یہ ترقی ، یہ وکاس محض دکھاوا ہے، اصل تصویر بہت دردناک ہے

ڈاکٹر وسیم راشد
ہمارے بچپن میں جب الیکشن ہوتا تھا تو چاروں طرف لائوڈ اسپیکر بج رہے ہوتے تھے ۔ ہر چوراہے اور نکڑ پر کسی نہ کسی پارٹی کا جلسہ ہو رہا ہوتا تھا اور ہم جامع مسجد کے چوراہے سے لے کر دریا گنج تک نہ جانے کتنے ہی لیڈروں کی تقریریں سنتے ہوئے آتے تھے اور سنتے ہوئے جاتے تھے لیکن کبھی اتنی گھٹیا نہ تو زبان سنی نہ ہی ایک دوسرے پر الزام لگانے کے لئے بے حد رکیک اور غلط جملے سنے۔ ہمارے ہوش میں1977کا الیکشن ہوا پھر اس کے بعد ہماری آنکھوں نے کئی لوک سبھا چنائو دیکھے۔یہاں تک کہ 2009میں بھی یہ گندگی نہ دیکھی نہ سنی جو اس وقت سیاسی لیڈران ایک دوسرے پر اچھال رہے ہیں اور نفرت کی اس سیاست میں اصل مسائل جیسے دب کر رہ گئے ہیں۔ ہر چینل ایسا لگتا ہے جیسے کہ بس گرما گرم مباحثہ ، نفرت انگیز جملے اور شرپسند واقعات دکھا کر ٹی آر پی لینا چاہتا ہے مگر این ڈی ٹی وی کے پرائم ٹائم میں رویش کمارنے جس طرح اصل ہندوستان کی تصویر دکھائی ہے وہ بے حد قابل تعریف ہے۔ لگاتار کئی پروگراموں میں گائوں ، گائوں، قصبوں اور دیہاتوں میں جس طرح پوری کیمرہ ٹیم لے کر سچائی کو سامنے لایا گیا ہے، اس نے ہم سب کو بھونچکا کر دیا ہے۔
اصل تصویر ہے یہ ہندوستان کے وکاس کی، اصل تصویر ہے یہ مسلمانوں کی پسماندگی کی ۔ ایسا نہیں ہے کہ ان ریاستوں کے پسماندہ گائووں میں صرف مسلمانوں کی ہی حالت خراب ہو بلکہ وہاں دلت، یادو، مہرواور دوسری نچلی اور پچھڑی ذاتوں کی حالت بھی بے حد خراب دکھائی گئی ہے۔
سہارنپور کے ایک گائوں خارکی کی کہانی بے حد دردناک ہے جہاں60فیصد مسلم گھروں میں صرف ایک یا 2گھروں میں ٹی وی ہے، جہاں صرف ایک ہی اخبار آتا ہے اور اس کو سب لوگ مل کر پڑھتے ہیں اور کبھی کبھی کوئی ایک سناتا ہے اور باقی سنتے ہیں یہ اتنا پسماندہ گائوں ہے کہ یہاں کے لوگ نیوز دیکھنے کے لئے 6کلو میٹر چل کر جاتے ہیں، کچھ صاحب حیثیت لوگ ٹی وی خرید سکتے ہیں لیکن وہ فرسودہ خیالات کی وجہ سے نہیں خریدتے اور باقی جو ہیں وہ بے حد غریب ہیں۔ اس لیے ٹی وی خریدنا تو دور پیٹ بھرنے کے لیے روٹی ہی مل جائے وہ بھی بہت ہے۔ اس گائوں میں لڑکیوں کے لئے اسکول بہت دور ہے اور انہیں ڈیڑھ کلو میٹر چل کر بس ملتی ہے، تب کہیں وہ 16کلو میٹر اسکول جاتی ہیں۔
خار کا یہ گائوں اتنا پسماندہ ہے کہ رپورٹر تک نے یہ بات کہی کہ اس نے آج تک کسی فلم میں بھی اتنا پسماندہ گائوں نہیں دیکھا۔ اس گائوں میں نہ بجلی ہے ، نہ پانی ہے ، نہ روشنی کا کوئی انتظام ہے۔
اعظم گڑھ کی بات کریں تو وہاں کے مسلمان تو ویسے ہی دہشت گرد کہلاتے ہیں اور آتنک گڑھ کا نام دے دیا گیا ہے۔ بٹلہ ہائوس انکائونٹر کے بعد سے ہی اعظم گڑھ کے نوجوان ہوشیار ہو گئے ہیں اور اب وہاں کا المیہ یہ ہے کہ پورے گائوں میں نوجوان لڑکے دیکھنے کو جب ہی ملتے ہیں جب چھٹی پر آتے ہیں۔ نور الدین پور ایک ایسا گائوں ہے جہاں کے مسلمانوں کی حالت بے حد خراب ہے، جہاں کے نوجوان نوکریوں کے لئے سعودی عرب کے ممالک میں جاکر نوکریاں کر رہے ہیں۔ دوحہ ، قطر، ریاض، ابو ظہبی ، دبئی وغیرہ میں نور الدین پور کے گائوں کے نوجوان نوکریاں کرنے چلے گئے ہیں اور ساتھ ہی اس ڈر سے بھی کہ کہیں انہیں دہشت گرد بنا کر فرضی انکائونٹر میں نہ مار دیا جائے یا پھر ان کو پکڑ کر جیلوں میں نہ ڈال دیا جائے۔
ایسا نہیں ہے کہ اس گائوں میں صرف مسلمان ہی باہر گئے ہیں ، ہندو نوجوان اور دوسرے مذاہب کے لڑکے بھی نوکریاں تلاش کرنے کے لئے نکلے ہیں مگر مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے۔
مسلم بچیوںکو ایک تو پڑھانے کا رواج نہیں اور اگر یہ بچیاں پڑھنے کے لئے جاتی ہیں تو گائوں کے لڑکے ان کو چھیڑتے ہیں ، پریشان کرتے ہیں۔ا یک خاتون نے ذرا بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیمرہ کے سامنے یہ تسلیم کیا کہ ہم لڑکیوں کو پڑھانا چاہتے ہیں لیکن ایک تو گھر کے مرد مخالفت کرتے ہیں اور اس کے علاوہ گائوں کے لڑکے ہماری لڑکیوں کو چھیڑتے ہیں اگر گائوں کے مکھیا سے یا بزرگوں سے شکایت کرو تو کہتے ہیں کہ تم ہی خراب ہو لڑکیاں ہی غلط ہیں۔
اعظم گڑھ کے اس گائوں کو دیکھ کر یہ لگا ہی نہیں کہ ہم 21ویں صدی کے ہندوستان کو دیکھ رہے ہیں۔ خاص طور پر مسلمانوں کی حالت ہر جگہ اتنی خراب ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا ، الیکشن کے دوران جس کمیونٹی کو ووٹ بینک سمجھ کر چاروں طرف ہاہا کار مچ جاتی ہے، اس کے لئے کسی نے بھی کوئی کام نہیں کیا۔
ہماری مسلم بچیاں آج بھی تعلیم سے محروم ہیں، ہمارے نوجوان آج بھی دہشت گرد کہلانے کے خوف سے اپنا گائوں ، اپنا وطن تک چھوڑ دیتے ہیں۔
اسی اعظم گڑھ کا ایک اور ضلع ہے سنجر پور اور یہ سنجر پور کی بدقسمتی ہے کہ بٹلہ ہائوس انکائونٹر میں جو 2لڑکے عاطف اور ساجد مارے گئے تھے، وہ اس سنجرپور کے تھے اور اس کے بعد سے تو جیسے میڈیا نے پورے اعظم گڑھ کو ہی دہشت گردی کا اڈہ بنا کر پیش کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سنجر پور ہو، نورالدین پور گائوں ہو ، یہاں کے نوجوان خلیجی ممالک یا پھرسنگا پور، ملیشیا ، برما وغیرہ جا کر روزی روٹی کما کر اپنے گھروں کو بھیج رہے ہیں۔ پہلے اعظم گڑھ سے نوجوان لڑکے ہندوستان کے دوسرے شہروں میں بھی جاتے تھے اور دہلی میں بھی پڑھنے ، روزگار اور نوکری کرنے آتے تھے۔ مگر ہوا یوں کہ پولس ان کو اسٹیشن سے ہی غائب کرنے لگی اور اس طرح اب نوجوان یہ رسک لینے کو تیار نہیں ہیں۔ اعظم گڑھ کے لوگ اکھلیش حکومت سے سخت ناراض ہیں ۔ ظاہر ہے سماجوادی پارٹی نے ان کے لئے کچھ نہیں کیا۔
خالد مجاہد اور طارق قاسمی کی گرفتاری اور پھرخالد مجاہد کی موت نے بھی مسلمانوں کا اعتماد یو پی حکومت پر سے اٹھا دیا ہے۔ نمیش کمیشن رپورٹ نے بھی اس گرفتاری کو غلط بتایا مگر شاباشی ہے اکھلیش حکومت کوکہ حکومت کا ہی بنایا گیا کمیشن پولس کے عمل کو غلط بتا رہا ہے اور حکومت کو اس کا احساس ہی نہیں ہے۔ سنجر پور، نور الدین پور اور کئی اور گائوں ، دیہات ، قصبے اعظم گڑھ کے ایسے ہیں ، جہاں کے مسلمان اب پولس، حکومت، الیکشن، ووٹ کسی پر اعتماد ہی نہیں رکھتے۔ انھوں نے باہر کی کمائی سے گھر تو بنا لئے ہیں مگر سکون سے رہنا ابھی بھی ان کو میسر نہیں ہوا ہے۔
یہ تو میں نے دو ، تین گائووں کی تصویر پیش کی ہے۔ افسوس اور حیرت کی بات یہ ہے کہ بڑے بڑے شہروں کے علاوہ گائوں،قصبوں اور دیہاتوںمیں ابھی بھی بے حد پسماندگی ہے۔ امیٹھی ، رائے بریلی، خود وارانسی کی حالت بے حد خراب ہے۔ ان حلقوں میں جہاں 2جگہ کانگریس کی بادشاہت رہی اندرا گاندھی، راجیو گاندھی، سونیا گاندھی ، راہل گاندھی جہاں کے مالک رہے ، وہاں بھی لوگوں کی حالت بہت خراب ہے۔ اس کے علاوہ وارانسی بھی جو سیاحوں کے لئے بے حد پرکشش جگہ ہے، جہاں گھاٹ ہیں، ندیاں ہیں، وہاں بھی بنارس کا ایک گائوں چندولی وارانسی کا حصہ ہے۔ وہاں ایک کٹاری گائوں ہے، جو بے حد پسماندہ ہے یعنی وہ جگہ جہاں سے مودی ، کیجریوال اور اجے رائے جیسے مہابلی الیکشن لڑ رہے ہیں، وہاں کے گائوں ، قصبوں کی حالت بے حد خراب ہے۔ وہاں کے کٹاری گائوں کے لوگوں کو یہ تک نہیں پتہ کہ کون الیکشن لڑ رہا ہے ۔ یہاں کے مسلمانوں کی ہی نہیں دلتوں کی بھی حالت بے حد خراب ہے۔ یہاں ہر مذہب وذات کے لوگ مل کر رہتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ بنارس کے گھاٹ تک نہیں جا پاتے اور وہاں گئے ہوئے بھی ان کو سالوں بیت گئے ہیں۔
اندرا آواس یوجنا میں 10ہزار پہلے پردھان کو دو تو45ہزار ملتے ہیں یعنی صرف 35ہزار روپے ہی رہ جاتے ہیں۔ ظاہر ہے35 ہزار میں کون سا گھر بن پاتا ہوگا۔
دراصل یہ سب کہنے کی میری خواہش اس لئے بھی ہوئی کہ ہر سیاسی پارٹی الیکشن میں لاکھوں، کروڑوں روپے خرچ کر رہی ہے۔ 10سال سے مرکز میں کانگریس کی حکومت ہے اور ریاستوں میں بھی مغربی بنگال کو چھوڑ کر کافی ریاستیں خوشحال دکھائی دینے کا اور خوشحال ہونے کا دعویٰ کر رہی ہیں، مگر ان سبھی میں زمینی حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ ہندوستان آج بھی بے حد پسماندہ اور بدحال ملک ہے جہاں ترقی صرف شہروں کی حد تک ہے اور مسلمان ا س ترقی کی دوڑ میں ابھی بھی بہت پیچھے رہ گیا ہے بلکہ اسے پیچھے کر دیا گیا ہے۔ یہ ترقی یہ ، یہ سب وکاس محض دکھاوا ہے اور کچھ نہیں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *