جموں کشمیر میں بی جے پی کا مشن 44 خود فریبی یا سیاسی حکمت عملی

محمد ہارون
p-2اٹھارہ سو ستاون گو کہ جموں کشمیر کے اسمبلی انتخابات میں ابھی بھی کم از کم پانچ ماہ کا عرصہ باقی ہے، لیکن ریاست میں سیاسی گہما گہمی اور جوڑ توڑ کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔اس ضمن میں فی الوقت سب سے زیادہ متحرک جموں کشمیر نیشنل کانفرنس اور بی جے پی نظر آرہی ہیں۔پارلیمانی انتخابات میں ملک بھر میں غیر متوقع طور پر فتح حاصل کرنے کے بعد بی جے پی کے حوصلے کس قدر بلند ہوگئے ہیں ، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پارٹی نے جموں و کشمیر میں ’’مشن44‘‘ کے نام سے ریاست میں اقتدار کی مسند پر فائز ہوجانے کیلئے ایک ہمہ گیر مہم شروع کردی ہے۔قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر کی اسمبلی 87نشستوں پر مشتمل ہے ۔ یعنی کسی بھی پارٹی کو اپنے بل پر حکومت قائم کرنے کیلئے کم ازکم 44سیٹیں حاصل کرنا ناگزیر ہے۔حالانکہ جموں کشمیر جیسی ریاست میں بھاجپا کیلئے اتنی بڑی تعداد میں اسمبلی سیٹیں حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ناممکنات میں ہے۔ لیکن چونکہ پارلیمانی انتخابات کے حوالے سے بیشتر مبصرین اور تجزیہ نگاروں کی آراء دھری کی دھری رہ گئیں اور بھاجپا کی غیر معمولی فتح کے بعد اب مصرین سیاسی معاملات میں پیش گوئیاں کرتے ہوئے کافی احتیاط برتتے نظر آتے ہیں۔ریاست کے سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے سینئر صحافی اور تجزیہ نگار طاہر محی الدین نے’’ چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ ایک بات چیت میں کہا،’’ بی جے پی کا ریاست میں حکومت بنانا تویقینا ایک ناممکن بات ہے، لیکن لگتا ہے کہ ’’مشن44‘‘ کا اعلان کرکے اس پارٹی نے اسمبلی انتخابات میں زیادہ سے زیادہ سیٹیں بٹورنے کیلئے ہر حربہ اور ہر چال چلنے کی ٹھان لی ہے۔ یہ بات تو ہم وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ بی جے پی یہاں کسی صورت میں بھی 44سیٹیں حاصل نہیں کرسکتی لیکن یہ پارٹی پارلیمانی انتخابات کی طرح اسمبلی انتخابات میں بھی ہندو ووٹ کو یکجا کرکے نشستوں کی ایک اچھی خاصی تعداد بٹورنے میں کامیاب ہوجائے گی۔ہمیں یہ بات ہر گز نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ بھاجپا نے ہندو ووٹ یکجا کرکے ہی ریاست کی چھ پارلیمانی نشستوں میں سے تین حاصل کرلی ہیں۔ اس کی یہ پالیسی بالکل سود مند ثابت ہوگئی ہے اسلئے اسمبلی انتخابات میں بھی پارٹی کی یہی حکمت عملی ہوگی۔‘‘ دریں اثنا تازہ رپورٹوں میں انکشاف کیا گیا ہے بھاجپا کے سینئر کارکنان پر مشتمل ایک 20رکنی ٹیم فی الوقت ریاست میں خیمہ زن ہے اور اسمبلی انتخابات کی تیاریوں میں جٹ گئی ہے۔ان پورٹوں کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی خود ریاست میں انتخابی مہم کے دوران مختلف علاقوں میں جلسوں سے خطاب کرکے ووٹروں کو بی جے پی کی طرف مائل کریں گے۔بہر حال بی جے پی کی کوششیں کتنی بار آور ثابت ہوسکتی ہیں، یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکتا ہے تاہم یہ بات طے ہے کہ ملکی سطح پر غیر معمولی فتح نے اس پارٹی کو اس قدر حوصلہ بخشا ہے کہ یہ جموں کشمیر جیسی مسلم اکثریتی ریاست میں بھی اقتدار کی گدی پر فائض ہوجانے کے خواب دیکھنے لگی ہے۔دریں اثنا ریاست کے موجودہ سیاسی صورتحال میں اگر سب سے زیادہ بری حالت ہے تو وہ یہاں کی سب سے قدیم جماعت یعنی نیشنل کانفرنس کی ہے۔پارلیمانی انتخابات میں کراری شکست نے اس پارٹی کی چولیں تک ہلاکر رکھ دی ہیں۔ نیشنل کانفرنس نے پارلیمانی انتخابات میں کل چھ میں سے تین نشستوں پر ( بارہمولہ، اننت ناگ اور سرینگر) پر اپنے امید وار کھڑے کردیئے تھے اور باقی تین نشستیں ( جموں کی دو اور لداخ کی ایک ) پارٹی نے اپنی اتحادی جماعت کانگریس کے حق میں خالی چھوڑ دی تھیں لیکن ’’الٹی ہوگئیں سب تدبیریں ‘‘ کے مصداق چھ میں سے تین پی جے پی اور تین پی ڈی پی نے جیت لیں۔طاہر محی الدین کہتے ہیں،’’ خاص طور سے سرینگر کی نشست پر نیشنل کانفرنس کے امیدوار فاروق عبداللہ کی شکست نے پارٹی کو بدترین ہزیمت سے دوچار کردیا ہے۔ پارلیمانی انتخابات میںبدترین شکست کا سامنا کرنے کے بعد اسمبلی انتخابات کی تیاریاں شروع کرتے ہوئے اب نیشنل کانفرنس نے پارٹی میں ایک تطہیری عمل شروع کردیا ہے۔ اس عمل کے دوران پارٹی کے سینئر لیڈران اور عبداللہ خانوادے کے اہم رکن شیخ نذیر، جو مرحوم شیخ محمد عبداللہ کے بھائی اور فاروق عبداللہ کے چاچا ہیں، کو بحیثیت پارٹی جنرل سیکرٹری انکے عہدے سے فارغ کردیا گیا ہے اور ان کی جگہ پارٹی کے ایک سینئر لیڈر ، جو عبداللہ خاندان سے تعلق نہیں رکھتے ہیں ، کو نیشنل کانفرنس کا جنرل سیکرٹری مقرر کیا گیا۔اسی طرح کئی دیگر عہدوں پر براجمان چہرے بھی بدل دیئے گئے ہیں۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی پارلیمانی انتخابات کے بعد حکومتی سطح پر کئی اہم اقدامات کرتے ہوئے اپنی اور اپنی پارٹی کی شبیہ ٹھیک کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے۔ ان اقدامات میں سال 2010میں فورسز کے ہاتھوں سو سے زیادہ ہلاکتوں کی تحقیقات کا اعلان ، ریکروٹمنٹ پالیسی کو کالعدم کرنا ، ملازمین کی ریٹائر منٹ کی عمر58سال سے بڑھا کر 60سال کرنا، سرکاری ملازمت حاصل کرنے کے لئے عمر کی مقررہ حد میں مزید تین سال کا اضافہ کرناجیسے اقدامات شامل ہیں۔یہ وہ اقدامات ہیں ، جو ریاستی عوام کے دیرینہ مطالبات تھے لیکن حکومت نے پچھلے ساڑھے پانچ سال کے عرصے میں ان مطالبات پر کان نہیں دھرا تھا۔

بی جے پی کی کوششیں کتنی بار آور ثابت ہوسکتی ہیں، یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکتا ہے تاہم یہ بات طے ہے کہ ملکی سطح پر غیر معمولی فتح نے اس پارٹی کو اس قدر حوصلہ بخشا ہے کہ یہ جموں کشمیر جیسی مسلم اکثریتی ریاست میں بھی اقتدار کی گدی پر فائض ہوجانے کے خواب دیکھنے لگی ہے۔دریں اثنا ریاست کے موجودہ سیاسی صورتحال میں اگر سب سے زیادہ بری حالت ہے تو وہ یہاں کی سب سے قدیم جماعت یعنی نیشنل کانفرنس کی ہے۔پارلیمانی انتخابات میں کراری شکست نے اس پارٹی کی چولیں تک ہلاکر رکھ دی ہیں۔ نیشنل کانفرنس نے پارلیمانی انتخابات میں کل چھ میں سے تین نشستوں پر ( بارہمولہ، اننت ناگ اور سرینگر) پر اپنے امید وار کھڑے کردیئے تھے اور باقی تین نشستیں ( جموں کی دو اور لداخ کی ایک ) پارٹی نے اپنی اتحادی جماعت کانگریس کے حق میں خالی چھوڑ دی تھیں لیکن ’’الٹی ہوگئیں سب تدبیریں ‘‘ کے مصداق چھ میں سے تین پی جے پی اور تین پی ڈی پی نے جیت لیں

عمر عبداللہ نے پارلیمانی انتخابات میں انکی پارٹی کا شکست سے دوچار ہوجانے کے بعد برملا الفاظ میں اپنی ناکامیوں اور خامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ ’’غلطیوں کو سدھارنے ‘‘ کی کوشش کریں گے۔ نیشنل کانفرنس میں شروع کیا گیا تطہیری عمل اور حکومتی سطح پر کئے متذکرہ اقدامات انہیں کوششوں کا حصہ ہیں ۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا نیشنل کانفرنس اب اس طرح کے اقدامات سے رائے عامہ اپنے حق میں بدلنے میں کامیاب ہوسکتی ہے؟ اس سوال کے جواب میں طاہر محی الدین کہتے ہیں،’’ ریاست کی اس سب سے قدیم سیاسی جماعت کا زوال شروع ہوچکا ہے ، اگر ایسا نہیں ہوتا تو اسے پارلیمانی انتخابات میں نہ ہی شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور نہ ہی اسے اتنی کم شرح میں ووٹ ملتے۔ نیشنل کانفرنس کی حالت بالکل ایسی ہوگئی ہے ، جیسی ملک میں کانگرنس کی ہوگئی ہے۔نیشنل کانفرنس کو رائے عامہ اپنے حق میں بدلنے میں پانچ چھ ماہ نہیں بلکہ برسوں لگ جائیں گے۔‘‘بہر حال یہ بات طے ہے کہ آنے والے اسمبلی انتخابات کے حوالے سے آنے والے چند ماہ سیاسی گہما گہمی سے بھر پور ہونگے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *