تعلیمی ڈگری پر توجہ ہو رہی ہے ، داغی وزرائ پر کیوں نہیں؟

ڈاکٹر قمر تبریز 
p-5لوک سبھا انتخابات ختم ہو گئے اور نتائج آنے کے بعد مودی سرکار کی کابینہ بھی بن گئی۔ مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے سرکار کے وزراء نے اپنا اپنا قلمدان بھی سنبھال لیا اور اب ان کے کام کی شروعات بھی ہو چکی ہے۔ نئی کابینہ کی تشکیل کے بعد میڈیا میں سب سے زیادہ بحث وزیر برائے فروغِ انسانی وسائل اسمرتی ایرانی کی تعلیمی ڈگری کو لے کر چلی۔ اس کے بعد جموں و کشمیر کے اودھم پور سے منتخب ہونے والے ایم پی ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے آرٹیکل 370 پر دیے گئے بیان نے بھی سیاسی بحثوں کو گرما دیا۔ لیکن حیرانی کی بات ہے کہ آج کل نہ تو میڈیا اور نہ ہی بی جے پی مخالف دیگر سیاسی پارٹیوں کے لیڈر مودی سرکار میں چن کر آئے داغی ممبرانِ پارلیمنٹ پر کوئی بات کر رہے ہیں۔ حالانکہ اگر پرچہ نامزدگی بھرتے وقت ان لیڈروں کے ذریعے الیکشن کمیشن کو دیے گئے حلف نامے پر یقین کیا جائے اور پھر ملک میں جمہوری اصلاحات کے لیے کوشاں دو بڑی رضاکارانہ تنظیموں ’اے ڈی آر‘ اور ’نیشنل الیکشن واچ‘ کے ذریعے مودی سرکار میں شامل 46 میں سے 44 وزراء کے اس تعلق سے کیے گئے تجزیہ کو سامنے رکھا جائے، تو پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے 13 (یعنی 30 فیصد) وزراء کے خلاف جرائم کے معاملے ملک کی مختلف عدالتوں میں چل رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ان نئے وزراء میں سے 8 (یعنی 18 فیصد) ایسے بھی ہیں، جن کے خلاف جرائم کے سنگین معاملے درج ہیں اور ان کے خلاف عدالتوں میں سماعت چل رہی ہے۔ اس طرح مجموعی طور سے دیکھا جائے، تو مودی سرکار کے 46 وزراء میں سے 21، یعنی آدھے سے پانچ کم اور 543 ممبران والی سولہویں لوک سبھا کے 112 (یعنی 21 فیصد) ممبران داغی پس منظر رکھتے ہیں۔ حیرانی تو تب ہوتی ہے، جب اسمرتی ایرانی کی ڈگری کو لے کر تو میڈیا اور سیاسی حلقوں میں کئی دنوں تک بحث ہوتی ہے، لیکن ان داغی وزراء پر کوئی بھی بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔
اگر عام انتخابات سے ایک ڈیڑھ سال پہلے تک کے ملک کے سیاسی حالات پر غور کریں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کیسے انا ہزارے اور اروِند کجریوال نے دہلی کے رام لیلا میدان سے پندرہویں لوک سبھا میں بیٹھے داغی شبیہ والے ارکانِ پارلیمنٹ کو للکارا تھا، جس پر بوکھلا کر لالو پرساد یادو جیسے لیڈروں نے انا کی اس الزام تراشی کو پوری پارلیمنٹ کی توہین قرار دیا تھا۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ 2014 کے عام انتخابات جیسے جیسے قریب آتے گئے، داغی اور بدعنوان لیڈروں کے خلاف انا ہزارے اور اروِند کجریوال کی یہ تحریک کمزور ہوتی چلی گئی اور آج نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ سولہویں لوک سبھا میں بھی ایسی داغدار شبیہ والے ممبرانِ پارلیمنٹ پہنچ گئے۔ اس سے بھی بڑی حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان داغی شبیہ والے ممبرانِ پارلیمنٹ میں سے بعض کو وزارتیں بھی مل چکی ہیں۔
اب آئیے دیکھتے ہیں کہ مرکزی حکومت کی کابینہ میں وہ کون سے وزراء ہیں، جن کے خلاف جرائم کے سنگین معاملے درج ہیں۔ آٹھ وزراء کی اس فہرست میں سب سے نمایاں نام اوما بھارتی کا ہے، جنہیں 26 مئی، 2014 کو راشٹرپتی بھون میں صدرِ جمہوریہ نے عہدہ اور رازداری کا حلف دلایا، جس کے بعد انہیں وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعے آبی وسائل، ندیوں کے فروغ اور مذہبی طور پر گنگا جیسی مقدس ندی کی نگرانی کی وزارت سونپی گئی۔ اوما بھارتی کے خلاف کل 13 معاملے درج ہیں، جن میں سے 2 میں ان کے خلاف چارج شیٹ بھی داخل کی جا چکی ہے۔ اوما بھارتی کے خلاف یہ سارے معاملے تعزیراتِ ہند کی مختلف دفعات کے تحت درج کیے گئے ہیں، جن میں قتل کی کوشش، مذہبی بنیاد پر نفرت پھیلانے، ملک کی سالمیت کو خطرہ پہچانے، انتخابات کے دوران غیر قانونی طور پر پیسے کا استعمال کرنے، فساد برپا کرنے، سرکاری افسروں کے ساتھ بدتمیزی کرنے، جان لیوا ہتھیار رکھنے جیسے سنگین جرائم کے معاملے شامل ہیں۔
اس فہرست میں دوسرا نام مہاراشٹر کی بیڈ پارلیمانی سیٹ سے جیت کر آنے والے اور مودی کابینہ میں دیہی ترقی، پنچایتی راج اور پینے کا پانی اور صاف صفائی کی وزارتوں کی ذمہ داری سنبھالنے والے گوپی ناتھ منڈے کا تھا، جن کا گزشتہ 2جون کو دہلی میں ایک سڑک حادثے میں انتقال ہوگیا۔ ان کے خلاف بھی سنگین جرائم کے تین معاملے درج تھے، جن میں سے 2 معاملوں میں ان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی جا چکی تھی، جب کہ ایک معاملہ عدالت میں زیر غورتھا۔تیسرا نام مودی سرکار میں وزیر برائے صحت و خاندانی بہبود کے عہدہ پر فائز اور دہلی کے چاندنی چوک پارلیمانی حلقہ سے جیت کر لوک سبھا پہنچنے والے ڈاکٹر ہرش وردھن کا ہے۔ ان کے خلاف بھی آئی پی سی کی دفعہ 147، 149، 341، 427 جیسے سنگین جرائم کے دو معاملے دہلی کی عدالت میں چل رہے ہیں، جس میں سرکاری افسروں کو ان کی ڈیوٹی سے روکنا، پبلک پراپرٹی کو نقصان پہنچانا اور قانون کی خلاف ورزی کرنا جیسے معاملے شامل ہیں۔ چوتھا نام آنجہانی سنجے گاندھی کی بیوہ مینکا گاندھی کا ہے، جو مودی سرکار میں اس وقت خواتین اور فروغِ اطفال کی وزارت سنبھال رہی ہیں۔ یو پی کی پیلی بھیت سیٹ سے جیت کر آنے والی مینکا گاندھی کے خلاف سنگین جرائم کا ایک معاملہ درج ہے، جو ڈکیتی کے دوران زخم پہنچانے سے متعلق ہے اور جس پر الہ آباد ہائی کورٹ میں ابھی سماعت چل رہی ہے۔
پانچواں نام سابق بی جے پی صدر اور سولہویں لوک سبھا میں مہاراشٹر کی ناگپور سیٹ سے جیت کر آنے والے اور مودی سرکار میں روڈ ٹرانسپورٹ و شاہراہیں اور کشتی بانی کی وزارت سنبھال رہے نتن گڈکری کا ہے۔ ان کے خلاف سنگین جرائم کے کل 4 معاملے درج ہیں، جو آئی پی سی کی دفعہ 143، دفعہ 186 اور دفعہ 188 کے تحت آتے ہیں۔ ان سارے معاملوں میں ان کے خلاف مہاراشٹر کی عدالت میں سماعت چل رہی ہے۔ حیرانی کی بات ہے کہ اس لسٹ میں چھٹا نام سابق آرمی چیف اور اتر پردیش کی غازی آباد سیٹ سے جیت کر آنے والے اور مودی سرکار میں آزادانہ چارج کے ساتھ وزیر مملکت کا درجہ پانے والے جنرل (ریٹائرڈ) وی کے سنگھ کا بھی ہے۔ ان کے خلاف دو معاملے درج ہیں، جن میں سے ایک میں ان کے خلاف چارج شیٹ داخل ہو چکی ہے، جب کہ دوسرا معاملہ ابھی عدالت میں زیر غور ہے۔اس لسٹ میں ساتواں نام بہار کی کاراکٹ سیٹ سے جیت کر آنے والے اور وزارتِ دیہی ترقی، پنچایتی راج اور پینے کا پانی اور صاف صفائی کی وزارت میں وزیر مملکت کا درجہ پانے والے اوپیندر کشواہا کا ہے۔ ان کے خلاف بھی سنگین جرائم کے چار معاملے درج ہیں جو رشوت خوری اور سرکاری نوکر (پبلک سروینٹ) کا حکم نہ ماننے سے متعلق ہے۔
مودی کابینہ کے داغی وزراء کی اس فہرست میں آٹھواں اور آخری نام لوک جن شکتی پارٹی کے صدر اور بہار کی حاجی پور سیٹ سے جیت کر آنے والے اور وزیر خوراک کا عہدہ سنبھال رہے رام ولاس پاسوان کا ہے، جن کے خلاف بھی سنگین جرائم کے کل دو معاملے درج ہیں، جو کہ رشوت خوری اور امن کا ماحول خراب کرنے سے متعلق ہیں۔
یہ بات صحیح ہے کہ ان آٹھوں وزراء میں سے کسی کو بھی اب تک کسی بھی معاملے میں سزا نہیں ہوئی ہے، لیکن چونکہ ان کے خلاف یہ معاملے ابھی ملک کی مختلف عدالتوں میں زیر غور ہیں، اس لیے انہیں کوئی سزا ہوتی ہے یا نہیں، اس کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ یہ سارے معاملے وہ ہیں، جن کا انکشاف خود ان وزراء نے لوک سبھا انتخابات کے وقت اپنا پرچہ نامزدگی بھرتے وقت حلف نامہ کی شکل میں کیا تھا۔ اس لیے اس میں کسی کی طرف سے الزام تراشی کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ البتہ، موجودہ سرکار سے یہ گزارش تو کی ہی جا سکتی ہے کہ اگر وہ ہمارے ملک کی جمہوریت کو مزید مضبوط کرنا اور شفافیت پیدا کرنا چاہتی ہے، تو اسے ایسے لوگوں کو اپنی وزارت میں شامل کرنے سے گریز کرنا چاہیے تھا، جن کے خلاف سنگین جرائم کے معاملات درج ہیں۔ دوسرے یہ کہ آنے والے دنوں میں الیکشن کمشنر کی طرف سے بھی ایسی کوئی پہل ضرور کی جانی چاہیے، جس سے داغی شبیہ والے امیدواروں کو الیکشن لڑنے سے روکا جا سکے۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ انا ہزارے جیسے لوگوں نے عوام کے درمیان اس تعلق سے جو ایک زبردست تحریک شروع کی تھی، اسے آگے بڑھایا جانا چاہیے اور ملک کے عوام کو بھی اپنی جمہوریت کو مضبوط کرنے میں ہر قسم کا مثبت رول نبھانا چاہیے۔ یہ سب کچھ اس لیے بھی ضروری ہے کہ آج ہمارے ملک میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے پاس کردہ لوک پال نافذ ہے۔ لہٰذا، اس کا تقاضہ ہے کہ ان باتوں پر توجہ دی جائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *