لبرل پارٹی سامنے آ سکتی ہے

میگھناد دیسائی
کانگریس کے بارے میں بھو ل جائیے۔ یہ فیملی کے باہر کسی سے بھی مشورہ نہیں لیتی اور اپنا زوال خود چاہتی ہے، یہ کہتے ہوئے کہ ’’یہ راہل کی غلطی نہیں تھی‘‘۔ تاہم، 2014 کے انتخابات کا مرکزی نکتہ بی جے پی کی جیت نہیں، بلکہ اپوزیشن میں کسی بڑی پارٹی کی غیر موجودگی ہے۔ ایسا نہیں لگ رہا ہے کہ ممتا بنرجی اور جے للتا آگے کبھی متحد ہو پائیں گی اور نہ ہی اپوزیشن میں کوئی تھرڈ فرنٹ بن پائے گا۔ اس قسم کے فرنٹ کا مقصد صرف اقتدار پر قابض ہونا ہوتا ہے، کوئی سنجیدہ سیاست کرنا نہیں۔
مجھ سمیت بہت سے لوگوں کو یہ امید تھی کہ عام آدمی پارٹی کسی متبادل کا محور بن سکتی تھی۔ پچھلے سال دسمبر اور پھر جنوری میں عام آدمی پارٹی کے علاوہ کوئی دوسرا موضوع زیر بحث نہیں تھا۔ پولنگ کی تاریخ تک، بہت سے لوگ، جو بی جے پی یا کانگریس کو ووٹ نہیں دے سکتے تھے، وہ عام آدمی پارٹی میں امید لگائے بیٹھے تھے۔ لیکن اروِند کجریوال نے جس دن (دہلی کے وزیر اعلیٰ کے عہدہ سے) اپنا استعفیٰ دیا، اسی دن یہ صاف ہو گیا تھا کہ پارٹی کے لیے اب پریشانیاں شروع ہو جائیں گی۔ یہ اپنی شبیہ احتجاجی تحریک سے ایک ایسی پارٹی کے طور پر کبھی تبدیل ہی نہیں کر پائی، جو اقتدار کا استعمال عوام کی فلاح کے لیے کرنا چاہتی ہے۔ اس کے برعکس، اس کی ہمیشہ یہی کوشش رہی کہ کیسے ان لوگوں کا ووٹ حاصل کیا جائے، جنہوں نے پہلے پارٹی کے لیے اپنا پیسہ اور وقت دیا تھا۔ اس کے بعد تو پارٹی کے لیے حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے۔ اس نے میڈیا کے ذریعے کی جانے والی اپنی تشہیر کو قومی سطح پر خود کو تیسرا سیاسی متبادل سمجھ لیا اور پھر 400 سے زیادہ سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ ایک ایسی پارٹی، جس نے اپنی بنیادیں زمینی سطح پر بنائی ہوں، جو کہ چھوٹے سے چھوٹا فیصلہ لینے کے لیے ووٹروں کے درمیان جاکر صلاح و مشورہ کرنے کا فخر کرتی ہو، اس نے ملک بھر میں ایسی جگہوں سے امیدواروں کا انتخاب کیا، جہاں پر پارٹی کی کوئی بنیاد نہیں تھی۔ راج موہن گاندھی اور میدھا پاٹکر جیسے مشہور لوگوں کو امیدو ار بنایا گیا۔ اسی طرح ٹوئٹر پر مشہور بعض لوگوں کا بھی انتخاب کیا گیا، جیسے گل پناگ۔ اور سب سے بڑی غلطی یہ ہوئی کہ کجریوال نے دہلی سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ نہیں کیا، جہاں پر ان کے جیتنے کے امکان زیادہ تھے، بلکہ وارانسی جانے کا فیصلہ کیا۔ یہ ایک پبلسٹی اسٹنٹ تھا؛ وہ اس غلط فہمی کا شکار تھے کہ جس طرح انہوں نے دہلی میں شیلا دکشت کو ہرا دیا، اسی طرح وہ کسی بھی دوسرے بڑے لیڈر کو کہیں سے بھی ہرا سکتے ہیں۔
شروع میں میں بھی یہی امید کر رہا تھا کہ پارٹی 10 سیٹیں جیت کر سب کو حیرانی میں ڈال سکتی ہے۔ اس نے دہلی کے اسمبلی انتخابات میں جب 28 سیٹیں جیتی تھیں، تو سب نے یہی سوچا تھا کہ عام آدمی پارٹی اور اچھا کر سکتی تھی۔ اس کے اندر توانائی تھی اور 2019 تک کانگریس کا متبادل دینے کا جدید ڈھانچہ بھی اس میں موجود تھا۔ لیکن عام آدمی پارٹی کی ناکامی کانگریس کے مقابلے زیادہ حیران کن رہی۔ جھاڑو نے خود کا ہی صفایا کر لیا۔ اسے بہت کم ووٹ ملے اور صرف چار سیٹیں ہی مل پائیں اور سب کی سب پنجاب کی۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ دہلی کے بعد اس پارٹی کی نظر پوری طرح ہریانہ پر تھی۔ دہلی میں واقع ایک ایسی چھوٹی پارٹی کے لیے، جس کے پاس بہت محدود وسائل ہوں، ہریانہ اور شاید مغربی اتر پردیش اور پنجاب میں اپنی جڑیں مضبوط کرنا مضبوطی کا سبب بن سکتا تھا۔ ایسا کرنے کے بعد عام آدمی پارٹی اگر 50 سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑا کرتی، تو 10 سیٹیں جیت سکتی تھی۔ لیکن اس نے اپنے وسائل کو ضائع کیا اور ساتھ ہی ملک بھر میں اپنے امیدوار کھڑا کرکے عوام کی امیدوں پر بھی پانی پھیر دیا۔
الیکشن کے بعد، عام آدمی پارٹی نے غلطیوں سے سبق لینے کے معاملے میں کانگریس سے بھی خراب برتاؤ کا مظاہرہ کیا۔ یہ ایسی پارٹی ہے، جس پر اپنے لیڈر (کجریوال) کا غلبہ ہے اور ان کے اندر ایک بچکانہ خواہش ہمیشہ یہی رہتی ہے کہ کیسے وہ سرخیوں میں بنے رہیں، جس کے لیے انہوں نے عدالتوں کا وقت بھی برباد کیا۔ عام آدمی پارٹی کی مرکزی قیادت میں ابھی جن لوگوں کی تقرری ہوئی ہے، وہ انتخاب کی بنیاد پر نہیں، بلکہ انہیں مدعو کرکے کی گئی ہے۔ یہ ایسے لوگوں کو لا کر پارٹی کے اوپر تھوپنا چاہتی ہے، جب کہ دوسری طرف عوام کی ترجمانی کرنے کا دَم بھرتی ہے۔ یہ ایک افسوس ناک کہانی ہے۔ اس نے ایک سنہرا موقع گنوا دیا۔ اصولوں پر مبنی ایک نوجوان پارٹی کے لیے شہرت کی بھوکی قیادت زہر ثابت ہوئی۔ اس نے اپنے حامیوں کو بیوقوف بنایا اور ان کا استعمال صرف پارٹی کے لیڈر کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے لیے کیا۔ دراصل، یہ ہمارے ملک کے سیاسی ڈی این اے میں شامل ہے کہ اندرونی جمہوریت اور اپنے اراکین کا احترام کرنے والی پارٹیاں زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہ سکتیں۔ ان سب کا زوال قیادت کی وجہ سے ہی ہوا ہے، چاہے وہ ذاتی ہو یا پھر خاندان پر مبنی۔
تاہم، ایک بات تو ضرور ہے کہ عام آدمی پارٹی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اگر آپ چھوٹی سطح پر شروعات کریں، تو آپ ممبرشپ پر مبنی نئی پارٹی کی تعمیر کر سکتے ہیں۔ اگر یہ مقامی سطح پر لوگوں سے جڑنے کا کام کرے اور ان کے مسائل کو دور کرے، تو وہ مقامی سطح کے انتخابات میں کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔ اس کے بعد، اگر یہ اپنے وعدوں اور کام کے تئیں سنجیدہ ہو، تو اسے دوسری بار بھی منتخب کیا جا سکتا ہے۔ ایسی پارٹی کو ایک واضح آئڈیالوجی کی ضرورت ہے، صرف نعروں کی نہیں اور نہ ہی ایک قائد کی، جیسا کہ عام آدمی پارٹی کے پاس ہے۔
ہوسکتا ہے کہ ایک نئی پارٹی وجود میں آئے۔ ایک ایسے ملک میں، جہاں تشخص والی بائیں بازو کی عوامی پارٹیوں کا ہجوم رہا ہو، وہاں حقیقی معنوں میں ایک جدید لبرل پارٹی، جو کہ بزنس کرنے والی نہیں ہو، بلکہ مقابلے میں یقین رکھتی ہو، سامنے آ سکتی ہے۔ نوجوانوں کی ایک ایسی پارٹی، جو کہ تھکے ہوئے فیبیا نزم (Fabianism) کے پرانے ڈھانچے کو ڈھا دے، جس سے ہمارے مؤسسین کے فرنگی جذبات نے ہندوستان کو پیچھے دھکیل دیا تھا اور اس نظریہ کو باقی دنیا نے مسترد کر دیا تھا۔ ہندوستان کے لیے اب اس پر غور کرکے آگے بڑھنے کا وقت ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *