پیسے کی نمو نمو ہے ایشوز کہاں ہیں؟

ششی شیکھر

آج کل اخباروں، ٹی وی چینلوں، ایف ایم ریڈیو، سڑکوں کے کنارے لگے ہورڈنگس اور سوشل میڈیا میں مودی اور ان کا ترقیاتی ماڈل ہی نظر آرہا ہے۔ کانگریس اور دیگر سیاسی پارٹیاں اس سلسلے میں کافی پیچھے رہ گئی ہیں۔ لیکن بی جے پی کے ذریعے چلائے جارہے اشتہاری طوفان میں جو رقم خرچ کی جارہی ہے، وہ بھی غیر معمولی ہے۔ میڈیا میں بی جے پی کے ذرائع سے آئی خبروں کے مطابق وہ رقم پانچ ہزار کروڑ روپے ہے، حالانکہ اپوزیشن اور بی جے پی کے ناقدین اس خرچ کو دس ہزار کروڑ روپے سے زیادہ بتا رہے ہیں۔ کیا ہے مودی لہر، مودی کا ترقیاتی ماڈل اور اس انتخاب میں حاوی ایشوز کا سچ…..

Mast اکثر راہ چلتے آپ نے سڑک کنارے کسی ٹارچ بیچنے والے کو دیکھا ہوگا۔ ٹارچ بیچنے والا زور زور سے بولتا ہے کہ رات میں آپ کو سانپ نہ کاٹ لے، اس لیے اپنے پاس ٹارچ رکھئے۔ اب آپ کو اندھیرے میںسانپ کاٹے یا نہ کاٹے، لیکن ایک بار آپ اس کے بارے میں سوچیں گے ضرور۔ ہو سکتا ہے کہ آپ ٹارچ خرید بھی لیں۔ بس یہیں پر ٹارچ بیچنے والے کا مقصد پورا ہو جاتا ہے۔ کچھ ایسی ہی کہانی آج ہندوستانی سیاست میں دیکھنے اور سننے کو مل رہی ہے۔ آزادی کے بعد پہلی بار ایسا دیکھنے کو مل رہاہے کہ پارٹی میں اکیلے ایک آدمی کو پارٹی اور تنظیم سے بڑا بنا دیا گیا ہے۔ پہلی بار عام انتخابات ایشو پر نہیں، بلکہ ایک آدمی کی کرشمائی شخصیت کے سہارے لڑے جارہے ہیں۔ اس نام نہاد کرشمائی شخصیت کے مالک ہیں نریندر مودی۔ روایتی و نیوز میڈیا کے ذریعے مودی کے ’ڈیولپمنٹ مین‘ کی شبیہ کو ملک و بیرون ملک پہنچادیا گیا۔ گجرات کی ترقی کو بہترین ماڈل بتایا گیا۔ اس بہترین ماڈل کی وضاحت اور اصلیت کے بارے میں اس مضمون میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ باقاعدہ یہ سب کرنے کے لیے، میڈیا کے ذریعے ہزاروں کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ کیسے؟ کہاں اور کتنے پیسے خرچ ہوئے ہیں؟ اس کی پوری تفصیل اس مضمون میں پیش کی جارہی ہے۔ یہ تفصیل کسی الزام، کسی انتقام کی بنیاد پر نہیں دی گئی ہے، بلکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے، جسے بی جے پی کے کئی سینئر لیڈروں نے تسلیم کیا ہے اور یہ ایسے خرچ ہیں، جسے آپ اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ خرچ کی بات کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ انتخابی اخراجات کے معاملے میں کسی بھی پارٹی کے لیے کوئی آخری حد مقرر نہیں ہے۔ اس پر پابندی لگانے کے لیے کوئی ٹھوس میکانزم نہیں ہے۔ ہاں، امیدواروں کے لیے زیادہ سے زیادہ 70 لاکھ روپے ضرور طے کیے گئے ہیں، پارٹیاں چاہے جتنا خرچ کریں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پارٹیاں انتخاب سے پہلے یا انتخاب کے دوران چاہے جتنا خرچ کریں، اس کی کوئی حد بند مقرر نہیں ہے۔ مثلاً پارٹی کی طرف سے انتخاب کے لیے اسٹار پرچارک کا اعلان کیا جاتا ہے۔ ان اسٹار پرچارک پر جو خرچ آتا ہے، وہ پارٹی کے کھاتے میں جاتا ہے نہ کہ امیدواروں کے کھاتے میں۔ لیکن، اس کے لیے بھی ایک قانون ہے۔ اگر اسٹار پرچارک جس اسٹیج سے خطاب کرتا ہے اور اسی اسٹیج پر پارٹی کا امیدوار بھی موجود ہو، تو وہ خرچ امیدوار کے کھاتے میں چلا جاتا ہے۔ یہاں یہ بھی دھیان دیا جانا چاہیے کہ کسی بھی سیاسی پارٹی کا انتخابی اشتہار انتخاب کی تاریخ کا اعلان ہونے، یعنی ضابطہ اخلاق نافذ ہونے سے پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے۔

نریندر مودی نے پورے ملک میں ریلی کرنا شروع کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، ان کی ایک ایک ریلی میں 7 سے 10 کروڑ روپے کا خرچ آتا ہے۔ یہ حساب کرکے بتایا گیا ہے کہ ان کی ریلی میں اسٹیج، میڈیا، تکنیکی ٹیم، کیمرہ، کرین سمیت اور دیگر کئی خرچ شامل ہوتے ہیں۔ ملک کے سارے ٹی وی چینلوں کو مودی کی پرسنل ٹیکنیکل و کیمرہ ٹیم کے لوگ مودی کے ریلی کے ویزول فراہم کراتے ہیں۔ یہ ٹیم نریندر مودی کی ہر ایک ریلی میں ساتھ چلتی ہے۔ ایک مثال پٹنہ کی ہونکار ریلی سے دی جاسکتی ہے۔ بنیادی طور پر اس ریلی کے لیے 6000 بسیں، 20000 ایس یو وی، 11 ٹرینیں بک کرائی گئی تھیں۔ 30 فٹ کی ایک ڈائنامک اسکرین لگی تھی۔ مزید اسٹیج تیار کیے گئے تھے۔

مثال کے طور پر، جب سے بی جے پی نے نریندر مودی کو وزارت عظمیٰ کے عہدے کا امیدوار بنایا، تبھی سے مودی پورے ملک میں گھوم گھوم کر ریلی کر رہے ہیں۔ ایسے میں اس طرح کے خرچ کو بھی انتخابی خرچ ہی مانا جائے گا۔ بہرحال، سب سے پہلے شروع کرتے ہیں اس وقت سے، جب سے نریندر مودی نے پورے ملک میں ریلی کرنا شروع کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، ان کی ایک ایک ریلی میں 7 سے 10 کروڑ روپے کا خرچ آتا ہے۔ یہ حساب کرکے بتایا گیا ہے کہ ان کی ریلی میں اسٹیج، میڈیا، تکنیکی ٹیم، کیمرہ، کرین سمیت اور دیگر کئی خرچ شامل ہوتے ہیں۔ ملک کے سارے ٹی وی چینلوں کو مودی کی پرسنل ٹیکنیکل و کیمرہ ٹیم کے لوگ مودی کے ریلی کے ویزول فراہم کراتے ہیں۔ یہ ٹیم نریندر مودی کی ہر ایک ریلی میں ساتھ چلتی ہے۔ ایک مثال پٹنہ کی ہونکار ریلی سے دی جاسکتی ہے۔ بنیادی طور پر اس ریلی کے لیے 6000 بسیں، 20000 ایس یو وی، 11 ٹرینیں بک کرائی گئی تھیں۔ 30 فٹ کی ایک ڈائنامک اسکرین لگی تھی۔ مزید اسٹیج تیار کیے گئے تھے۔ اجمالی طور پر حساب لگائیں، تو ایک بس کا کرایہ 5 ہزار سے 15 ہزاروپے تک ہوتا ہے۔ اوسطاً اس خرچ کو 10 ہزار بھی مان لیا جائے، تو 6 ہزار بسوں کا کرایا ہوتا ہے 6 کروڑ روپے۔ اسی طرح 20 ہزار یو ایس وی کا کرایہ بنتا ہے 4 کروڑ روپے اور 11 ٹرینوں کو سرکاری ریٹ پر بھی بک کرائیں، تو اس کا کرایہ بنتا ہے قریب ایک کروڑ روپے۔ اس حساب سے صرف پٹنہ کی ہونکار ریلی میں لوگوں کو لانے کے لیے ٹرانسپورٹ پر 11 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ ممکن ہے کہ یہ خرچ تھوڑا کم ہو جائے، کیونکہ عام طور پر سیاسی پارٹیوں کو ٹرانسپورٹر سستے ریٹ پر گاڑی مہیا کرا دیتے ہیں، یعنی یہ 11 کروڑ روپے 8 کروڑ بھی ہو سکتے ہیں۔ دیگر خرچ، مثلاً ہیلی کاپٹر، بینر، ناشتہ، پانی، سیکورٹی وغیرہ کا خرچ شامل کر لیا جائے، تو یہ ایک بہت بڑی رقم ہو جاتی ہے۔ مودی اس طرح کی درجنوں ریلی ضا بطہ ٔ اخلاق نافذ ہونے سے پہلے کر چکے ہیں اور انتخاب ختم ہونے تک تقریباً 200 کے آس پاس ریلی کر چکے ہوں گے۔ انتخاب سے پہلے کی مودی کی ریلیوں کا خرچ بی جے پی کے کھاتے میں ڈالیں، تو یہ ایک بہت بڑی رقم ہوگی۔ حالانکہ اس رقم کا صحیح حساب لگانا مشکل ہے، لیکن ہونکار ریلی کی طرز پر مودی نے بڑے بڑے شہروں میں درجنوں میگا ریلیاں کی ہیں۔ پٹنہ کی ہونکار ریلی پر ہونے والے خرچ کو پیمانہ مان لیا جائے، تو بڑے بڑے شہروں میں ہوئی ان کی ریلیوں پر ہونے والے خرچ کا ایک اندازہ تو لگایا ہی جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ انتخاب کے دوران اسٹار پرچارک ہونے کے ناطے مودی کی ریلی کا خرچ پارٹی کے کھاتے میں جائے گا۔ حالانکہ جن اسٹیجوں پر بھی پارٹی کا امیدوار موجود ہوگا، وہاں کا خرچ اس امیدوار کے کھاتے میں چلا جائے گا۔ لیکن ریلیوں پر ہونے والا یہ خرچ تو ایک مٹھی بھر ہے، اصلی خرچ اس کے آگے شروع ہوتا ہے۔ اسے آپ اشتہاری جنگ ( ایڈورٹائز منٹ وار) بھی کہہ سکتے ہیں۔ اسے آپ گوئبلس تھیوری کا عملی تجربہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ تھوڑی وضاحت کرتے ہوئے یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہاں اگر پورے جھوٹ کی تشہیر نہیں ہورہی ہے، تو پورا سچ بھی سامنے نہیں لایا جارہا ہے، یعنی آدھے سچ کو پورا سچ بنا کر مسلسل اس طرح سے پیش کیا جا رہا ہے ،گویا یہی مکمل سچ ہو۔ یہ نصف سچائی دراصل اشتہار کی شکل میں پچھلے کئی مہینوں سے ٹی وی پر دکھائی جا رہی ہے۔ بی جے پی کی طرف سے 10 سے 30 سکینڈ کے قریب اشتہار بنائے گئے ہیں۔ ٹی وی اشتہار کی قیمت کے مطابق 30 سکنڈ کے اشتہار کے لیے 80 ہزار روپے لگتے ہیں۔ بی جے پی نے تین مہینے کے لیے 2 ہزار اسپاٹ یومیہ ہندی، انگریزی اور مقامی زبانوں کے چینلوں پر بک کرائے ہیں۔ اس کے علاوہ گجرات کی ترقی سے جڑے ایڈ یا اشتہار پہلے سے ہی آرہے ہیں۔ اب اگر اس کا اوسط نکالا جائے، تو ایک دن میں 12 کروڑ روپے اشتہار پر خرچ ہو رہے ہیں۔ اس حساب سے تین مہینے میں ٹی وی ایڈورٹائزمنٹ پر بی جے پی کی طرف سے تقریباً 11 سو کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہوں گے۔ اس کے علاوہ بی جے پی نے پورے ملک میں 15000 ہورڈنگ لگائے ہیں۔ 3 لاکھ سے 15 لاکھ کے کرائے پر فی ماہ کے ریٹ سے تین مہینے کے لیے یہ ہورڈنگ لگائے گئے ہیں۔ اس مد میں تقریبا ً2 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا خرچ آ رہا ہے۔ پرنٹ میڈیا کے لیے بھی بی جے پی نے زبردست طریقے سے اشتہار بانٹنے کا منصوبہ بنایا۔ ملک کے 50 اخباروں میں 40 دن ہر روز 4 سے 5 اشتہار دیے گئے۔ اس کے لیے تقریباً 500 کروڑ روپے کا بجٹ رکھا گیا ہے۔ میگزین والے شکایت نہ کریں، اس کا انتظام بھی بی جے پی نے کیا ہے۔ میگزین کے لیے الگ سے 150 کروڑ کا اشتہار رکھا گیا ہے۔ اکیلے ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے ہی 150 کروڑ کا ایڈورٹائز منٹ دیا گیا۔ اس بہتی گنگا میں کوئی پیاسا نہ رہے، اس کے لیے انٹر نیٹ، ایف ایم ریڈیو وغیرہ کے لیے الگ سے 35 کروڑ کا اشتہار تیار کیا گیا۔ اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ بہار میں نتیش کمار نے بھی ترقیاتی کام کیے۔ وہاں بھی سڑک، بجلی میں بہتری، سرکاری نوکریوں میں خواتین کی بڑھتی تعداد، نظم و نسق میں سدھار اور خواتین کو مضبوط کرنے جیسے کام ہوتے ہوئے نظر آئے۔ لیکن اس انتخاب میں تقریبا ًہر ایک سروے نتیش کمار کو 3 سے 4 سیٹیں دے رہے ہیں، تو کیا اس انتخاب میں ترقیات کا ایشو دوسرے نمبر پر چلا گیا ہے؟ دوسری طرف مودی اسی بہار یا اترپردیش میں جا کر گجرات کے ترقیاتی ماڈل کی بات کر کے ووٹ مانگ رہے ہیں۔ کیا یہ دونوں باتیں متضاد نہیں ہیں؟ ظاہر ہے، نریندر مودی کی ترقیات کی بات میڈیا کے ذریعے پھیلائی جارہی ہیں، جہاں اشتہار کے نام پر ہزاروں کروڑ خرچ کیے جارہے ہیں۔ اگر اتنا ہی پیسہ یا اتنا ہی میڈیا مینجمنٹ کا ہنر نتیش کمار کے پاس ہوتا، تو شاید وہ بھی میڈیا اور اشتہار کے ذریعے اپنی ترقیات کا ڈھنڈورا پیٹ پیٹ کر چھائے رہتے۔ یعنی اس انتخاب میں بی جے پی کی طرف سے جس ترقی کی بات کہی جارہی ہے، وہ میڈیا کے ذریعے ہزاروں کروڑروپے خرچ کر کے گڑھی گئی ہے، کیونکہ اگر سچ مچ اس انتخاب میں ڈیولپمنٹ یا ترقی ایک ایشو ہوتا، تو نتیش کمار اس انتخابی مقابلے میں اتنے پیچھے نہیں نظر آتے۔ کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ یو پی، بہار یا دیگر ریاستوں میں ایک بار پھر سیاسی پولرائزیشن، یعنی ذات برادری کے پولرائزیشن نے ترقی کے ایشو کو اس انتخاب میں پیچھے کر دیا ہے؟ سوال ہے کہ جس ترقی کی بات مودی اپنی تقریروں میں کرتے ہیں، اس کا مطلب کیا ہے؟ کیسی ترقی اور کس کی ترقی؟ سوال ہے کہ کیا نوجوان طبقہ ان انتخابی اشتہار بازی کے جال میں پھنس کر مودی کی حمایت میں آجائے گا؟ انہیں، مودی کہاں سے روزگار دیں گے؟ مہنگائی کو کیسے کم کریں گے؟ کتنے دنوں میں کم کریں گے؟ اس کا خاکہ ان کے پاس کیا ہے؟ مودی مینو فیکچرنگ، پروسیسنگ، پیکیجنگ کے ذریعے روزگار دینے کی بات کرتے ہیں۔ چین ہمارے یہاں اپنے مال کی ڈمپنگ کر رہا ہے۔ ہماری کرنسی چین جارہی ہے۔ ایسے میں مودی کیا کریں گے؟ تقریبا ً 48 بلین ڈالر کا ہم صرف سیل فون جیسے الیکٹرانک سامان درآمد کر رہے ہیں۔ کیا ہم ہندوستان میں سیل فون نہیں بنا سکتے؟ ہم ڈالر میں ادائیگی کرتے ہیں۔ سیل فون کے لیے ہمیں چین کی ضرورت ہے۔ کیا نریندر مودی نے اس کا کوئی حل دینے کی بات کہی ہے؟ مودی ہندوستان کو پوری دنیا کے لیے نمونہ بتاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم بڑی تعداد میں ٹیچرس تیار کر کے بیرون ملک بھیج سکتے ہیں۔ لیکن سوال ہے کہ اس ملک میں جب سے ’ایجوکیشن فار آل‘ قانون نافذ ہوا ہے، تب سے سبھی بچوں کو تعلیم دینے کے لیے نہ تو مناسب تعداد میں اساتذہ موجود ہیں اور نہ ہی اسکول۔ نیشنل نالج کمیشن کے مطابق، ابھی بھی ملک میں سینکڑوں یونیورسٹیاں اور ہزاروں پروفیسروں کی ضرورت ہے۔ ایسے میں اساتذہ تیار کرکے بیرون ملک بھیجنے کی بات حوصلہ شکن نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ گجرات کی صنعتی ترقی سے کس کا فائدہ ہوا؟ سوال ہے کہ یہی ماڈل پورے ملک میں لاگو کر کے مودی کس کی ترقی چاہتے ہیں؟ گجرات ماڈل سے گجرات کے آدیواسیوں، دلتوں اور غریبوں کا کتنا بھلا ہوا؟ گجرات میں 80 ہزار دلتوں نے ابھی حال ہی میں بودھ مذہب اختیار کیا ہے۔ گجرات کے آدیواسیوں کے نام پر آنے والی ترقیاتی اسکیموں کا حشر اور بھی برا ہے۔ مثال کے طور پر مرکزی سرکار نے آدیواسی لڑکوں و لڑکیوں کے لیے ہاسٹل بنانے کی اسکیم شروع کی تھی۔ اس کے تحت گجرات سرکار کو سال 2010-11 میں 1296.43 لاکھ روپے کا گرانٹ ملا، لیکن مودی سرکار ریاست میں ایک بھی ہاسٹل نہیں بنوا سکی۔ سال 2011-12 میں یہی صورت حال رہی۔ اسی طرح سال 2012-13 میں بھی 187.06 لاکھ روپے ملے، لیکن ہاسٹل کی تعمیر نہیں ہو سکی۔ کچھ یہی کہانی گجرات آشرم اسکول اسکیم کی بھی رہی۔ آدیواسی بچوں کی تعلیم کے لیے آشرم اسکول کے قیام کے لیے سال 2010-11 میں 1887.53 لاکھ روپے مودی سرکار کو ملے۔ سرکار نے اس رقم سے 8 اسکول کھولے، لیکن اس کے بعد اس اسکیم کو عملی جامہ پہنانے میں لاپرواہی برتی گئی۔سا ل 2011-12 میں بھی مرکزی سرکار کی طرف سے 15 کروڑ کی رقم ریاستی سرکار کے کھاتے میں آئی، لیکن یہ روپے سرکاری خزانے کی زینت بڑھاتے رہے۔ اعدادو شمار کے مطابق، آدیواسی علاقوں میں ووکیشنل ٹریننگ کے لیے سال 2011-12 میں مرکزی سرکار کی طرف سے 228.96 لاکھ روپے گجرات سرکار کو ملے، لیکن اسے خرچ نہیں کیا گیا۔ یہی صورت حال آگے کے برسوں میں بھی رہی۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ آدیواسیوں کی فلا ح و بہبود کے لیے گجرات سرکار کتنی سنجیدہ ہے۔ مسلمانوں کے تعلق سے مودی کا رویہ ایسا ہے، گویا وہ کہنا چاہتے ہیں کہ مسلمان انہیں ووٹ نہ دیں تو بھی کوئی بات نہیں ہے۔ ایسا شاید اس لیے بھی ہے، کیونکہ جب مودی نے سدبھائونا اُپواس شروع کیا، تب منشا یہ تھی کہ اس سے ان کی شبیہ تھوڑی بہتر بنے گی، لیکن ایسا ہوا نہیں۔ اب خود ان کے یا ان کے سپہ سالار امت شاہ کے بیان سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں اس ملک کی 20 فیصد آبادی کی کوئی فکر نہیں ہے۔ سوال ہے کہ اتنی بڑی آبادی کو الگ تھلگ کرکے آپ کیسے ترقی کرسکتے ہیں؟ بہر حال، اس انتخاب میں باتیں ترقی کی بھلے ہو رہی ہوں، لیکن جس طریقے سے دولت کی طاقت کا استعمال ہو رہا ہے، وہ ترقی کے ایشو پر بھاری پڑ رہا ہے۔ بیشک گجرات میں بھی ترقی ہوئی ہے اور نریندر مودی کو اس کا فائدہ ملنا چاہیے اور توقع ہے کہ انہیں اس لوک سبھا انتخاب میں فائدہ بھی مل جائے یا ملتا ہوا نظر آ رہا ہے، لیکن اس انتخاب میں سچ مچ اگر بات صرف ترقی کی ہی ہوتی، تو اس لسٹ میں مہاراشٹر بھی آتا، بہار بھی آتا، ہریانہ بھی آتا، تمل ناڈو بھی آتا، کیونکہ اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ ترقی یہاں بھی ہوئی ہے۔ نتیش کمار نے بھی بہار کو ترقی کی پٹری پر لانے کا کام کیا ہے، لیکن آج انتخابی سروے میں وہ کہیں بھی شامل ہوتے نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔ تو پھر، کیا اس انتخاب میں جیت کے لیے ترقی کے علاوہ بھی کئی اور چیزیں چاہئیں؟ ظاہر ہے، پیسہ وہ چیز ہے، جو آج اس انتخاب میں ایشوز پر بھاری پڑ گیا۔ ریاست کے سالانہ منصوبوں سے بھی زیادہ پیسہ اشتہار پر بی جے پی صرف اشتہار کی مد میں جو رقم خرچ کر رہی ہے، وہ سینٹرل اسکیم کمیشن کے ذریعے ملک کی کئی چھوٹی ریاستوں کو سال 2013-14 کے لیے الاٹمنٹ کی گئی سالانہ منصوبوں کی رقم سے کہیں زیادہ ہے۔ سال 2013-14 کے لیے سینٹرل اسکیم کمیشن نے سالانہ منصوبے کے تحت گوا کو 4700 کروڑ روپے، منی پور کو 3650 کروڑ، میزورم کو 2500 کروڑ، ناگالینڈ کو 2000 کروڑ، ہماچل پردیش کو 4400 کروڑ روپے الاٹ کیے تھے۔ اس عام الیکشن میں الیکشن کمیشن نے اتر پردیش، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش وغیرہ جیسی بڑی ریاستوں میں ایک لوک سبھا امیدوار کے ذریعے خرچ کی جانے والی رقم کی حد 40 لاکھ سے بڑھا کر 70 لاکھ روپے کردی ہے۔ حالانکہ یہ الگ بحث ہے کہ الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق 2009 کے عام انتخابات میں زیادہ تر امیدواروں نے اس طے شدہ رقم کا نصف ہی خرچ کیا، تو پھر اخراجات کو محدود رکھنے کے لیے الیکشن کمیشن کی تمام ہدایتوں کے باوجود ایسی صورت حال ہے، تو اگر یہ ہدایت نہیں ہوتی تو کیا ہوتا؟ ایسا نہیں ہے کہ اس معاملے میں بی جے پی ہی ایک ایسی سیاسی پارٹی ہے، جو مقررہ حد سے زیادہ خرچ کر رہی ہو یا کیا ہو۔ اس میں دوسری تمام سیاسی پارٹیاں بھی شامل ہیں۔ سینٹرفار میڈیا اسٹڈیز کی نگرانی میں کرائے گئے ایک ریسرچ کے مطابق 16ویں لوک سبھا انتخاب میں 543 ممبران کے انتخاب میں کل 30000 کروڑ روپے خرچ ہوں گے، جو امریکہ کے صدارتی انتخاب میں ہوئے 42000 کروڑ روپے کے بہت قریب ہے۔ یہ صورت حال ان لوگوں کی دلیل کو پختہ کرتی ہے، جو انتخاب میں اسٹیٹ فنڈنگ کی وکالت کرتے ہیں۔ باکس آمدنی اٹھنّی، خرچہ روپیّہ حالانکہ یہ اعدادو شمار 2006 سے 2012 کے درمیان، ان سیاسی پارٹیوں کی طرف سے دکھائی گئی آمدنی کے ہیں، لیکن اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انتخابی تشہیر پر ہونے والے خرچ اور آمدنی کے بیچ کتنا فرق ہے۔ باقی کا پیسہ کہاں سے آتاہے، کون دیتا ہے، کیوں دیتا ہے اور پھر اخیر میں وہ اس کی وصولی کیسے کرتا ہے؟ کیا اس کا جواب ہماری سیاسی پارٹیاں اور خاص کر نریندر مودی دینا پسند کریں گے؟ کل آمدنی ( کروڑ میں) پارٹیاں 2006 -07 2007 -08 2008 -09 2009 -10 2010 -11 2011 -12 کل آمدنی کانگریس 124.93 169.36 220.81 496.88 467.57 307.08 1786.68 بی جے پی 38.34 82.49 123.78 220.02 258.01 168.01 890.65 بہو جن سماج پارٹی 9.76 ..* 69.74 182.02 56.98 115.70 434.20 نیشنل کانگریس پارٹی 7.37 15.8 17.39 40.01 44.85 23.31 148.73 بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی 1.22 0.74 1.24 1.16 1.29 2012 7.7 بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی(مارکسواداد 41.6 63.4 59.70 62.83 73.28 76.57 377.38 اے آئی اے ڈی ایم کے 12.95 6.40 3.00 12.50 9.74 14.20 58.79 سماجوادی پارٹی 48.35 87.05 32.3 39.00 28.1 15.21 250.01 جنتا دل (یو) 1.34 0.55 0.22 9.31 11.33 3.42 26.17

اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ بہار میں نتیش کمار نے بھی ترقیاتی کام کیے۔ وہاں بھی سڑک، بجلی میں بہتری، سرکاری نوکریوں میں خواتین کی بڑھتی تعداد، نظم و نسق میں سدھار اور خواتین کو مضبوط کرنے جیسے کام ہوتے ہوئے نظر آئے۔ لیکن اس انتخاب میں تقریبا ًہر ایک سروے نتیش کمار کو 3 سے 4 سیٹیں دے رہے ہیں، تو کیا اس انتخاب میں ترقیات کا ایشو دوسرے نمبر پر چلا گیا ہے؟ دوسری طرف مودی اسی بہار یا اترپردیش میں جا کر گجرات کے ترقیاتی ماڈل کی بات کر کے ووٹ مانگ رہے ہیں۔ کیا یہ دونوں باتیں متضاد نہیں ہیں؟ ظاہر ہے، نریندر مودی کی ترقیات کی بات میڈیا کے ذریعے پھیلائی جارہی ہیں، جہاں اشتہار کے نام پر ہزاروں کروڑ خرچ کیے جارہے ہیں۔ اگر اتنا ہی پیسہ یا اتنا ہی میڈیا مینجمنٹ کا ہنر نتیش کمار کے پاس ہوتا، تو شاید وہ بھی میڈیا اور اشتہار کے ذریعے اپنی ترقیات کا ڈھنڈورا پیٹ پیٹ کر چھائے رہتے۔
یعنی اس انتخاب میں بی جے پی کی طرف سے جس ترقی کی بات کہی جارہی ہے، وہ میڈیا کے ذریعے ہزاروں کروڑروپے خرچ کر کے گڑھی گئی ہے، کیونکہ اگر سچ مچ اس انتخاب میں ڈیولپمنٹ یا ترقی ایک ایشو ہوتا، تو نتیش کمار اس انتخابی مقابلے میں اتنے پیچھے نہیں نظر آتے۔ کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ یو پی، بہار یا دیگر ریاستوں میں ایک بار پھر سیاسی پولرائزیشن، یعنی ذات برادری کے پولرائزیشن نے ترقی کے ایشو کو اس انتخاب میں پیچھے کر دیا ہے؟ سوال ہے کہ جس ترقی کی بات مودی اپنی تقریروں میں کرتے ہیں، اس کا مطلب کیا ہے؟ کیسی ترقی اور کس کی ترقی؟ سوال ہے کہ کیا نوجوان طبقہ ان انتخابی اشتہار بازی کے جال میں پھنس کر مودی کی حمایت میں آجائے گا؟ انہیں، مودی کہاں سے روزگار دیں گے؟ مہنگائی کو کیسے کم کریں گے؟ کتنے دنوں میں کم کریں گے؟ اس کا خاکہ ان کے پاس کیا ہے؟ مودی مینو فیکچرنگ، پروسیسنگ، پیکیجنگ کے ذریعے روزگار دینے کی بات کرتے ہیں۔ چین ہمارے یہاں اپنے مال کی ڈمپنگ کر رہا ہے۔ ہماری کرنسی چین جارہی ہے۔ ایسے میں مودی کیا کریں گے؟ تقریبا ً 48 بلین ڈالر کا ہم صرف سیل فون جیسے الیکٹرانک سامان درآمد کر رہے ہیں۔ کیا ہم ہندوستان میں سیل فون نہیں بنا سکتے؟ ہم ڈالر میں ادائیگی کرتے ہیں۔ سیل فون کے لیے ہمیں چین کی ضرورت ہے۔ کیا نریندر مودی نے اس کا کوئی حل دینے کی بات کہی ہے؟ مودی ہندوستان کو پوری دنیا کے لیے نمونہ بتاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم بڑی تعداد میں ٹیچرس تیار کر کے بیرون ملک بھیج سکتے ہیں۔ لیکن سوال ہے کہ اس ملک میں جب سے ’ایجوکیشن فار آل‘ قانون نافذ ہوا ہے، تب سے سبھی بچوں کو تعلیم دینے کے لیے نہ تو مناسب تعداد میں اساتذہ موجود ہیں اور نہ ہی اسکول۔ نیشنل نالج کمیشن کے مطابق، ابھی بھی ملک میں سینکڑوں یونیورسٹیاں اور ہزاروں پروفیسروں کی ضرورت ہے۔ ایسے میں اساتذہ تیار کرکے بیرون ملک بھیجنے کی بات حوصلہ شکن نہیں ہے تو اور کیا ہے؟
گجرات کی صنعتی ترقی سے کس کا فائدہ ہوا؟ سوال ہے کہ یہی ماڈل پورے ملک میں لاگو کر کے مودی کس کی ترقی چاہتے ہیں؟ گجرات ماڈل سے گجرات کے آدیواسیوں، دلتوں اور غریبوں کا کتنا بھلا ہوا؟ گجرات میں 80 ہزار دلتوں نے ابھی حال ہی میں بودھ مذہب اختیار کیا ہے۔ گجرات کے آدیواسیوں کے نام پر آنے والی ترقیاتی اسکیموں کا حشر اور بھی برا ہے۔ مثال کے طور پر مرکزی سرکار نے آدیواسی لڑکوں و لڑکیوں کے لیے ہاسٹل بنانے کی اسکیم شروع کی تھی۔ اس کے تحت گجرات سرکار کو سال 2010-11 میں 1296.43 لاکھ روپے کا گرانٹ ملا، لیکن مودی سرکار ریاست میں ایک بھی ہاسٹل نہیں بنوا سکی۔ سال 2011-12 میں یہی صورت حال رہی۔ اسی طرح سال 2012-13 میں بھی 187.06 لاکھ روپے ملے، لیکن ہاسٹل کی تعمیر نہیں ہو سکی۔ کچھ یہی کہانی گجرات آشرم اسکول اسکیم کی بھی رہی۔ آدیواسی بچوں کی تعلیم کے لیے آشرم اسکول کے قیام کے لیے سال 2010-11 میں 1887.53 لاکھ روپے مودی سرکار کو ملے۔ سرکار نے اس رقم سے 8 اسکول کھولے، لیکن اس کے بعد اس اسکیم کو عملی جامہ پہنانے میں لاپرواہی برتی گئی۔سا ل 2011-12 میں بھی مرکزی سرکار کی طرف سے 15 کروڑ کی رقم ریاستی سرکار کے کھاتے میں آئی، لیکن یہ روپے سرکاری خزانے کی زینت بڑھاتے رہے۔ اعدادو شمار کے مطابق، آدیواسی علاقوں میں ووکیشنل ٹریننگ کے لیے سال 2011-12 میں مرکزی سرکار کی طرف سے 228.96 لاکھ روپے گجرات سرکار کو ملے، لیکن اسے خرچ نہیں کیا گیا۔ یہی صورت حال آگے کے برسوں میں بھی رہی۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ آدیواسیوں کی فلا ح و بہبود کے لیے گجرات سرکار کتنی سنجیدہ ہے۔
مسلمانوں کے تعلق سے مودی کا رویہ ایسا ہے، گویا وہ کہنا چاہتے ہیں کہ مسلمان انہیں ووٹ نہ دیں تو بھی کوئی بات نہیں ہے۔ ایسا شاید اس لیے بھی ہے، کیونکہ جب مودی نے سدبھائونا اُپواس شروع کیا، تب منشا یہ تھی کہ اس سے ان کی شبیہ تھوڑی بہتر بنے گی، لیکن ایسا ہوا نہیں۔ اب خود ان کے یا ان کے سپہ سالار امت شاہ کے بیان سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں اس ملک کی 20 فیصد آبادی کی کوئی فکر نہیں ہے۔ سوال ہے کہ اتنی بڑی آبادی کو الگ تھلگ کرکے آپ کیسے ترقی کرسکتے ہیں؟ بہر حال، اس انتخاب میں باتیں ترقی کی بھلے ہو رہی ہوں، لیکن جس طریقے سے دولت کی طاقت کا استعمال ہو رہا ہے، وہ ترقی کے ایشو پر بھاری پڑ رہا ہے۔ بیشک گجرات میں بھی ترقی ہوئی ہے اور نریندر مودی کو اس کا فائدہ ملنا چاہیے اور توقع ہے کہ انہیں اس لوک سبھا انتخاب میں فائدہ بھی مل جائے یا ملتا ہوا نظر آ رہا ہے، لیکن اس انتخاب میں سچ مچ اگر بات صرف ترقی کی ہی ہوتی، تو اس لسٹ میں مہاراشٹر بھی آتا، بہار بھی آتا، ہریانہ بھی آتا، تمل ناڈو بھی آتا، کیونکہ اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ ترقی یہاں بھی ہوئی ہے۔ نتیش کمار نے بھی بہار کو ترقی کی پٹری پر لانے کا کام کیا ہے، لیکن آج انتخابی سروے میں وہ کہیں بھی شامل ہوتے نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔ تو پھر، کیا اس انتخاب میں جیت کے لیے ترقی کے علاوہ بھی کئی اور چیزیں چاہئیں؟ ظاہر ہے، پیسہ وہ چیز ہے، جو آج اس انتخاب میں ایشوز پر بھاری پڑ گیا۔ g
ساتھ میں شفیق عالم

این ڈی اے میں کتنی پارٹیاں ہیں؟
یہ خیال عام ہے کہ نریندر مودی کی وجہ سے بی جے پی کو دوسری پارٹیوں کی حمایت نہیں ملنے والی ہے۔ مودی نے اس کے لیے بھی ایک بھرم پھیلایا کہ فی الحال این ڈی اے اب تک کا سب سے بڑا اتحاد ہے۔ ویسے نریندر مودی اپنی تقریریوں میں این ڈی اے کا ذکر نہیں کرتے ہیں، صرف دو انٹرویو میں انہوں نے این ڈی اے کی بات کی اور دونوں ہی بار الگ الگ بیان دیے۔ پہلے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ این ڈی اے 25 پارٹیوں کا اتحاد ہے، جب کہ دوسرے انٹرویو میں اس اتحاد میں شامل پارٹیوں کی تعداد 30 بتائی۔ اب سوال یہ ہے کہ این ڈی اے میں صحیح معنوں میں کل کتنی پارٹیاں ہیں؟ دوسرے، کیا یہ پارٹیاں الیکشن کمیشن کے تحت رجسٹرڈ ہیں یا پھر مودی نے صرف نمبر بڑھانے کے لیے ان پارٹیوں کو اتحاد میں شامل بتا دیا ہے؟ تیسرے، اگر یہ 30 پارٹیاں ہیں، تو وہ کن ریاستوں میں ہیں اور کتنی سیٹوں پر وہ پارلیمانی انتخاب لڑ رہی ہیں؟ حیرانی تو اس بات پر ہے کہ ملک کے بڑے صحافیوں نے مودی سے بات چیت تو کی، لیکن وہ مودی سے یہ سوال نہیں پوچھ سکے کہ وہ لوگوں کو بھرم میں کیوں ڈال رہے ہیں؟
مودی کالا دھن واپس کیسے لائیں گے؟
نریندر مودی نے کالے دھن کے معاملے پر ابھی سے ہی الجھانا شروع کر دیا ہے۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں مودی نے کہا کہ سرکار بننے کے بعد وہ تجزیہ کریں گے کہ غیر ملکی بینکوں میں کالا دھن ہے یا نہیں؟ اگر ہے، تو کتنا ہے؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کے لیے ایک لیگل ٹیم بنائی جائے گی۔ قانون کو بدلنا ہوگا، دوسرے ملکوں کے ساتھ معاہدہ کرنا ہوگا۔ ویسے، یہی بات تو کانگریس پارٹی بھی اب تک کہتی آئی ہے۔ پہلا سوال یہ ہے کہ کیا مودی کو اب تک یہ نہیں معلوم ہے کہ غیر ملکی بینکوں میں ملک کا کالا دھن جمع ہے؟ اگر دوسرے ملکوں کے ساتھ معاہدہ نہیں ہو پایا، تب کیا ہوگا؟ کہنے کا مطلب یہ کہ مودی کالے دھن پر صاف صاف کیوں نہیں بول رہے ہی؟ دوسری بات یہ ہے کہ مودی ملک کے اندر موجود کالے دھن کے بارے میں کیوں کچھ نہیں بولتے؟
مودی کے غیر پختہ بیان
نریندر مودی نے پاکستان کو لے کر جو بیان دیے ہیں، اس کا پاکستانی ڈپلومیٹس نے خیر مقدم کیا ہے۔ مودی نے پاکستان کو یہ اشارہ دیا ہے کہ خارجہ پالیسی میں وہ اٹل بہاری واجپئی کی پالیسیوں کو آگے بڑھائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا انتخابات ختم ہو چکے ہیں؟ کیا بی جے پی الیکشن جیت چکی ہے؟ نریندر مودی کو سمجھنا چاہیے کہ ملک میں ابھی بھی ایک سرکار ہے، وزارتِ خارجہ ہے۔ ہندوستانی سیاست کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ خارجہ پالیسی کو لے کر ملک میں تنازع نہیں ہوتا۔ سرکار کسی کی بھی آئے، لیکن خارجہ پالیسیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کی جاتی ہے۔ مودی نے الیکشن کے دوران ہی اس قسم کے بیان دے کر ہندوستانی سرکار کی خلاف ورزی کی ہے، ساتھ ہی خارجہ پالیسی پر سیاست کرنے کے اس قرار کو توڑا ہے۔ اس قسم کا بیان اگر انتخابات کے نتائج آنے کے بعد دیا جاتا، تب کوئی بات نہیں تھی، لیکن چناؤ پرچار کے دوران ایسے بیان دے کر مودی نے اپنی بڑبولے پن اور ناپختگی کا ثبوت دیا ہے۔
بیوروکریسی میں یہ کیسی ہلچل ہے؟
ملک میں انتخابات ہو رہے ہیں، لیکن دہلی کی وزارتوں میں کام ٹھپ پڑ چکا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ سرکاری مشینری چھٹی پر چلی گئی ہے۔ سینئر افسروں نے یہ مان لیا ہے کہ نئی سرکار آنے والی ہے اور سرکار بالکل نئے طریقے سے چلنے والی ہے۔ کئی افسر ابھی سے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی اور مودی کے نزدیکیوں سے رشتے بنانے میں مصروف ہیں۔ ایسا مانا جا رہا ہے کہ اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ ملک میں افسروں کی بڑے پیمانے پر چھٹی اور تبادلے کی روایت شروع ہو گی۔ کئی افسر تو ایسے ہیں، جو گزشتہ کئی برسوں سے خاموش تھے اور اب وہ فائلوں پر سرکاری پالیسیوں پر ہی سوال اٹھانے لگے ہیں۔ وہ اس لیے سوال اٹھا رہے ہیں، تاکہ وہ اگلی سرکار کو یہ بتا سکیں کہ وہ پچھلی سرکار میں چہیتے افسر نہیں تھے۔ اگر نئی سرکار کے آنے کے بعد بڑے پیمانے پر افسروں کا تبادلہ ہوا، تو یہ ایک غلط روایت کی شروعات ہوگی۔ افسر طبقہ کو غیر سیاسی رہنا ضروری ہے۔ یہ ہماری جمہوریت کی ضرورت ہے۔ بیوروکریسی کا سیاست میں شامل ہونا خطرناک ہے۔ انتخابی نتائج آنے میں زیادہ دن نہیں رہ گئے ہیں۔ یہ تبھی پتہ چلے گا کہ کیا یہ افسر بھارتیہ جنتا پارٹی یا مودی کے اشارے پر یہ سارے کام کر رہے تھے یا پھر نئی سرکار کے سامنے اپنا نمبر بڑھانے کے لیے دکھاوا کر رہے تھے؟

آمدنی اٹھنی، خرچہ روپیہ
حالانکہ یہ اعدادو شمار 2006 سے 2012 کے درمیان، ان سیاسی پارٹیوں کی طرف سے دکھائی گئی آمدنی کے ہیں، لیکن اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ انتخابی تشہیر پر ہونے والے خرچ اور آمدنی کے بیچ کتنا فرق ہے۔ باقی کا پیسہ کہاں سے آتاہے، کون دیتا ہے، کیوں دیتا ہے اور پھر اخیر میں وہ اس کی وصولی کیسے کرتا ہے؟ کیا اس کا جواب ہماری سیاسی پارٹیاں اور خاص کر نریندر مودی دینا پسند کریں گے؟

ریاست کے سالانہ منصوبوں سے بھی زیادہ پیسہ اشتہار پر
بی جے پی صرف اشتہار کی مد میں جو رقم خرچ کر رہی ہے، وہ سینٹرل اسکیم کمیشن کے ذریعے ملک کی کئی چھوٹی ریاستوں کو سال 2013-14 کے لیے الاٹمنٹ کی گئی سالانہ منصوبوں کی رقم سے کہیں زیادہ ہے۔ سال 2013-14 کے لیے سینٹرل اسکیم کمیشن نے سالانہ منصوبے کے تحت گوا کو 4700 کروڑ روپے، منی پور کو 3650 کروڑ، میزورم کو 2500 کروڑ، ناگالینڈ کو 2000 کروڑ، ہماچل پردیش کو 4400 کروڑ روپے الاٹ کیے تھے۔ اس عام الیکشن میں الیکشن کمیشن نے اتر پردیش، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش وغیرہ جیسی بڑی ریاستوں میں ایک لوک سبھا امیدوار کے ذریعے خرچ کی جانے والی رقم کی حد 40 لاکھ سے بڑھا کر 70 لاکھ روپے کردی ہے۔ حالانکہ یہ الگ بحث ہے کہ الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کے مطابق 2009 کے عام انتخابات میں زیادہ تر امیدواروں نے اس طے شدہ رقم کا نصف ہی خرچ کیا، تو پھر اخراجات کو محدود رکھنے کے لیے الیکشن کمیشن کی تمام ہدایتوں کے باوجود ایسی صورت حال ہے، تو اگر یہ ہدایت نہیں ہوتی تو کیا ہوتا؟ ایسا نہیں ہے کہ اس معاملے میں بی جے پی ہی ایک ایسی سیاسی پارٹی ہے، جو مقررہ حد سے زیادہ خرچ کر رہی ہو یا کیا ہو۔ اس میں دوسری تمام سیاسی پارٹیاں بھی شامل ہیں۔ سینٹرفار میڈیا اسٹڈیز کی نگرانی میں کرائے گئے ایک ریسرچ کے مطابق 16ویں لوک سبھا انتخاب میں 543 ممبران کے انتخاب میں کل 30000 کروڑ روپے خرچ ہوں گے، جو امریکہ کے صدارتی انتخاب میں ہوئے 42000 کروڑ روپے کے بہت قریب ہے۔ یہ صورت حال ان لوگوں کی دلیل کو پختہ کرتی ہے، جو انتخاب میں اسٹیٹ فنڈنگ کی وکالت کرتے ہیں۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *