صرف الزامات سے کوئی کمزور نہیں ہوتا

میگھناد دیسائی
آخر کس طرح کے وزیر اعظم ثابت ہوں گے راہل گاندھی؟ اس سے پہلے وہ اقتدار کے بارے میں منفی باتیں ہی پھیلاتے رہے ہیں۔ وہ اقتدار کو زہر کا پیالہ بتاتے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یو پی اے – 1 اور یو پی اے – 2 کے دوران جو کچھ بھی ہوا، اس سے بھی انہوں نے خود کو الگ کر لیا اور ایک باہری ناقد کی طرح وہ سارے واقعات کی مذمت کرتے رہے۔ ایک بات جو دیکھنے والی ہے کہ ان انتخابات میں اگر کچھ حیران کن بات ہو جائے اور کانگریس اگلی سرکار بنانے کی حالت میں آ جائے، تو کیا راہل گاندھی ایک فیصلہ کن وزیر اعظم ثابت ہوں گے؟
وزیر اعظم کے وقار کو چوٹ پہنچائی جا رہی ہے، نہ صرف موجودہ وزیر اعظم کے بارے میں، جو حال ہی میں شائع ہونے والی دو کتابوں کی وجہ سے فوکس میں رہے، بلکہ اس سے پہلے کے وزیر اعظم کے بارے میں بھی۔ حالیہ دنوں میں اچانک اٹل بہاری واجپئی کو سب سے کمزور وزیر اعظم بتایا جانے لگا ہے۔ یہ وہی اٹل بہاری ہیں، جو کانگریس کے سب سے پسندیدہ غیر کانگریسی لیڈر تھے۔ لیکن آخر کن معنوں میں وہ سب سے کمزور وزیر اعظم تھے؟ کیا انہیں کانگریس کے مضبوط وزیر اعظم کے پیمانے پر کھرا اترنے کے لیے نیوکلیر بم کا نہ صرف تجربہ کرنا چاہیے تھا، بلکہ اسے کسی ملک پر چلا بھی دینا چاہیے تھا؟ یا وہ اس بات کے لیے کمزور تھے کہ انہوں نے لاہور بس کی شروعات کی۔
ہندوستان کے پاس بھلے ہی ’ستیہ میو جیتے‘ (سچ کی ہی جیت ہوتی ہے) جیسا اصولی جملہ ہو، لیکن ملک کی سیاست کے بارے میں سچائی بیان کر دی جائے، تو کئی لوگوں کو جھٹکے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بغیر کسی دباؤ کے دوسروں کی سوانح عمریاں لکھنا، ذاتی رشتوں کو منظر عام پر لانا جیسی حرکتیں مغربی ملکوں کے صحافی کرتے رہے ہیں اور اس کا نشانہ وہاں کے لیڈر بنتے بھی رہے ہیں۔ ایسی سوانح عمریوں اور ذاتی زندگی کو اجاگر کرنا مغربی صحافیوں کا کام رہا ہے۔ یہ ہمارے لیے نہیں ہے۔ جان ایف کنیڈی کے کئی عشقیہ رشتے، ان کی صحت سے متعلق مسائل اور مافیاؤں کے ساتھ ان کے رشتوں کو کبھی ہندوستانی صحافیوں کے ذریعے نہیں اجاگر کیا گیا۔ ہم اپنے لیڈروں کے کردار دیکھنا چاہتے ہیں، کسی بھی طرح کی لالچ کے بغیر۔ایک دوسری بات یہ ہے کہ سرکار کس طرح چلائی جاتی ہے، اس کے بارے میں کوئی بھی جانکاری نہ دی جائے، خاص کر جب معاملہ ایک خاص فیملی سے جڑا ہو۔ یہ جاننا بہت ہی مشکل ہے کہ پالیسیاں کس طرح بنائی جاتی ہیں۔ یہ جاننا بھی بہت مشکل ہوگا کہ آخر دو جگہوں سے فیصلہ لینے کا عمل کیسے کام کرتا ہے؟ اس بات کو تھوڑی آسانی سے ایسے سمجھا جا سکتا ہے کہ سونیا گاندھی پارٹی کی صدر تھیں اور منموہن سنگھ وزیر اعظم۔ یہ اقتدار کے دو محور تھے۔اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ منموہن سنگھ وہی بنے، جو انہیں سونیا نے بنایا۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ کانگریس نے 1989 میں مخلوط حکومت بنانے سے منع کر دیا تھا، لیکن جب 2004 میں سرکار بنانے کی بات آئی، تو سونیا گاندھی پوری طرح سے تیار تھیں۔ میں اب بھی مانتا ہوں کہ انہوں نے وزیر اعظم نہ بن کر ایک بڑی غلطی کی تھی۔ ان کے پاس پارٹی کے دیگر لیڈروں سے زیادہ سیاسی سمجھ ہے۔
اقتدار کو دو حصوں میں بانٹنے کا فیصلہ بھی بہترین تھا۔ اس دوران اتحاد کو برقرار رکھنا اور اچھی طرح سے چلائے جانے کی بھی بڑی اہمیت تھی، کیوں کہ کانگریس کو اس سے پہلے مخلوط حکومت چلانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ یہاں پر بھی طاقت کے دو محور ہو گئے تھے – پہلا، کیبنٹ اور دوسرا، حلیف پارٹیوں کے لیڈروں کی جماعت۔ پہلے کے پاس اقتدار کے اختیارات آئینی طور پر تھے، لیکن دوسرا زیادہ طاقتور تھا۔ سونیا گاندھی اتحادی حکومت کے چیئرمین کے روپ میں دوسری پارٹی کے لیڈروں کے ساتھ اہم عہدوں پر تقرری اور ہٹائے جانے کے فیصلے لیا کرتی تھیں۔ منموہن سنگھ کا اے راجا پر کوئی کنٹرول نہیں تھا۔ اے راجا کو وزیر کا عہدہ دیا جانا سونیا گاندھی اور کروناندھی کے درمیان ہوئی بات چیت میں طے ہوا تھا۔ اس بات سے کوئی انکار نہیں ہے کہ یہ سب پی ایم آفس کے باہر طے ہوتا تھا۔ یہ سچائی ہے کہ ہندوستانی سیاست میں اب کسی بھی وزیر اعظم کے پاس، چاہے وہ مودی بھی کیوں نہ ہوں، جواہر لعل نہرو اور اندرا گاندھی جیسے اختیارات نہیں ہیں، کیو ںکہ انہیں اتحاد کی سرکار چلاتی ہے۔اس کے برعکس، اٹل بہاری واجپئی کے کام کرنے کے طریقے کی بات کی جائے، تو یہ کافی حد تک امریکی صدر رونالڈ ریگن کے طریقے سے ملتا جلتا تھا۔ وہ خود کو بڑے پالیسی ساز فیصلوں تک محدود رکھتے تھے اور باقی فیصلوں کو اپنے اسٹاف اور ساتھیوں کے لیے چھوڑ دیتے تھے۔ وہ اچھی قیادت کر سکے، کیوں کہ وہ ایک کرشمائی شخصیت کے مالک تھے۔ وہیں منموہن سنگھ یہ جانتے تھے کہ وہ چیف ایگزیکٹو ہیں اور سونیا گاندھی چیئرمین۔
یو پی اے – 1 کی سرکار میں اتحاد اچھی طرح چلا، کیوں کہ ساری باتیں واضح تھیں۔ پارٹیوں کی حدیں طے تھیں۔ وہیں کانگریس کے کانگریس کے رکن اقتدار پاکر خوش تھے۔ وہ جانتے تھے کہ منموہن سنگھ ایک مقررہ وزیر اعظم ہیں۔ منموہن سنگھ نے جوہری معاہدے کو لے کر جارج بش کو جب منا لیا، تو سبھی لوگ حیران ہو گئے تھے۔ انہوں نے اچھے فیصلوں سے پارٹی کو 2009 کے الیکشن میں زیادہ اچھی حالت میں پہنچنے میں مدد کی۔ لیکن اتحاد ان انتخابات کے بعد دقت میں آ گیا۔ کانگریس پارٹی کے لوگ یہ دیکھ نہیں سکے کہ آخر منموہن سنگھ کو دوبارہ وزیر اعظم کیوں بنایا گیا؟ ایسا نہیں مانا جا رہا تھا کہ انہیں جیت کا کریڈٹ دیا جائے گا۔ اس بار اقتدار دھیرے دھیرے وزیر اعظم کے ہاتھوں سے نکل گیا۔ وہیں 2011 کے وسط میں سونیا گاندھی کی طبیعت خراب ہو گئی اور یو پی اے – 2 اپنے راستے سے بھٹک گیا۔
سوچنے والی بات ہے کہ اگر راہل گاندھی وزیر اعظم بن جاتے ہیں، تو کیا ہوگا؟ سیدھا جواب ہے کہ اقتدار فیملی میں ہی رہے گا اور اگر کجریوال کی طرح استعفیٰ بھی دے دیں گے، تو بھی پرینکا تو موجود ہیں ہی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *