کیجریوال! نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

ڈاکٹر وسیم راشد
کیجریوال کی گرفتاری کا تیسرا دن تھا ٹی وی پر بار بار یہ خبر دکھائی جا رہی تھی کہ کجریوال کو 14دن کی ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے اور 6جون کو ان کو عدالت میں پیش ہوناہے۔ اسی دن آپ پارٹی کی میٹنگ کانسٹی ٹیوشن کلب میں ہوئی اور اسی میٹنگ میں نہ تو میڈیا کو بلایا گیا اور نہ ہی کسی اور کو پہلے سے خبر تھی ۔ شاید یہ پارٹی کے کارکنان کو جمع کر کے پھر سے پارٹی کی پوزیشن مضبوط کرنے کی قواعد رہی ہوگی۔
کیجریوال ہندوستان کی تاریخ کا ایک ایسا لیڈر بن کے ابھرے تھے ، جس کی مثال ملنا مشکل ہے ۔ 6مہینے کی پیدائش والی پارٹی نے دہلی میں تاریخ رقم کی اور کانگریس جیسی سوا سو سال والی پارٹی اور بی جے پی جیسی تقریباً50-55سال پرانی پارٹی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ وہ وقت ابھی بہت زیادہ نہیں ہوا، جب دہلی اسمبلی الیکشن میں کجریوال کی فتح نے ہندوستان کی سیاست کا رخ ہی موڑ دیا تھا۔ ہر ٹیلی ویژن پر صرف اور صرف ایک ہی نام دکھائی دے رہا تھا۔ دہلی کا بچہ بچہ کجریوال کا دیوانہ بن گیا تھا اور ہر گلی کوچے سے آپ پارٹی کا نام ابھر کر سامنے آنے لگا تھا۔ ایسا عروج کسی لیڈر کو شاید ہی نصیب ہوا ہو۔ مگر یہ عروج کجریوال کو زیادہ دن نصیب نہیں ہو سکا۔ ہم نے عروج کے بعد زوال کی تاریخ دیکھی بھی ہے اور سنی بھی مگر کسی کا عروج اتنی جلدی زوال میں بدل جائے ایسا پہلی بار دیکھا ہے۔ کجریوال نے بدعنوانی کا جو مدعا اٹھایا وہ یقینا ہر ہندوستانی کے دل کی آواز تھی ۔ بچہ ، بوڑھا ، نوجوان ، مرد، عورت سبھی کجریوال کے گن گانے لگے اور اسی لئے اسمبلی الیکشن میں کجریوال کو اکثریت چاہے نہ ملی ہو لیکن 6مہینے والی پارٹی کو 28سیٹیں ملنا بھی بڑی بات تھی ۔ کانگریس کی اس وقت بھی شرمناک ہار ہوئی تھی اور اگر مسلم کانگریس ایم ایل اے ساتھ نہ رہتے تو کانگریس کی ایک بھی سیٹ آنا مشکل تھا۔

اب کجریوال کو جب یہ احساس ہوا کہ وہ کہیں کہ نہیں رہے ، نہ لوک سبھا ملی نہ دہلی اسمبلی رہی تو انہیں پھر ر سے دہلی کی یاد آئی ، جیسے کسی بچے کے پاس ایک چھوٹا کھلونہ ہو اور اچانک اسے بڑا کھلونہ مل جائے تو وہ لپک کر وہ بڑا کھلونا لینے کی کوشش کرتا ہے اور وہ بڑا کھلونا اس کشمکش میں ٹوٹ جائے تو پھر واپس اسے اپنے چھوٹے کھلونے کی یاد ستانے لگتی ہے ۔

کجریوال کو شاید عزت راس نہیں آئی یا پھر کجریوال کسی بھرم میں رہے کہ انھوں نے دہلی اسمبلی کو جیت لیا تو وہ شاید پورے ہندوستان کو جیت پائیں گے اور لوک سبھا کی تیاریوں میں لگ گئے ۔ کہتے ہیں نہ کہ کبھی کبھی کا اٹھایا ہوا قدم صدیوں پر محیط ہوتا ہے۔اسی غلطی کا خمیازہ کتناہی بھگت لو وہ غلطی پھر درست نہیں ہوتی۔ کجریوال نے لوک سبھا کا لالچ کیا یا پھر واقعی وہ ایسے سسٹم میںکام نہیں کرنا چاہتے تھے، جہاں کہ چیف منسٹر کے پا س کوئی طاقت نہ ہو یہ تو وہی بتاپائیں گے، مگر جو حالات سامنے آئے اس نے کجریوال کو ایک جو کر بنا کر رکھ دیا۔ دہلی والوں کا اعتماد کیا ٹوٹا کہ پورا ملک ہی کجریوال کے خلاف ہو گیا۔
مجھے یاد رہے انا ہزارے نے کجریوال کو یہ صلاح دی تھی کہ وہ اسمبلی الیکشن نہ لڑ کر براہ راست لوک سبھا کی تیاری کریں کیونکہ سسٹم میں تبدیلی پارلیمنٹ میں بیٹھ کر ہی آ سکتی ہے۔ کجریوال نے اس کے برعکس سوچا کہ اگر دہلی اسمبلی کی سیٹیں انہین مل جائیں گی تو ہندوستان ختم کرنا آسان ہوگا۔ کجریوال اور ان کے ساتھ دہلی میںبھی ڈرامہ بازی کرتے رہے اور دہلی کے عوام ان کی اس نوٹنکی سے بری طرح اوب گئے اور پھر یہ سب نے دیکھا کہ کیسے دہلی کا بدلا خود دہلی کے عوام نے اور پورے ہندوستان نے لیا۔
اب کجریوال کو جب یہ احساس ہوا کہ وہ کہیں کہ نہیں رہے ، نہ لوک سبھا ملی نہ دہلی اسمبلی رہی تو انہیں پھر ر سے دہلی کی یاد آئی ، جیسے کسی بچے کے پاس ایک چھوٹا کھلونہ ہو اور اچانک اسے بڑا کھلونہ مل جائے تو وہ لپک کر وہ بڑا کھلونا لینے کی کوشش کرتا ہے اور وہ بڑا کھلونا اس کشمکش میں ٹوٹ جائے تو پھر واپس اسے اپنے چھوٹے کھلونے کی یاد ستانے لگتی ہے ۔ کجریوال کو بھی اچانک دہلی میں پھر سے وزیر اعلیٰ بننے کا لالچ ستانے لگا اور اس لئے انھوں نے گورنر سے ملاقات کی۔
پہلے وہ اس اسمبلی کو برقرار رکھنے کی بات کرتے رہے اور جب انھوں نے دیکھا کہ وہ ممکن نہیں ہے تو اچانک ہی الیکشن کرانے کی مانگ کرنے لگے۔
آئینی طور پر تو ابھی اسمبلی چونکہ تحلیل نہیں ہوئی ہے اور گورنر راج تھا ، اس لئے اسمبلی بحال کی جا سکتی تھی مگر اب اڑچن یہ ہے کہ بی جے پی تین ایم ایل اے لوک سبھا میں چلے گئے۔ ایسے میں اب دوبارہ اسمبلی بحال کرنا بھی آسان کام نہیں ہوگا اور ویسے بھی سپریم کورٹ میں اسمبلی تحلیل کرنے کی درخواست لگی ہوئی ہے۔ایک بات ضرورہے کہ دوبارہ الیکشن کرانے سے عوام پر بوجھ پڑے گا۔ مگر یہی بہترا راستہ ہے ۔کجریوال نے جیسے سیاست کو اپنی گھر کی لونڈی باندی سمجھ لیا ہے۔ اخلاقی طور پر اگر انھوں نے استعفیٰ دیا تھا تو اب انہیں دہلی کا رخ نہیں کرنا چاہئے تھا مگر وہ اور ان کی ٹیم برابر میڈیا میں رہنے کے لئے الٹے سیدھے ہتھکنڈے اپنا رہی ہے۔ ایک ہی پارٹی کا دوہرا معیار کیسے ہو سکتا ہے جبکہ کجریوال جرمانہ بھرنے پر آمادہ نہیں اور یوگیند یادو جرمانہ بھر کر باہر آ گئے۔ خود عام آدمی پارٹی میں زبردست پھوٹ پڑی گئی ہے۔ بینی پرساد ورما تو پہلا باغی تھا مگر اب باغیوں کی لائن لگ گئی ہے۔
ایسے میں کیجریوال کے لئے دوبارہ الیکشن جیتنا تو مشکل ہی نہیں ناممکن ہوگا۔ اور اگر اسمبلی الیکشن ہو بھی جاتے ہیں تو اب بی جے پی جیسی مضبوط پارٹی کا سامنا کرنا مشکل ہوگا۔ عام آدمی پارٹی کو مڈل کلاس کی سپورٹ بھی اب ملنی مشکل ہے کیونکہ پہلے مڈل کلاس نے کجریوال کو آئیڈیل مان کر اپنا ہیرو مان لیا تھا ۔ اب وہی ہیرو ان کی نظر میں زیرو بن گیا ہے۔ لوک سبھا الیکشن سے کجریوال اور آپ پارٹی کی شہرت میں بے حد کمی آئی ہے۔ عام آدم پارٹی کے لوگ یہ بھی نہیں چاہتے کہ دوبارہ الیکشن ہو کیونکہ اگر الیکشن ہوتا ہے تو وہ دوبارہ جیت پائیں گے یا نہیں یہ بھی ممکن نہیں ہے۔ جے ڈی یو کے شعیب اقبال ، کانگریس کے ہارون یوسف، آصف محمد خاں، چودھری متین ، حسن احمد خاں ، اروند سنگھ لولی، پرہلاد سنگھ ساہنی ، جے کشن اور دیوندر یادو یہ سبھی دوبارہ الیکشن جیت پائیں گے ۔ا یسا اب لوک سبھا میں کانگریس کی شرمناک ہار کے بعد ممکن نہیں لگتا۔
کجریوال تہاڑ جیل سے بھی خط لکھ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مجھے جیل میں رکھنا کتنی نا انصافی ہے اور پھر وہی کارڈ بدعنوانی والا کھیل کر دہلی کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ا ن کے خط میں انھوں نے لکھا ہے کہ بدعنوانی کے خلاف لڑائی میں نے اپنی زندگی لگا دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس لڑائی میں میں بھوکا رہا، پولس سے لاٹھیاں کھائیں ، اپمان سہے اور اب تہاڑ جیل میں ہوں۔
کجریوال یا تو پوری طرح اپنا دماغی توازن کھو چکے ہیں یا پھر ان کا تھنک ٹینک بے کار ہو چکا ہے۔ خود ان کی بھی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اب کیسے اور کیا کہا جائے اور کیا جائے۔پارٹی ٹوٹ رہی ہے عوام کا بھروسہ ٹوٹ رہا ہے۔ اب اگر ان کے ووٹرس کہیں ہیں تو وہ جھگی جھونپڑی والے ہیں۔ کیا کریں گے کجریوال اب؟

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *