بے مثال ملکی ایجادات جنہیں نہیں ملی پہچان

دھرمیندر
p-4bہندوستان میں ایسی کئی ایجادات ہوئی ہیں، جو ملک میں نیا انقلاب لا سکتی ہیں، لیکن حکومت کے بے اعتنائی کے سبب انہیں کوئی پہچان نہیں مل سکی۔ان ایجادات کو حکومتیں منظوری دینے سے بھی بچتی ہیں۔ ملک میں کئی موجدوں نے توانائی کے شعبہ میں نئی نئی ایجادات کی ہیں، لیکن ملک کے لوگ ہی اسے نہیں آزماتے ہیں۔ تمل ناڈو کے ایک موجد رام پلئی نے ہربل ایندھن کی ایجاد کی ۔ اس کے بعد انہیں دھوکہ دہی کے الزام میں جیل ہو گئی ، وہ ایک بار پھر واپس آئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس ایندھن کو بنانے میں صرف پانچ روپے کا خرچ آئے گا، جس سے گاڑی کا خرچ بہت کم ہو جائے گا۔ انھوں نے بتایا کہ 15گرام امونیم کلورائڈ ، 15گرام برادہ اور15گرام خمیر کو ایک لیٹر پانی کے ساتھ ملا کر اس کا گھول بنا لیں گے۔ اس کے بعد 78ڈگری پر جب اسے گرم کیا جائے گا تو اس میں سے نیلے رنگ کی لونکلتی ہے جو آتش گیر ایندھن کی شکل میں بد جاتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اسے حکومت کی مدد کی ضرورت ہے اور اسے سرکاری سرٹیفکٹ کی ضرورت ہے ، جس سے اسے منظوری مل سکے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جتروفا نامی ایک پودہ ہے جس کے پھل سے بایوڈیزل کی تعمیر ہوتی ہے۔ بایو ڈیزل بنانے کے لئے کئی پودوں کی پہچان کی گئی ہے۔ جتروفا کو ابھی ملک میں پہچان ملی ہے۔ جتروفا کی کھیتی کی شروعات 2003میں ہوئی تھی۔ جتروفا کی پیداوار بڑھا کر ملک میں موٹر ایندھن کی کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ سورج کی روشنی سے جو توانائی پیدا ہوتی اس سے بھی بہت سارے کام کئے جا سکتے ہیں اور کئے بھی جا رہے ہیں۔ اسے ہمیں ملک میں فروغ دینے کی ضرورت ہے، جس سے بجلی اور موٹر گاڑیوں کے تیلوں کی بچت کی جا سکتی ہے۔ شمسی توانائی کے استعمال کو ہر خاص وعام تک پہنچانے کی ضرورت ہے، جس سے لوگوں کو معلومات حاصل ہو کہ وہ کیسے اس کا استعمال کر سکتے ہیں۔ شمسی توانائی سے جہاں تک ابھی بجلی نہیں پہنچ پائی ہے وہاں پر اس سے زراعت میں مدد لی جا سکتی ہے۔ شمسی توانائی کی مدد سے لائٹ، پانی وغیرہ کی سہولت لی جا سکتی ہے۔ اگر پانی کی بات کریں تو اس کا بھی کئی طرح سے استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ پانی سے توانائی پیدا کرنے کی مختلف نئی ایجادات ہوئی ہیں، جس سے پانی سے موٹر گاڑیاں چلانے کی ایجاد بھی شامل ہے۔ اسی ایجاد سے ٹاٹا موٹرس کے ایک بے حد سستی کار بنانے کا بھی تذکرہ ہے۔ ان تکنیکو ں کے ذریعہ مختلف کام لئے جا سکتے ہیں،انہیں لوگوں کے درمیان لے جانا ہوگا کہ اس کا استعمال کس طرح کیا جا سکتا ہے۔ گوبر گیس کا استعمال بھی پورے ملک میں کیا جا سکتا ہے۔ آج جہاں لوگ پیٹرولیم گیس کا استعمال کر رہے ہیں، لیکن اس ملکی ایجاد کو لوگ بھول گئے ہیں۔ گوبر گیس کو بنانے میں زیادہ خرچ بھی نہیں آتا ہے اور اسے بنانے میں زیادہ خرچ بھی نہیں آتا۔ گائووں میں اس کا استعمال آسانی سے کیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ گوبر سے بنتا ہے۔ گوبر گیس بننے کے بعد صفائی میں اس کا جو ملبہ نکلتا ہے۔ اسے کھیتوں میں کھاد کی شکل میں استعمال کیا جا سکتا ہے جو پیداوار میں مفید ہوتا ہے۔
اندور میں ایک 10ویں کلاس کی طالبہ نے ایک کالج پروگرام میں دیسی فریج بنا یا تھا جو بنا بجلی کے چل سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کچرے سے بھی توانائی پیدا کی جا رہی ہے، جس سے ملک میں بجلی کمی کو کچھ حد تک پورا کیا جا سکتا ہے۔ ملک کے بڑے شہروں میں روزانہ ہزاروں ٹن کچرا نکلتا ہے، اس کا استعمال کر کے شہروں کی بجلی کی کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ دہلی میں اس کی شروعات بھی ہو گئی ہے۔ اب اسے پورے ملک میں نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت اس کی شروعات کر کے پورے ملک میں بجلی کی کمی کو پورا کر سکتی ہے۔ بیت الخلاء میں جمع ہوئی گندگی سے بھی بجلی کی پیداوار ہو رہی ہے۔ ملک کی کئی ریاستوں میں اس کی شروعات ہوئی ہے۔ بیت الخلاء میں جمع ہوئی گندگی سے بایو گیس بنائی جاتی ہے۔ اس کے بعد اس سے بجلی پیدا کی جا تی ہے۔ گائووں میں سب سے زیادہ بجلی کی قلت ہے اور وہاں پر بیت الخلاء بھی نہیں ہے۔ اگر حکومت گائووں میں ایک مہم کے ذریعہ اس بارے میں بیداری پیدا کرے تو بجلی کی قلت سے دوچار لوگ اس کا مناسب استعمال کر سکیں گے۔
آج ملک میں بجلی کی شدید قلت کو مد نظررکھتے ہوئے ان ایجادات کو پورے ملک میں بڑی تعداد میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک میں بھاری مقدار میں وسائل ہونے کے باوجود آج ملک میں بجلی کی کمی سے دو چار ہے۔ یہاں پر پیٹرول ڈیزل بنانے سے لے کر بجلی بنانے تک کی اشیاء مہیا ہیں، لیکن حکومت ان کو نظر انداز کرتی ہے۔ حکومت تیل، گیس ، بجلی خریدنے پر اربوں روپے خرچ کرسکتی ہے اور توانائی کی قلت سے دو چار ملک کو باہر نکالا جا سکتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *