آر ایس ایس کیا ہے

مدھوملے
مدھولمیے جدید ہندوستان کی ان ممتاز شخصیات میں سے ایک تھے، جنہوں نے تحریک آزادی اور آزادی کے بعد اقدار پر مبنی سیاست کی تبلیغ میں بہت ہی اہم رول ادا کیا۔ اسی کے ساتھ ساتھ پرتگالیوں سے گوا کو آزاد کرانے میں ان کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ یہ ایک پکے سوشلسٹ، سول لبرٹیز کے چمپئن، مصنف اور عام آدمی کے کاز میں منہمک شخص تھے۔ انہوں نے ایک سو سے زائد کتابیں انگریزی، ہندی اور مراٹھی اور تقریباً ایک ہزار مضامین اخبارات و رسائل میں متعدد ایشوز پر لکھے۔ 1937 میں ان کی سیاسی زندگی کا آغاز ہو گیا تھا۔ یہ 1938 سے 1948 تک انڈین نیشنل کانگریس اور کانگریس سوشلسٹ پارٹی سے منسلک رہے۔ انہوں نے کانگریس سوشلسٹ پارٹی کی کانپور کانفرنس میں فروری 1947 میں شرکت کی۔ یہ 1946 میں ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کی شروع کی گئی گوا لبریشن تحریک میں 1950 کی دہائی کے وسط میں شامل ہوئے اور 1955 میں ایک عوامی ستیہ گرہ کرتے ہوئے گوا میں داخل ہو گئے اور پرتگالی پولس سے نبرد آزما ہوئے اور زدو کوب کیے گئے اور پھر 5 ماہ تک پولس حراست میں رہنے کے بعد یکم دسمبر 1955 کو پرتگالی فوجی ٹریبونل نے انہیں 12 برس کی قید با مشقت سنائی۔ جیل میں قیام کے دوران انہوں نے ڈائری لکھی، جو کہ 1996 میں گوا لبریشن تحریک کی گولڈن جوبلی کے موقع پر شائع ہو کر منظر عام پر آئی۔ 1957 میں 19 ماہ کی قید کے بعد یہ بلا شرط رہا کر دیے گئے، مگر تحریک جاری رہی، جس کے نتیجہ میں 1961 میں گوا پرتگالیوں کے چنگل سے نکل کر ہندوستان کا حصہ بن گیا۔ دریں اثنا انہوں نے سماجی و سوشلسٹ کارکن چمپا گپتے سے 15 مئی، 1952 کو شادی کر لی۔ چمپا گپتے بعد میں چمپا لمیے کہلانے لگیں۔ وہ مہاراشٹر کے ایک کالج میں پروفیسر بھی رہیں۔ ان کے قریبی رفقاء میں ڈاکٹر لوہیا کے علاوہ ایس ایم جوشی اور این جی گورے کا شمار ہوتا ہے۔
مدھولمیے کا شمار ہندوستان کے بہترین پارلیامنٹیرین میں ہوتاتھا۔ انہیں ہندوستانی پارلیمنٹ کا ایڈمنڈ برک، جو کہ برطانوی پارلیمنٹ کے عظیم ترین رکن گردانے جاتے ہیں اور آئین ہند کا انسائیکلوپیڈیا کہا جاتا تھا۔ یہ 1964 سے 1979 تک چار بار لوک سبھا کے رکن منتخب ہوئے۔ 1967 کے پارلیمانی انتخابات میں مونگیر (بہار) سے زبردست اکثریت سے منتخب ہوئے، مگر اس کے بعد کے انتخاب میں دیویندر یادو سے شکست کھا گئے۔ یہ بات مشہور ہے کہ جب یادو منتخب ہو کر پہلی مرتبہ پارلیمنٹ پہنچے، تو انہیں مین گیٹ پر روک دیا گیا، جس پر انہوں نے کہا کہ ’’میں لمیے کو ہراکر آرہا ہوں‘‘۔ اتنا سننا تھا کہ جواب آیا ’’جائیے، جائیے، آپ کو آئی ڈی کی ضرورت نہیں ہے‘۔
جے پی تحریک میں یہ پیش پیش رہے اور پوری ایمرجنسی کے دوران پابند سلاسل رہے۔ اس دوران انہوں نے جماعت اسلامی کے افراد کے ذریعے قرآن کریم کا ترجمہ پڑھا اور اکثر اس کا حوالہ دیا کرتے تھے۔ جنتا پارٹی کے قیام میں ان کا کلیدی رول رہا۔ یہ اس پارٹی کے جنرل سکریٹری بنائے گئے۔ انہیں اس بات پر سخت اعتراض رہا کہ بھارتیہ جن سنگھ کے سابق ارکان جنتا پارٹی اور سنگھ دونوں کی دوہری رکنیت کیوں رکھتے ہیں؟ کہا جاتا ہے کہ جنتا پارٹی کے ٹوٹنے کا اصل سبب ان کا یہ اصولی اختلاف رہا۔ آر ایس ایس کے تعلق سے ان کی سوچ بہت صاف تھی۔ لہٰذا، یکم مئی، 2014 کو ان کے 86ویں یومِ پیدائش کے موقع پر آر ایس ایس کے بارے میں ان کا ہندی ہفتہ وار ’رویوار‘ میں 1979 میں چھپا مضمون پیش کیا جا رہا ہے، جو آج بھی اسی طرح موزوں ہے۔ اتفاق سے یکم مئی کو جنتا پارٹی کے قیام کے بھی 37 سال پورے ہو گئے ہیں۔

p-14میں نے سیاست کی شروعات 1937 سے کی۔ اس وقت میری عمر بہت کم تھی، لیکن چونکہ میں نے میٹرک کا امتحان جلدی پاس کر لیا تھا، اس لیے کالج میں بھی میں نے بہت جلدی داخلہ لے لیا۔ اس وقت پونہ میں آر ایس ایس اور ساور کر وادی لوگ ایک طرف اور قوم پرست اور مختلف سماجوادی اور لیفٹ پارٹیاں دوسری طرف تھیں۔ مجھے یاد ہے کہ یکم مئی 1937 کو ہم لوگوں نے مئی دِوس (مزدوروں کا دن) کا جلوس نکالا تھا۔ اس جلوس پر آر ا یس ایس کے سویم سیوکوں اور ساورکروادی لوگوں نے حملہ کیا تھا اور اس میں مشہور انقلابی سپہ سالار باپٹ اور ہمارے لیڈر ایس ایم جوشی بھی زخمی ہوئے تھے۔ تو اسی وقت سے ان لوگوں کے ساتھ ہمارا اختلاف تھا۔
ہمارا سنگھ سے پہلا اختلاف تھا قومیت (نیشنل ازم) کے تصور پر۔ ہم لوگوں کا یہ ماننا تھا کہ جو ہندوستانی مملکت ہے، اس میں ہندوستان میں رہنے والے سبھی لوگوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔ لیکن آر ایس ایس کے لوگوں اور ساورکر نے ہندو راشٹر کا تصور سامنے رکھا۔ جناح بھی اسی قسم کی سوچ کے شکار تھے اور ان کا ماننا تھا کہ ہندوستان میں ’مسلم راشٹر‘ اور ’ہندو راشٹر‘ دو مملکتیں ہیں۔ اور ساورکر بھی یہی کہتے تھے۔ دوسرا بنیادی اختلاف یہ تھا کہ ہم لوگ عوامی جمہوریہ قائم کرنا چاہتے تھے اور آر ایس ایس کے لوگ عوامی جمہوریہ کو مغرب کی آئڈیالوجی مانتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ ہندوستان کے لیے موزوں نہیں ہے۔ اُن دنوں آر ایس ایس کے لوگ ہٹلر کی بہت تعریف کرتے تھے۔ گروجی سنگھ کے نہ صرف سر سنگھ چالک (سربراہ) تھے، بلکہ روحانی رہنما بھی تھے۔ گروجی کے نظریات میں اور نازی لوگوں کے نظریات میں حیران کن طریقے سے یکسانیت ہے۔ گروجی کی ایک کتاب ہے ’ور آر اَوَر نیشن ہوڈ ڈیفائنڈ‘، جس کا چوتھا ایڈیشن 1947 میں شائع ہوا تھا۔ گروجی ایک جگہ کہتے ہیں ’’ہندوستان کے سبھی غیر ہندو لوگوں کو ہندو تہذیب اور زبان اپنانی ہوگی، ہندو مذہب کا احترام کرنا اور ہندو برادری اور تہذیب کی قصیدہ گوئی کے علاوہ کوئی اور خیال اپنے من میں نہیں لانا ہوگا۔ ایک جملہ میں کہیں، تو وہ غیر ملکی ہو کر رہنا چھوڑیں، نہیں تو انہیں ہندو راشٹر کے ماتحت ہو کر ہی یہاں رہنے کی اجازت ملے گی – خاص سلوک کی تو بات ہی الگ، انہیں کوئی فائدہ نہیں ملے گا، ان کے کوئی خصوصی اختیارات نہیں ہوں گے – یہاں تک کہ شہری حق بھی نہیں۔‘ تو گروجی کروڑوں ہندوستانیوں کو غیر شہری کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کی شہریت کے تمام اختیارات چھین لینا چاہتے تھے۔ اور یہ کوئی ان کا نیا نظریہ نہیں ہے۔ جب ہم لوگ کالج میں پڑھتے تھے، اس وقت سے آر ایس ایس والے ہٹلر کے اصولوں پر لے چلنا چاہتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ ہٹلر نے یہودیوں کی جو حالت کی تھی، وہی حالت یہاں مسلمانوں اور عیسائیوں کی کرنی چاہیے۔
نازی پارٹی کے خیالات کے تئیں گروجی کی کتنی ہمدردی ہے، یہ ان کے ’وی‘ نامی کتابچہ کے صفحہ 42 سے، میں جو مثال دے رہا ہوں، اس سے واضح ہو جائے گا – ’جرمنی نے ذات اور تہذیب کے خالص پن کو بنائے رکھنے کے لیے سیمیٹک یہودیوں کی برادری کا صفایا کرکے پوری دنیا کو حیران کر دیا تھا۔ اس سے ذات پر مبنی افتخار کی انتہا کا ثبوت ملتا ہے۔ جرمنی نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ جڑ سے ہی جن ذاتوں اور تہذیبوں میں فرق ہوتا ہے، ان کا ایک مشترکہ گھر میں بسیرا ناممکن ہے۔ ہندوستان میں سیکھنے اور بحث کرنے کے لیے یہ ایک سبق ہے۔
آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ایک پرانی کتاب ہے – جب ہندوستان آزاد ہو رہا تھا، اس وقت کی کتاب ہے۔ لیکن ان کی دوسری کتاب ہے ’اے بنچ آف تھاٹس‘۔ میں مثال دے رہا ہوں اس کے ’معروف ایڈیشن‘ سے، جو نومبر 1966 میں شائع ہوئی۔ اس میں گروجی نے اندرونی خطرات کا ذکر کیا ہے اور تین اندرونی خطرے بتائے ہیں۔ ایک ہیں مسلمان، دوسرے ہیں عیسائی اور تیسرے ہیں کمیونسٹ۔ سبھی مسلمان، سبھی عیسائی اور سبھی کمیونسٹ ہندوستان کے لیے خطرہ ہیں، یہ رائے ہے گروجی کی۔ اس طرح کی ان کی آئڈیالوجی ہے۔

گروجی کے ساتھ، مطلب آر ایس ایس کے ساتھ، ہمارا دوسرا اختلاف یہ ہے کہ گول والکر جی اور آر ایس ایس ’وَرن سسٹم‘ (چار ذاتوں پر مبنی نظام) کے حامی ہیں اور میرے جیسے سماجوادی ’وَرن سسٹم‘ کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ میں خود کو برہمن واد اور وَرن سسٹم کا سب سے بڑا دشمن مانتا ہوں۔ میرا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ جب تک وَرن سسٹم اور اس کے اوپر مبنی نابرابریوں کا خاتمہ نہیں ہوگا، تب تک ہندوستان میں اقتصادی اور سماجی برابری کا ماحول نہیں بن سکتا ہے۔ لیکن گروجی کہتے ہیں کہ ’ہمارے سماج کی دوسری خاصیت تھی وَرن سسٹم، جسے آج ذات پر مبنی نظام کہہ کر اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے‘۔ آگے وہ کہتے ہیں کہ ’سماج کا تصور سب سے طاقتور ایشور کے جسم کے چار حصوں کی شکل میں کیا گیا تھا، جس کی پوجا سبھی کو اپنے اپنے ڈھنگ سے اور اپنی اپنی قابلیت کے مطابق کرنی چاہیے۔ برہمن کو اس لیے بالا تر مانا جاتا تھا، کیو ںکہ وہ علم بانٹتا تھا۔ کشتریہ بھی اتنا ہی عظیم مانا جاتا تھا، کیوں کہ وہ دشمنوں کا مقابلہ کرتا تھا۔ ویشیہ بھی کم اہم نہیں تھا..

گروجی کے ساتھ، مطلب آر ایس ایس کے ساتھ، ہمارا دوسرا اختلاف یہ ہے کہ گول والکر جی اور آر ایس ایس ’وَرن سسٹم‘ (چار ذاتوں پر مبنی نظام) کے حامی ہیں اور میرے جیسے سماجوادی ’وَرن سسٹم‘ کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ میں خود کو برہمن واد اور وَرن سسٹم کا سب سے بڑا دشمن مانتا ہوں۔ میرا یہ پختہ عقیدہ ہے کہ جب تک وَرن سسٹم اور اس کے اوپر مبنی نابرابریوں کا خاتمہ نہیں ہوگا، تب تک ہندوستان میں اقتصادی اور سماجی برابری کا ماحول نہیں بن سکتا ہے۔ لیکن گروجی کہتے ہیں کہ ’ہمارے سماج کی دوسری خاصیت تھی وَرن سسٹم، جسے آج ذات پر مبنی نظام کہہ کر اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے‘۔ آگے وہ کہتے ہیں کہ ’سماج کا تصور سب سے طاقتور ایشور کے جسم کے چار حصوں کی شکل میں کیا گیا تھا، جس کی پوجا سبھی کو اپنے اپنے ڈھنگ سے اور اپنی اپنی قابلیت کے مطابق کرنی چاہیے۔ برہمن کو اس لیے بالا تر مانا جاتا تھا، کیو ںکہ وہ علم بانٹتا تھا۔ کشتریہ بھی اتنا ہی عظیم مانا جاتا تھا، کیوں کہ وہ دشمنوں کا مقابلہ کرتا تھا۔ ویشیہ بھی کم اہم نہیں تھا، کیو ںکہ وہ کاشت کاری اور کاروبار کے ذریعے سماج کی ضروریات پوری کرتا تھا اور شودر بھی، جو اپنے فن اور ہنر سے سماج کی خدمت کرتا تھا۔ اس میں بڑی چالاکی سے شودروں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ہنر اور کاریگری کے ذریعے سماج کی خدمت کرتے ہیں۔ لیکن اس کتاب میں چانکیہ کی جس اقتصادیات کی گروجی نے تعریف کی ہے، اس میں یہ لکھا ہے کہ برہمن، کشتریہ اور ویشیوں کی خدمت کرنا شودروں کا فریضہ ہے۔ اس کی جگہ پر گروجی نے چالاکی سے جوڑ دیا – سماج کی خدمت۔
ہمارے اختلاف کا چوتھا نقطہ ہے زبان۔ ہم لوگ عوامی زبان کے حق میں ہیں۔ تمام بولیاں ہندوستانی ہیں۔ لیکن گروجی کی کیا رائے ہے؟ گروجی کی یہ رائے ہے کہ بیچ میں آسانی کے لیے ہندی کو تسلیم کیا، لیکن آخری ہدف یہ ہے کہ ملک کی زبان سنسکرت ہو۔ ’بنچ آف تھاٹس‘ میں انہوں نے کہا ہے ’عوامی رابطہ کے مسئلہ کے حل کے روپ میں جب تک سنسکرت قائم نہیں ہو جاتی، تب تک آسانی کے لیے ہمیں ہندی کو ترجیح دینی ہوگی‘۔ آسانی کے لیے ہندی، لیکن اخیر میں وہ رابطے کی زبان چاہتے ہیں سنسکرت۔ ہمارے لیے شروع سے یہ اختلاف کا موضوع رہا۔ مہاتما گاندھی کی طرح، لوک مانیہ تلک کی طرح ہم لوگ عوامی زبانوں کے حامی رہے۔ ہم کسی کے اوپر بھی ہندی لادنا نہیں چاہتے۔ لیکن ہم چاہتے ہیں کہ تمل ناڈو میں تمل چلے، آندھرا میں تیلگو چلے، مہاراشٹر میں مراٹھی چلے، مغربی بنگال میں بنگلہ زبان چلے۔ اگر غیر ہندی ریاستیں انگریزی کا استعمال کرنا چاہتی ہیں، تو وہ کریں۔ ہمارا ان کے ساتھ کوئی اختلاف نہیں۔ لیکن سنسکرت گنے چنے لوگوں کی زبان ہے، ایک خاص طبقہ کی زبان ہے۔ سنسکرت کو قومی زبان کا درجہ دینے کا مطلب ہے ملک میں مٹھی بھر لوگوں کا دبدبہ، جو ہم نہیں چاہتے۔
پانچویں بات، ملک کی جدو جہد آزادی میں وفاقی مملکت (فیڈرل اسٹیٹ) کے تصور کو قبول کیا گیا تھا۔ وفاقی مملکت میں مرکز کے ذمے متعینہ موضوعات ہوں گے، ان کے علاوہ جو موضوعات ہوں گے، وہ ریاستوں کے ماتحت ہوں گے۔ لیکن ملک کی تقسیم کے بعد قومی رہنما چاہتے تھے کہ مرکز کو مضبوط بنایا جائے، اس لیے آئین میں ایک جدول بنایا گیا۔ اس جدول میں بہت سارے اختیارات مرکز اور ریاست، دونوں کو دیے گئے اور جو خصوصی اختیارات ہیں، وہ پہلے تو ریاستوں کو ملنے والے تھے، لیکن مرکز کو مضبوط کرنے کے لیے مرکز کو دے دیے گئے۔ بہرحال، وفاقی مملکت بن گئی۔ لیکن راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور اس کے روحانی گرو گول والکر – انہوں نے ہمیشہ ہندوستانی آئین کے اس بنیادی پہلو کی مخالفت کی۔ یہ لوگ ’اے یونین آف اسٹیٹس‘ وفاقی مملکت کا جو تصور ہے، اس کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہندوستان میں یہ جو وفاقی مملکت والا آئین ہے، اس کو ختم کر دینا چاہیے۔ گروجی ’بنچ آف تھاٹس‘ میں کہتے ہیں ’’آئین پر نظر ثانی کی جانی چاہیے اور اسے دوبارہ تحریر کرکے اقتدار کا وحدانی نظام قائم کیا جانا چاہیے۔‘ گروجی وحدانی نظام، یعنی مرکزیت پر مبنی اقتدار چاہتے ہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ جو ریاستیں وغیرہ ہیں، یہ سب ختم ہونی چاہئیں۔ ان کا نظریہ ہے کہ ایک ملک، ایک ریاست، ایک مقننہ اور ایک عاملہ، یعنی ریاستوں کی قانون ساز کونسل، ریاستوں کی کابینہ سب ختم۔ یعنی یہ لوگ ڈنڈے کے بَل پر اپنی سیاست چلائیں گے۔ اگر ڈنڈا ان کے ہاتھ میں آگیا، تو مرکزیت پر مبنی اقتدار قائم کرکے چھوڑیں گے۔
اس کے علاوہ جدو جہد آزادی کی تحریک کا قومی پرچم تھا ترنگا۔ ترنگے جھنڈے کی عزت کے لیے، شان کے لیے سینکڑوں لوگوں نے قربانیاں دیں، ہزاروں لوگوں نے لاٹھیاں کھائیں۔ لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ

جس طرح وفاقی مملکت کے تصور کو گروجی خارج کرتے تھے، اسی طرح جمہوریت میں بھی ان کا یقین نہیں تھا۔ جمہوریت کا تصور مغرب سے درآمد کیا ہوا تصور ہے اور مغرب کی پارلیمانی جمہوریت ہندوستانی سوچ اور تہذیب کے موافق نہیں ہے، ایسا ان کا خیال ہے۔ جہاں تک سماجواد کا سوال ہے، اس کو تو وہ پوری طرح پرائی چیز مانتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ جتنے ’اِزم‘ ہیں، یعنی ڈیموکریسی ہو یا سماجواد، یہ سب غیر ملکی ہے اور ان کو ترک کرکے ہم کو ہندوستانی تہذیب کی بنیاد پر سماج کی تشکیل کرنی چاہیے۔ جہاں تک ہمارے جیسے لوگوں کا سوال ہے، ہم لوگ تو پارلیمانی جمہوریت میں یقین رکھتے ہیں، سماجواد میں یقین رکھتے ہیں اور یہ بھی چاہتے ہیں کہ پرامن طریقے سے اور مہاتما گاندھی کے روح افزا اصولوں کو اپنا کر ہم جمہوریت کو وقار کو قائم کریں، سماجی تنظیم بنائیں اور سماجواد لائیں۔
جب کانگریس کے یک نظامی اقتدار کے خلاف ہماری لڑائی چل رہی تھی، تو ہمارے رہنما ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کہتے تھے کہ جس کانگریس نے چین کے ہاتھوں ہندوستان کو بے عزت کروایا، اس کانگریس کو ہٹانے کے لیے اور ملک کو بچانے کے لیے ہم کو اپوزیشن کی سبھی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ تال میل بیٹھانا چاہیے۔ اس موضوع پر ڈاکٹر صاحب سے میری بہت بات چیت ہوتی تھی۔ دو سال تک بحث چلی۔ آخر تک میں یہ کہتا رہا کہ آر ایس ایس اور جن سنگھ کے ساتھ ہمارا تال میل نہیں بیٹھے گا۔ اخیر میں ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ میری قیادت کو تم مانتے ہو یا نہیں؟ میں نے کہا – ہاں، میں مانتا ہوں۔ وہ بولے، کیا یہ ضروری ہے کہ سبھی سوالوں پر تمہاری اور میری رائے ملے یا سبھی سوالوں پر میں تم سے اتفاق کروں۔ ایک آدھا سوال ایسا بھی رہے، جو ہم دونوں کے درمیان اختلاف کا موضوع ہو۔ اور میں تو اس طرح کا تال میل چاہتا ہوں ایک بڑے دشمن کو ہرانے کے لیے، تو اس معاملے میں تم مان جاؤ، اس کو ’ٹرائل‘ دے دو۔ ہو سکتا ہے میری بات صحیح نکلے، یہ بھی ہو سکتا ہے تمہاری بات صحیح نکلے۔ لیکن میرا یہ ماننا رہا ہے کہ اخیر میں آر ایس ایس اور ڈاکٹر رام منوہر لوہیا کی آئڈیالوجی میں جنگ ہو کر رہے گی۔
جب اندرا گاندھی نے ہمارے اوپر ایمرجنسی لادی یا وہ تاناشاہی کی جانب بڑھنے لگیں، سنجے کو آگے بڑھانے لگیں، ماروتی کانڈ ہوا، تو یہ بات صحیح ہے کہ ایمرجنسی کے خلاف لڑنے کے لیے لوگوں نے ان لوگوں کے ساتھ تال میل بیٹھایا۔ لوک نائک جے پرکاش جی کہتے تھے کہ ایک پارٹی بنائے بغیر ہم لوگ اندرا کو اور تانا شاہی کو نہیں ہٹا سکتے۔ چودھری چرن سنگھ کی بھی یہی رائے تھی کہ ایک پارٹی بنے۔ ہم لوگ جب جیل میں تھے، یہ پوچھا گیا تھا کہ ایک پارٹی بنانے کے بارے میں اور الیکشن لڑنے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے یہ پیغام جیل سے بھیجا تھا کہ میری رائے میں الیکشن لڑنا چاہیے۔ الیکشن میں کروڑوں لوگ حصہ لیں گے۔ الیکشن ایک متحرک چیز ہے۔ انتخابی مہم جب زور پر آئے گی، تو ایمرجنسی کے جتنے بندھن ہیں، وہ سب ٹوٹ جائیں گے اور لوگ اپنے جمہوری حقوق کا استعمال کریں گے۔ اسی لیے میری رائے تھی کہ الیکشن لڑنا چاہیے۔ اب چونکہ لوک نائک جے پرکاش نارائن اور سبھی لوگوں کی یہ رائے تھی کہ ایک پارٹی بنائے بغیر ہم لوگوں کو کامیابی نہیں ملے گی، تو ہم لوگوں نے بھی اس کے لیے منظوری دے دی تھی۔ لیکن میں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ جو سمجھوتہ ہوا تھا، وہ پارٹیوں کے درمیان میں ہوا تھا – جن سنگھ، سوشلسٹ پارٹی، سنگٹھن کانگریس، بھارتیہ لوک دَل اور کچھ باغی کانگریسی۔ آر ایس ایس کے ساتھ نہ ہمارا کوئی قرار ہوا، نہ آر ایس ایس کی کوئی شرط مانی گئی، بلکہ جیلوں میں ہمارے درمیان منو بھائی پٹیل کا ایک سرکولر جاری کیا گیا تھا، اس سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ چودھری چرن سنگھ نے 7 جولائی، 1976 کو آر ایس ایس کی رکنیت اور جو نئی پارٹی بنے گی اس کی رکنیت، ان دونوں میں میل ہوگا یا ٹکراؤ، یہ بحث شروع کی تھی۔ جن سنگھ کے اس وقت کے کارگزار جنرل سکریٹری اوم پرکاش تیاگی نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ نئی پارٹی جو شرط لگانا چاہے، لگا سکتی ہے۔ فی الحال تو آر ایس ایس کے اوپر پابندی ہے، آر ایس ایس کو برخاست کیا جا چکا ہے، اس لیے آر ایس ایس کا تو سوال ہی نہیں اٹھتا۔
بعد میں جب ہم لوگ پارٹی کا نیا آئین بنا رہے تھے، تو ہماری ذیلی آئین ساز کمیٹی نے ایک سفارش کی تھی کہ ایسی کسی تنظیم کے اراکین کو، جس کے مقاصد، پالیسیاں اور پروگرام جنتا پارٹی کے مقاصد، پالیسیوں اور پروگرام سے میل نہیں کھاتے، پارٹی کا رکن نہیں بننے دینا چاہیے۔ اس کی مخالفت کرنے کی کسی کو بھی کوئی ضرورت نہیں تھی، یہ تو بالکل ایک عام بات تھی۔ لیکن یہ قابل غور بات ہے کہ اکیلے سندر سنگھ بھنڈاری نے اس کی مخالفت کی۔ باقی تمام اراکین نے – ان میں رام کرشن ہیگڑے بھی تھے، شریمتی مرنال گورے تھیں، شری بہوگنا تھے، شری ویرن شاہ تھے اور میں خود تھا – مل کر ایک رائے سے یہ عہد لیا تھا کہ ہم سندر سنگھ بھنڈاری کی مخالفت کریں گے۔ 1976 کے دسمبر ماہ میں اس پر غور کرنے کے لیے جب میٹنگ ہوئی، تو اٹل جی نے جن سنگھ اور آر ایس ایس کی طرف سے ایک خط لکھا تھا نیشنل کمیٹی کو، جس میں انہوں نے یہ بات کی تھی کہ کچھ لیڈروں میں اس پر آپسی رضامندی تھی کہ آر ایس ایس کا سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔ لیکن کئی لیڈروں نے مجھے بتایا کہ اس طرح کی کوئی رضامندی نہیں تھی اور اس طرح کا کوئی عہد نہیں لیا گیا تھا، کیوں کہ اس وقت تو آر ایس ایس سامنے تھا ہی نہیں۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں اس وقت جیل میں تھا اور اگر ایسا کوئی خفیہ معاہدہ تھا بھی، تو میں اس کا حصہ دار نہیں ہوں۔
جنتا پارٹی کا جو انتخابی منشور (مینی فیسٹو) بنا، میں بالکل صفائی کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں، اس پر آر ایس ایس کی کی آئڈیالوجی کا ذرا بھی اثر نہیں تھا، بلکہ ایک ایک مدعے کو صفائی کے ساتھ واضح کیا گیا تھا۔ کیا یہ بات صحیح نہیں ہے کہ جنتا پارٹی کا انتخابی منشور سیکولر ازم، جمہوریت اور گاندھی وادی اصولوں پر مبنی سماجوادی معاشرے کی بات کرتا ہے – اس میں ہندو راشٹر کا کہیں کوئی ذکر نہیں۔ اقلیتوں کے حقوق کی، مساوی حقوق کی گفتگو او ریہ بھی کہا گیا کہ ان کے حقوق کی مکمل حفاظت کی جائے گی اور گرو جی تو کہتے ہیںکہ جو اقلیتی لوگ ہیں، ان کو شہریت کے بھی حقوق نہیں رہنے چاہئیں، ان کو ہندو قوم کے بالکل ماتحت رہنا پڑے گا۔ جنتا پارٹی نے لامرکزیت کی بات کی اور گرو جی تو سخت مرکزیت پرست تھے۔ وہ تو ریاستوں کو ہی ختم کرنا چاہتے تھے، ریاستی اسمبلیوں کو ہی ختم کرنا چاہتے تھے، ریاستی کابینہ کو ختم کرنا چاہتے تھے، لیکن جنتا پارٹی نے تو لامرکزیت کا ذکر کیا، یعنی ریاستوں کی خود مختاری پر جنتا پارٹی حملہ نہیں کرنا چاہتی۔ سوشل ازم پر گفتگو کی گئی، سماجی انصاف پرگفتگو کی گئی، برابری پر گفتگوکی گئی۔ کیا جنتا پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں یہ کہا تھا کہ کاسٹ سسٹم رہے گا او رشودروں کو دوسروں کی خدمت میں ہی اپنی زندگی گزارنی چاہیے؟ جنتا پارٹی نے تو یہ کہا تھا کہ پچھڑوں کو ہم لوگ پورا موقع دیں گے۔ اتنا ہی نہیں، خاص موقع دیں گے اور یہ کہا تھا کہ ان کے لیے سرکاری نوکریوں میں 25 سے 33 فیصد تک ریزرویشن کیا جائے گا۔
ہاں، یہ صحیح ہے کہ آر ایس ایس کے لوگوں نے دل سے اس انتخابی منشور کو نہیں قبول کیا۔ میری یہ شکایت رہی اور کشابھاؤ ٹھاکرے کو ایک خط میں میں نے کہا بھی تھا کہ میری طرف سے شکایت یہ ہے کہ گفتگو کے دوران آپ بہت جلدی چیزوں کو مان جاتے ہیں، لیکن دل سے نہیں مانتے، اس لیے آپ کے بارے میں شک پیدا ہوتا ہے۔ یہ میں نے ان کو پہلے کہا تھا اور میرے دل میں آر ایس ایس کے بارے میں شروع سے شبہات رہے، ڈاکٹر صاحب کے زمانے سے رہے، لیکن اس کے باوجود تاناشاہی کے خلاف لڑنے کے لیے ہم لوگوں نے ضرور ان سے تال میل کیا۔ لوک نائک جے پرکاش جی کی یہ خواہش تھی کہ ایک پارٹی بنے، تو چونکہ انتخابی منشور میں کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا گیا تھا، اس لیے ہم نے اس بات کوقبول کر لیا۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ میں کہنا چاہتا ہوں کہ میں شروع سے اس کے بارے میں بالکل کلیئر تھا اپنے دل میں کہ اگر جنتا پارٹی کو ایکویبل ہو کر، کمپیکٹ پارٹی کے طور پر کام کرنا ہے، تو دو کام ضرور کرنے پڑیں گے۔ نمبرایک، آر ایس ایس والوں کو اپنی آئڈیا لوجی بدلنی پڑے گی اور سیکولر جمہوریت کے تصور کو قبول کرنا پڑے گا۔ نمبر دو، آر ایس ایس پریوار کی جو تنظیمیں ہیں، جیسے بھارتیہ مزدور سنگھ، ودیارتھی پریشد، ان تنظیموں کو اپنا الگ وجود ختم کرنا پڑے گا اور جنتا پارٹی کی صالح تنظیموں کے ساتھ خود کو ضم کرنا پڑے گا۔ اس کے بارے میں میں شروع سے ہی کلیئر تھا اور چونکہ مجھے جنتا پارٹی کے مزدور اور نوجوانوں کی تنظیموں کی دیکھ بھال کاچارج دیا گیا تھا، میں نے یہ لگاتار کوشش کی کہ ودیارتھی پریشد اپنے وجود کو مٹائے، بھارتیہ مزدور سنگھ اپنے وجود کو مٹائے۔ لیکن یہ لوگ اپنی خود مختاری کی بات کرنے لگے۔ عملی طور پر یہ لوگ ہمیشہ ناگپور کے حکم پر چلتے ہیں، ایک قائد کی تقلیدکا اصول مانتے ہیں۔ میں گروجی کی ہی مثال دیتا ہوں۔ گروجی نے کہا کہ ہم لوگ اس طرح کا من بناتے ہیںکہ وہ بالکل ڈسپلنڈ ہوتا ہے اور جو ہم لوگ کہیں گے، وہی سب لوگ مانتے ہیں۔ ان کی تنظیم کا ایک ہی فارمولہ ہے۔ ایک قائد کی تقلید کرنا! یہ جمہوریت کو نہیں مانتے۔ بحث میں بھی ان کا یقین نہیں۔ ان کی کوئی اقتصادی پالیسی نہیں ہے۔ مثال کے طور پر گروجی نے اپنے ’بنچ آف تھاٹس‘ میں اس بات پرافسوس کااظہار کیا ہے کہ زمینداری رواج کا خاتمہ کیا گیا ہے۔ زمیندار کے ختم ہونے پرگرو جی کو بڑی تکلیف ہے، بڑا درد ہے، لیکن غریبوں کے لیے ان کے دل میں درد نہیں ہے۔
میں نے آر ایس ایس والوں سے کہا کہ آپ کو ہندو تنظیم کا خیال چھوڑ کر سبھی مذاہب کے اور سبھی فرقوں کے لوگوں کو اپنی تنظیم میں مقام دینا پڑے گا۔ آپ کے جو کلاس آرگنائزیشن ہیں، ان کو جنتا پارٹی کے دوسرے کلاس، تنظیم کے ساتھ ملا دینا پڑے گا۔ تو ان لوگوں نے کہا کہ یہ اتنی جلدی کیسے ہوگا، بڑـی دقتیں ہیں، لیکن ہم رفتہ رفتہ بدلنا چاہتے ہیں۔ وہ اس طرح کی گول مول باتیں کرتے رہتے تھے۔ ان کے طرز عمل کو دیکھ کر میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ اس کو بدلنا ہے نہیں۔ خاص کر 1977کے جون کے اسمبلی انتخابات کے بعد جب ان کے ہاتھ میں چار ریاستوں اور ایک یونین علاقے کی حکومت آگئی اور اتر پردیش اور بہار میں ان کو بہت بڑی حصہ داری مل گئی، تو اس کے بعد وہ سوچنے لگے کہ اب ہم کو بدلنے کی کیا ضرورت ہے۔ ہم لوگوں نے چار ریاستوں کو فتح کر لیا ہے، رفتہ رفتہ دیگر ریاستوں کو کریں گے، پھر مرکز بھی ہمارے ہاتھ میں آئے گا۔ باقی جو لیڈر ہیں، وہ بوڑھے لیڈر ہیں، آج نہیں تو کل مر جائیں گے اور کسی نئے لیڈرکو ہم بننے نہیں دیں گے۔ اس لیے آپ نے دیکھا ہوگا ’آرگنائزر‘، ’پانچ جنیہ‘ وغیرہ سبھی اخباروں میں جنتا پارٹی کے کسی بھی لیڈر کو انھوں نے نہیں بخشا۔ میرے اوپر تو ان کا خاص فضل رہا ہے، خاص مہربانی رہی ہے۔ مجھے گالی دینے میں اپنے اخباروں کو جتنی جگہ انھوںنے خرچ کی، اتنی تو شاید اندرا گاندھی کو بھی گالی دینے کے لیے نہیں کی ہوگی۔
ایک عرصہ تک ان لوگوں سے میری بات چیت ہوتی رہی۔ ایک دفعہ تو مجھے یاد ہے میرے گھر میں، بمبئی میں بالا صاحب دیورس آئے۔ پھر اس کے بعد 71 کے انتخاب کے بعد ایک دفعہ میں ان سے ملا۔ ایمرجنسی کے پہلے ایک دفعہ مادھو راؤ مُلے سے میری بات چیت ہوئی۔ چوتھی بار مادھو راؤ مُلے اور بالا صاحب دیورس سے مئی 1977 میں میری بات ہوئی تھی۔ تو ایسا کوئی نہیں کہہ سکتا کہ میں نے ان سے بات چیت نہیں کی تھی، لیکن میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ ان کے دماغ کا جو کواڑ ہے، وہ بند ہے اور اس میں کوئی نیا خیال پنپ نہیں سکتا۔ بلکہ آر ایس ایس کی یہ خاصیت رہی ہے کہ وہ بچپن میں ہی لوگوں کو ایک خاص سمت میں موڑ دیتے ہیں۔ پہلا کام وہ یہی کرتے ہیں کہ بچوں کے، نوجوانوں کے خیال عمل کو ’فریز‘ کر دیتے ہیں، جڑ بنا دیتے ہیں۔ اس کے بعد کوئی نیا خیال وہ قبول نہیں کر پاتے۔ تو کوشش میں نے کی۔ ایک بار میں نے ٹریڈ یونین کارکنوں کی میٹنگ بلائی۔ جنتا پارٹی کی سبھی تنظیموں کے نمائندے اس میں آئے، لیکن بھارتیہ مزدور سنگھ نے اس کا بائیکاٹ کیا۔ اتنا ہی نہیں، بے سبب مجھے گالیاں بھی دیں۔ ودیارتھی پریشد اور یُوا مورچہ کے ساتھ بھی ضم ہونے کی بات چلائی گئی، لیکن وہ لوگ ہمیشہ الگ رہے، کیوں کہ آر ایس ایس خود کو ’سُپر پارٹی‘ کے طور پر چلانا چاہتا ہے۔ یہ لوگ زندگی کے ہر حصہ کو نہ صرف چھونا چاہتے ہیں، بلکہ اس پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ جارج فرنانڈیز نے اسی وقت آرٹیکل لکھا ’انڈین ایکسپریس‘ میں۔ اس میں انھوں نے اسی خیال کو لے کر دتتوپنت ٹھینگڑی کی ایک مثال دی، لیکن دتتو پنت ٹھینگڑی نے کہا کہ پورے سماج میں ہم لوگ چھا جانا چاہتے ہیں، زندگی کا کوئی پہلو ہم لوگ چھوڑیں گے نہیں، سب پر قبضہ کریں گے۔ یہ کوئی نیا خیال نہیں ہے ٹھینگڑی کا، یہ تو ’وی‘ اور ’بنچ آف تھاٹس‘ میں گرو جی نے جگہ جگہ پر کہا ہے۔ اور کوئی بھی یک حزبی تنظیم (Totalitarian Organisation) زندگی کے کسی بھی پہلو کو آزاد نہیں چھوڑنا چاہتا۔ وہ فن پر چھا جائے گا، میوزک پر چھا جائے گا، اقتصادی پالیسی پر چھا جائے گا، ثقافت پر چھا جائے گا۔ فاشسٹ آرگنائزیشن کا یہی تو دھرم ہے۔
در اصل یہ لوگ ہماری جنتا پارٹی پرقبضہ کرنا چاہتے تھے۔ یہ لوگ سرکاروں پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ ایک ساتھ انھوں نے کئی لیڈروں کو لالچ دکھایا تھا وزیر اعظم بننے کا۔ ادھر مرارجی بھائی کو بھی اخیر تک کہتے رہے کہ آپ ہی کو رکھیں گے ہم لوگ۔ یہ چرن سنگھ کو بھی بیچ بیچ میں کہتے تھے کہ آپ کو بنائیں گے۔ یہ جگ جیون رام کو بھی کہتے تھے کہ ہم آپ ہی کو بنائیں گے۔ یہ چندر شیکھر کو بھی کہتے تھے، یہ جارج فرنانڈیز کو بھی کہتے تھے۔ ہاں، انھوںنے کبھی مجھے یہ کہنے کی ہمت نہیں کی۔ ایک دفعہ اٹل جی سے میں نے کہا، تو انھوں نے کہا ’نانا جی نے نہ صرف تم کو، بلکہ مجھ کو بھی کبھی نہیں کہا، نہ وہ آپ کو بنانا چاہتے ہیں، نہ کبھی مجھ کو بنانا چاہتے ہیں۔ ‘ایسا مذاق میں اٹل جی نے مجھ سے کہا۔ بہر حال، وہ مجھ سے اس لیے اس طرح کی بات کرتے تھے، کیونکہ میں نہ کسی کو دھوکہ دیتا ہوں، نہ کسی کے ذریعہ دھوکہ کھاتا ہوں۔ وہ سوچتے ہیں اس کو بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا، تو اس کو کہنے سے کیا فائدہ؟ یہ تو اور محتاط ہو جائے گا۔
یہ لوگ وقتاً فوقتاً کیا کہتے ہیں، اس کی کوئی قیمت نہیں۔ کیا آر ایس ایس کے لیڈروں نے کہا ہے کہ گرو گول والکر کے جو خیالات ہیں، انھیں ہم نے تیاگ دیا؟ صرف اٹل جی کہتے ہیں کہ قومیت، جمہوریت، سوشلزم، سماجی انصاف وغیرہ مفروضوں کو قبول کرنا چاہیے، اس کے بغیر اب نہیں چلا جاسکتا۔ لیکن یہ صرف اٹل جی کہتے ہیں، باقی سنگھیوں پر تو میرا بھروسہ ہی نہیں۔ یہ لوگ جیل میں معافی مانگتے تھے رہائی حاصل کرنے کے لیے۔ بالا صاحب دیورس نے اندرا گاندھی کو مبارکباد دی تھی، جب وہ سپریم کورٹ میں راج نارائن کے کیس میں جیتیں۔ تو ان لوگوں کے قول پرمیرا یقین نہیں ہے۔ میری صاف رائے ہے کہ آر ایس ایس کے لیڈروں کو اگر وہ پارٹی سے نکال دیتے، قومی کمیٹی سے ان کے ممبروں پر پابندی لگا دیتے اور خاص طور سے نانا جی، سندر سنگھ بھنڈاری اینڈ کمپنی کو پارٹی سے نکال دیتے، تبھی میں یقین کر سکتا تھا۔

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کبھی بھی ترنگے جھنڈے کو قومی پرچم نہیں مانتا۔ وہ تو بھگوا جھنڈے کو ہی مانتا تھا اور کہتا تھا، بھگوا جھنڈا ہندو راشٹر کا پرانا پرچم ہے۔ ہمارا وہی اصول ہے، ہماری وہی پہچان ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *