سرکار کی پالیسیاں کیا ہوں گی؟

کمل مرارکا
Mastلوک سبھا کے انتخابات ختم ہو چکے ہیں اور عوام کا فیصلہ آ چکا ہے۔ عوام کا یہ فیصلہ ہم جیسے کئی لوگوں کے لیے حیران کن، تو بی جے پی اور اس کے ساتھیوں کے لیے اطمینان بخش ہے۔ عوام کے اس فیصلہ کا ایک مطلب ہے کہ اگلے پانچ سالوں تک ملک میں ایک مستحکم سرکار ہوگی، کیوں کہ بی جے پی نے اپنے دَم پر واضح اکثریت حاصل کی ہے۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر اس سرکار کی پالیسیاں کیا ہوں گی اور کیا وہ ان پالیسیوں کو نافذ کر پانے کے قابل ہوگی؟ مینی فیسٹو کی اپنی پالیسیاں ہیں۔ اس میں اطمینان بخش بات یہ ہے کہ انتخابی منشور میں رام مندر اور آرٹیکل 370 جیسے مدعوں کو اندرونی صفحات پر رکھا گیا ہے اور بنیادی مدعے ڈیولپمنٹ اور روزگار پر مرکوز ہیں۔ اب مان لیتے ہیں کہ یہ سرکار اپنے وعدوں کے تئیں ایماندار رہے گی، لیکن وہ اسے کیسے پورا کریں گے؟ سرمایہ کاری کا ایشو بے حد آسان ہے، کیوں کہ غیر ملکی سرمایہ کاری آ سکتی ہے۔
گزشتہ دو سالوں میں اس ملک کے جذبات کو کافی ٹھیس لگی ہے، کیوں کہ پچھلی سرکار کے ذریعے ریٹروسپیکٹو ٹیکسیشن سمیت کچھ دیگر ایسے فیصلے لیے گئے ہیں، جس کا خیر مقدم نہیں کیا گیا، کیوں کہ وہ بین الاقوامی مالیاتی سانچے میں فٹ نہیں بیٹھتے تھے۔ میں پراعتماد ہوں کہ یہ نئی سرکار جلد اسے بدلے گی، کیوں کہ بی جے پی کاروباریوں کی پارٹی ہے۔ وہ دیگر باتوں کو سمجھنے کی بہ نسبت کاروباریوں کے مسئلہ کو بہتر طریقے سے سمجھتے ہیں۔ وہ کسی بھی طرح تاجر برادری کو ناراض کرنا پسند نہیں کریں گے۔ پہلے بجٹ میں ٹیکسوں میں کٹوتی کو لے کر اشارے ہو سکتے ہیں، بھلے ہی کم کٹوتی ہو، لیکن امریکی بنیاد پر کارپوریٹ سیکٹر اور امیروں کے لیے ٹیکسوں میں کٹوتی ہو سکتی ہے۔ ان سب سے ملک میں سرمایہ آ سکتا ہے۔ نئے وزیر اعظم کو بڑے پروجیکٹ کافی محبوب ہیں، جیسے بُلیٹ ٹرین، ندیوں کو جوڑنا وغیرہ۔
اب امریکی کمپنیوں اور مغربی ممالک سے سرمایہ آ سکتا ہے، کیوں کہ ان کمپنیوں کے پاس بھی ہندوستان کے علاوہ کہیں اور سرمایہ کاری کرنے کا آپشن نہیں ہے۔ ہندوستان کے علاوہ ان کے لیے منافع کمانے کا متبادل کہیں اور نہیں ہے اور لوگ ہندوستان کو سرمایہ کاری کرنے کی ایک اچھی جگہ مان رہے ہیں۔ اگر وہ کانگریس سرکار کے ذریعے انجانے میں پیدا کی گئی رکاوٹوں کو ہی دور کر دیتے ہیں، اقتصادیات کے تئیں صحیح نظریہ رکھتے ہیں اور اپنے وعدوں سے پیچھے نہیں ہٹتے ہیں، تو پیسہ آئے گا۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ وہ پروجیکٹ کون سے ہیں اور وہ کتنے بڑے ہیں؟ کیا وہ قابل عمل ہیں؟ ہندوستان میں آپ بُلیٹ ٹرین لا سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے بجٹ کا انتظام کیسے ہوگا؟ آپ اسے چلانے کے لیے کرایوں میں اضافہ نہیں کر سکتے ہیں، اس لیے ان پر سبسڈی دینا ہوگا۔ کیا ٹرین سروِس پر سبسڈی دینا کارگر ثابت ہوگا؟ ہمیں نہیں معلوم۔ گنگا اور کاویری کو جوڑنے والے پروجیکٹ کو پورا ہونے میں 20 سال کا وقت لگے گا۔ ساتھ ہی، ماحولیات کے لحاظ سے یہ قابل عمل ہے یا نہیں، یہ راجندر پچوری اور ان کے ساتھیوں کے لیے سوچنے کا موضوع ہے، لیکن اٹل بہاری واجپئی کی قیادت والی سرکار میں سریش پربھو کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی اور وہ اس پر کام کر رہے تھے۔ یہ سچ ہے کہ ندیوں کا کافی پانی برباد ہو رہا ہے اور سمندر میں جا رہا ہے۔ اس کو بچانے کے لیے کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن، کیا ہم چین کی طرح بڑے بڑے باندھ بنا سکتے ہیں؟ ہمیں نہیں معلوم۔ کیا یہ مناسب ہے؟ ہم نہیں جانتے۔ لیکن یہ ایسی چیزیں ہیں، جسے وہ تین، چھ اور 12 مہینے میں کر سکتے ہیں۔ لیکن، مستقبل میں اس سے عام آدمی کو راحت کیسے ملے گی، جو مہنگائی کے بوجھ سے دبا ہوا ہے؟ اب سرکار افراطِ زر یا مہنگائی پرکیسے قابو پائے گی؟ سرکار صرف اناجوں کی مہنگائی سے نمٹ سکتی ہے، کیوں کہ اس کے پاس گیہوں اور دیگر اناجوں کا ذخیرہ ہے۔ موقع پڑنے پر وہ اسے بازار میں اتار سکتی ہے۔ بے شک، اس سے مہنگائی کچھ کم ہوگی، لیکن سبزیوں کی مہنگائی کا سرکار کیا کرے گی؟ ہر 10 سے 100 کلومیٹر کی دوری پر سبزیوں کی قیمت میں فرق آ جاتا ہے۔ مرکزی حکومت اس کے لیے زیادہ کچھ نہیں کر سکتی ہے۔
اب سوال آتاہے پیٹرول اور ڈیزل کا۔ اس سرکار کے صلاح کار، جیسے بھگوتی، پن گڑھیا اور دیگر لوگ ہمیشہ یہی کہیں گے کہ بچ کر نکل جانا چاہیے۔ وہ سبسڈی کو بالکل پسند نہیں کرتے۔ جب کبھی بھی بین الاقوامی سطح پر کچے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا، وہ بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھائیں گے۔ بھگوتی اور پن گڑھیا نے پہلے ہی ایک بیان دے دیا ہے کہ سلنڈر کی سبسڈی 9 سے گھٹاکر 6 کر دی جانی چاہیے۔ ایسے میں وہ کس طرح افراطِ زر یا مہنگائی کے مسئلہ سے نمٹیں گے، یہ مجھے سمجھ میں نہیں آتا۔ ایک اور پہلو ہے، جسے لوگ اکثر بھول جاتے ہیں۔ فرض کیجیے، وہ مہنگائی کم کر پانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ قیمتوں میں اضافہ ہی افراطِ زر کی شرح ہے۔ اسی لیے افراطِ زر کے کم ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ قیمتوں میں کمی آئے گی۔ اس کا مطلب ہے کہ قیمتوں میں اضافہ یکساں طور پر نہیں ہوگا اور موجودہ سطح برقرار رہے گی۔ ایسے میں قیمتوں میں کمی کا کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا ہے۔
امیروں اور غریبوں کو ایک ساتھ راحت نہیں مل سکتی۔ دراصل، پچھلی سرکار نے یہی کرنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے کارپوریٹ سیکٹر کو تیز رفتار بنانے کی کوشش کی اور نریگا (جو بعد میں منریگا ہو گیا) اور تعلیم کا حق وغیرہ جیسی اسکیموں کو شروع کیا۔ لیکن، اس سے بات نہیں بنی، کیوں کہ اگر آپ غریبوں کی مدد کے لیے کچھ بھی کرتے ہیں، تو اس سے امیروں کو بھی فائدہ ملتا ہے۔ بات اگر نریگا کی کریں، تو پچھلی سرکار نے نریگا شروع کیا تھا، جس کے تحت ہر ایک گاؤں اور فیملی کو روزگار دینے کی گارنٹی دی گئی تھی۔ لیکن، اسے نافذ کیسے کیا گیا؟ ایک طرف آپ کہتے ہیں کہ دیہی ترقی میں پنچایتوں کی مکمل حصہ داری ہوگی، لیکن یہ تبھی ممکن ہے، جب کلکٹر کا دخل کم ہوگا۔ دراصل، اس میں کئی کمیاں ہیں اور آپ کو پتہ بھی نہیں چلتا ہے کہ پیسہ کہاں جا رہا ہے۔ ایک اصول یہ ہے کہ اس الیکشن میں نریگا جیسی اسکیم بھی کانگریس سرکار کے خلاف گئی ہے۔ ہمیں حقیقت کا علم نہیں ہے، لیکن یہ قابل غور سوال ہے کہ غریبوں کو پیسہ، مدد اور راحت کیسے دی جائے؟ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ سرکار کی نئی پالیسیاں کیا ہیں؟ نئے وزیر اعظم لگاتار گجرات ماڈل کی بات کرتے رہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ یہ ماڈل کیا ہے۔ میں نے کئی کتابیں اور رسائل پڑھے ہیں اور ابھی بھی جاننے کا خواہش مند ہوں کہ آخر یہ ماڈل کیا ہے؟ اس کے علاوہ، گجرات میں غریبوں کی کیسے مدد کی گئی؟ میں نے وڈودرا کے ایک صحافی کا مضمون پڑھا۔ اپنے مضمون میں اس نے لکھا ہے کہ یہ شہر ہندوستان کے دیگر شہروں جتنا ہی گندا ہے۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر یہ ترقی کا کون سا ماڈل ہے؟ مودی صرف یہ بتا سکتے ہیں کہ شیئر بازار اچھلے گا، کارپوریٹ سیکٹر بڑھے گا، غیر ملکی سرمایہ آئے گا۔ نئی فیکٹریاں آ سکتی ہیں، لیکن وہ کتنے روزگار پیدا کریں گی، یہ مستقبل کی بات ہے اور اس میں لمبا وقت بھی لگے گا۔
جدید تکنیک آ چکی ہے اور فیکٹریاں جدید آلات کے ذریعے کام کرتی ہیں۔ جس کام کے لیے پہلے 2000 لوگوں کی ضرورت پڑتی تھی، اس میں اب صرف 200 لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر آپ کتنی فیکٹریاں لگائیں گے؟ کچھ دنوں پہلے ایک پروگرام میں، میں نے ماہر ماحولیات وندنا شیوا کو سنا۔ وہ بتا رہی تھیں کہ ملک میں ہر دوسرا آدمی کسان ہے۔ تو کاشت کاری پر سرکار کا کیا نظریہ ہے؟ میں نے بی جے پی کی طرف سے اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں سنا۔ اس کے مینی فیسٹو میں کسانوں کے بارے میں کچھ ہے، میں نے نہیں سنا۔ آپ کاشت کاری کے لیے کون سی ایسی نئی تکنیکوں کا استعمال کرنے جا رہے ہیں، جس سے اس شعبہ میں لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھ سکیں اور وہ اپنی آمدنی بڑھا سکیں؟ یقینی طور پر یہ لمبے وقت کی پریشانیاں ہیں۔ چونکہ نئے وزیر اعظم سمجھدار ہیں، اسی لیے وہ 10-15 سال کا وقت مانگ رہے ہیں۔ ایک تقریر میں انہوں نے 20 سال کا وقت مانگا تھا۔ حالانکہ پہلے وہ پانچ سال کا وقت مانگ رہے تھے، لیکن مکمل اکثریت اور ایک واضح نظریہ کے ساتھ وہ اس کے لیے کوشش تو کر ہی سکتے ہیں۔ سرکار کے ابتدائی تین مہینوں کے کام کاج اور پہلے بجٹ سے ہی یہ معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس سمت میں جا رہے ہیں۔
مجھے ایسا لگتا ہے کہ ان کی سمت کاروبار، صنعت اور سماج کے دولت مند طبقے کی طرف ہی ہوگی۔ میرے خیال سے یہ ملک کے مفاد کے لیے صحیح نہیں ہے، کیوں کہ 1991 کا لبرلائزیشن ملک کو آگے لے کر نہیں آیا ہے۔ ان گزشتہ 23 برسوں میں ملک واقعی آگے نہیں گیا ہے۔ غریب ابھی بھی غریب ہی ہیں۔ اقلیتی طبقہ ابھی بھی بیچ میں لٹکا ہوا ہے۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی ابھی قائم کی جانی باقی ہے۔ 1984 کے بعد ملک میں پیدا ہوئی ہندو – سکھ رنجش ہو یا پھر بابری اور گودھرا کے بعد پیدا ہوئی ہند و – مسلم رنجش، یہ سارے مسائل ابھی بھی ویسے ہی بنے ہوئے ہیں۔ عیسائیوں کی حالت بھی کم و بیش ایسی ہی ہے۔ اٹل بہاری واجپئی کی پچھلی سرکار میں اڑیسہ میں عیسائیوں کا قتل عام ہوا تھا۔ مجھے نہیں لگتا کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کہیں بھی نزدیک ہے۔ کانگریس نے گزشتہ دس برسوں تک حکومت کی۔ وہ اس معاملے میں کافی بہتر کر سکتے تھے، لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے۔ انہیں دونوں سطحوں پر شکست ملی۔ کانگریس ایک ایسی پارٹی تھی، جو اپنے سیکولر ازم اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے جانی جاتی تھی، لیکن گزشتہ دس برسوں کے دورِ اقتدار میں وہ اس ہم آہنگی کو برقرار رکھ پانے میں ناکام ہوئے۔ اس کے علاوہ انہوں نے جو کچھ کوشش بھی کی، وہ سب بیکار ثابت ہو گئی۔ اب ایک نئی سرکار ہمارے سامنے ہے۔ کیا یہ سرکار نریگا جیسی اسکیم کو کوڑے میں ڈال دے گی؟ یہ ایک خراب سگنل ہوگا۔ کیا آپ نریگا کو اور بہتر بنانے کی کوشش کریں گے؟
سوال یہ ہے کہ یہ آخر ممکن کیسے ہوگا؟ دراصل، پریشانیاں کافی بڑی ہیں اور کہنے کے لیے صرف ایک بات ہے کہ پچھلی سرکار بدعنوان تھی۔ بدعنوان کن معنوں میں؟ کیا آپ 2 جی، 3 جی اور دیگر گھوٹالوں کی بات کریں گے؟ حالانکہ ان گھوٹالوں کا نریگا سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ نریگا میں بدعنوانی زمینی سطح پر ہے۔ اسے آپ کیسے دور کریں گے؟

عوام کے لیے اصلی بدعنوانی تو راشن کارڈ، پاسپورٹ اور آر ٹی او کی سطح پر ہے۔ آخر کس طریقے سے نئے وزیر اعظم ان سارے مسائل کو ٹھیک کریں گے؟ اگر ان سب چیزوں کو ٹھیک کرنے کے لیے پورا سنگھ (آر ایس ایس) ہی لگ جائے، تو میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا، جیسا کہ سنگھ نے گزشتہ انتخابات کے دوران کیا بھی۔ ملک کے ایڈمنسٹریٹو ڈھانچے کے بارے میں میں جتنا جانتا ہوں، اس کی بنیاد پر یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ مسائل میں کوئی تبدیلی نہیں آنے والی اور حالات جیسے کے تیسے بنے رہیں گے۔ آپ ایک افسر کا تبادلہ ایک جگہ سے دوسری جگہ کر سکتے ہیں، لیکن سسٹم جیسا کا تیسا ہی بنا رہے گا۔ اعلانات پر عمل کرنا واقعی میں مشکل ہوگا۔ اگر سرکار کچھ نئی مثبت اسکیمیں لے کر سامنے آئے، تو حالات بہتر بن سکتے ہیں اور اس سے غریبوں اور اقلیتوں کو بھی فائدہ مل سکتا ہے۔ موجودہ سرکار نے جس طرح انتخابات میں جیت حاصل کی ہے، اسے دیکھ کر مجھے نہیں لگتا کہ یہ پچھلی سرکار سے بہتر کام کرے گی۔ آئندہ پانچ سالوں تک تو ملک میں الیکشن کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔ لیکن، پانچ سالوں کے بعد کیا ہوگا؟ میرے خیال سے کانگریس پارٹی سب سے خراب دور سے گزر رہی ہے۔ یہ ملک کی سب سے پرانی پارٹی ہے اور اس نے آزادی کی لڑائی بھی لڑی ہے۔ سیاست میں سبھی پارٹیوں کے لیے خراب اور اچھے دن آتے ہیں، لیکن کوئی پارٹی اس حالت تک پہنچ جائے گی، اس کی امید نہیں تھی۔ مجھے اس بات کا علم نہیں ہے کہ کانگریس کی صدر اور نائب صدر اس بارے میں کیا سوچ رہے ہیں، مگر انہیں پارٹی کو ایک بار پھر سے کھڑا کرنے کا منصوبہ ضرور بنانا چاہیے۔ کانگریس اس ملک کے ہر ضلع اور گاؤں میں موجود ہے۔ بس اسے اپنی تنظیم میں جان پھونکنی ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ اس کام میں ان کا اقتدار میں نہ ہونا اثر ڈالے گا، لیکن پانچ سالوں کے بعد کیا ہوگا، یہ کسے معلوم ہے؟ پانچ سال کسی بھی ملک کی تاریخ میں بہت لمبا وقت نہیں ہوتا ہے۔ کانگریس ایک بار پھر سے اپنی واپسی کر سکتی ہے اور وہ بھی بہت بہتر طریقے سے۔ کانگریس کے لیے سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس کے بہت کم کارکن ہی بی جے پی میں شامل ہوں گے۔ ممکن ہے کہ اس کے ایک دو لیڈر ایسا کریں، لیکن پارٹی کے عام کارکن ایسا کبھی نہیں کریں گے۔
ان انتخابات میں تھرڈ فرنٹ کے ساتھ بھی ایک بڑا حادثہ ہوا ہے۔ لہٰذا، اب وقت آ گیا ہے کہ علاقائی لیڈروں کے ذاتی مفاد بھی سامنے نہیں آئیں گے۔ آپ یہ تو کہہ ہی سکتے ہیں کہ نتیش کمار اور دیو ے گوڑا ساتھ آ ہی سکتے ہیں۔ جتنا دَل یونائٹیڈ اور جنتا دَل سیکولر بھی ایسا کر سکتی ہیں۔ اسی طرح دوسری پارٹیوں کو بھی خود کے غرور سے الگ رکھنا ہوگا۔ جب جنتا پارٹی اور جنتا دَل تھی، اس وقت سبھی لیڈر ایک ہی میز پر بیٹھتے تھے۔ اس وقت کچھ قابل لیڈر تھے، جو ان کی رہنمائی کیا کرتے تھے۔ کچھ علاقائی طاقتیں، جیسے ممتا بنرجی اور جے للتا ایک بار پھر ساتھ آ سکتی ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ جنوبی ہند کی پارٹیاں نیشنل فرنٹ میں شاید نہ شامل ہوں، لیکن وہ سرکار بنانے میں ہمیشہ مدد کرتی رہی ہیں۔ ایسے میں ان لوگوں کو ساتھ کام کرنا چاہیے، جیسا کہ بی جے پی لیڈر اور میرے قریبی دوست رہے پرمود مہاجن کہا کرتے تھے۔ ان کے مطابق، جب وہ الیکشن ہار جاتے تھے، تو یہی سوچ کر کام شروع کرتے تھے کہ آئندہ الیکشن میں اب صرف 4 سال اور 364 دن ہی تو دور ہیں۔ کم و بیش یہی جذبہ کانگریس پارٹی کے اندر پیدا ہونا چاہیے کہ اگلے انتخابات میں اب صرف 4 سال 364 دن ہی باقی بچے ہیں۔ کانگریس پارٹی اس سوچ کے ساتھ آگے بڑھتی ہے، تو وہ دوبارہ اقتدار میں آ سکتی ہے۔ کانگریس پارٹی کو اپنا حوصلہ نہیں کھونا چاہیے۔ آئین کے ہدایتی اصول (ڈائریکٹو پرنسپل) کی بنیاد پر انہوں نے ابھی تک کچھ بھی نہیں کھویا ہے۔ وہ میرے لیے بہت ہی خطرناک دن ہوگا، جب کوئی مجھ سے یہ کہے گا کہ بی جے پی اسی لیے جیت گئی، کیوں کہ اسے ہندوؤں نے ووٹ دیا اور مسلمانوں نے نہیں دیا۔ میں ابھی اس بات پر یقین نہیں کرتا۔ میرے خیال سے روزگار، خوش حالی اور ترقی کی باتوں نے نوجوانوں کو اس پارٹی کی طرف متوجہ کیا ہے۔ وزیر اعظم نے پاکستان کے بارے میں جو باتیں شروعات میں کہی تھیں، اب ان کی زبان اس معاملے میں بدلی ہوئی ہے۔ شاید وہ اس بات کو سمجھ گئے ہیں کہ اگر کامیابی کے ساتھ ملک کو چلانا ہے، تو اپنے پڑوسیوں کے ساتھ جھگڑا نہیں کرنا چاہیے۔ مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں سارک ممالک کے سربراہان کو مدعو کیا گیا ہے۔ یہ ایک اچھا اشارہ ہے، کیوں کہ سارک ممالک کو امریکہ اور چین کے ساتھ بہتر تعلقات بنانے چاہئیں۔
شمالی ہند میں علاقائی لیڈروں کی حالت اچھی نہیں ہے، کیوں کہ 1971 کے انتخابات میں پورا شمالی ہندوستان اندرا گاندھی کے ساتھ چلا گیا تھا۔ 1977 میں یہی عوام جنتا پارٹی کے ساتھ چلے گئے تھے۔ سال 1980 میں یہی ووٹر اندرا گاندھی کے ساتھ آ گیا۔ اس بار یہی ووٹر پوری طرح بی جے پی کے ساتھ چلے گئے۔ حالانکہ اس کی امید کبھی نہیں کی گئی تھی۔ ذات کو بنیاد بنا کر سیاست کرنے والے لیڈروں کو کم از کم ساتھ بیٹھنا چاہیے۔ چاہے وہ یو پی میں ملائم ہوں یا بہار میں لالو پرساد یا شرد یادو۔ انہیں ساتھ بیٹھ کر اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اپنے کھسکے ہوئے ووٹ بینک کو کس طرح پھر سے واپس پایا جائے۔
میرا ماننا ہے کہ سب کا اپنا ایک ووٹ بینک ہے۔ یہ صحیح ہے کہ بی جے پی کانگریس اور دیگر علاقائی پارٹیوں پر مسلم ووٹ بینک کے استعمال کا الزام لگاتی ہے۔ میرے حساب سے، بی جے پی ہندو ووٹ بینک کا استعمال کرتی ہے۔ بی جے پی ہندوتوا کی بات تو کرتی ہے، لیکن یہ ہندوتوا کیا ہے؟ پانچ ہزار سال پرانا ایک تصور، جس سے ہندو – مسلم منافرت بڑھی اور یہ طبقہ ووٹ بینک کا ایک ذریعہ بن گیا۔ ویسے یہ وقتی حکمت عملی ہے، کیوں کہ یہ زیادہ دنوں تک کام نہیں آنے والی۔ ہندوستانی سیاست میں لمبے وقت تک وہی پارٹیاں کامیاب ہوں گی، جو غریبوں اور پچھڑوں کی بات کریں گی اور ان کے لیے اچھا کام کریں گی۔ لوک سبھا الیکشن میں میرے لیے سب سے زیادہ حیرانی کی بات ہے مایاوتی کو اتر پردیش میں ایک بھی سیٹ نہیں ملنا۔ اس کا مطلب ہے کہ دلتوں نے انہیں ووٹ نہیں دیا۔ میرے لیے یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ دلت بی جے پی کے ساتھ چلے گئے ہوں گے۔ آخر یہ کیسے ممکن ہے؟ بی جے پی میں بڑا عہدہ پانا دلتوں کے لیے ابھی بھی دور کی کوڑی ہے۔ یقینی طور پر یہ مدعا قابل غور ہے۔ مغربی بنگال میں بھی پرکاش کرات اینڈ کمپنی کا حال برا ہے۔
کانگریس اور بی جے پی کے ہندو وادی گروپ، آر ایس ایس اور لیفٹ پارٹیوں کا رول اس ملک کے لیے کافی اہم ہے۔ ان سبھی علاقائی پارٹیوں کو اپنا رول نبھانا چاہیے۔ یہی ہندوستان کی خوبصورتی اور تانا بانا ہے، جو لمبے وقت میں اس ملک کو صحیح سمت میں لے جانے کا کام کرے گا۔ اسی سے امن قائم رہے گا۔ اگر کوئی اس کے برخلاف کام کرتا ہے، تو آئندہ الیکشن میں اس کے نتائج اُلٹ ہوں گے۔ موجودہ سرکار کو اپوزیشن کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ میں نہیں جانتا کہ وہ کیا سوچ رہے ہیں؟ انہوں نے الیکشن میں جیت حاصل کی ہے، لیکن الیکشن پانچ سال کے لیے ہی ہوئے ہیں۔ انہیں پچاس سال کے لیے عوامی حمایت نہیں ملی ہے۔ سرکار کو اپوزیشن پارٹیوں سمیت آل پارٹی میٹنگ بلانی چاہیے اور انہیں یہ بھروسہ دلانا چاہیے کہ وہ سب اس پورے عمل کے حصے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ پارلیمنٹ کو اپنے ضابطوں کے ساتھ چلنا ہے، لیکن ایسا کرنا مشکل نہیں ہے۔
جب تک اس ملک میں چیمبر آف کامرس، ٹریڈ یونین اور ماؤ وادی تحریک چلانے والے لوگ مین اسٹریم میں شامل نہیں ہوتے ہیں، تب تک کوئی بھی سرکار اس ملک میں بہت زیادہ کچھ نہیں کر سکتی۔ بے شک، اس کی جگہ سرکار کارپوریٹ سیکٹر میں تیزی لا سکتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *