سو دنوں کا ایجنڈا کتنا کارگر ہوگا؟

سنتوش بھارتیہ
نریندر مودی نے کابینہ کی پہلی میٹنگ میں دو کام کیے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ دونوں کام اچھے ہیں۔ پہلا کام، انہوں نے دس ترجیحات طے کی ہیں، جنہیں سامنے رکھ کر ان کی کابینہ کام کرے گی۔ دوسرا کام، انہوں نے اپنے وزیروں سے کہا ہے کہ وہ 100 دنوں کا ایجنڈا بنائیں اور 100 دنوں کا رپورٹ کارڈ انہیں سونپیں۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب منموہن سنگھ دوبارہ وزیر اعظم بنے تھے، تو انہوں نے اپنے وزیروں کو ہدایت دی تھی کہ وہ بھی 100 دنوں کا ایجنڈا بنائیں اور 100 دنوں کی پیش رفت کا بیورا، یعنی رپورٹ کارڈ انہیں سونپیں۔ افسوس کی بات، فیصلہ لینے کے بعد منموہن سنگھ اپنے اس فیصلہ کو بھول گئے۔ پورے پانچ سال گزر گئے اور 100 دن تو چھوڑ دیں، پانچ سال میں انہوں نے کیا کیا، یہ لوگوں کو بتا نہیں پائے۔ شاید اس لیے کہ سرکار اور وزیر خمار میں ڈوبے رہے، گھوٹالے پہ گھوٹالے ہوتے رہے اور اگر کوئی رپورٹ کارڈ منموہن سنگھ نے جاری کیا، تو وہ رپورٹ کارڈ ان کی آخری پریس کانفرنس میں تھا کہ ہم 1991 کی اقتصادیات کے دور میں پہنچ گئے ہیں، یعنی ملک 1991 کی اقتصادی بنیاد پر پہنچ گیا ہے۔ اس کا دوسرا مطلب فطری طور پر یہ ہے کہ جتنی اقتصادی ترقی ہونی چاہیے تھی، اتنی ہی ہوئی۔ جن پالیسیوں کو لے کر اقتصادی ترقی کے خواب دکھائے گئے تھے، ان پالیسیوں کا ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
اب نریندر مودی جی نے 100 دنوں کے رپورٹ کارڈ کی بات کہی ہے۔ اس کا پہلا مطلب یہ نکلتا ہے کہ نریندر مودی سرکار کے کام کی سمت یہ 100 دن طے کریں گے۔ سمت تو 100 دن طے کریں گے ہی، رفتار بھی شاید یہ 100 دن طے کریں۔ لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ان 100 دنوں میں نریندر مودی کس سمت میں سرکار کو لے جاتے ہیں؟ سمتیں دو طرح سے طے ہوتی ہیں۔ سمت طے کرنے کا ایک طریقہ تو نریندر مودی نے اپنایا ہے، جس میں انہوں نے دس نکات وزیروں کے سامنے رکھے ہیں۔ لیکن یہ دس نکات ایسے ہیں، جنہیں پانچ سال، دس سال، پندرہ سال میں پورا کر پانا ناممکن ہے۔ لیکن، اگر اس سمت میں کام کرتی ہوئی سرکار دکھائی دے، تو بھی اچھا اشارہ ماننا چاہیے۔ تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر، گڈ گورننس جیسی چیزیں سننے میں اچھی لگتی ہیں، لیکن یہ سمت طے کرنے میں اہم رول کم نبھاتی ہیں۔ اہم رول نبھانے کے لیے اقتصادی پالیسیوں کا ذکر ضروری ہے۔ اقتصادی پالیسیاں اس ملک میں 80 فیصد لوگوں کے حق میں ہوں گی یا 20 فیصد کے، اس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے میں تعاون 80 فیصد لوگوں نے دیا۔ انہوں نے تمام اندیشوں کو درکنار کرکے نریندر مودی کو وزیر اعظم بنایا، لیکن خوش ملک کا بازار ہوا۔ سونا سستا ہوا، لیکن دال، چاول، گیہوں، سبزیاں وہیں کی وہیں ہیں، بلکہ کچھ معنوں میں مہنگائی بڑھ گئی ہے۔

نریندر مودی کی کابینہ اچھی کابینہ ہے اور کسی بھی کابینہ کے اوپر سوال اٹھانا غلط ہے۔ سوال تب اٹھانا چاہیے، جب وزیر اپنی صلاحیت کا مظاہرہ نہ کر سکیں اور وزیر بدعنوانی میں ملوث ہوں، کیو ںکہ پہلے بھی وزیر اعظم کی کابینہ مانی جاتی تھی، آج بھی وزیر اعظم کی کابینہ مانی جانی چاہیے۔ لیکن نریندر مودی سے بہت خاص توقعات تھیں۔ ان کی کابینہ سامنے آئے گی۔ اس ملک میں جہاں ایک طرف بدعنوانی کرنے والوں کو ڈر لگے گا، وہیں دوسری طرف ترقی کا دروازہ کھلے گا۔ لیکن دونوں چیزیں ہوتی نہیں دکھائی دیں۔ نریندر مودی کی کابینہ اچھی کابینہ ہے، لیکن اوسط کابینہ ہے۔ اسمرتی ایرانی کو لے کر بہت سارے سوال ہو رہے ہیں، جو نہیں ہونے چاہئیں۔ لیکن، جب دو حلف نامے سامنے آئے، تو انہیں ہمت کے ساتھ سامنے آکر کہنا چاہیے تھا کہ ان سے چوک ہوئی ہے اور وہ صحیح صورتِ حال الیکشن کمیشن کو بتائیں گی۔ ایم جے اکبر جیسے لوگ، جن کا بین الاقوامی ڈپلومیسی میں بہت بڑا نام ہے، انہیں نریند رمودی نے کوئی کام نہیں سونپا۔

نریندر مودی نے گاؤوں میں پینے کے پانی کی جو بات کہی، اس کا خیر مقدم ہونا چاہیے، لیکن اس کے لیے پالیسیاں کیا ہوں گی؟ اِن دس نکات کو اگر ہم دس مقاصد مان لیں، تو انہیں حاصل کرنے کا راستہ کیا ہوگا؟ سوال اس لیے اٹھ رہا ہے، کیوں کہ نریندر مودی کے سامنے تاریخ نے ایک سنہرا موقع دیا ہے۔ اگر اس موقع کو نریندر مودی ضائع کرتے ہیں، تو کیا یہ ملک پانچ سال انتظار کرے گا؟ ملک امیدوں کے بھنور میں غوطے لگا رہا ہے۔ نریندر مودی کے کسی بھی نظریاتی عزم کو لوگوں نے ووٹ دینے کی بنیاد نہیں بنایا۔ انہیں لگا کہ نریندر مودی کے آنے کے بعد بدعنوانی کم ہوگی، لیکن بدعنوانی سے پہلے مہنگائی کم ہوگی۔ مہنگائی کم ہو، اس کے لیے نریندر مودی کو حل تلاش کرنے ہوں گے، ورنہ دو جملے ہر وزیر اعظم تین مہینے کے بعد بول دیتا ہے- پہلا، ہمارے پاس جادو کی چھڑی نہیں ہے اور دوسرا، مہنگائی اور بدعنوانی گلوبل فینومینا ہے۔ ہمیں امید کرنی چاہیے کہ نریندر مودی اس زبان کا استعمال کبھی نہیں کریں گے۔ اور، جس دن نریندر مودی نے اس زبان کا استعمال کیا، اسی دن مان لینا چاہیے کہ ملک کے عوام کے ساتھ ایک اور بڑا دھوکہ ہو گیا۔
بازار اپنے لیے بجٹ بنانے میں کوشاں ہے۔ میڈیا نے نریندر مودی کی سپر اسٹار کے طور پر مدح سرائی کی ہے۔ نریندر مودی کی حلف برداری کے تین دنوں کے اندر ملک کا ایک بڑا میڈیا گروپ مکیش امبانی نے اپنے قبضے میں لے لیا۔ آئی بی این – 7 نریندر مودی کے خلاف شروع میں کچھ رپورٹس دکھاتا تھا۔ اس سے لگتا تھا کہ کانگریس اقتدار میں آئے گی اور ملک کے ایک بڑے صحافی راجدیپ سردیسائی 2002 کے فسادات سے لے کر اب تک نریندر مودی کی سخت تنقید کرنے والوں میں رہے ہیں۔ پہلی بار 29 مئی کو مکیش امبانی کی ملکیت والی تنظیموں نے آئی بی این – 7 اور ٹی وی 18 والے گروپ کو اپنے قبضے میں لے لیا۔ راگھو بہل اور راجدیپ سردیسائی کو صحافت کی قیمت چکانی پڑی۔ مکیش امبانی تقریباً سارے میڈیا گروپوں میں کچھ نہ کچھ شیئر خرید چکے ہیں اور اس ملک کے کسی بھی میڈیا گروپ میں امبانی گروپ کو لے کر کوئی رپورٹ نہیں دکھائی جا سکتی۔ اسی طرح ملک کے دوسرے بڑے میڈیا گروپ کو کمار منگلم بڑلا کے گروپ نے تقریباً اپنے قبضے میں کر لیا ہے۔ اور، دیکھنے کی بات یہ ہے کہ کس دن وہ اسے اسی طرح اپنی مٹھی میں قید کرتے ہیں، جیسے مکیش امبانی کی ملکیت والے گروپ نے آئی بی این – 7 یا ٹی وی 18 گروپ کو اپنے قبضے میں لیا ہے۔
نریندر مودی کی کابینہ اچھی کابینہ ہے اور کسی بھی کابینہ کے اوپر سوال اٹھانا غلط ہے۔ سوال تب اٹھانا چاہیے، جب وزیر اپنی صلاحیت کا مظاہرہ نہ کر سکیں اور وزیر بدعنوانی میں ملوث ہوں، کیو ںکہ پہلے بھی وزیر اعظم کی کابینہ مانی جاتی تھی، آج بھی وزیر اعظم کی کابینہ مانی جانی چاہیے۔ لیکن نریندر مودی سے بہت خاص توقعات تھیں۔ ان کی کابینہ سامنے آئے گی۔ اس ملک میں جہاں ایک طرف بدعنوانی کرنے والوں کو ڈر لگے گا، وہیں دوسری طرف ترقی کا دروازہ کھلے گا۔ لیکن دونوں چیزیں ہوتی نہیں دکھائی دیں۔ نریندر مودی کی کابینہ اچھی کابینہ ہے، لیکن اوسط کابینہ ہے۔ اسمرتی ایرانی کو لے کر بہت سارے سوال ہو رہے ہیں، جو نہیں ہونے چاہئیں۔ لیکن، جب دو حلف نامے سامنے آئے، تو انہیں ہمت کے ساتھ سامنے آکر کہنا چاہیے تھا کہ ان سے چوک ہوئی ہے اور وہ صحیح صورتِ حال الیکشن کمیشن کو بتائیں گی۔ ایم جے اکبر جیسے لوگ، جن کا بین الاقوامی ڈپلومیسی میں بہت بڑا نام ہے، انہیں نریند رمودی نے کوئی کام نہیں سونپا۔ ہو سکتا ہے، نریندر مودی جی کے دماغ میں کہیں یہ بات چل رہی ہو کہ وزیروں کے ساتھ ماہرین کی ایک ٹیم بنائیں گے، تاکہ وزیر ان ماہرین کی رائے پر ملک کے مسائل کو حل کر سکیں۔ اب یہ ماہرین کیسے ہوں گے؟ کیوں کہ اس ملک میں شروع سے دو روایتیں چلتی آ رہی ہیں۔ ایک بازار کو اہم ماننے والی روایت، جو ملک کے 70 فیصد عوام کو ترقی کی راہ سے باہر رکھتی ہے اور دوسری غریبوں کو ساتھ لے کر ترقیاتی پالیسیاں بنانے والی روایت، جس کا ماننا ہے کہ بازار یا کارپوریٹ اور سرکار کو پہلی ترجیح انہیں دینی چاہیے، جن کے پاس کچھ نہیں ہے۔ وہاں جب کچھ پہنچے گا، تبھی ملک کی ترقی ہوئی، ایسا مانا جائے گا۔
سوال بہت ہیں اور ان سوالوں کے جواب ابھی تک نریند رمودی نہیں دے پائے ہیں، لیکن انہوں نے 100 دنوں کے ایجنڈے اور 100 دنوں کے رپورٹ کارڈ کی بات کہی ہے۔ دراصل، پہلے 100 دن نریندر مودی جی کے امتحان کے دن ہیں اور ہم سب کو امید کرنی چاہیے کہ نریندر مودی اس امتحان میں کھرے اتریں گے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *