ترکی میں اردگان کا متعدل اسلامی ماڈل جاری رہے گا

وسیم احمد

بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے؟ترکی جہاں 1923 میں خلافت کے خاتمہ کے بعد اتاترک مصطفیٰ کمال پاشا ایک نیا ماڈل مسلم دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتے تھے ۔وہاں ماضی قریب میں خصوصی طور پر پروفیسر نجم الدین اربکان کی کوشش سے یو ٹرن کی راہ ہموار ہوئی اور بالآخر اردوگان اے کے پی کے زیر سایہ برسر اقتدار ہوگئے۔ تین مدتوں تک وزیر اعظم رہنے کے بعد اب ان کے اگست میں ہورہے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کی خبر آرہی ہے۔ مقصد ہے کہ معتدل اسلامی ماڈل جو انہوں نے پیش کیا ہے وہ چلتا رہے۔پہلے وہاں کا صدر پارلیمنٹ سے منتخب ہونے کے سبب آئینی طور پر طاقتور نہیں ہوتا تھا مگر اگست 2013 میں آئین میں ترمیم کے بعد صدر براہ راست عوام کے ذریعہ منتخب ہوگا اور اصل اختیارات وزیر اعظم کے بجائے صدر کے پاس ہوں گے۔ ظاہر سی بات ہے کہ اردوگان کے صدر بننے سے عبد اللہ گل کے پاس دو ہی متبادل ہوگا۔ ایک تو یہ ہے کہ روس کے طرز پر وزارت عظمیٰ کو قبول کریں یا سیاسی عمل سے کنارہ کشی اختیار کرکے تصنیف و تالیف کے کام میں پھر سے لگ جائیں ۔ وہ پہلے بھی اسلامک ڈیولپمنٹ بینک جدہ میں تحقیقی کام کرچکے ہیں۔ بہر حال ان سب سے ترکی میں معتدل اسلامی ماڈل مزید مضبوط و مستحکم ہوگا۔

p-8رجب طیب اردوگان عالم اسلام کے پہلے ایسے لیڈر ہیں جن کو عالم عرب کے صحافیوں نے ’قائد منتظر‘ لکھا ہے۔ دراصل انہوں نے اپنے دور اقتدار میں جہاں ایک طرف ترکی میں عریانیت اور مغربی تہذیب کے بڑھتے اثرات کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا وہیں انہوں نے بیت المقدس کی بازیابی اور فلسطینیوں کے حقوق کے لئے اسرائیل سے براہ راست ٹکر لے کر عالم عرب میں اپنی شخصیت کو بہت زیادہ ابھار دیا۔ اردوگان اے کے پی (عدالت و ترقی پارٹی ) کے صدر ہیں اور ان کی پارٹی کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہے۔پارٹی نے انہیں 14 مارچ 2003 سے ملک کا وزیر اعظم بنا رکھا ہے۔2008 میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد انہوں نے اسرائیل کے خلاف سخت موقف اختیار کیا اور اسرائیل کے آپریشن کے خلاف کھلے عام مخالفت کی ۔یہی نہیں ڈائوس عالمی اقتصادی فورم میں انہوں نے اسرائیلی صدر شمعون پیریز کے ساتھ دوٹوک انداز میں اسرائیلی جرائم کی تفصیلات بیان کی۔وہ اس سلسلے میں ڈائوس فورم کے کنوینر کیک سے مل کر مزید تفصیلی بات چیت کرنا چاہتے تھے لیکن انہیں ملنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ کیک کے اس رویے سے ناراض ہوکر انہوں نے ڈائوس اجلاس کا بائیکاٹ کردیا اور فوراً اپنے وطن لوٹ آئے۔ ان کے اس عمل کو ترکی کے عوام نے بھرپور طریقے پر سراہا اور ایئر پورٹ پر ان کا پُر جوش استقبال کیا۔ اس کے بعد مئی 2010 میں محصور غزہ کے لئے امدادی رسد لے کر جانے والے ترکی بیڑے پر اسرائیل نے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں 9 ترکی شہری شہید ہوئے۔اردوگان کے اس عمل نے انہیں پورے عالم عرب کا ہیرو بنا دیا اور عرب کے اخباروں میں انہیں ایک ایسا ہیرو کہا جانے لگا جس کا انتظار پوری دنیا کے مسلمانوں کو تھا۔ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو اسرائیل کے لئے خطرے کی گھنٹی سمجھی گئی، لہٰذا جس طرح سے مصر میں تحریر اسکوائر پر بہاریہ عرب کے نام پر انقلاب آیا اوریمن کے سابق صدر صالح عبد اللہ نے اس بات کا انکشاف کیا کہ’ بہاریہ عرب اسرائیل کا ایک ہتھکنڈہ تھا جس کا مقصد تھا چنندہ ملکوں میں امریکہ نواز سربراہوں کو لانا‘ ،اسی طرح ترکی کے تقسیم اسکوائر پر انقلاب لانے کی کوشش کی گئی ،لیکن اردوگان نے انتہائی سیاسی سوجھ بوجھ کے ساتھ اس انقلاب کو ناکام بنا دیا۔
ابھی حال ہی میں ترکی میں بلدیاتی انتخابات ہوئے ہیں۔یہ انتخاب اردوگان کے لئے سیاسی موت و زندگی کا سوال تھا۔کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ اگر انہیں اس انتخاب میں واضح کامیابی نہیں ملی تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے۔لیکن ترکی کے عوام انہیں ابھی اپنا قائد بنا کر رکھنا چاہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس انتخاب میں 53 ملین ترکی ووٹروں میں سے 90 فیصد نے انتخاب میں دلچسپی دکھائی اور اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرتے ہوئے 45 فیصد لوگوں نے اے کے پی یعنی اردوگان کو ووٹ دیا جبکہ 2009 کے بلدیاتی انتخاب میں ان کی پارٹی کو صرف39 فیصد ہی ووٹ ملے جبکہ بڑے بڑے دعوے کرنے والی ’ ری پبلک پارٹی آف دی پپلز‘ کو 28 فیصد اور ’پارٹی آف نیشلسٹ ایکشن‘ کو صرف 18 فیصد ووٹ ملے۔یہ اس بات کی علامت ہے کہ ترکی کے عوام اردوگان کو اقتدار میں رکھنا چاہتے ہیں مگر دشواری یہ ہے کہ ترکی آئین کے مطابق کوئی وزیر اعظم صرف تین ٹرم تک ہی اس عہدے پر رہ سکتا ہے۔ان کا تیسرا ٹرم مکمل ہونے والا ہے ۔چنانچہ اردوگان اب ترکی میں وہی تدبیر اختیار کرنا چاہتے ہیں جو روس میں پوتین نے اختیار کیا تھا۔ روس کے آئین کے مطابق کوئی بھی لیڈر مسلسل تیسری مرتبہ ملک کا صدر نہیں بن سکتا ہے۔ انہوں نے بڑی ہوشیاری سے دو ٹرم پورا ہونے کے بعد ملک کے وزیر اعظم بن گئے اور پھر 2012 میں تیسری مرتبہ ملک کے صدر چن لئے گئے۔ اس طرح قانون میں لگاتار تیسری مرتبہ صدر بننے کی جو ممانعت ہے اس قانون کی خلاف ورزی سے بھی بچ گئے اور وہ ملک کے صدر بھی بن گئے۔ غالبا ًاردوگان بھی روسی صدر پوتین والی ہی پالیسی اپنا کر اب چوتھی مرتبہ وزیر اعطم بننے کے بجائے ملک کے صدارتی انتخاب میں حصہ لے سکتے ہیں اور ملک میں ان کی جو مقبولیت ہے اس کو دیکھتے ہوئے کہاجاسکتا ہے کہ وہ کامیاب بھی ہوجائیںگے۔کامیابی کے بعد صدر بننے میں ان کے سامنے کوئی قانونی رکاوٹ بھی نہیں ہوگی کیونکہ اب تک وہ ملک کے وزیر اعظم تھے اور چوتھی مرتبہ وہ وزیر اعظم کے بجائے صدر کے لئے انتخاب لڑ سکتے ہیں۔
ترکی میں اگست 2014 میں صدارتی انتخاب ہونے جارہا ہیں۔ملک کے صدر عبد اللہ گل ہیں ۔ان کاتعلق بھی اردوگان کی پارٹی اے کے پی سے ہی ہے۔عبد اللہ گل2007 میں ترکی کے منتخب ہونے والے صدر ہیں۔ وہ ترکی کے گیارہویں صدر ہیں۔حالانکہ جب انہیں صدر منتخب کیا جارہا تھا تو اس وقت سیکولر پارٹی نے ان کی سخت مخالفت کی تھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ سیکولر پارٹی ترکی کی ایک ایسی سیاسی جماعت ہے جو مغربی تہذیب کو ملک میں عام کرنے پر زور دے رہی ہے۔ چونکہ عبد اللہ گل ایک مذہبی سیاست داں ہیں اور ان کی بیوی حجاب استعمال کرتی ہیں لہٰذا سیکولر پارٹی نے ان کی بیوی کے اس حجاب کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔اس پارٹی کا کہنا تھا کہ ترکی کی اکثریت ملک میں اسلام پسندی کو اختیار کرنا نہیں چاہتی ہے لیکن جب انتخاب ہوا اور ان کی پارٹی کو اکثریت ملی تب جاکر یہ پتہ چلا کہ سیکولر پارٹی کو شہر میں رہنے والوں کی حمایت تو حاصل تھی لیکن جو لوگ گائوں اور قصبوں میں رہتے ہیں وہ آج بھی اسلام پسند ہیں اور مغربی تہذیب سے نفرت کرتے ہیں۔بہر حال اکثریت ملنے کی وجہ سے انہیں ان کی پارٹی نے ملک کا صدر چن لیا۔اگر چہ ترکی کے صدر کے اختیارات محدود ہیں مگر ان کے پاس جتنے بھی اختیارات تھے ان کو انہوں نے بڑی خوبی کے ساتھ استعمال کیا اور عوام میں ہردلعزیز بنے۔ ان کی سیاسی سوجھ بوجھ کی وجہ سے امریکہ سے شائع ہونے والا ’’ ٹائم میگزین ‘‘ نے انہیں دنیا کے 100 بہترین لیڈروں میں شامل کیا اوران کے اندازو بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ وہ امریکی صدر باراک اوبامہ ، چینی صدر زی زنپنگ ،جرمن چانسلرانگیلا مارکیل کی طرح ہیں اور حسن تدبیر میں ایرانی صدر حسن روحانی کی طرح ہیں۔انہوں نے شام سے ترکی کی سرحد میں داخل ہونے والے دہشت گردوں کو روکنے میں بھی بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔ شام اور ترکی کی سرحدین تقریبا 910 کیلو تک ملی ہوئی ہیں ۔ایسے میں ان دہشت گردوں کا ترکی میں داخل ہونے سے روکنا ایک بڑا کام تھا لیکن انہوں نے اس سلسلے میں عالمی برادری سے تعاون حاصل کیا اور ترکی کو دہشت گردوں کے نشانے پر آنے سے روکنے میں کلیدی کردار ادا کیا ۔ ان کے اس عمل نے ترکی اور دیگر اسلامی ملکوں میں ان کی شخصیت کو مزید ابھار دیا۔ان سب کے باوجود وہ ہر موقع پر پارٹی کی وفاداری کو ترجیح دیتے ہیں ۔اس وفاداری کی وجہ سے انہیں 2002 کے اواخر میں وزارت عظمیٰ کا عہدہ بھی سنبھالنا پڑا تھا۔دراصل انہوں نے یہ عہدہ اس صورت حال میں قبول کیا تھا کہ طیب اردوگان کو ایک سیاسی جلسے میں اسلامی نظم پڑھنے کا قصوروار ٹھہرا کر انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ اردوگان اس وقت ملک کے وزیر اعظم تھے۔ چنانچہ عبد اللہ گل نے طیب اردوگان کی نیابت قبول کرتے ہوئے وزیر اعظم بن گئے اور اور آئین میں ترمیم کی نگرانی کرکے ضمنی انتخابات کرائے اور اردوگان اس میں کامیاب ہوکر پالیمنٹ میں پہنچنے اور وزیر اعظم بنے۔
قابل ذکر ہے کہ ترکی میں مغربی تہذیب کو فروغ دینے والے مصطفی کمال ہیں۔ انہوں نے ترکی میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کیں۔ جدیدیت کے نام پر کی گئی یہ اصلاحات دراصل ملک کے مذہبی تشخص کے خاتمے کی کوشش تھیں۔ ترکی زبان کے رسم الخط کی عربی سے لاطینی کی جانب منتقلی ان کا ہی عمل ہے۔ا نہیں ان خدمات کے صلے میں قوم نے اتاترک (ترکوں کا باپ) کا خطاب دیا تھا۔وہ 1938 میں انتقال کرگئے۔ ان کے نائب عصمت انونو ملک کے دوسرے صدر بنے اور ان کے دور میں اتاترک کی اصلاحات کو جاری رکھا گیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ترکی کا ایک بڑا طبقہ ایک طرف دین سے بیزار ہوتا چلا گیا اور دوسری طرف ترکی کے ایشیا اور یوروپ کی سرحدوں سے ملے ہوئے ہونے کی وجہ سے یوروپ کا ممبر بننے کی جی توڑ کوشش شروع کردی گئی۔ ترکی جنوب مغربی ایشیا میں جزیرہ نما اناطولیہ (Asia minor)اور جنوب مشرق میں بلقان تک پھیلا ہوا ہے۔چنانچہ اپنی سرحدی نزاکت کی وجہ سے اس نے ایشیا کے بجائے یوروپ میںمل کر رہنا پسند کیا اور اسی مقصد کے تحت 1963 میں یورپی اتحاد بنانے سے متعلق معاہدے پر دستخط بھی کئے۔ اس کی بنیاد پر یورپی مجلس اور ترکی کی کسٹم یونین بنی۔ پھر دونوں کے درمیان کسٹم قوانین اور ضوابط سے متعلق ایک معاہدہ ہوا جو بالآخر یکم جنوری 1996کو نافذ کردیا گیا۔ اس معاہدے میں بھی آخر کار ترکی کے یورپی مجلس کا رکن بننے کی گنجائش رکھی گئی تھی۔ اس کے لئے ترکی نے 1987 میں رسمی درخواست دی۔ 1989 میں یورپی کمیشن نے یہ درخواست نہ ماننے کا فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ ترکی میں ابھی مزید سیاسی اور اقتصادی اصطلاحات کی ضرورت ہے۔دراصل یوروپ ترکی میں اسلام پسندی کا بالکل خاتمہ چاہتا تھا اور اسی وجہ سے اسے یوروپ کا ممبر بنانے میں انا کانی کررہا تھا۔ ترکی کی کچھ سیاس پارٹیاں جیسے سیکولر پارٹی خاص طور پر جو پارٹیاں اتاترک کے خیالات سے متاثر تھیں وہ چاہتی تھیں کہ ترکی سے اسلامی تہذیب بالکل ختم ہوجائے اور اسے یوروپ کا ممبر بننے کا موقع مل جائے۔ بالآخر اسے اس میں بہت حد تک کامیابی بھی ملی اور اکتوبر 2005میں یورپی اتحاد نے ترکی کو اتحاد کی مکمل رکنیت کا امیدوار قرار دیا۔
لیکن اردوگان کی اے کے پارٹی جسے ایک اسلام پسند پارٹی سمجھا جاتا ہے نے ترکی میں اسلامی تہذیب کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا اور عوام میں انہیں خوب مقبولیت بھی ملی۔لہٰذا وہ تین ٹرم سے وزیر اعظم ہیںاور اب چوتھے ٹرم میں آئینی اعتبار سے وزیر اعظم نہیں بن سکتے اس لئے صدارتی انتخاب میں حصہ لے سکتے ہیں۔
اگر اردوگان صدارتی انتخاب میں حصہ لیتے ہیں تو ایسی صورت میں گل کو اس عہدے سے دستبردار ہونا پڑے گا اور ممکن ہے ایسی صورت میں گل کو وزیر اعظم کا عہدہ پیش کردیا جائے۔مگر ایک اہم سوال یہ ہے کہ ترکی آئین کے مطابق وزیر اعظم کو عوام منتخب کرکے پارلیمنٹ میں بھیجتے ہیں اور وزیر اعظم کو کابینہ کا ہیڈ تسلیم کیا جاتا ہے ۔یعنی وزیر اعظم کے پاس حکومت کے تمام اختیارات ہوتے ہیں جبکہ صدر کی حیثیت وہی ہوتی ہے جو ہمارے ملک ہندوستان میں ہے یعنی وہ قومی صدر کی حیثیت سے اس عہدے پر قائم رہتے ہیں مگر قانون سازی اور انتظامی امور میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ہے۔ایسی صورت میں کیا اردوگان جیسا متحرک اور فعال لیڈر اس بات کو پسند کرے گا کہ وہ ایک ایسے عہدے کو قبول کرلیں جس عہدے پر رہ کر کسی بھی طرح کے فیصلے کا حق انہیں حاصل نہ ہو۔ اگر معاملے کی گہرائی میں جائیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اردگان ہر حالت میں اختیارات اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اگست میں جو صدارتی انتخاب ہونے جارہا ہے ،اس انتخاب میں صدر کا انتخاب براہ راست عوامی ووٹ سے ہوگا اور اس سلسلے میں گزشتہ برس اگست میں آئین میں ترمیم بھی کرلی گئی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ترکی کی تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوگا کہ صدر کو عوام براہ راست ووٹ کریں گے اور اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اب تک ملک کا صدر جو ایک اعزازی عہدے کے دائرے میں سمٹا ہوا تھا اور ان کے پاس انتظامی امور سے متعلق کوئی اختیارات نہیں ہوتے تھے ،عوامی ووٹنگ کے بعد صدر کے پاس بہت سے اختیارات منتقل ہوجائیں گے اور جس طرح سے امریکہ کے صدر کا انتخاب عوام کرتے ہیں اور صدر کے پاس تمام اختیارات ہوتے ہیں اسی طرح ترکی میں بھی ہوجائے گا۔ ایسا کرنا اس لئے ممکن ہے کہ کنسٹی ٹوینسی آف ترکی کے 1982 کے دفعہ 104 میں اس بات کی وضاحت ہے کہ اگر صدر مملکت کو عوام براہ راست منتخب کرتے ہیں تو ایسی صورت میں وہ کابینی وزراء کے سربراہ ہوں گے یا انہیں اس بات کا اختیار حاصل ہوگا کہ وہ کابینی وزراء کی میٹنگ بلا لیں۔صدر ہی نیشنل سیکورٹی کونسل کے ہیڈ ہوںگے۔انہیں جب بھی ضرورت محسوس ہوگی کونسل کو میٹنگ کے لئے بلاسکتے ہیں۔اگر وہ کابینی وزراء کی سربراہی اپنے پاس نہیں رکھتے ہیں تو ایمرجنسی کی حالت میں خود بخود وہ کابینہ کے سربراہ تسلیم کر لیے جائیں گے۔اسی طرح اسٹیٹ سپر وائزری کونسل جو سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں کو دیکھتی ہے ، یہ بھی صدر کے ماتحت ہی کام کرے گی۔صدر کو ہی یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ کونسل آف ہائیر ایجوکیشن کے ممبران اور یونیورسٹیز کے صدور کو بغیر کسی سے مشورہ کیے منتخب کریں۔اسی طرح کنسٹی ٹیوشنل کورٹ کے 17 ممبروں میں سے 14 ممبر کو صدر منتخب کریں گے۔اسی طرح اسٹیٹ کونسل ممبر، جنرل پروسکیوٹر، ڈپٹی آف سپریم کورٹ، سپریم ملٹری کورٹ، ہائی ملٹری ایڈمنسٹریٹیو کورٹ کے ایک چوتھائی ممبروں کا تقرر صدر کے اختیار میں ہوگا۔اسی طرح ہائی کونسل آف جج اور پروسکیوٹر کے چار ممبروں کو اپنی مرضی سے منتخب کرسکتے ہیں۔
اب ان نکات پر غور کریں تو یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ عوامی ووٹنگ سے منتخب ہونے والے صدر کے پاس بے شمار اختیارات آجاتے ہیں اور چونکہ صدر کابینی وزراء کا بھی سربراہ تسلیم کیا جاتا ہے لہٰذا ایسی صورت میں وزیر اعظم کے پاس کوئی اختیار باقی نہیں رہ جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اردوگان جب تک ملک کے وزیر اعظم تھے تو انہیں کابینہ کا پورا اختیارحاصل تھا اور ملک کے صدر عبد اللہ گل محض ایک اعزازی عہدہ پر تھے اور اب جب اردوگان صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے بارے میں سوچ رہے ہیں تو ملک کے اہم اختیارات صدر کے پاس منتقل کرنے کی راہیں ہموار کی جارہی ہیں۔
ظاہر ہے ایک فعال اور متحرک لیڈر کے لئے اسی طرح کا عہدہ مناسب لگتا ہے مگر کیا عبد اللہ گل اس کے لئے تیار ہوںگے ۔کیا وہ اس بات کو پسند کریں گے کہ جب تک وہ صدر رہے تو محض ایک اعزازی عہدہ پر رہے اور جب انہیں صدر سے وزیر اعظم بنا دیا جائے گا تو یہ عہدہ بھی ایک اعزازی حیثیت کا ہی رہ جائے گا۔ کہا جا رہا ہے کہ عبد اللہ گل اردوگان کی اس الٹ پھیر کوغالباً قبول نہ کریں اور ان کے حوالے سے یہ خبر بھی آنی شروع ہوگئی ہے کہ وہ صدارتی عہدہ سے سبک دوشی کے بعد سیاست سے کنارہ کش ہوجائیںگے۔ایسا اس لئے بھی کہا جارہا ہے کہ گزشتہ برس سے طیب اردوگان اور عبد اللہ گل کے مابین ٹویٹر پر پابندی لگانے اور مظاہرین پر سختی کرنے کو لے کر اختلاف پایا جارہا ہے۔مظاہرین کے مواصلات کو ناکام بنانے کے لئے اردوگان نے ٹویٹر پر پابندی لگا دی تھی اور پولیس کو سختی کے ساتھ انہیں تقسیم اسکوائر خالی کرانے کا اختیار دیا تھا جبکہ عبد اللہ گل اس کے مخالف تھے۔لیکن یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پارٹی میں طیب اردوگان کی حیثیت بہت مضبوط ہے جبکہ عبد اللہ گل کی پکڑ ان کی بہ نسبت کمزور ہے۔اگر انہوں نے نئی تبدیلی کو قبول کرنے سے انکار کیا تو ایسی صورت میں ان سے یہ عہدہ بھی جاسکتا ہے۔حالانکہ اس طرح کا امکان کم نظر آرہا ہے کیونکہ ماضی میںعبد اللہ گل نے ہمیشہ ایسے مسئلوں سے گریز کیا ہے جس سے پارٹی یا ملک کے اندر تنازع پیدا ہوتا ہو۔ بہر کیف ترکی کی سیاست میں تیزی سے اتھل پتھل ہورہی ہے ۔اب دیکھنا ہے کہ اگلا وقت ترکی کے لئے کیسا ہوتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *