یونی سیف کی ٹیکہ کاری پر اردو ایڈیٹرس کانفرنس وقت کی اہم ضرورت

ڈاکٹر وسیم راشد

یونیسیف نے اپنا کام بخوبی کیا اور چونکہ مسلمانوں میں ابھی بھی سستی اور جہالت کی وجہ سے ہر سال لاکھوں بچے موت کا شکار ہوجاتے ہیں، اس لیے چاروں گروپ نے درپیش چیلنجز اور ان کے لیے جو تجاویز دیں، وہ بیحد اہم تھیں۔ سبھی گروپ کا یہ ماننا تھا کہ اردو میڈیا کا استعمال ٹیکہ کاری کے لیے بہترین ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ مسلمانوں میں زیادہ تر اردو اخبارات پڑھے جاتے ہیں اور خبریں، رپورٹس، مضامین اور اداریوں کے ذریعہ ہم اپنے اپنے شہروں، علاقوں، قصبوں میں ٹیکہ لگانے کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈال سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ تعلیمی ادروں ، اقلیتی اداروں کابھی اس ضمن میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ اس مشن میں نو عمر ماؤں کی شمولیت بھی بہت ضروری ہے اور اس میں نہ صرف یہ کہ وہ چیلنجز سامنے آئیں، جو ٹیکہ لگانے میں اڑچن پیدا کریں گے، بلکہ ہمیں ان علاقوں، قصبوں، دیہاتوں میں علاقائی کیبل، موبائل فون، علاقائی نکّڑ ناٹک، کٹھ پتلی شو اورفوک میوزک وغیرہ کا استعمال مرد و خواتین کو ٹیکہ کی اہمیت و افادیت سمجھانے کے لیے کرنا چاہیے۔ اس ضمن میں ایک بات کا ضرور خیال رکھا جانا چاہیے کہ شہروں سے زیادہ ٹیکہ کاری کے لیے بیداری لانے کا کام گاؤں اور چھوٹے چھوٹے قصبوں میں کیا جاناچاہیے اور جہاں 24میں سے 18گھنٹے بجلی نہیں آتی، وہاں ہم الیکٹرانک میڈیا پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔ ہاں موبائل فون اور ریجنل ذرائع کا استعمال کر سکتے ہیں۔

p-11یونیسیف کا نام بچّوں کے حفظان صحت کے اصولوں سے متعلق کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ 11دسمبر 1946میں اس کا قیام دوسری جنگ عظیم کے دوران بچّوں کو ایمرجنسی غذا کی فراہمی اور صحت کی دیکھ بھال کے لیے کیاگیا تھا اور 1953میں یہ ایجنسی پوری طرح اقوام متحدہ کا حصہ بن گئی تھی۔ اس وقت تقریباً 200ممالک میںیہ ایجنسی بچوں کی حفظان صحت کے اصولوں پر کام کررہی ہے۔
ہندوستان میں بھی یونیسیف لگاتار بچوں کی صحت و تندرستی ، ان کی تعلیم و تربیت پر بے تحاشا کام کررہی ہے اور اس ضمن میں یونیسیف نے ایک اور قدم بڑھایا ہے اور وہ نہایت ہی مثبت قدم ہے۔ یونیسیف نے 2سال سے اردو میڈیاکو بھی اپنے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ گزشتہ سال بھی یونیسیف نے شکھر این جی او کے تعاون سے قومی اردو ایڈیٹرس کانفرنس منعقد کی تھی اور اس سال بھی ایک ایسے اہم موضوع پر سارے اردو میڈیاکو جمع کیا گیا ، جو کہ نہایت اہم اور بیحد ضروری تھااور وہ ہے حفاظتی ٹیکوں کا موضوع ۔
ہم سبھی جانتے ہیں کہ ہندوستان میں اور خاص کر دیہاتوں میں حفاظتی ٹیکوں کے تعلق سے بیحد لاپرواہی اور توہم پرستی پائی جاتی ہے۔ شہروں میں تو کوئی 20سالوں سے پیدا ہونے سے 16سال کی عمر تک ٹیکوں کے تعلق سے کافی تبدیلی آئی ہے اور والدین ٹیکوں کی اہمیت سے واقف ہونے لگے ہیں، لیکن ہندوستان کے گاؤں، دیہاتوں اور قصبوں کے بالکل پسماندہ علاقوں میں ابھی بھی بچوں کے صحت پر بہت زیادہ کام نہیں ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں ہر سال ابھی بھی 1.4ملین بچے 5سال کی عمر میں ہی مر جاتے ہیں اور یہ بچوں کی اموات خاص طور پر ان بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہے ، جن بیماریوں کو ٹیکوں کے ذریعہ روکا جا سکتا ہے جیسے نمونیہ، ٹائیفائڈ، ٖڈائریہ، ماں میں غذا کی کمی اور بچّوں کی پیدائش کے وقت ہونے والی کچھ پیچیدگیاں۔ یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق اگر روٹین ٹیکہ لگانے کا عمل کامیابی سے ہوتا رہے، تو تقریباً 400,000بچوں کو ہر سال بچایا جا سکتا ہے۔ ظاہر ہے یہ ایک ایسا موضوع تھا، جس کا پروگرام صرف اردو میڈیا کے ساتھ ہی نہیں، بلکہ پورے ہندوستان کی سبھی زبانوں کے میڈیا کے ساتھ ہونا چاہیے اور شاید یونیسیف نے ایسا کیا بھی ہو، کیونکہ اس طرح کے پروگرام کا فائدہ تبھی ہو سکتا ہے، جب ان ریاستوں میں، جن میں ٹیکے لگانے کا پرگرام کامیاب نہیں ہو پاتا، وہاں کی علاقائی اور مادری زبانوں میں یہ پروگرام منعقد کیے جائیں۔ جیسا کہ یونیسیف کے ذریعہ ہی ہمیں علم ہوا کہ ابھی بھی کچھ ریاستوں جیسے اتر پردیش، بہار، مدھیہ پردیش، راجستھان، مغربی بنگال اور گجرات میں تقریباً 69فیصد بچّے ٹیکوں سے محروم رہ جاتے ہیں۔
حیرت اور افسوس کی بات ہے 21ویں صدی میں ، جبکہ ہم چاندپر کمندیں ڈال چکے ، جب ہم مریخ پر زندگی تلاش کرنے میں سرگرداں ہیں، ایسے سائنٹفک دور میں آج بھی ہندوستان کی یہ بڑی ریاستیں بچوں کو ٹیکے تک مہیا نہیں کرا پائی ہیں۔ مودی گجرات کی ترقی کی بات کرتے ہیں، بجلی پانی کی بات کرتے ہیں، سماجوادی پارٹی اتر پردیش میں وکاس کی بات کرتی ہے، ممتا بنرجی مغربی بنگال میں ٹنوں پانی کی فراہمی پر اپنی پیٹھ تھپتھپاتی ہیں اور ان ہی ریاستوں میں ہر سال بچّے بڑی تعداد میں روٹین ٹیکوں کے نہ لگنے کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔
یونیسیف نے اس کی وجوہات بھی بتائیں کہ کچھ ریاستوں میں تعلیم کی بیحد کمی ہے اور وہاں کے مرد بھی بیحد فرسودہ اور پرانے خیالات کے ہیں۔ کچھ ریاستوں میں خواتین بھی لاعلم ہیں، کچھ میں خواتین نے توہم پرستی کی وجہ سے ٹیکے نہیں لگوائے، کچھ خواتین ٹیکوں کے بعد ہونے والے بخار سے گھبراکر ٹیکے نہیں لگوانا چاہتیں اور کچھ کے پاس ٹیکے لگوانے کا وقت ہی نہیں ہے۔ ایسا بھی ہے کہ کچھ ریاستیں جیسے مغربی بنگال اور گجرات وغیرہ میں پوری طرح ٹیکے کی معلومات نہیں ہے اور وہاں غربت کی وجہ سے والدین ٹیکے لگوانے سے بچتے ہیں۔ کوئی بھی بین الاقوامی تنظیم جب کسی خاص مقصد کے لیے کوئی پروگرام منعقد کرتی ہے، تو بیحد منظم اور ڈسپلن میں وہ پرگرام ہوتا ہے۔ یونیسیف کی اس حفاظتی ٹیکہ مہم کا بھی باقاعدہ منٹ ٹو منٹ پروگرام تھا، جس میں دہلی کے تقریباً سبھی اردو ایڈیٹرز، رپورٹرز ، ریزیڈنٹ ایڈیٹرز، کالم نگار وغیرہ موجود تھے۔ شکھر کی جانب سے سعدیہ علیم اور ندیم اختر باقاعدہ مہمانوں کو استقبال کر رہے تھے اور یونیسیف کی جانب سے پوری ٹیم تھی۔ کیرولین ڈین ڈلک جو کمیونکیشن اسپیشلسٹ یونیسیف انڈیا ہے، انھوں نے بھی انگریزی میں اپنی تقریر میں ہندوستان میں حفاظتی ٹیکوں پر بیحد زور دیا۔ ایس ایم خاں ڈائریکٹر جنرل دوردرشن، سید فیصل علی ہیڈ سہارا اردو پبلی کیشنز اور ڈاکٹر خواجہ اکرام الدین ، سبھی نے یونیسیف کے اس اقدام کو سراہا اور یہ وعدہ کیا کہ اس مہم کو پھیلانے میں اردو میڈیا جو بھی مدد کر سکا، ضرور کرے گا۔
یونیسیف اور شکھر کے ذریعہ اس پروگرام میں 4ورکنگ گروپ بنائے گئے، جن میں ہر ایک میں معاون اور اس معاون کے ساتھ بھی ایک اور مددگار تھا۔ چاروں ورکنگ گروپ کے الگ الگ موضوعات رکھے گئے تھے۔ سبھی گروپ نے اس بات کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالی کہ اردو میڈیا کے ذریعہ معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری کو بڑھاوا دیا جائے۔
یونیسیف نے اپنا کام بخوبی کیا اور چونکہ مسلمانوں میں ابھی بھی سستی اور جہالت کی وجہ سے ہر سال لاکھوں بچے موت کا شکار ہوجاتے ہیں، اس لیے چاروں گروپ نے درپیش چیلنجز اور ان کے لیے جو تجاویز دیں، وہ بیحد اہم تھیں۔ سبھی گروپ کا یہ ماننا تھا کہ اردو میڈیا کا استعمال ٹیکہ کاری کے لیے بہترین ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ مسلمانوں میں زیادہ تر اردو اخبارات پڑھے جاتے ہیں اور خبریں، رپورٹس، مضامین اور اداریوں کے ذریعہ ہم اپنے اپنے شہروں، علاقوں، قصبوں میں ٹیکہ لگانے کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈال سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ تعلیمی ادروں ، اقلیتی اداروں کابھی اس ضمن میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ اس مشن میں نو عمر ماؤں کی شمولیت بھی بہت ضروری ہے اور اس میں نہ صرف یہ کہ وہ چیلنجز سامنے آئیں، جو ٹیکہ لگانے میں اڑچن پیدا کریں گے، بلکہ ہمیں ان علاقوں، قصبوں، دیہاتوں میں علاقائی کیبل، موبائل فون، علاقائی نکّڑ ناٹک، کٹھ پتلی شو اورفوک میوزک وغیرہ کا استعمال مرد و خواتین کو ٹیکہ کی اہمیت و افادیت سمجھانے کے لیے کرنا چاہیے۔ اس ضمن میں ایک بات کا ضرور خیال رکھا جانا چاہیے کہ شہروں سے زیادہ ٹیکہ کاری کے لیے بیداری لانے کا کام گاؤں اور چھوٹے چھوٹے قصبوں میں کیا جاناچاہیے اور جہاں 24میں سے 18گھنٹے بجلی نہیں آتی، وہاں ہم الیکٹرانک میڈیا پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔ ہاں موبائل فون اور ریجنل ذرائع کا استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ فرسودہ خیال رکھنے والے مردوں کو بھی بیدار کرنا ضروری ہے، تبھی ہم ٹیکہ کاری کے اس عمل کو پورے ہندوستان میں کامیاب بنا سکتے ہیں۔
مذاکرہ میں شامل سبھی مہمانوں نے اس پروگرام کا خیر مقدم کیا، لیکن افسوس اس بات کا رہا کہ زیادہ تر نے انگریزی زبان کا استعمال کیا۔ اردو میڈیا کے پروگرام میں کیرولین ڈین ڈلک کا انگریزی بولنا تو سمجھ میں آتا ہے، مگر ایس ایم خاں اور سید فیصل علی کا انگریزی میں تقریر کرنا سمجھ میں نہیں آیا۔ حالانکہ دونوں نے ہی بیحد اہم اور ضروری تجاویز رکھیں اور بیحد موثر انگریزی میں اپنی بات کہی، لیکن زبان اپنی نہ ہونے کے سبب زیادہ تر شرکاء مستفید نہیں ہو سکے، ہاں پرفیسر اخترالواسع اور خواجہ اکرام الدین نے اردو زبان میں اپنی سفارشات پیش کیں، جو بیحد اہم او رتوجہ طلب تھیں۔ گیتانجلی ماسٹر کمیونکیشن اسپیشلسٹ، یونیسیف انڈیا، سونپا سرکار کمیونکیشن آفیسر میڈیا، یونیسیف انڈیا، ندیم اختر، سعدیہ علیم سبھی کا جذبہ بیحد قابل احترام ہے۔
یونیسیف کو چاہیے کہ ان علاقوںمیں جہاں کمزور طبقات ہیں، جہاں عام طور پر میڈیا نہیںپہنچ پاتا ، وہاں اردو زبان کا استعمال مسلم علاقوں اور محلوں میں بیداری لانے او رمواد فراہم کرنے کے لیے کیا جائے، تو یقیناً ایک دن ہم پورے ہندوستان کے بچوں کو ٹیکہ لگا کر بیماریوں سے بچا پائیں گے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *