نئی حکومت کو واضح پالیسی کے ساتھ سامنے آنا چاہئے

پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں صدرجمہوریہ کا خطبہ اور دونوں ایوانوں میں شکریہ کی تحریک پر وزیر اعظم کیتقریر ٹھیک رہی۔ایسا کچھ نہیں کہا گیا جس سے عوام کے کسی بھی حلقے میں کسی طرح کی مخالفت کی آواز اٹھے۔ درحقیقت کانگریس کہہ رہی ہے کہ حکومت کی زیادہ تر تجاویز یا پالیسی کا بیشتر حصہ کانگریس سے نقل کیا گیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو کانگریس پارٹی اس پالیسی کی مخالفت نہیں کرسکتی ہے کیونکہ یہ ایک عجب دلیل ہے۔ اگر وہ کانگریس کی پالیسیوں کو اختیار کر رہے ہیں تو کانگریس کو کیوں اعتراض ہوسکتا ہے؟لیکن اس بحث کو چھوڑیں ۔اصل بات تو یہ ہے کہ تقریر کرنا ایک بات ہے لیکن اس وقت ہم دو چیزوں کو دیکھ رہے ہیں۔ ایک، ہم نے ایسا کچھ بھی نہیں سنا کہ یہ حکومت گزشتہ حکومتوں سے کچھ الگ کرنے والی ہے۔ ایسی ایک بھی تجویز نہیں سنی۔ صرف ایک چیز ہم نے سنی کہ کابینی وزیر اور وزیر اعظم کا دفتر اپنا کام کرے گا، ٹھیک ہے۔یہ ان کے کام کاج کا انداز ہے مگر پالیسیاں کیا ہونے جارہی ہیں؟آخر کار، ایک منڈیٹ ملا ہے

Read more

سول سروسیز میں صرف تین فیصد طلباء کی کامیابی شرمناک

سول سروسز امتحان میں اس سال بھی 1122کامیاب امیدواروں میں صرف 34 مسلم طلباء کامیاب ہوئے ہیں۔ یعنی صرف 3فیصد اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ یہ نتیجہ گزشتہ 5 سالوں میں تقریبا ً ایک جیسا ہی رہاہے۔ 2009 میں 791 کامیاب امیدواروں میں سے صرف 31 مسلمان کامیاب ہوئے تھے۔ 2010 میں 875 کامیاب امیدواروں میں سے صرف 21 کامیاب ہوئے،2011 میں 920 میں سے صرف 31مسلمان اور 2012 میں 998 میں سے صرف 30 مسلمان یعنی یہ فیصد صرف 2سے 3 ہی رہاہے۔

Read more

عوام کو بھیک نہیں، مواقع چاہئیں

ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کے سامنے ہم اس سچائی کو رکھنا چاہتے ہیں جسے وہ غالباً سمجھتے ہوں گے۔ملک کے عوام کی نفسیات2011 سے پہلے جو تھی وہ 2011 کے بعد بدل گئی ہے۔ 2011 سے پہلے لوگوں کو لگتا تھا کہ وہ کچھ نہیں کرسکتے۔ ان کی بات سسٹم نہیں سن رہا ہے یا سسٹم کبھی سنے گا نہیں،لیکن 2011 کی انا ہزارے کی تحریک نے ملک کے لوگوں کے دل میں ایک خود اعتمادی پیدا کی اور لوگوں کو لگا کہ ہم کھڑے ہوکر کسی بات کے لئے دبائو ڈالیں گے تو سسٹم کو اسے سننا پڑے گا اور اس کے بعد کئی جگہ ایسی مثالیں سامنے آئیں جب سسٹم کو لوگوں کی بات سننی پڑی۔ بنا کسی لیڈر کے، عصمت دری کی شکار لڑکی

Read more

یو پی میں اچھے دن آنے والے ہیں

لاء اینڈ آرڈر کو لے کر مخالفین کے نشانے پر اتر پردیش کی اکھلیش سرکار کو جب کہیںسے اچھی خبر سنائی نہیں دے رہی تھی، تب سرمایہ کاروں نے اتر پردیش کو اپنی’ کرم بھومی‘ بنانے کا بڑافیصلہ کرکے اتر پردیش کے عوام کے ساتھ ساتھ سماجوادی پارٹی کے لیڈروں کو بھی اس بات کا احساس کرادیاکہ اچھے دن آنے والے ہیں۔ 54ہزار کروڑکی سرمایہ کاری ہونے سے سرکار کے مکھیا اکھلیش یادو بھی خوش ہیں۔ امید ہے کہ بدلے ماحول میں یوپی کو ترقی کی اڑان بھرنے میں آسانی ہوگی۔ اس کے علاوہ سماجوادی سرکار کے لیے اچھی خبر یہ بھی ہے کہ انتخابی نوک جھونک ، طنز اور ماضی میں پارلیمنٹ میں ایس پی کے سُپریمو ملائم سنگھ یادو اور مودی کے بیچ ریپ او رلاء اینڈ آرڈر کے ایشوپر طنزیہ تیروں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو اور وزیر اعظم نریندر مودی کے بیچ دہلی میں ہوئی ملاقات کو ریاست کی ترقی کے لیے اہم مانا جارہا ہے۔
کہا جارہا ہے کہ صوبہ کی اکھلیش سرکار، وزیر اعظم نریندر مودی کے اتر پردیش (وارانسی)سے رکن پارلیمنٹ ہونے کا بھی مائلیج اٹھانا چاہتی ہے۔ ایس پی کے پالیسی سازوں کو لگتا ہے کہ یو پی میں بی جے پی نے جو جڑیں مضبوط کی ہیں، اسے برقرار رکھنے کے لیے مودی یو پی کو دیگر ریاستوں کے مقابلے زیادہ اہمیت دیں گے۔ یو پی سے اگر بی جے پی اتحاد کو 73سیٹیں نہیں ملتیں، تو مرکز میں بی جے پی کی اکثریت والی سرکار بننا مشکل تھی۔

Read more

نفرت کی سیاست کرنے والی تنظیموں پر پابندی لگے

مہاراشٹر یہ بی جے پی کے ستون سمجھے جانے والے اور مودی کی نئی کابینہ کے مرکزی وزیر گوپی ناتھ منڈے کی سڑک حادثے میں دردناک موت ہوئی،اس وقت شو بھاڈے نے ایک ٹویٹ کیا جس میں منڈے کی فیملی سے اظہار تعزیت کرنے کے بعد انہوں نے لکھا ’’ منڈے کی فیملی کے لئے برے دن آگئے ہیں‘‘3جون کا یہ ٹویٹ ہے اور 3جون کی ہی رات کو ہندو راشٹر سینا کے شرپسندوں نے بنا کسی قصور کے پونے کے ایک آئی ٹی انجینئر محسن صادق شیخ کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔ محسن کا کیا قصور تھا ۔ کچھ نہیں ، وہ بس داڑھی والا مسلم نوجوان تھا اور اس کے سرپر ٹوپی تھی۔ہوا کیا تھا،کچھ نہیں ،بس وہی نفرت کا کھیل اور سوشل میڈیا کو گھٹیا ، گندی ذہنیت کے لئے استعمال کرنے کا سلسلہ۔

Read more

ایف ڈی آئی سے کیا اثر پڑے گا؟

راست گیر ملکی سرمایہ کاری کا مدعا ایک بار پھر موضوع بحث ہے۔ اس سے قبل جب یو پی اے کی حکومت تھی ، تو رٹیل سیکٹر میں راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو منظوری دی گئی تھی۔ اس وقت بی جے پی نے اس کی سخت مخالفت کی تھی۔ اب حکومت بدل چکی ہے اور بی جے پی مرکز میں بر سر اقتدار ہے۔ وہ دفاع سمیت میڈیا اور زراعت جیسے اہم شعبوں میں ایف ڈی ا ٓئی لانے پر غور کر رہی ہے۔ حقیقت میں ایف ڈی آئی کو لے کر آج جو بھی ہو رہا ہے، اس کی بنیاد 1991میں ہی رکھ دی گئی تھی۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کی پالیسیوں کو لبرل بنانے کے نظریہ سے 1991میں ہی ایف ڈی آئی کی بنیاد رکھی گئی تھی ، جس کا پورا اثر عام آدمی کو آج نظر آ رہا ہے اور اب جو ہوگا ، اس کا اثر ایسے ہی کئی سالوں بعد نظر آئے گا۔ اگر غلط یا برے نتائج آئے، تو اس وقت ہندوستان کے پاس پچھتانے کو کچھ نہیں ہوگا، کیونکہ غیر ملکی کمپنیوں کے پاس پارلیمنٹ کی منظوری

Read more

بے مثال ملکی ایجادات جنہیں نہیں ملی پہچان

ہندوستان میں ایسی کئی ایجادات ہوئی ہیں، جو ملک میں نیا انقلاب لا سکتی ہیں، لیکن حکومت کے بے اعتنائی کے سبب انہیں کوئی پہچان نہیں مل سکی۔ان ایجادات کو حکومتیں منظوری دینے سے بھی بچتی ہیں۔ ملک میں کئی موجدوں نے توانائی کے شعبہ میں نئی نئی ایجادات کی ہیں، لیکن ملک کے لوگ ہی اسے نہیں آزماتے ہیں۔ تمل ناڈو کے ایک موجد رام پلئی نے ہربل ایندھن کی ایجاد کی ۔ اس کے بعد انہیں دھوکہ دہی کے الزام میں جیل ہو گئی ، وہ ایک بار پھر واپس آئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس ایندھن کو بنانے میں صرف پانچ روپے کا خرچ آئے گا، جس سے گاڑی کا خرچ بہت کم ہو جائے گا۔ انھوں نے بتایا کہ 15گرام امونیم کلورائڈ ، 15گرام برادہ

Read more

نکسلیوں سے بات چیت کی پہل کرے مرکزی حکومت

مرکزی مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے پچھلے دنوں کہا کہ این ڈی اے حکومت نکسلواد کے مسائل کا پُر امن حل چاہتی ہے۔ راجناتھ سنگھ کے مطابق، نکسلواد اندرونی سیکورٹی کے لئے سنگین خطرہ ہے۔ لہٰذا نکسل متأثرہ ریاستوں میں ترقیاتی کام کو بڑھا کر اس مسئلے کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ ترقی سے نکسلواد کے مسائل حل ہوں گے، ایسی دلیل دینے والے لیڈروں اور نکسل شاہوں کی آج کمی نہیں ہے۔ دراصل نکسلواد کے مسائل کی سب سے بڑی وجہ یہی نام نہاد ترقی ہے جس نے دلت اور آدیواسیوں کو ان کے حقوق سے محروم کر دیا ہے۔ آخر یہ ترقی ہے کیا اور اس کا ماڈل کیا ہے؟ کیا زمین میں دبے خزانوں کو نکالنا، جنگلوں کو ختم کرنا، پہاڑوں کو ڈائنامیٹ لگا کر اڑانا، آدیواسیوں کی زمین پر کارخانے لگا کر انہیں یومیہ مزدور بنا دینا ہی ترقی ہے؟اگر سرمایا داروں کی بھلائی کے لئے ترقی کا یہ راستہ ہی ترقی ہے تو یہ نقصان دہ ہے ،یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے، لیکن افسوس کہ مرکز اور ریاست کی سرکاروں کو اس سے کوئی مطلب نہیں ہے

Read more

تلنگانہ اور آندھرا پردیش: نئی ریاستوں کو درپیش چیلنجز اور امکانات

گزشتہ 2 اور 8جون2014 کو ریاست آندھرا پردیش کی تقسیم کے بعد دو نئی ریاستیں وجود میں آچکی ہیں اور ان کے وجود میں آتے ہی جنوبی ہند کے اس خطہ میں سب کچھ تبدیل بھی ہوگیا ہے۔ سیاست بدل گئی ہے، اقتدار تبدیل ہوگیا ہے، ملازمین کا مستقبل دونوں ریاستوں کے درمیان جھول رہا ہے، بڑے اور پرانے تعلیمی اداروں کے تلنگانہ میں رہ جانے کے سبب آندھرا پردیش میں معیاری اداروں کی سخت کمی ہوگئی ہے، دونوں ریاستوں میں پاور سپلائی کی تقسیم پر کشیدگی پائی جارہی ہے، تقسیم ریاست سے منقسم پولس فورس کو چیلنجز درپیش ہیں اور نئی ریاست آندھرا پردیش کو 15ہزار کروڑ روپے کا خسارہ اور زبردست مالی بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

Read more

جموں کشمیر میں بی جے پی کا مشن 44 خود فریبی یا سیاسی حکمت عملی

اٹھارہ سو ستاون گو کہ جموں کشمیر کے اسمبلی انتخابات میں ابھی بھی کم از کم پانچ ماہ کا عرصہ باقی ہے، لیکن ریاست میں سیاسی گہما گہمی اور جوڑ توڑ کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔اس ضمن میں فی الوقت سب سے زیادہ متحرک جموں کشمیر نیشنل کانفرنس اور بی جے پی نظر آرہی ہیں۔پارلیمانی انتخابات میں ملک بھر میں غیر متوقع طور پر فتح حاصل کرنے کے بعد بی جے پی کے حوصلے کس قدر بلند ہوگئے ہیں ، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پارٹی نے جموں و کشمیر میں ’’مشن44‘‘ کے نام سے ریاست میں اقتدار کی مسند پر فائز ہوجانے کیلئے ایک ہمہ گیر مہم شروع کردی ہے۔قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر کی اسمبلی 87نشستوں پر مشتمل ہے ۔ یعنی کسی بھی پارٹی کو اپنے بل پر حکومت قائم کرنے کیلئے کم ازکم 44سیٹیں حاصل کرنا ناگزیر ہے۔حالانکہ جموں کشمیر جیسی ریاست میں بھاجپا کیلئے اتنی بڑی تعداد میں اسمبلی سیٹیں حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ بلکہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ناممکنات میں ہے۔ لیکن چونکہ پارلیمانی انتخابات کے حوالے سے بیشتر مبصرین اور تجزیہ نگاروں کی آراء دھری کی دھری رہ گئیں اور بھاجپا کی غیر معمولی فتح کے بعد اب مصرین سیاسی معاملات میں پیش گوئیاں کرتے ہوئے کافی احتیاط برتتے نظر آتے ہیں۔ریاست کے سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے سینئر صحافی اور تجزیہ نگار طاہر محی الدین نے’’ چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ ایک بات چیت میں کہا،’’ بی جے پی کا ریاست میں حکومت بنانا تویقینا ایک ناممکن بات ہے، لیکن لگتا ہے کہ ’’مشن44‘‘ کا اعلان کرکے اس پارٹی نے اسمبلی انتخابات میں زیادہ سے زیادہ سیٹیں بٹورنے کیلئے ہر حربہ اور ہر چال چلنے کی ٹھان لی ہے۔

Read more