جبکہ تلنگانہ میں صرف 4سرکاری اور زیادہ پرائیویٹ میڈیکل کالجز ہیں۔سرکاری و غیر سرکاری میڈیکل کالجوں میں فیس کے بڑے فرق سے تلنگانہ میں عام طلباء کے لئے میڈیکل تعلیم مشکل ضرور ہو جائے گی۔
ریاست کی تقسیم سے متعلق ری آرگنائزیشن قانون 2014 میں آندھرا پردیش کے تعلق سے وعدہ کیا گیا ہے کہ معیاری تعلیمی اداروں کے تلنگانہ میں رہ جانے کے سبب متعدد قومی سطح کے تعلیمی اداروں کو کھولا جائے گا مگر یہ کام آسان نہیں ہے کیونکہ اس میں بہت بڑی سرمایا کاری کی ضرورت پڑے گی۔حتی کہ وشاکھا پٹنم، وجے واڑا یا تیروپتی جیسے مشہور شہروں کو بھی اس قسم کے اداروں کو کھولنے کے لئے لمبی قطار میں انتظار کرنا ہوگا کیونکہ اگر سرمایہ کا معاملہ حل بھی ہوجائے تو بھی تلنگانہ میں موجود معیاری اداروں کے معیار اور درجہ کو حاصل کرنے میں ایک دہائی سے زیادہ کا عرصہ درکار ہوگا۔وجے واڑا کے صحافی سید اکبر ’چوتھی دنیا ‘سے فون پر بات چیت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ 2008 میں وشاکھا پٹنم میں ایک آئی آئی ایم اور ایک ورلڈ کلاس یونیورسٹی کا وعدہ کیا گیا تھا جو کہ ابھی تک ایک خواب ہی بنا ہواہے۔
ان دونوں نئی ریاستوں میں پاور سپلائی کی تقسیم بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ ری آرگنائزیشن قانون کی روشنی میں تلنگانہ کو تقریباً 54 فیصد اور آندھرا پردیش کو 46فیصد بجلی ملے گی۔ مذکورہ قانون میں تلنگانہ کو بجلی کی سپلائی میں کمی کو ہر حال میں برداشت کرناپڑے گا۔ عیاں رہے کہ گرچہ آندھرا پردیش پاور گریڈ کی مکمل صلاحیت (Installed Capacity) 16 ہزار 679 میگاواٹ کی ہے جبکہ محض 9000اور 10,500 میگاواٹ کے درمیان ہی یہاں بجلی پیدا ہوتی ہے اور اس کی وجہ گیس لنکیج کی کمی ہے۔ اس میں سے تلنگانہ کو 4500 سے لے کر 5000 میگاواٹ تک ہی بجلی مل پائے گی۔ ویسے یہ حقیقت بھی ملحوظ رہے کہ آئندہ 5برسوں میں بجلی کی ضرورت 11 ہزار میگاواٹ تک پہنچ سکتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ چند نئے پروجیکٹس کو شروع کرنا ہو گا۔
غیر منقسم ریاست میں مکمل 1600 پولیس اسٹیشن ہیں جن میں سپاہی 50ہزار950، مسلح فورس 18ہزار 168 اور اے پی ایس پی بٹالین 13 ہزار 300 ہیں۔ان میں 2 فیصد خواتین ہیں۔علاوہ ازیں 7سینٹرل جیل، 12ضلعی جیل، 96سب جیل اور 2قیدی زراعتی کالونیاں ہیں۔مذکورہ پولیس فورس میں سے تلنگانہ کو 48فیصد اور آندھرا پردیش کو 52فیصد شیئر ملے ہیں۔ ماضی میں غیر منقسم ریاست میں نکسلائٹ سرگرمیوں کے سبب پولیس فورس کا کردار بہت اہم رہا ہے۔ 10اضلاع نکسلائٹ سرگرمیوں سے بری طرح متاثر تھے جن میں 8تلنگانہ اور 2 آندھرا خطے میں تھے مگر اب اندرون ریاست بڑی حد تک اس پر قابو پا لیا گیا ہے ۔ سرحدی ریاستوں میں موجود اس وباء کے اثرات یہاں چند اضلاع پر پڑتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ فی الوقت مائو وادی تحریک کے مرکز چھتیس گڑھ سے ملے ہوئے تلنگانہ کے 2 اضلاع ورنگل اور خمام اور پڑوسی نکسل زدہ اڈیسہ کی سرحد پر آندھرا پردیش کے 4اضلاع سری کا کولم، ویزیا ناگرام، وشاکھا پٹنم اور مشرقی گوداوری کو اس وباء کے خطرات تو یقینا درپیش ہیں۔ لہٰذا یہاں کی تقسیم شدہ پولیس اور انٹلی جنس شعبۂ کو اس سے نمٹنا ہوگا۔
آخر میں مالیاتی صورت حال کا تذکرہ بہت ضروری ہے۔ان دونوں نئی ریاستوں کو تعمیر نو کے تعلق سے بڑے بڑے اخراجات درکار ہوں گے۔ نئی ریاست آندھرا پردیش کو وراثت میں 15 ہزار کروڑ روپے سے زائد کا خسارہ (Revenue Deficit) ملا ہے۔ نیز فنانس ڈپارٹمنٹ اور اکائونٹنٹ جنرل کے ذرائع سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں ریاستوں میں اقتصادی ترقی کے لئے متعدد فنانشیل پروڈنس اور جوڈی سیئش ریونیو اخراجات کی ضرورت پڑے گی۔ ان تفصیلات کی روشنی میں آندھرا پردیش میں ریو نیو خسارہ 15 ہزار 691 کروڑ روپے کا ہے جبکہ تلنگانہ میں سال 2014-15 میں 3 ہزار 555کروڑ روپے کا ریوینیوسرپلس ہے۔ یہ بات کم ستم ظریفی کی نہیں ہے کہ گزشتہ سال متحدہ ریاست آندھراپردیش میں 18 ہزار 651 کروڑ کا سرپرپلس رینیو تھا۔یہ کیسی حیرت کی بات ہے کہ جب تقسیم کے بعد آندھرا پردیش کو نئی راجدھانی کی تعمیر سے ریاست کے پورے ڈھانچے کو بنانے تک کا ذمہ ہے،اس کے پاس 2014-15 کے لئے محض 5ہزار 791 کروڑ روپے کاسورس پلان آئوٹ لے ہے۔ جبکہ تلنگانہ کے لئے یہ 18 ہزار 600کروڑ روپے ہے۔اس سے قبل متحدہ ریاست کے لئے 67 ہزار کروڑ روپے کا آئوٹ لے منظور کیا گیا تھا۔
ظاہر سی بات ہے کہ اس صورت میں آندھرا پردیش میں فی الوقت ’برے دن‘ اور تلنگانہ میں ’اچھے دن‘ کی امید ہے۔ جہاں تک دونوں ریاستوں میں مسلم صورت حال کا معاملہ ہے، تلنگانہ میں 12.5 میں مسلم آبادی کے تشخص کو بلا شبہ حوصلہ ملے گا جو کہ 1956 میں تیلگو زبان بولی جانے والی ریاست آندھرا کے ساتھ مل جانے سے بری طرح متاثر ہوا تھا جبکہ آندھراپردیش میں کوسٹل خطوں اور دیگر علاقوں کی 7 فیصد مسلم آبادی جو کہ تشخص کے لحاظ سے مضبوط پوزیشن میں نہیں تھی اور سیاسی طور پر حاشیہ پر تھی، مزید آزمائش سے دوچار ہوگی۔ سیاسی، معاشی، سماجی اور تعلیمی طورپر آندھرا پردیش کے سیماندھرا خطہ کی مسلم آبادی پہلے ہی سے پسماندگی کا شکار ہے۔اس بار پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات میں ایک بھی مسلمان کسی بھی پارٹی سے منتخب نہیں ہوا ہے۔
حیدرآباد کی معروف علمی و سماجی شخصیت اور تعلیمی انجمن میسکو (MESCO) کے سربراہ ڈاکٹر محمد فخر الدین آندھرا پردیش کی تقسیم کے طریقہ کار اور پیرا میٹرس کو غیر فطری قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ دونوں ریاستوں کی آبادی کے مفادات کا سیاسی مفادات کے مقابلے کم خیال رکھا گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مرکز میں برسر اقتدار کانگریس کو حالیہ پارلیمانی اور اسمبلی دونوں انتخابات میں زبردست نقصان ہاتھ آیا۔ ان کے خیال میں کانگریس کو توقع تھی کہ انتخابات سے قبل معاہدے ہوں گے اور انتخابات کے بعد معاہدوں کی کھڑکیاں کھلی رہیں گی مگر یہ سب کچھ نہیں ہوا اور اب تو دونوں ریاستوں کی مجموعی سیاسی صورت ہی بدل گئی ہے اور علاقائی پارٹیاں اقتدار میں آگئی ہیں۔ انہیں دونوں نئی ریاستوں کی قیادتوں سے توقع ہے کہ یہ بڑی ہوشیاری اور دانشمندی سے تعمیری نو کا کام کرتے ہوئے اپنی اپنی آبادیوں کے مفادات میں کام کریں گی اور حاشیہ پر رہ رہے کمزور طبقات اور اقلیتوں کا خصوصی خیال رکھیں گی۔

تلنگانہ : تحریک سے ریاستی درجہ تک
تلنگانہ جنوبی ہندوستان کی زمینوں سے گھری (Land -locked)نئی ریاست ہے۔ یہ اپنے رقبہ ایک لاکھ 14 ہزار 840 کیلو میٹر اور 2011 کی مردم شماری کی روشنی میں 3کروڑ 52لاکھ 86ہزار 757 آبادی کے اعتبار سے ملک کی 12ویں سب سے بڑی ریاست ہے۔ اس کا زیادہ تر حصہ نظام حید ر آباد ( میڈک اور ورنگل ڈویژن) کا جز تھا جس پر برطانوی راج کے دوران 1947 تک اور پھر 1948 میں یونین آف انڈیا کا حصہ بننے تک نظام کی حکومت رہی۔ اس کا ایک چھوٹا سا حصہ مدراس میں بھی شامل تھا۔ 1956 میں ریاستوں کی تشکیل نو کے وقت ریاست حیدرآباد کو تحلیل کرکے اسے ریاست آندھرا میں ملا دیا گیا تھا۔ تب یکم نومبر 1956 کو اس طرح ریاست آندھرا پردیش کا قیام عمل میں آیا تھا۔
یکم مارچ 2014 کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے پاس کیے گئے آندھرا پردیش ری آرگنائزیشن بل 2014 کو صدر کی منظوری ملنے کے بعد اسمبلی انتخابات کے بعد 2جون2014 کو ریاست تلنگانہ نے باضابطہ عملی شکل اختیار کرلیا۔ اسی دن چندر شیکھر رائو نے وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف بھی لے لیا۔ کے سی آر کا بر سر اقتدار ہونا صرف ایک شخص کا بر سر اقتدار ہونا نہیں ہے بلکہ تلنگانہ تحریک کی کامیابی ہے۔
اس تحریک میں گزشتہ مردم شماری کے مطابق 12.5فیصد مسلم کمیونیٹی مجموعی طور پر برابر کی شریک رہی اور اس کا واضح ثبوت محمد محمود علی کا نائب وزیر اعلیٰ بنایا جانا ہے۔ اس نئی ریاست میں غیر منقسم آندھرا پردیش کے 10شمالی مغربی اضلاع شامل ہیں۔حیدر آباد شہر آئندہ 10 برس تک تلنگانہ اور آندھرا پردیش کی مشترکہ راجدھانی رہے گا۔ حیدر آباد ،ورنگل، کریم نگر اور نظام آباد اس نئی ریاست کے چار بڑے شہر ہیں۔ کہا جاتاہے کہ تلنگانہ لفظ تیلگو سے نکلا ہے جو کہ فی الوقت یہاں کی اکثریتی زبان ہے۔ قابل ذکر ہے کہ یہاں 76فیصد آبادی تیلگو، 12فیصد اردو اور باقی 12فیصد دیگر زبانیں بولتی ہیں۔ 1948 سے قبل اردو ریاست حیدر آباد کی سرکاری زبان تھی مگر ریاست حیدر آباد کی شمولیت کے بعد تیلگو سرکاری زبان بن گئی اور زیادہ تر تعلیم گاہوں میں تعلیم اسی کے ذریعہ دی جانے لگی۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق تلنگانہ میں خواندگی کی شرح 67.22 فیصد ہے۔غیر منقسم آندھرا پردیش میں مسلم آبادی محض 9.17 فیصد تھی جبکہ 10اضلاع والی نئی ریاست تلنگانہ میں یہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق 12.5 فیصد ہوگئی۔ اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ مسلم آبادی نئی ریاست تلنگانہ میں مجموعی طور پر متعلق اضلاع کی مسلم آبادی کے سبب خود بخود بڑھ گئی جو کہ یقینا قال ذکر ہے۔ مگر حیرت اس بات پر ہے کہ حیدر آباد کی معروف پارٹی مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم) نے آندھرا پردیش کی تقسیم کی مخالفت کی۔ اس کا یہ موقف کہ بی جے پی تلنگانہ کی چھوٹی ریاست ہونے کی بنا ء پر یہاں بڑھت حاصل کرلے گی،نے اسے مزید نقصان پہنچایا۔ غیر منقسم آندھرا پردیش میں 1956 سے کانگریس حاوی تھی مگر 1980 کی دہائی سے ٹی ڈی پی کے اُبھار کے ساتھ دو پارٹی سسٹم شروع ہوا۔ 2014 کے اسمبلی و پارلیمانی انتخابات نے نئی سیاسی پارٹیوں بالخصوص ٹی آر ایس کو سامنے لادیا۔
تلنگانہ میں ٹی آر ایس کو کل 119سیٹوں کی اسمبلی میں 63 کے ساتھ ساتھ کانگریس ، ٹی ڈی پی اور بی جے پی کو 21، 15 اور 5 سیٹیں ملیں۔ علاوہ ازیں ایم آئی ایم نے 5 سیٹوں پر انتخاب لڑکے اپنی ایک روایتی سیٹ پر کامیابی حاصل کی اور کل 1.4 ووٹ فیصد پائی۔ اس نے گرچہ تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں 20سیٹوں پر انتخاب لڑ کے 7سیٹوں پر فتح کا پرچم لہرایا جو کہ صرف 3.8 فیصد ووٹ ہے، یہ الیکشن کمیشن کے ضوابط کے مطابق ریاستی سطح کی پارٹی کا درجہ حاصل نہیں کرسکی۔اس درجہ کو حاصل کرنے کے لئے یہاں کم از کم 6فیصد ووٹ یا 9سیٹوں کا حاصل کرنا لازمی ہے۔ حیدر آباد کے ارد گرد سمٹی ہوئی اس پارٹی کے لئے اس شرط کو پورا کرنا مشکل ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نئی ریاست کی مخالفت کی اصل وجہ شاید یہی تلخ حقیقت ہے جس کا مجلس کو پہلے سے اندازہ ہے۔

کیسا ہے آندھرا پردیش تقسیم کے بعد؟
ہندوستان کی 29ویں ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد غیر منقسم ریاست آندھرا پردیش میں سیماندھرا خطہ کے جو علاقے بچ گئے، دراصل وہی اب آندھرا پردیش کا خد و خال ہیں۔ رقبہ ایک لاکھ 60ہزار 205کیلو میٹر اور 2011 کی مردم شماری کے مطابق 4کروڑ 93لاکھ 86 ہزار 799 آبادی والی یہ ملک کی 8ویں سب سے بڑی ریاست ہے۔ اپنے دونوں خطوں رائل سیما اور کوسٹل آندھرا کے سبب یہ سیماندھرا بھی کہلاتا ہے۔مگر سرکاری طور پر اس کا پرانے نام پر آندھرا پردیش نام ہی رکھا گیا۔ یہاں کی آبادی ہندو 91فیصد اور مسلمان 7فیصد ہیں۔ یہاں کی 91فیصد آبادی تیلگو اور 7فیصد اردو بولتی ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ یہ تلنگانہ کے 10اضلاع کے نکل جانے کے بعد ترقیاتی لحاظ سے ایک اجڑی ہوئی ریاست ہے۔ جیسا کہ 8جون کو 13اضلاع پر مشتمل نئی ریاست آندھرا پردیش کے باضابطہ وجود میں آنے کے موقع پر برسر اقتدار ٹی ڈی پی کے سپریمو اور وزیر اعلیٰ نارا چندر ا بابو نائڈو نے کہا کہ’’ سیماندھرا میں نہ راجدھانی ہے اور نہ ہی ڈھانچہ اور نہ ادارے‘‘۔ یہ صحیح ہے کہ 10برس تک آندھرا پردیش عارضی طور پر تلنگانہ کی مستقل راجدھانی حیدرآباد کو ہی استعمال کرے گا اور پھر اس کے بعد وجے واڑہ اور گنتور اضلاع کے درمیان منگلا گری غالباً اس کی نئی راجدھانی ہوگی۔حیدر آباد جسے چندر ا بابو نائڈو نے آئی ٹی ہب بنا دیا تھا اور جہاں 80-90 فیصد ملازمتیں موجود ہیں کو نظر انداز کرکے نئی ریاست آندھرا پردیش کو سب کچھ نئے سرے سے ڈیولپ کرناپڑے گا جو کہ یقینا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے۔
بہر حال یہاں پورٹ سٹی وشاکھا پٹنم اور ملک کا سب سے مالدار مندر تروپتی موجود ہیں۔ کہا جاتاہے کہ ابھی حال میں منعقد ہوئے پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ساتھ اسمبلی انتخابات کے دوران یہاں کے ووٹرس نے کانگریس کو بری طرح سبق سکھا یا۔وہ پارٹی جس نے آندھرا پردیش کے 57 سالہ وجود کے دوران چار دہائیوں تک حکومت کی ہے، ایک بھی سیٹ حاصل نہ کرپائی۔ اے پی ری آرگنائزیشن قانون 2014 کے مطابق ترقیاتی اسکیم کے طور پر نئی ریاست کو 4بڑی یونیورسٹیاں ، ایمس کی طرز پر اسپتال، ایک انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ اور ایک انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی آفر ملیں گے۔عیاں رہے کہ کانگریس قیادت والی یو پی اے حکومت نے اس نئی ریاست کے لئے 5برس تک اسپیشل کٹگری کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت اپوزیشن کے طور پر بی جے پی نے اس مدت کو 10 برس تک بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اب نائڈو بی جے پی سے اسپیشل کٹگری کی توقع رکھ رہے ہیں۔ اسپیشل کٹگری کا سیدھا مطلب یہ ہوگا کہ اس ریاست کو دیے جارہے مالی تعاون میں سے 90فیصد گرانٹ اور باقی 10فیصد قرض میں شمار ہوگا۔ اس کٹگری کے تحت فنانس کمیشن سے بھی اسے ترجیحی بنیاد پر سہولیات ملیں گی۔
ویسے جہاں نئی ریاست آندھرا پردیش کو تعمیر نو کے زبردست چیلنجز درپیش ہیں، وہاں اس کے لئے سب سے بڑی خوشخبری یہ ہے کہ اسے وراثت میں نکسلزم کا مسئلہ نہیں کے برابر ملے گا۔ غیر منقسم ریاست کے 10 نکسل زدہ اضلاع میں سے 8 تلنگانہ میں چلے جانے سے صرف دو اضلاع ویزیانا گرام اورو شاکھا پٹنم رہ گئے ہیں جہاں یہ مسئلہ تھوڑا بہت موجود ہے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *