سول سروسیز میں صرف تین فیصد طلباء کی کامیابی شرمناک

ڈاکٹر وسیم راشد
سول سروسز امتحان میں اس سال بھی 1122کامیاب امیدواروں میں صرف 34 مسلم طلباء کامیاب ہوئے ہیں۔ یعنی صرف 3فیصد اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ یہ نتیجہ گزشتہ 5 سالوں میں تقریبا ً ایک جیسا ہی رہاہے۔ 2009 میں 791 کامیاب امیدواروں میں سے صرف 31 مسلمان کامیاب ہوئے تھے۔ 2010 میں 875 کامیاب امیدواروں میں سے صرف 21 کامیاب ہوئے،2011 میں 920 میں سے صرف 31مسلمان اور 2012 میں 998 میں سے صرف 30 مسلمان یعنی یہ فیصد صرف 2سے 3 ہی رہاہے۔
اس مقابلہ جاتی دوڑ میں جبکہ پچھڑے پسماندہ نوجوان لڑکے لڑکیاں بھی کامیابی کی دوڑ میں آگے ہی آگے نکل رہے ہیں،ایسے میں مسلمان لڑکے لڑکیوں کا اتنے کم فیصد پر سمٹ جانا بے حد تشویشناک ہے۔ 1122 کامیاب طالب علموں میں 326او بی سی یعنی پسماندہ پچھڑی ذاتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔18شیڈولڈ کاسٹ ہیں اور 92شیڈولڈ ٹرائبس ہیں۔یعنی مسلمان ان قبائلی علاقوں سے آنے والے نوجوانوں سے بھی پیچھے رہ گئے ہیں۔
یہ تمام اعدادو شمار میں نے صرف پچھلے 5سالوں کے ہی نکالے ہیں۔ اس سے پہلے کیا صورت حال تھی اس کا جائزہ اگر لیا جائے گا تو یہ چھوٹا سا اداریہ کافی طویل ہو جائے گا۔پچھلے 5 سالوں میں کانگریس کی حکومت تھی۔اس سے 5سال پہلے بھی کانگریس کی حکومت تھی ۔کانگریس نے مسلمانوں کے لئے کیا کیا۔ اقلیتیکمیشن کے ذریعہ جو اسکالر شپ مسلم بچوں کی تعلیم کے لئے دیے گئے تھے۔اس سے کتنے طلباء نے فائدہ اٹھایا ،اس کا تو علم نہیں لیکن اس کا ضرور علم ہے کہ نہ تو کسی اخبار میں نہ ہی کسی میگزین میں ان اسکالر شپ کے بارے میں اطلاعات فراہم کی جاتی ہیں۔ میں کتنے ہی ایسے مسلم طالب علموں کو جانتی ہوں جنہوں نے 10ویں اور 12ویں کے بعد تعلیم اس لئے چھوڑ دی کیونکہ ان کے پاس ایڈمیشن لینے اور تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں تھی۔ اگر حکومت کی جانب سے مسلم طلباء کو جو اسکالر شپ اسکیمیں یا لون اسکیمیںدی جاتی ہیں ان کی ہی صحیح معنوں میں تشہیر کی جائے تو ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ مسلم طلباء آگے نہ بڑھیں۔
ہماری مسلم تنظیموں نے آج تک سوائے آپسی انتشار، حکومت کی قدمبوسی اور چاپلوسی کرنے کے کیا کیا ہے؟آج تک ایک مسلم انگلش میڈیم اسکول دہلی پبلک اسکول، ماڈرن اسکول جیسے تو بنانہیں پائے۔چند انگلش میڈیم برائے نام اسکول جیسے ہمدرد پبلک اسکول، نیو ہیورائزن اسکول، کریسنٹ اسکول دریا گنج وغیرہ صرف نام کے انگلش میڈیم ہیں ۔ ان کا معیار آج بھی اچھے انگریزی میڈیم اسکولوں جیسا نہیں ہے۔ لیکن یہ اسکول پھر بھی نعمت ہیں ۔کم سے کم پڑھے لکھے مسلم نوجوان تو پیداکر ہی رہے ہیں۔ آج تک دسویں اور بارہویں کے بورڈ میں ان میں سے کسی بھی اسکول کے طلباء نے ٹاپ نہیں کیا۔ٹاپ کون کرتے ہیں وہی ڈی پی ایس آر کے پورم، بال بھارتی ایئر فورس، امیٹھی اسکول ، سردار پٹیل وغیرہ۔

پچھلے سال دیوبند کا ایک طالب علم کامیاب ہوا تھا۔ اس بار شاید کوئی نہیں ہے۔ اگر مدرسوں کے معیار پر توجہ دی جائے تو یہ تعداد یقینا بڑھ سکتی ہے۔ حالانکہ مودی سرکار نے مدرسوں میں جدید کاری کا تذکرہ خاص طور پرکیا ہے ۔مگر صرف بات کرنے سے نہیں بلکہ اس فیصلے کو عمل میں لانے کی ضرورت ہے۔ البتہ سرکار کو اس بات کی وضاحت کردینی چاہئے کہ وہ مدرسوں میں کس نوعیت کی جدید کاری کرنا چاہتی ہے جیسا کہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا ابو القاسم نعمانی کے علاوہ دیگر کئی علماء نے اس سلسلے میں حکومت سے وضاحت کرنے کی اپیل کی ہے۔
ہماری مسلم تنظیمیں سول سروسز کے امتحان کی تیاری کرانے کے لئے کوئی ایک بھی نامور اور مستند ادارہ قائم نہیں کرپائے ۔ہمدرد اسٹڈی سینٹر اور زکوۃ فائونڈیشن کے طلباء میں سے ضرور کچھ کامیاب ہوئے ہیں۔ 34میں سے 13زکوٰۃ فائونڈیشن کے طالب علم کی کامیابی یقینا قابل تعریف ہے اور اس کے لئے ظفر محمود صاحب کو مبارکبا د بھی دینی چاہئے اور ان کا شکر گزار بھی ہونا چاہئے۔لیکن بے تحاشہ غیر ملکی فنڈنگ اور امداد کے باوجود بھی ادارے بہتر سہولیات فراہم نہیں کرسکے اور نہ ہی اعلیٰ معیار دے سکے ۔یہی وجہ ہے کہ ابھی بھی یہ تعداد بہت کم ہے۔یعنی ابھی منزل بہت دور ہے۔
حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ جو ادارے مشاعروں ،کانفرنسوں اور سمیناروں پر لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں جو محض ایک شاعر کو دوسرے ملک سے بلاتے ہیں تو کم سے کم 80سے 90ہزار روپے لگ جاتے ہیں ۔وہ ادارے مسلم طلباء کے لئے کوئی کوچنگ سینٹر قائم نہیں کرپاتے۔ انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں رات دن پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ بے حد خوبصورت سجے سجائے ہال اور پر شکوہ عمارت صرف سال میں ایک بار قرآن ورک شاپ اور پرسنالٹی ڈیولپمنٹ پروگرام کراتی ہے۔حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اتنا بڑا ادارہ بھی سول سروسز کے امتحان کے لئے کوچنگ نہیں کرا پاتا ہے۔انجمن ترقی اردو ہند ،قومی کونسل برائے فروغ زبان، دہلی اردو اکادمی، غالب اکادمی یہ سب ادارے بے تحاشہ روپیہ قورمہ بریانی پر خرچ کرتے ہیں ۔ 3، 4 دن برابر ان اداروں میں دیگیں لڑھکتی ہیں اور پیٹ بھر بھر کے کھاتے ہیں ۔لیکن مسلم بچے بچیوں کی تعلیم و تربیت کی طرف کسی اردو والے کی نظر نہیں جاتی۔صرف سمینار،مشاعرے، کانفرنسیںکرنے یا پھر کمپیوٹر کورس کرانے سے سمجھتے ہیں ان کا حق ادا ہوگیا یا پھر اردو کی خدمت ہوگئی ۔ اگر اردو ادارے اپنے یہاں اردو کی ہی سول سروس کی کوچنگ کرائیں تو بھی نہ جانے کتنے مسلم نوجوانوں کا بھلا ہوجائے ۔دہلی کے تقریبا ًسبھی اچھے کالجوں میں اردو ہے ۔سینٹ اسٹیفن سے لے کر ذاکر حسین تک ، مگر ان کالجوں سے پڑھ کر نکلنے والے مسلم طلباء و طالبات آج تک سول سروسز میں نہیں آپائے،شاید وہ حوصلہ ہی نہں کرپاتے کہ پرلیمنٹری امتحان بھی پاس کر پائے۔مٹھی بھر سول سروس کی کوچنگ کرانے والے ادارے بھی ہر کامیاب طالب علم کو اپنا پروڈکٹ بتاتے ہیں۔ 34کامیاب مسلم امیدواروں میں لڑکیاں صرف 6ہیں۔جو اس بات کی علامت ہے کہ مسلم لڑکیوں کو ابھی بھی سول سروسز میں جانے کے لئے وہ آسانیاں نہیں جو کہ ہونی چاہئے۔ ویسے بھی یو پی اے حکومت نے جاتے جاتے مسلمانوں کو یہ زخم بھی دے دیا ہے کہ یو پی ایس سی سے فارسی اور عربی مضامین کو ہٹا دیا ہے ۔اس سے یو پی ایس سی میں مدرسوں سے آنے والے طلاب علموں کی تعداد اور بھی کمی ہوجائے گی۔
ہر پارٹی اپنے مینی فیسٹو میں مدرسوں کی جدید کاری کی بات کرتی ہے۔ مگر پھر بھی ابھی تک مدرسوں کا وہ معیار نہیں ہے جو کہ طالب علموں کو مقابلہ جاتی دوڑ میں کامیاب بنا سکے۔پچھلے سال دیوبند کا ایک طالب علم کامیاب ہوا تھا۔ اس بار شاید کوئی نہیں ہے۔ اگر مدرسوں کے معیار پر توجہ دی جائے تو یہ تعداد یقینا بڑھ سکتی ہے۔ حالانکہ مودی سرکار نے مدرسوں میں جدید کاری کا تذکرہ خاص طور پرکیا ہے ۔مگر صرف بات کرنے سے نہیں بلکہ اس فیصلے کو عمل میں لانے کی ضرورت ہے۔ البتہ سرکار کو اس بات کی وضاحت کردینی چاہئے کہ وہ مدرسوں میں کس نوعیت کی جدید کاری کرنا چاہتی ہے جیسا کہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا ابو القاسم نعمانی کے علاوہ دیگر کئی علماء نے اس سلسلے میں حکومت سے وضاحت کرنے کی اپیل کی ہے۔
اس سلسلے میں ایک اہم بات یہ ہے کہ مسلم طلباء کا سول سروسز میں کم تعداد میں آنے کی وجہ جہاں ایک طرف حکومت اور تنظیموں کی بے اعتنائی ہے، وہیں کہیں نہ کہیں ہمارے طلباء بھی قصور وار ہیں۔ دراصل طلباء سول سروسز کے امتحانات میں شرکت بہت کم تعداد میں کرتے ہیں جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب نتائج سامنے آتے ہیں تو مسلمانوں کی تعداد کم ہوتی ہے۔ انہیں حوصلہ رکھنا چاہئے اور زیادہ سے زیادہ تعداد میں اس طرح کے امتحانات میں شریک ہونا چاہئے ۔عام طور پر مسلم طلباء یہ شکایت کرتے ہیں کہ انہیں مسلمان ہونے کی وجہ سے آگے نہیں بڑھنے دیا جاتاہے ۔جہاں تک میں سمجھتی ہوں کہ اس طرح کی سوچ بڑی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔ لہٰذا احساس کمتری کا شکار ہونے کے بجائے مسلم بچوں کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں حصہ لینا چاہئے۔اگر وہ اس طرح کی ہمت کا مظاہرہ کریں گے تو یقینا جو مایوس کن تعداد ہمارے سامنے ہے اس میں تبدیلی آئے گی اور مسلم کامیاب بچوں کی تعداد میں یقینا اضافہ ہوگا۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *