ہندوستانی فوج ، ہتھیار مافیا اور سیاست

ڈاکٹر منیش کمار

وزیر دفاع ارون جیٹلی نے یہ صاف کر دیا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل دلبیرسنگھ سہاگ ملک کے اگلے بری فوج کے سربراہ ہوں گے۔ لیفٹیننٹ جنرل سہاگ کو مبارکباد،ساتھ میں یو پی اے کے اُن ماسٹر مائنڈ پالیسی سازوں کو بھی مبارکباد، جو انتخاب ہار جانے کے بعد بھی مودی سرکار کے ذریعہ اپنے فیصلے کونافذ کروانے میں کامیاب رہے ہیں۔ ارون جیٹلی صاحب کو کون سمجھائے کہ لیفٹیننٹ جنرل دلبیر سنگھ سہاگ کے خلاف آرمڈ فورسیز اسپیشل پاورس ایکٹ کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔الزام یہ ہے کہ ان کی ناک کے نیچے دیما پور کی انٹیلی جنس یونٹ نے کئی شرمناک کارناموں کو انجام دیا۔ اس یونٹ کی قیادت کرنل شری کمار کے پاس ہے، جو سیدھے لیفٹیننٹ جنرل سہاگ کو رپورٹ کرتے ہیں۔ الزام یہ ہے کہ فوجی سربراہوں کالائن آف سکسیشن یعنی جانشینوں کی فہرست ایک سازش کا حصہ ہے۔ الزام یہ ہے کہ اسی وجہ سے جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش کا ایشو اٹھایا گیااور انھیں ایک سال پہلے ہی ریٹائر کرنے کی سازش ہوئی۔ الزام یہ ہے کہ ملک میں ہتھیار مافیا کی دھاک اتنی ہے کہ سرکار بدل جائے، وزیر اعظم بدل جائے، وزیر دفاع بدل جائے،لیکن ان کے خلاف کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ فوج کو سیاست سے دور رکھنے کی دلیل سے سچ پر پردہ نہیں ڈالا جاسکتاہے۔ سچائی یہ ہے کہ وزارت دفاع میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ آئیے، سمجھتے ہیںکہ فوجی سربراہ کی تقرری کے پیچھے کی اصلی کہانی کیا ہے؟

Mastبیس دسمبر 2011کی رات کچھ لوگ ایک گھر کے اندر زبردستی گھس جاتے ہیں۔ یہ گھر پونا گوگوئی کا ہے۔ وہ جورہاٹ کے باشندے ہیں۔ وہ آرمی کے لیے ٹھیکے کا کام کرتے ہیں۔ اس رات وہ اپنے گھر میں نہیں تھے۔ وہ گوہاٹی میں تھے۔ یہ لوگ پونا گوگوئی کے گھر کے پچھلے دروازاے کو توڑ کر گھر کے اندر داخل ہوئے تھے۔ گھر میں ان کی بیوی رینو اور تین بچے تھے، دو بیٹے اور ایک بیٹی۔ رات کا وقت تھا، گھر میں سب سور رہے تھے۔اچانک ان لوگوں کو گھر کے اندر دیکھ کروہ ڈر گئے، رونے لگے۔ ان لوگوںنے سبھی کو بستر سے کھینچ کر باہر نکالا اور ان کے ہاتھ باندھ کر انھیں ٹی وی والے کمرے میں بند کردیا۔ یہ لوگ پونا گوگوئی کو تلاش کر رہے تھے، لیکن وہ گھر کے اندر نہیں ملے۔ ان لوگوں نے بڑے بیٹے کو دھمکی دی کہ اگر اس نے پونا گوگوئی کا ٹھکانا نہیں بتایا، تو سبھی کو جان سے مار دیا جائے گا۔ ان لوگوں کے چہرے ڈھکے ہوئے تھے۔ کسی کا چہرہ دکھائی نہیں دے رہا تھا، لیکن گھر والوں نے ایک کا چہرہ دیکھ لیا تھا، وہ ایک عورت تھی، جس نے بات چیت کے دوران اپنے چہرے کا ماسک ہٹایا تھا۔ وہی سب کو ہدایت دے رہی تھی۔ اس عورت کے کہنے پر ان لوگوں نے گھر کی چابیاںلے کر سبھی الماریوں کی تلاشی لی۔یہ لوگ پونا گوگوئی کے گھر سے ایک لائسنسیپستول، ساڑھے چھ لاکھ روپے کے زیور ات اور قریب ڈیڑھ لاکھ روپے کیش اٹھا لے گئے۔ ساتھ میں یہ ایک لیپ ٹاپ اور چار موبائل فون بھی لے گئے۔
اگلے دن سویرے پونا گوگوئی جب گھر واپس آئے، توگھرکا نظارہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے۔ گھر کے سارے لوگ ڈرے سہمے ہوئے تھے۔ وہ سیدھے پولیس اسٹیشن پہنچے اور شکایت درج کرائی، گھر سے لوٹے گئے سامان کا بیورا دیا، لیکن تھانے میں انھیں ایک ایسی جانکاری ملی، جس سے ان کا دماغ ہل گیا۔ تھانے کی پی سی آر وین نے جانکاری دی کہ کل رات دو بجے کے قریب ان کی ملاقات آرمی کی ایک ٹیم سے ہوئی۔ دراصل ، جب یہ لوگ پونا گوگوئی کے گھر سے نکلے، تو راستے میںپولیس مل گئی۔ جب پولیس والوں نے انھیں روکا اور پوچھ تاچھ کی، تو ان لوگوں نے بتایا کہ وہ آرمی سے ہیں اور اس علاقے میں وجے چائنیز نام کے اُلفا دہشت گرد کی تلاش میں آئے تھے۔ اب یہ آرمی والے ڈکیتی کر سکتے ہیں، اس پر تو کوئی یقین نہیں کرسکتاہے۔ اگر آرمی والوں نے یہ کام کیا بھی ہے، تو اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ پولیس کو بھی لگا کہ ہوسکتا ہے ، ڈکیتی کرنے والاکوئی اور گینگ ہو اورواردات کو انجام دے کر نکل گیا ہو۔ پولیس نے معاملہ درج کر لیا۔ پولیس اور گوگوئی کنبے کے پاس بس ایک ہی سراغ بچا تھا، وہ یہ کہ ڈکیتی کرنے والے گینگ کی قیادت ایک عورت کر رہی تھی اور اگر وہ سامنے آجائے، تو اسے کنبے والے پہچان سکتے ہیں۔
اس واقعہ کے ایک ہفتہ بعد ایک حیرت انگیز موڑ آیا۔پونا گوگوئی کے بڑے بیٹے کے جس فون کو ڈاکو اٹھا لے گئے تھے، اس سے کسی نے کال کیا۔ یہ فون کہاں سے کیا گیا؟ یہ تو پتہ نہیںچلا، لیکن جسے کیا گیا، وہ سامنے آگیا۔ وہ کال ہریانہ کے کسی نمبر پرکی گئی تھی۔اس کے بعد ایک پولیس ٹیم ہریانہ روانہ ہوتی ہے، تفتیش کرتی ہے اور جورہاٹ کی ایس پی سنیکتا پراشر کو بتایاجاتا ہے کہ یہ فون کال آرمی کے ایک حولدار سندیپ تھاپا نے اپنی بیوی اور ماں کو کی تھی ۔ پتہ چلتا ہے کہ سندیپ تھاپا دیماپور کے رنگا پہاڑ میں واقع 3کورپس انٹیلی جنس اینڈ سرولانس یونٹ کا رکن ہے۔ اس یونٹ کا دائرہ اختیار آسام ،ناگالینڈ اور منی پور ہے اور یہ سیدھے طور پر جنرل دلبیر سنگھ سہاگ کی کمانڈ کے اندر آتا ہے۔ ایس پی سنیکتا پراشر نے جنرل سہاگ سے سیدھے بات کرنے کی کوشش کی، لیکن انھوں نے پولیس کو تعاون کرنے سے منع کردیا۔ اس بیچ سندیپ تھاپا پولیس کی گرفت میں آجاتا ہے۔ پولیس نے اسے گرفتار نہیں کیا، صرف پوچھ تاچھ کی۔ اس پوچھ تاچھ میں حولدار سندیپ تھاپا نے سب کچھ اگل دیا۔
پولیس او رفوج میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی۔ سب کو پتہ چل گیا کہ پونا گوگوئی کے گھر میں جن لوگوں نے اس کام کو انجام دیا، وہ فوج کے لوگ تھے۔ اس واقعہ میں انٹیلی جنس کورپس کے پندرہ لوگ شامل تھے، جو پونا گوگوئی کے گھر دو پرائیویٹ گاڑیوں سے پہنچے تھے،جو عورت اس ٹیم کی قیادت کر رہی تھی، وہ کوئی اور نہیں بلکہ کیپٹن روبینہ کورہے۔ سب کی نظر اس 3کورپس انٹیلی جنس یونٹ کے کمانڈر کرنل گووندن شری کمار پر جا ٹکی۔ حالانکہ شری کمار اس ریڈنگ ٹیم کے حصہ نہیں تھے، لیکن جب پولیس نے ان کی فون ڈٹیلس نکالیں، تو پتہ چلا کہ اس واقعہ سے پہلے اور بعد میں وہ کیپٹن روبینہ کور سے لگاتار بات چیت کر رہے تھے۔ اس یونٹ سے دو چوک ہوئیں۔ ایک تو بغیر کسی لڑاکو دستہ اور پولیس کو اطلاع کیے بغیر کسی شہری کے گھر ریڈ کیا۔ دوسری غلطی یہ کہ دہشت گرد کو پکڑنے کے نام پر گھر کے لوگوں کوپریشان کیا اور ڈکیتی کی۔ اور تو اور، اس پورے معاملے کو چھپانے کی کوشش کی گئی۔ جب فوج کی ساکھ پر داغ لگنے لگااور دباؤ بڑھنے لگا، تو اس معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ پونا گوگوئی کو ان کی پستول سمیت گھر سے اٹھایا گیا کچھ سامان واپس کر دیاگیا، لیکن کارتوس او رزیورات غائب تھے۔ وہ کہاں گئے، یہ کسی کو پتہ نہیں۔ پولیس کو لیفٹیننٹ جنرل سہاگ نے بتایا کہ اب یہ معاملہ فوج دیکھے گی، کیونکہ یہ پولیس کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔
کرنل شری کمار بھی کمال کی شخصیت ہیں، بہت پہنچے ہوئے افسر ہیں۔ نارتھ ایسٹ آنے سے پہلے وہ چیف آف آرمی اسٹاف جے جے سنگھ کے او ایس ڈی یعنی آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی یعنی بری فوج کے سربراہ کے سب سے نزدیکی اوربھروسہ مند افسر تھے۔ جنرل جے جے سنگھ جب ارونا چل پردیش کے گورنر بنے، تو شری کمار دہلی آکر میڈیا میں خبریں لیک کرنے کا کام کرتے تھے۔ جورہاٹ کا واقعہ کوئی استثناء نہیں ہے۔ ویسے یہ معاملہ عدالت میں چل رہا ہے۔ اوپر دی گئی تفصیلات شکایت کا حصہ ہیں۔ ایک اور معاملہ ہے، جو اس سے زیادہ شرمناک ہے۔ یہ معاملہ منی پور ہائی کورٹ میں چل رہا ہے۔ یہ معاملہ منی پور کے تین نوجوانوں کے اغوا اور ان کے قتل کا ہے۔ اس میں بھی الزام کے گھیرے میں 3کورپس ہے۔اس معاملے میں لیفٹیننٹ جنرل سہاگ اور کرنل گووندن شری کمار کانام ہے۔ یہ واقعہ 10مارچ 2010کا ہے۔ دیما پور کے چارمیل علاقے سے تین لوگوں کا اغوا ہوتا ہے۔ فیزم نوبی، آر کے روشن او رتھونوجم نام کے ان لوگوں کے بارے میں پولیس کو خبر ملتی ہے کہ ان کا اغوا ہوگیا ہے۔ 17مارچ 2010کو پولیس کو تین لاشیں ملتی ہیں۔ تینوں کے جسم گولیوں سے چھلنی تھے۔ ان کی شناخت ہوتی ہے، تو پتہ چلتا ہے کہ یہ وہی تینو ں ہیں، جن کا 10مارچ کو اغوا ہوا تھا۔ پولیس اپنی ایف آئی آر میں 3کورپس انٹیلی جنس یونٹ کا نام ڈال دیتی ہے۔ اس بیچ 3کورپس کے سیکنڈ ۔ان ۔کمانڈ یعنی کرنل شری کمار کے ٹھیک نیچے کے افسر میجر ٹی روی کرن نے 12مارچ 2010کو آرمی چیف اور ایسٹرن کمانڈ کے چیف کو ایک خط لکھا ۔ اس خط میں انھوںنے لکھا کہ 10مارچ کی رات تین منی پوری نوجوانوں کو لایا گیا، انھیں ٹارچر کیا گیا اور پھر میس کے پیچھے انھیں گولی مار دی گئی۔ اس خط پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ میجر ٹی روی کرن نے 25جنوری 2012کو ایک بار پھر سبھی سینئر افسروں کو خط لکھا، لیکن اس وقت جنرل وی کے سنگھ فوج کے سربراہ تھے۔ انھوں نے ایسٹرن کمانڈ کو جانچ کی ہدایت دی ۔ ایسٹرن کمانڈ نے 3کورپس کو جانچ کی ہدایت دی۔جانچ کے دوران میجر ٹی روی کرن نے بتایا کہ اس قتل کیس کے پیچھے کرنل گووندن شری کمار کی یونٹ تھی۔

جورہاٹ کے واقعہ کے بعد آسام کے چیف منسٹر ترون گوگوئی نے بری فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ سے بات کی اور اس واقعہ میں شامل فوجیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ جنرل وی کے سنگھ کے دباؤ کے چلتے بکرم سنگھ نے اس پر کورٹ آف انکوائری بیٹھائی، جس کی قیادت بریگیڈیراے بھُئیا کو سونپی گئی۔ ایک بریگیڈیر رینک کے افسر سے جانچ اس لیے کرائی گئی، تاکہ اس معاملے کی آنچ لیفٹیننٹ جنرل سہاگ تک نہ پہنچے۔ جبکہ یہ یونٹ ان کے دائرہ اختیار میں آتی ہے، تو سب سے پہلی ذمہ داری ان کی ہی بنتی ہے۔ یہاں تو معاملہ ہی الٹا ہوگیا، جس کی ذمہ داری بنتی ہے، اسے تو دور رکھا گیا، لیکن جن لوگوں نے اس غیر قانونی او ر غیر اخلاقی واقعہ کو انجام دیا، انھیں بھی چھوڑ دیا گیا۔
اس بیچ پونا گوگوئی نے گوہاٹی ہائی کورٹ میں فریاد کی۔ انھیں فوج کی کورٹ آف انکوائری کے سامنے گواہ بنا کر پیش کیا گیا۔ پونا گوگوئی کا کہنا ہے کہ کیپٹن روبینہ کور کیر نے بعد میںیہ دھمکی بھی دی کہ اگر کوئی ثبوت دیا، تو وہ انھیں کسی دوسرے کیس میں پھنسا دے گی، جبکہ یہ بیان پریزائڈنگ آفیسر کے سامنے دیا گیا، لیکن اس پر کوئی ایکشن نہیں ہوا،جیسے دھمکی دیناملک میں قانوناً کوئی جرم نہیں ہے۔ اس خبر کو انڈیا لائیو ٹی وی پر بھی ڈٹیل میں دکھایا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ ان لوگوں کا منصوبہ پونا گوگوئی کا اغوا کر کے انھیں کسی دہشت گرد تنظیم کے حوالے کرنا تھا اور یہ سارا کام فوج میں کام کرنے والے پونا گوگوئی کے حریف ٹھیکیدار نرمل گوگوئی کے اشارے پر کیا گیا۔ معاملہ ٹلتا چلا گیا، سنوائی ہوتی رہی۔ گنہگاروں کو بچانے کے لیے ساری کوششیں کی گئیں۔
الزام یہ ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل سہاگ نے کرنل شری کمار کو بچانے کے لیے فوج کے ذریعہ کیے گئے اس غیر قانونی اور غیر اخلاقی آپریشن پرپردہ ڈالنے کی کوشش کی۔ ان سب کو صرف انتظار تھا جنرل وی کے سنگھ کے ریٹائر ہونے کا، جو تاریخ پیدائش کے تنازع کی وجہ سے ایک سال پہلے ہوگئے۔ بکرم سنگھ فوج کے سربراہ بن گئے، لیفٹیننٹ جنرل سہاگ نائب سربراہ اور اب وہ فوج کے سربراہ بننے والے ہیں۔ اگر ان سوالوں کو اٹھانا فوجی سربراہ کی تقرری پر سیاست کے مترادف ہے، تو ارون جیٹلی صاحب کو ہی بتانا چاہیے کہ اگر مودی سرکار کے رہتے ہوئے فوج اس طرح کا کام کرے گی، تو کیااس میں شامل افسروں کو اسی طرح انعام دیا جائے گا، کیونکہ فوج کی کورٹ آف انکوائری نے جو فیصلہ دیا، وہ کسی انعام سے کم نہیں ہے۔
ویسے ملک کے قانون کے مطابق ڈکیتی کی سزا 5سال ہوتی ہے، لیکن ان لوگوں کا گناہ تو صر ف ڈکیتی ہی نہیں تھا، انھوںنے ڈکیتی کے ساتھ ساتھ فوج کی عزت اور ساکھ بھی تار تار کر دی۔ ایسے واقعات کی وجہ سے ہی نارتھ ایسٹ کا علاقہ اور وہاں کے لوگ ہندوستان سے بدگمان ہوتے جارہے ہیں۔ اس واقعہ کو تو ملک توڑنے کی سازش کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ ایسے ہی واقعات کی وجہ سے اسپیشل پاورس ایکٹ پرسوالیہ نشان لگتا رہا ہے۔ لیکن، جب دسمبر 2013میں کورٹ آف انکوائری کا فیصلہ آیا، تو صرف حولدار سندیپ تھاپا پر کارروائی ہوئی۔ اسے فوج سے نکال دیا گیا۔ اس ٹیم کی قیادت کرنے والی کیپٹن روبینہ کے ساتھ ساتھ اس میں شامل لوگوں کو پھٹکار لگائی گئی اور کرنل شری کمار کے لیے عدم اطمینان ظاہر کیا گیا۔ ویسے یہ بات صحیح ہے کہ فوج کو سیاست سے دور رکھنا چاہیے۔ ہندوستان کوئی پاکستان نہیں ہے۔ ہندوستان میں ویسے بھی فوج کا دخل نہ کے برابر ہے۔
مسئلہ تو یہ ہے کہ دفاعی سودوں پردلالوں کا قبضہ ہے، دلالوں سے کون لڑے گا؟ سیاست نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سچائی پرپردہ ڈال دیا جائے، آنکھیں بند کر لی جائیں۔ جب جنرل بکرم سنگھ کو فوج کا سربراہ مقرر کیا گیاتھا، تب ان کے خلاف دو معاملے زیر غور تھے۔ ایک معاملہ جموں و کشمیر میں فرضی انکاؤنٹر کا تھا، جو ہائی کورٹ میں چل رہا تھا۔ دوسرا معاملہ ان کی قیادت والی شانتی سینا کے ذریعہ کانگو میں عورتوں کے جنسی استحصال کا تھا۔ دونوں کے فیصلے آنے باقی تھے، لیکن پھر بھی منموہن سنگھ نے انھیں فوج کا سربراہ مقرر کر دیا۔ اب منموہن سنگھ جاتے جاتے لیفٹیننٹ جنرل سہاگ کو فوجی سربراہ مقرر کر گئے۔ سہاگ پر بھی الزام ہیں اور سنگین الزام ہیں۔ یہ معاملے عدالت میں زیر غور ہیں۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ تنازع جنرل وی کے سنگھ کے ٹویٹ سے نہیں شروع ہوا اور نہ ہی وزارت دفاع کے حلف نامہ سے۔ یہ پورا معاملہ اس لیے تنازع میں آیا، کیونکہ لیفٹیننٹ جنرل سہاگ کے خلاف لیفٹیننٹ جنرل دستانے نے مقدمہ کیا ہے، جس میں سہاگ کو فوجی سربراہ بنائے جانے کو فیورٹزم کہا گیا ہے۔ جنرل وی کے سنگھ نے ایک ٹویٹ کیا کردیا، سیاستدانوں کا ایک طبقہ ان کا استعفیٰ مانگنے کے لیے میدان میں کود پڑا۔
ملک کے عظیم صحافیوں نے بھی ’ہُوا۔ہُوا‘ کرنا شروع کردیا، استعفے کی مانگ کرنے لگے۔ انھوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ کیا ہے؟ ان کی تاریخ یہی ہے کہ وہ ملک میں دفاعی شعبے میں بیٹھے ہتھیار دلالوں او رمافیا کے خلاف لڑتے آئے ہیں۔ آج تک کسی فوجی سربراہ نے ہتھیار مافیا سے لڑنے یاان کا پردہ فاش کرنے کا کام نہیں کیا۔ یہ صرف اور صرف جنرل وی کے سنگھ تھے، جنھوں نے ہتھیار مافیا کو فوج سے بھگایا، انھیں ایکسپوز کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کانگریس پارٹی نے جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش کو متنازعہ بنا کر ایک سال پہلے ہی انھیں عہدے سے ہٹادیا۔
وزارت دفاع میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے، یہ بد عنوانی کا اڈہ بن چکا ہے۔ جنرل وی کے سنگھ جب فوجی سربراہ تھے، تب انھوں نے کئی گھوٹالوں کا پردہ فاش کیا، ہتھیار مافیا کو روکا ااو رکئی جانچوں میں مدد کی، جس کی وجہ سے سُکھنالینڈ اسکیم، ٹاٹرا ٹرک اور آدرش سوسائٹی گھوٹالے کا پردہ فاش ممکن ہوسکا۔ مودی سرکار کو وزارت دفاع کی صاف صفائی کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر دفاع، فوجی سربراہ اور دیگر سینئر عہدوں پر ایسے لوگوں کو بیٹھانے کی ضروت ہے، جو بدعنوانی سے لڑ سکیں۔
نئی سرکار کہتی ہے کہ اگلے فوجی سربراہ وہی ہوں گے، جنھیں کانگریسی سرکار نے چنا ہے، لیکن ان کے خلاف کچھ معاملے کورٹ میں چل رہے ہیں۔ اب سارا معاملہ کورٹ میں ہے، تو سپریم کورٹ سب سے طاقتور ہے، انصاف کا آخری مندر ہے۔ سچ اور جھوٹ، صحیح اور غلط پر آخری مہر یہیں لگتی ہے۔ یہاں جو فیصلہ ہوگا، وہ تو ماننا ہوگا۔ جیسا کہ آدرش سوسائٹی گھوٹالے میں ہوا، جیسا کہ جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش کے مدعے پر ہوا۔ کورٹ کا فیصلہ تو ماننا ہی پڑتا ہے۔ اس معاملے میں بھی وہی مانا جائے گا، جو عدالت طے کرے گی۔لیکن، یہ کہانی ان لوگوں کے لیے ہے، جو اخلاقیات کی دہائی دے کر فوجی سربراہ کی تقرری کو سیاست سے دور رکھنے کی بات کرتے ہیں۔ جنھیں یہ پتہ نہیں کہ ملک میں ایک متحرک مافیا ہے، یہ ایک طاقتور لابی ہے، جو ہر دفاعی سودے میں اپنا دخل رکھتی ہے۔ جو اس کے خلاف ایک لفظ بھی بولتا ہے، اسے میڈیا او رلیڈرو ں کی مخالفت جھیلنی پڑتی ہے۔ جیسا کہ جنرل وی کے سنگھ کی تاریخ پیدائش کی مدعے پر ہوا تھا۔
مودی سرکار سے امید تھی کہ وہ ہتھیار مافیا کے خلاف ایکشن کرے گی، ہتھیاروں کے سودے بازی میں شفافیت لائے گی، لیکن پہلے ہی معاملے میں مودی سرکار نے جس طرح پلٹی ماری ہے، اس سے یہی لگتا ہے کہ ہتھیا رمافیا پہلے سے زیادہ مضبوط ہوگیا ہے۔ نریندر مودی جی، ملک کے عوام نے آپ کو اس لیے ووٹ نہیں دیا کہ آ پ کانگریس کے فیصلے کو ملک میں نافذ کریں۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *