نریندر مودی کے لئے ایک سنہرا موقع

سنتوش بھارتیہ

راہل گاندھی ملک کے لوگوں کے غصے کے اشاروں کو بھی نہیں سمجھ پائے۔ راہل گاندھی کے اقتدار میں آنے کے بعد جتنے الیکشن ہوئے، جن میں بہار کا الیکشن، اتر پردیش کا الیکشن شامل ہے، راجستھان کا الیکشن شامل ہے، ان ساری ریاستوں میں کانگریس کی بری طرح ہار ہوئی۔ لیکن راہل گاندھی اپنے خیالوں کے محل میں دوستوں کے ساتھ شغل کے لیے بات چیت کرتے رہے۔ ملک کے لوگوں کو کیا خواب دکھانا ہے، وہ انہوں نے کبھی سوچا ہی نہیں۔ راہل گاندھی اپنی کوئی ٹیم نہیں بنا پائے۔ اس ملک کو چلانے کے لیے سمجھدار لوگوں کی ایک ٹیم چاہیے، جو دن رات مسائل سے پیدا ہونے والے مسائل کے بارے میں اپنے لیڈر کو واقف کرا سکیں۔ راہل گاندھی نے جو بھی تجربے کیے، وہ ادھ کچرے تجربے کیے، جن تجربوں کا ملک کے مسائل سے کوئی رشتہ ہی نہیں رہا۔ راہل گاندھی کے سیاسی معمولات میں اس آدمی کا کوئی مقام نہیں تھا، جس نے اپنی پوری زندگی کارکن کے روپ میں، مسائل سے لڑنے میں، کانگریس کو زندہ رکھنے میں لگا دی۔ راہل گاندھی کو ایسے لوگ چاہیے تھے، جو انہیں لوگوں کو بیوقوف بنانے والے خواب دکھا سکیں اور اس لیے کانگریس پارٹی نے پورے الیکشن کے دوران خود کو بے یارو مددگار پایا۔

Mastنریندر مودی کو ایشور نے، اللہ نے، گاڈ نے، واہے گرو نے یا دوسرے لفظوں میں کہیں تو، وقت نے تاریخ کا سب سے اہم موقع فراہم کیا ہے۔ نریندر مودی کے سامنے گزشتہ 64 سالوں کی کامیابیوں اور ناکامیوں کے تجربات ہیں۔ کس پارٹی نے یا کس وزیر اعظم نے لوگوں کے لیے کیا کیا، کیا نہیں کیا، اس کی فہرست ہے اور آج نریندر مودی کے سامنے یہ ملک مواقع کی ایک کھلی کتاب بن کر سامنے کھڑا ہوا ہے۔ نریندر مودی کو ملے اس موقع کے پیچھے ملک کے عوام کی مثبت حمایت ہے اور یہ مثبت حمایت ان کے حق میں جب بن رہی تھی، تو اس کو ملک کا کوئی صحافی، کوئی دانشور، کوئی سروے کرنے والا کسی بھی طرح سمجھ نہیں پایا۔ شاید اس بنتی حمایت کو نریندر مودی بھی سمجھ نہیں پائے ہوں گے اور وہ بھی کہیں نہ کہیں ایشور کو یا وقت کو مبارکباد دے رہے ہوں گے اور اس بے پناہ حمایت کو سلام کر رہے ہوں گے۔
اس بے پناہ حمایت کی تعمیر جن اسباب سے ہوئی، ان اسباب کو پارلیمنٹ میں بیٹھنے والے ہر شخص کو جاننا چاہیے اور وزیر اعظم نریندر مودی کو تو ضرور جاننا چاہیے۔ وجہ، غصہ اور اس سے نکلی ہوئی حمایت دراصل ایک شیر ہے، جس کے اوپر آج نریندر مودی سوار ہوئے ہیں۔ منموہن سنگھ جب وزیر اعظم بنے تھے، تو ملک کے سامنے مسائل کا پہاڑ تھا۔ وہ مسائل دو وجہوں سے پیدا ہوئے تھے۔ پہلا مسئلہ، آزادی کے بعد ملک کے بنیادی ڈھانچہ کی ترقی کو ترجیح نہ ملنا۔ اس وجہ سے لوگ ترقی کے دائرے سے دھیرے دھیرے باہر ہونے لگے اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ملک کا ایک بڑا طبقہ خود کو اقتدار سے محروم سمجھنے لگا، جس کا نتیجہ ملک میں خانہ جنگی بھی ہو سکتی تھی۔

ماننا یہ چاہیے کہ اگلے دو مہینے میں نریندر مودی کام کرتے ہوئے دکھائی دیں گے۔ وہ سنگھ کو، بھارتیہ جنتا پارٹی کو تین سال تک ایک کنارے رکھیں گے اور اگر ملک کے غریبوں، دلتوں، پچھڑوں، اونچی ذات کے غریبوں، مسلمانوں کی زندگی میں تبدیلی آتی ہے، تو پھر یہ سوال جنہیں ہم رام جنم بھومی یا بابری مسجد کہتے ہیں یا 370 کہتے ہیں یا کامن سول کوڈ کہتے ہیں، ان سوالوں کا زندگی سے رشتہ نہیں ہے، دماغ سے رشتہ ہے۔

2004 میں جب منموہن سنگھ وزیر اعظم بنے تھے، ملک کو بہت امیدیں تھیں۔ دراصل، ہم مسائل کے دور سے گزر رہے تھے اور 1991 میں جب منموہن سنگھ جی نے وزیر خزانہ ہونے کے ناتے ملک کے سامنے امیدوں کا ایک پہاڑ کھڑا کر دیا تھا اور بغیر کہے مسائل کی ساری ذمہ داری جواہر لعل نہرو سے لے کر چندر شیکھر تک جتنے وزیر اعظم ہوئے ہیں، جن میں لال بہادر شاستری، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی، ان کے اوپر ڈال دی تھی۔ لوگوں نے پوری طرح اعتماد کر لیا تھا۔ منموہن سنگھ نے یہ امید دلائی تھی کہ اگلے 20 سالوں میں کھلی اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے یا لبرل معیشت کی وجہ سے اس ملک کے عام شہریوں کی زندگی میں کافی تبدیلیاں آئیں گی۔ بجلی، سڑک، پانی، یہ سارے مسائل حل ہو جائیں گے۔ غریبی کافی حد تک دور ہو جائے گی اور روزگار کے مواقع بڑھ جائیں گے۔ منموہن سنگھ کا دس سالہ دورِ حکومت ملک کو بیرونی ملک کے ہاتھوں میں سونپنے کا دور رہا۔ اس دوران ہمارے سارے گھریلو کاروبار متاثر ہو گئے۔ یہاں تک کہ وہ شعبہ، جسے ہم سبزی اور پھول کا شعبہ کہتے ہیں، وہاں پر بھی غیر ملکی کمپنیاں آ گئیں، لیکن ہماری بنیادی ڈھانچے کی حالت جیسی کی تیسی بنی رہی۔ باہری ملکوں سے جتنا سرمایہ آیا، وہ سارا کا سارا کنزیومر سیکٹر میں لگا، پرایورِٹی سیکٹر میں نہیں اور اس کے اوپر منموہن سنگھ نے کبھی دھیان نہیں دیا، کیوں کہ منموہن سنگھ کی کھلی اقتصادیات کا مطلب ہی یہی تھا۔
آج حالت یہ ہے کہ بازار کے دائرہ سے اس ملک کا عام آدمی باہر ہے۔ ہم جسے پرو مارکیٹ ایکانومی کہتے ہیں، وہ صرف انہی لوگوں کو دھیان میں رکھ کر اپنا منصوبہ بناتی ہے، جن کی جیب میں کچھ بھی خریدنے لائق پیسہ ہے اور جن کی جیب میں صرف کھانے لائق پیسہ ہے، ان کے لیے یہ مارکیٹ سسٹم نہیں سوچتا۔ اسی لیے 2004 میں جب منموہن سنگھ وزیر اعظم بنے تھے، تو ملک کے 60 ضلعے نکسل وادیوں کے زیر اثر تھے، آج 272 سے زیادہ ضلعے نکسل وادیوں کے زیر اثر ہیں۔ یہ کم از کم ایک پیمانہ ہے، جو بتاتا ہے کہ اقتصادیات کا فائدہ اس ملک کے لوگوں کو نہیں ملا۔ اقتصادیات کا فائدہ صرف اعلیٰ متوسط طبقہ کو ملا یا کاروباریوں کو ملا یا ہمارے ملک کا پیسہ بیرونی ملکوں میں گیا۔ جس جی ڈی پی کی بات کی جاتی ہے، وہ جی ڈی پی ایک طریقے سے نقلی اعداد و شمار کے اوپر انحصار کرتی ہے اور اس بات کی بحث کبھی ملک میں نہیں ہوتی کہ جی ڈی پی، سنسیکس پر مبنی اقتصادیات کی ترقی کے اعداد و شمار کتنے صحیح ہیں، کتنے غلط ہیں۔ اور یہیں پر اس ملک میں دھیرے دھیرے آپسی تناؤ اور خانہ جنگی کا رول دکھائی دیتا ہے۔
منموہن سنگھ کی انھیں پالیسیوں نے اس ملک میں پہلی بدعنوانی 5 ہزار کروڑ روپے کی کی، جو سامنے آئی۔ اس کے بعد 5 ہزار، 10 ہزار، 15 ہزار، 20 ہزار اور سرکار جاتے جاتے 26 لاکھ کروڑ کی بدعنوانی سامنے آئی۔ ہمارے ملک میں 1990 سے پہلے کی سرکار کوٹہ لائسنس پرمٹ کی سرکار کہی جاتی تھی، لیکن اس سرکار میں غریبی کے اوپر دھیان دیا جاتا تھا۔ پبلک ویلفیئر کی اسکیمیں بنائی جاتی تھیں۔ غریب کیسے زندہ رہے، اس کے بارے میں غور و فکر کیا جاتا تھا اور اُن دنوں کی لوک سبھا یا راجیہ سبھا کی بحثیں یہ بتاتی ہیں کہ ملک کے مسائل کو لے کر ہماری لوک سبھا یا راجیہ سبھا کتنی فکرمند رہتی تھی۔ ان پالیسیوں کو کانگریس پارٹیوں اور ان کی حلیف پارٹیوں نے پوری طرح بہت مضبوطی کے ساتھ چلایا اور ان پالیسیوں کی حمایت کم و بیش ان پارٹیوں نے بھی کی، جو کانگریس کے ساتھ سرکار بنانے میں یا سرکار کو زندہ رکھنے میں کھڑے تھے۔
میرا ماننا ہے کہ راہل گاندھی ملک کے مسائل کو نہیں سمجھ پائے اور نہ ہی نہرو اور اندرا گاندھی کے خیالات کو سمجھ پائے اور نہ ہی وہ یہ سوچ پائے کہ اس ملک کے آدمی کا بنیادی مسئلہ مہنگائی اور بے روزگاری ہے۔ روزگار کے مواقع کیسے پیدا کیے جائیں؟ جس معیشت کو منموہن سنگھ نے پیدا کیا اور جسے انہوں نے آگے بڑھایا، اس معیشت کی وجہ سے کیا نقصانات ہوئے؟ اسی لیے وہ پورے الیکشن کے دوران ملک کے لوگوں کو کوئی امید نہیں دے پائے۔
راہل گاندھی ملک کے لوگوں کے غصے کے اشاروں کو بھی نہیں سمجھ پائے۔ راہل گاندھی کے اقتدار میں آنے کے بعد جتنے الیکشن ہوئے، جن میں بہار کا الیکشن، اتر پردیش کا الیکشن شامل ہے، راجستھان کا الیکشن شامل ہے، ان ساری ریاستوں میں کانگریس کی بری طرح ہار ہوئی۔ لیکن راہل گاندھی اپنے خیالوں کے محل میں دوستوں کے ساتھ شغل کے لیے بات چیت کرتے رہے۔ ملک کے لوگوں کو کیا خواب دکھانا ہے، وہ انہوں نے کبھی سوچا ہی نہیں۔ راہل گاندھی اپنی کوئی ٹیم نہیں بنا پائے۔ اس ملک کو چلانے کے لیے سمجھدار لوگوں کی ایک ٹیم چاہیے، جو دن رات مسائل سے پیدا ہونے والے مسائل کے بارے میں اپنے لیڈر کو واقف کرا سکیں۔ راہل گاندھی نے جو بھی تجربے کیے، وہ ادھ کچرے تجربے کیے، جن تجربوں کا ملک کے مسائل سے کوئی رشتہ ہی نہیں رہا۔ راہل گاندھی کے سیاسی معمولات میں اس آدمی کا کوئی مقام نہیں تھا، جس نے اپنی پوری زندگی کارکن کے روپ میں، مسائل سے لڑنے میں، کانگریس کو زندہ رکھنے میں لگا دی۔ راہل گاندھی کو ایسے لوگ چاہیے تھے، جو انہیں لوگوں کو بیوقوف بنانے والے خواب دکھا سکیں اور اس لیے کانگریس پارٹی نے پورے الیکشن کے دوران خود کو بے یارو مددگار پایا۔ ایک تیز ہوا کے جھونکے نے ان کی ساری انتخابی مہم کو زمین دوز کر دیا۔ اتنی طاقت کا وہ جھونکا تھا کہ راہل گاندھی خود تنکے کی طرح اڑتے نظر آنے لگے۔ انہیں سمجھ ہی نہیں آیا کہ انہیں لوگوں سے بات کیا کرنی ہے۔
یہ جھونکا نریندر مودی کا جھونکا تھا۔ یہ جھونکا بھارتیہ جنتا پارٹی کا جھونکا نہیں تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے تو جس طرح سے لوک سبھا میں اپوزیشن کا رول گزشتہ 10 سالوں میں نبھایا، اس سے بھارتیہ جنتا پارٹی بھی لوگوں کی نظروں میں مشتبہ ہو گئی۔ لوگ اس میں کوئی مستقبل کی امید نہیں دیکھ رہے تھے۔ نریندر مودی نے 2006 سے ایک منظم منصوبہ بنایا کہ کس طرح انہیں 2014 کے الیکشن میں دہلی کی گدّی پر آنا ہے اور جس کا پہلا قدم گاندھی فیملی کے سب سے نزدیک رہے امیتابھ بچن کو اپنے ساتھ جوڑنا تھا۔ انہوں نے امیتابھ بچن کے ساتھ طے ہوئی شرطوں کے حساب سے انہیں گجرات کا برانڈ امبیسڈر بنایا اور امیتابھ بچن نے ملک کے ہر ٹیلی ویژن پر، تقریباً 6 سو ٹیلی ویژن پر گجرات کی مارکیٹنگ شروع کی۔ یہ گجرات کی مارکیٹنگ نہیں تھی، یہ نریندر مودی کی مارکیٹنگ تھی۔ گجرات کیسا ہے اور کتنا اچھا ہے، گجرات میں کیا ہو رہا ہے، گجرات کس طریقے سے لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے، لوگوں کو گجرات آنے کی دعوت دینا، یہ سب امیتابھ بچن نے نریندر مودی کے لیے کیا، کیوں کہ گجرات کا مطلب نریندر مودی ہی تھا اور وہاں سے نریندر مودی نے خود کو پہلے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے آزاد کیا۔ گجرات کے سارے بھارتیہ جنتا پارٹی کے اچھے لیڈر اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے کارکن کو دھیرے دھیرے نریندر مودی نے کنارے کر دیا، کیوں کہ وہ سارے لوگ گجرات میں نریندر مودی کی ترقیاتی اسکیموں کو چلانے میں آڑے آ رہے تھے۔ ان کی اپنی سمجھ تھی، ان کی اپنی اسکیمیں تھیں جو وہ نریندر مودی سے لاگو کرانا چاہتے تھے۔
نریندر مودی نے انہیں لاگو نہیں کیا اور نریندر مودی نے کامیابی کے ساتھ گجرات کو اپنے نقشے سے چلایا۔ انہوں نے کسی سے سیاسی صلاح نہیں لی، انہوں نے کسی کی سیاسی دخل اندازی قبول نہیں کی، قبول ہی نہیں برداشت نہیں کی۔ انہوں نے گجرات کو ملک میں ایک سب سے ترقی یافتہ ریاست کے روپ میں پیدا کیا۔ انہوں نے ماحول ایسا بنا دیا کہ کوئی گجرات جاکر ان کے اعداد و شمار کی سچائی پر شک نہ کر سکے۔ ایسی کامیابی کے ساتھ انہوں نے گجرات کی مارکیٹنگ کی کہ لوگ گجرات میں یہ جاننے کے لیے گئے ہی نہیں کہ کیا یہ ماڈل دوسری جگہ لاگو ہو سکتا ہے اور یہی نریندر مودی کی کامیابی تھی۔ نہ گجرات میں کوئی آواز اٹھی، نہ باہر کوئی آواز اٹھی اور نریندر مودی نے جو کہا، اسے سبھی نے ہوبہو قبول کر لیا۔
نریندر مودی نے دوسرا قدم بھارتیہ جنتا پارٹی کو اپنی مٹھی میں کرنے کا کیا۔ نریندر مودی نے دھیرے دھیرے ہر اُس لیڈر کو کنارے کر دیا، جو ان کے سامنے کھڑا ہونے کی طاقت رکھتا تھا۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو انہوں نے یہ کہا کہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ جیسی بھارتیہ جنتا پارٹی چاہتی ہے، وہ اس کو بنائیں گے اور اس کی خواہش کو پورا کرنے میں جسونت سنگھ، لال کرشن اڈوانی، مرلی منوہر جوشی جیسے لوگ تھے۔ یہ لوگ عمر میں بڑے تھے، تجربے میں بڑے تھے اور سنگھ کی موجودہ قیادت سے شخصیت میں بھی بڑے تھے۔ نریندر مودی نے ان سب کو ایک کنارے کرنے کی حکمت عملی نہ صرف بنائی، بلکہ اسے کامیابی کے ساتھ پورا بھی کیا۔ آر ایس ایس میں ان کے مقابلے جو بھی کھڑا ہو سکتا تھا، جس میں ایک مثال سنجے جوشی کی ہے، انہوں نے انہیں بے دردی کے ساتھ ایک کنارے کر دیا۔ اب نریندر مودی ملک میں سوالوں کو لے کر لوگوں کے سامنے جانے کے لیے تیار تھے۔ نریندر مودی نے اپنے قابل اعتماد آئی اے ایس افسروں کو ساتھ لے کر ایک نیا منصوبہ بنا ڈالا۔ وہ منصوبہ کتنے ہزار کروڑ کا تھا، نہیں معلوم۔ وہ منصوبہ نافذ کیسے ہوا، نہیں معلوم۔ لیکن اس منصوبہ کا نتیجہ نظر آیا۔ ہر ٹیلی ویژن چینل نریندر مودی کی حمایت یا مخالفت میں بحث کرتا ہوا دکھائی دیا۔ ٹیلی ویژن چینلوں نے نہ صرف ایک طرفہ بحث کی، بلکہ نریندر مودی کو ایشور بنا دیا اور یہ کانگریس کی بیوقوفی رہی۔ انہوں نے منموہن سنگھ کو بیچارہ بنا دیا۔ کانگریس پارٹی نے منموہن سنگھ کا استعمال اس الیکشن میں شاید اس لیے نہیں کیا کہ وہ اپنی ساری ذمہ داری منموہن سنگھ کے اوپر ڈالنا چاہتی تھی اور راہل گاندھی کو ایک ایسے لیڈر کے روپ میں کھڑا کرنا چاہتی تھی، جو ملک کے لیے ایک فینٹم کی طرح آسمان سے اتر رہا ہے۔ لوگوں نے کانگریس کی اس حکمت عملی کو خارج کر دیا۔
یہیں پر نریندر مودی کے سامنے مواقع کو حقیقت میں بدلنے کی ایک چنوتی کھڑی ہوئی۔ نریندر مودی کن سوالوں کو ترجیح دیتے ہیں، اسے ملک کے لوگ جاننا چاہیں گے۔ اس وقت وہ لوگوں کی بے پناہ حمایت اور آرزوؤں کے شیر کی سواری کر رہے ہیں اور اگر وہ مسائل کو حل کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، تو یہ ملک انہیں سپر اسٹار کی طرح مان لے گا، کیوں کہ آج نریندر مودی کے سامنے وہی صورتِ حال ہے، جو جواہر لعل نہرو جی کے سامنے تھی۔ اندرا جی سال 1971 میں جیسا چاہتیں، ویسا کر سکتی تھیں۔ مرارجی دیسائی سال 1977 میں جیسا چاہتے، ویسا کر سکتے تھے۔ وشو ناتھ پرتاپ سنگھ سال 1989 میں جیسا چاہتے، ویسا کر سکتے تھے۔ لوگ ان کے ساتھ تھے۔ لیکن یہ سارے لوگ اپنی پارٹیوں کے اندرونی اختلافات سے اوپر نہیں جا پائے۔ راجیو گاندھی 1984 میں جو چاہتے کر سکتے تھے، کیوں کہ وہ بھی آرزوؤں کے شیر پر سوار تھے۔ انہیں عوام کی بے پناہ حمایت حاصل تھی۔ لیکن یہ سارے لوگ امیدوں کے، ارمانوں کے اُس شیر کا شکار ہو گئے، جس پر انہوں نے سواری کی تھی۔
نریندر مودی کو تاریخ نے وہی سنہرا موقع دیا ہے۔ وقت نے پورے طور پر انہیں سپر اسٹار کے روپ میں کھڑا کر دیا ہے، لیکن یہ سنیما کے پردے کا ہے یا اصلی زندگی کا ہے، اس کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ یہی نریندر مودی کے سامنے بھی چنوتی ہے اور ملک کے لوگوں کے سامنے بھی چنوتی ہے۔ ماننا یہ چاہیے کہ اگلے دو مہینے میں نریندر مودی کام کرتے ہوئے دکھائی دیں گے۔ وہ سنگھ کو، بھارتیہ جنتا پارٹی کو تین سال تک ایک کنارے رکھیں گے اور اگر ملک کے غریبوں، دلتوں، پچھڑوں، اونچی ذات کے غریبوں، مسلمانوں کی زندگی میں تبدیلی آتی ہے، تو پھر یہ سوال جنہیں ہم رام جنم بھومی یا بابری مسجد کہتے ہیں یا 370 کہتے ہیں یا کامن سول کوڈ کہتے ہیں، ان سوالوں کا زندگی سے رشتہ نہیں ہے، دماغ سے رشتہ ہے۔
اگر نریندر مودی لوگوں کی زندگی میں تبدیلی لانے میں کامیاب ہوتے ہیں، تو ان سارے سوالوں کو وہ آسانی سے حل کر لیں گے، لیکن وہ پہلے اگر ان سوالوں کو حل کرنے میں لگیں گے اور لوگوں کی زندگی میں تبدیلی نہیں آئے گی، تو نریندر مودی کے سپر اسٹارڈَم کے سامنے ایک سوالیہ نشان لگ جائے گا۔ امید کرنی چاہیے کہ نریندر مودی کے سامنے کوئی سوالیہ نشان نہیں لگے گا اور اس ملک کے عوام نے، تاریخ نے جو موقع دیا ہے، وہ موقع اس ملک کو بدلنے میں بڑا رول نبھائے گا۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

One thought on “نریندر مودی کے لئے ایک سنہرا موقع

  • May 26, 2014 at 6:03 pm
    Permalink

    سنتوش بھارتیہ صاحب تسلیمات
    نریندر مودی کے لیے ایک سنہرا موقع کے عنوان سے آپ کا مضمون پڑھا، جو موجودہ الکشن ٢٠١٤ میں نریندر مودی صاحب کی کامیابی پر لکھا گیا ہے، بلا شبہ آپ کا مضمون بہت صحیح تجزیاتی اور درست مشوروں پر مشتمل ہے، مجھے آپ کی اس سوچ میں بڑی ہمدردی اور ہمارے وطن کو جنت نشاں بنانے کا جذبہ نظر آتا ہے۔
    میں اس وطن کو گلزار سمجھتا ہوں جس میں قدرت نے ہر قسم کی اچھائی رکھی ہے لیکن کیا جائے ہمارے لیڈر اس گاڈ گفٹ کی قدر نہیں کر رہے ہیں اور ملک کو مذہب کے نام پر تقسیم کرنا پسند کرتے ہیں، مذہب تو اچھائی کی دعوت دیتا ہے کوئی مذہب برائی کی طرف نہیں بلاتا اگر ایسا ہے تو وہ مذہب، مذہب ہو نہیں سکتا، پھر کیوں یہ جھگڑے، اگر غور کیا جائے تو پتا لگتا ہے کہ جو کوئی لیڈر مذہب کے نام پر ووٹ مانگتا ہے وہ ملک کی ترقی نہیں بلکہ اپنی ترقی چاہتا ہے یعنی جسے یوں کہ لیجیے کہ بغیر ہلدی پھٹکری لگائے رنگ چوگھا کرنا چاہتا ہے مطلب کہ بغیر کسی محنت کے ملک کو چلانا چاہتا ہے کیونکہ اس ملک میں ہمیشہ سے مختلف مذہبوں اور افکار کے ماننے والے پائے جاتے ہیں اس لیے مسائل کا بہت زیادہ ہونا بھی لازمی ہے جس کے حل کے لیے سب سے پہلی شرط کڑی محنت اور وطن کے ساتھ خلوص ہے۔
    میرے خیال میں ہمارے عوام پہلے کے مقابلے میں کافی سمجھدار ہوگے ہیں، کانگریس کو آنکھ موند کے پینتیس چالیس سال تک ووٹ دیا لیکن مسائل کو حل کرنے کے بجائے مسائل پیدا کرکے سیاست کی جاتی رہی ہے اور ایک خاندان کے ارد گرد ہماری سیاست گھومتی رہی جب ہماری عوام نے اس بات کو اچھی طرح محسوس کرلیا تو پھر راتوں رات اندرا گاندھی جی کی حکومت کا صفایا کیا شاید تاریخ میں اس طرح کا واقعہ کہیں نہ ملے کہ اتنی بڑی آبادی والے ملک میں جہاں کی عوام ننگی بھوکی ہو لیکن سیاسی سوجھ بوجھ میں اتنی اونچی ہو کہ اس نے سب کچھ الیکشن کے ذریعہ بلا خون خرابہ کے راتوں رات اپنی حکومت بدل ڈالی، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جو کوئی بھی عوام کے مسائل حل کرے گا عوام اسے ہی گدّی پر بیٹھنے دے گی اور جو پارٹی کھوکھلے دعوے کرے گی اس کو عوام اکھاڑ پھیکے گی جس کا تجربہ اور مشاہدہ ہم سب کے سامنے ہے۔
    سید احمد
    27-7-١٤٣٥ھ
    26-5-٢٠١٤ء

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *